148

رمضان المبارک ،انسانی مساوات کا تربیتی مہینہ. سید جہانگیر شاہ سعیدی

رمضان المبارک ،انسانی مساوات کا تربیتی مہینہ
سید جہانگیر شاہ سعیدی، سربراہ تحریک پیغام مصطفیٰ
مومن سارا سال اللہ کا مطیع اور فرمانبردار بندہ بن کر رہتا ہے اور رہنا چاہیے ۔ لیکن رمضان ایسامہینہ ہے جس میں نیکی کا ایک مکمل موسم بہار مومن پر چھا جاتا ہے۔عام مہینوں میں کہیں ایک روزے دار ،کہیں دوروزےدار ،تو کہیں دس نظر آتے ہیں ۔لیکن رمضان وہ مقدس مہینہ ہےجس میں پورا ملک ،پوری بلاد اسلامیہ ،صرف اپنے رب کی رضا کے لئے اپنے آقا و مولا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی رضاکے لئے ، حلال و طیب چیزوں سے دست کش ہوجاتی ہے لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کے لئے حلال اور طیب چیزوں سے تو دست کش ہوجائیں ، لیکن وہ چیزیں جو سال بھر حرام ہیں ،جو سال بھر مکروہ ہیں ، جن سے ہمیشہ اللہ نے دور رہنے کا حکم دیا ،غیبت ہے جھوٹ ہے عناد ہے فساد ہے دوسروں کے مال پر غاصبانہ قبضہ ہے وہ سارے اعمال اس مہینے میں جاری وساری رہیں تو پھر اپنے روزے کی وہ کیفیت جو حضورﷺ نے بیان فرمائی ہے “احتسابا” کہ خود احتسابی کے عمل سے گزرنا چاہیے تو کیا ہم نے روزے کا حق ادا کیا ہے؟ حضور ﷺ تو فرماتے ہیں روزہ ڈھال ہے ۔ کس چیز کے لیے ؟ بدی کے لئے ۔اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کوئی تم سے جھگڑا کرنے کی کوشش کرے تو جواب میں کہو میں روزے سے ہوں۔ کوئی آپ کی مجلس میں غیبت کرنا چاہیے تو پکار کر کہو “انی صائم” میں روزے سے ہوں ۔ علی ھذا القیاس ، جو کوئی خلاف اخلاق،اخلاق سے گری ہوئی بات ، شریعت مطہرہ سے انحراف کی بات ،میں روزےسے ہوں ۔مجھے آپ کو ہم سب کو اس برکتوں والے مہینے میں سچی توبہ کی توفیق عطا فرمائے ۔ (بخاری)
اسلام کے بنیادی ارکان میں روزہ ایک عظیم اور بنیادی رکن ہے۔ روزے کی فرضیت کا اعلان کرتے فرمایا : اے ایمان والو تم پر روزے فرض کردیئے گئے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔البقرہ 183
حضرت ابوہریرہ روایت کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص روزے میں جھوٹ بولنا اور برے کام کرنا نہ چھوڑے تو اللہ کو اس کی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑے۔ (بخاری)
جھوٹ کے مفاسد اور برے نتائج معاشرے پر اثراانداز ہوتے ہیں اور اس میں بسنے والے دین ودنیا کے نقصانات سے ہمکنار کرتے ہیں اس لئے نبی کریم ﷺ نے جھوٹ سے بچنے کے لئے اپنے قول و فعل سے نمایاں کیا اور اہل ایمان کو خاص تاکید فرمائی کہ وہ ہر حالت میں جھوٹ سے بچیں ۔ ماہ رمضان میں روزے کی حالت میں انسان اپنے خالق و مالک سے اس عہد کا پابند ہوتاہے کہ وہ خواہشات نفسانی پر قابوپائے گا۔عملی طور پر کھانا پینا چھوڑکر وہ اس عہد کو نبھانے کی کوشش کردیتا ہے اب اگر وہ جھوٹ جیسے برے عمل سے روزے کی حالت میں نہیں رکتا جب کہ اس سے پرہیز کرنا روزے کے بغیر بھی ضروری ہے۔جھوٹ ایک ایسا گناہ ہے جس کے بہت نقصانات پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں ۔
روزہ جسمانی فوائد کے علاوہ انسان کی انفرادی اور اجتماعی لحاظ سے تربیتی اور تعمیراتی فوائد رکھتا ہے۔ جیسے صبر کی تقویت ، آخرت کی یاد ،شہوت پر کنٹرول کرنا،فقرا کے ساتھ ہمدری اور طبقاتی فاصلوں کو کم کرنا شامل ہے۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے روزہ کے فوائد میں سے ایک یوں بیان فرمایا روزہ اس لئے فرض ہوا فقیر اور امیر کے درمیان مساوات برکرار ہوجائے۔ اور یہ اس لئے ہے امیر بھوک کا مزا چک لے اور فقیر کا حق ادا کرے کیونکہ دولت مند عام طور پر جو چاہتا ہے اس کے لئے میسر ہوتا ہے ، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان مساوات چاہتا ہے۔دولت مند افراد کو بھوک درد ورنج کا مزاچکھاناچاہتا ہے تاکہ وہ غربیوں یتیموں اور مساکین پر رحم کرے۔
روزے کے انفرادی فوائد:
صبر کی پائیداری کی تقویت: اخلاقی اور انسانی فضائل میں سے ایک صبر ہے۔کہ اس کے بارے میں کافی تاکید کی گئی ہے، کیونکہ سالک قرب الہٰی کی طرف گامزن ہوتا ہے اور اس صفت کا مالک ہونے کےلئے تمام تکالیف پر صبر کرکے منزل مقصود تک پہنچ سکتا ہے۔اس نفسانی طاقت اور انسانی فضیلت تک پہنچنے کا ایک طریقہ روزہ ہے۔ “واستعینوا بالصبر والصلاۃ” مدد چاہو نماز اور صبر چاہو۔ بعض مفسرین نے صبر کا معانی روزہ لیا ہے۔حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا اے لوگوتم پر ایک ایسا مہینہ سایہ فگن ہونے والاہے اور اس میں ایک رات ایسی جو ہزار راتوں سے بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس مہینہ کو صبر کا مہینہ قرار دیا ہے(بخاری)
حسن معاشرت :
روزہ انسان کو دین ودنیا کی بھلائیوں کے حصول کا درس دیتا ہے اور روزے دار روزے کے شرائط وآداب کا پورا خیال رکھ کر ایک جامع درس حاصل کرتا ہے اس لئے اس پر ملنے والا اجرو ثواب بھی خاص نمایاں مقام رکھتا ہے حدیث قدسی میں آتا ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ روزہ خاص میرے لئے ہے اور میں خود اس کا ثواب دونگا ۔(بخاری )روزہ انسان کو صرف اجروثواب کی دولت سے مالامال نہیں کرتا بلکہ سماجی اور معاشی طور پر اس کے جوہر انسانیت کو روشن کرتا ہے اور خیر وشر کی قوتوں پر اثرانداز ہوتا ہے۔
غریبوں کے ساتھ ہمدردی۔
روزہ غریبوں کے ساتھ ہمدردی کا درس پیداکرتا ہے۔ جس میں لسانی اور طبقاتی فاصلوں کا کم ہونا روزہ انسان کوضعیف طبقوں کے ساتھ ہمدردی کا احساس پیدا کرتا ہےروزہ دار اپنی عارضی بھوک اور پیاس کے ذریعہ اپنے جذبات کو محسوس کرتا ہے۔اس بھوک اور پیاس کی وجہ سے بھوکوں اور غریبوں کے دکھ کو بہتر طریقے سے محسوس کرسکتا ہے۔
رمضان اور قرآن
رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا جو لوگوں کے لیے ہدایت اور جس میں رہنمائی کرنے والی اور حق وباطل میں فرق کرنے والی واضح نشانیاں ہیں پس تم میں سے جو کوئی اس مہینہ کو پالے تو وہ اس کے روزے رکھے۔
واضح کیا گیا کہ یہ ماہ رمضان قابل احترام ہے اس میں قرآن کا نزول ہوا تھا۔ یہ “شہر قرآن ” ہے قرآن تمام انسانیت کے لئے سراپا ہدایت ہے، اس میں ہدایت طلبی کی واضح نشانیاں ہیں اور یہ حق وباطل میں واضح معیار ہے۔قرآن مجید کی بے پناہ برکات کا تقاضا ہے کہ اگر جیتے جی رمضان المبارک کی ساعتیں نصیب ہوجائیں تو قرآن کے مطالب تک رسائی کے لئے ان ساعتوں میں روزہ رکھا جائے ،اس آیت میں قرآن کے حوالے سے رمضان کا تعارف کرایا گیا اور اس نسبت کی عظمت کے حوالے سے روزہ رکھنے کا حکم دیا گیا۔ معلوم ہوا کہ قرآن اور روزے میں ایک مظبوط تعلق ہے ۔
اگر امت مسلمہ کا ہر فرد خواہ وہ مرد یا عورت اپنے معمولات کو قرآن سے منسلک نہیں کرے گا تو یہ پرآشوب اور آزمائشوں کا دور ختم نہ ہوگا۔ قرآن سے تعلق کو مضبوط کرنے کے لئے کیا عملی اقدامات کر سکتے ہیں ۔یہ ہر مرد و عورت اپنے روز مرہ کے اوقات کار و طریق کار کو سامنے رکھ کر ترتیب دے سکتے ہیں ۔
وہ خواتین و مرد جو ناظرہ قرآن بھی نہیں پڑھ سکتے، وہ شب بیداری کرکے تلاوت قرآن سن سکتے ہیں صبح کے وقت ٹی وی پر جس بہترین طریقے سے تلاوت و ترجمہ پیش کیا جاتا ہے، اس سے بھرپور فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔
رمضان المبارک میں ہر مسلمان کی تمنا ہوتی کہ وہ ایک مرتبہ ضرور قرآن کی تلاوت کرلے اور یہ سنت مصطفیٰ بھی ہے اس کی بہتر صورت یہ ہے کہ روزہ دار جتنی تلاوت کرے اس کا کم از کم ترجمہ بھی ضرور مطالعہ کرلیا کرے اور اب تو ایسی مختصر تفاسیر موجود ہیں جن میں ہر سورت یا ہر پارے کے ضروری احکامات درج ہیں ۔مسلمانوں کو بحیثیت مجموعی اپنی پستی اور ذلت کو ترقی اور عزت میں بدلنا ہےتو خود کو “قاری کے پردے میں قرآن “بن کر دکھانا ہوگا۔یہ اسی وقت ممکن ہے جب ہم قرآن کے ہر حکم اس کی ہر آیت پر غوروخوض کریں اور اپنا محاسبہ بھی کریں ۔قرآن دراصل روح کی تقویت کامؤثر ترین ذریعہ ہے۔
قرآن جو کسی خاص قوم یا ملک کے لیے نہیں بلکہ ھدی للناس تمام اولاد کے لیے ہادی ومرشد ہے۔ اور اس کی ہدایت کی روشنی اتنی کھلی ہے کہ حق و باطل بالکل ممتاز ہوجاتے ہیں ۔ جس ماہ میں اتنی بڑی نعمت سے سرفراز کیاگیا ہو وہ ماہ اس قابل ہے کہ اس کا ہر لمحہ ہر لحظہ اپنے محسن حقیقی کی شکر گزاری میں صرف کردیا جائے ۔اور اس نعمت کی شکرگزاری کی بہترین صورت یہی ہے کہ دن میں روزہ رکھا جائے۔رات کو قرآن پڑھا اور سنا جائے تاکہ اس ماہ میں نفس کی ایسی تربیت ہوجائے کہ وہ اس بار امانت کو اچھی طرح اٹھا سکے۔ اس آیت کا آخری حصہ لعلکم تشکرون اسی حقیقت کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔
قمری سال کا مہینہ مقرر فرمایا کیونکہ یہ سال کے مختلف موسموں میں پھرتا رہتا ہے ۔تاکہ مسلمان سردی گرمی سب موسموں میں بھوک پیاس کی شدت برداشت کرنے کے عادی ہوجائیں ۔
رمضان تعزیری احکام نہیں جن سے کسی کو تنگ کرنا اور تکلیف دینا مقصود ہو۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کا منشاان سے تمہاری آسانی اور اصلاح کرنا ہے۔اس ٹکڑے میں گویا احکام شرعیہ کی روح رواں کا ذکر فرمادیا۔
رمضان المبارک کو “شہر مواساہ” بھی کہا گیا ہے یعنی ہمدردی اور خیر خواہی کا مہینہ دین تو تمام خیر خواہی اور بھلائی کا نام ہے۔
رمضان المبارک مسلمانوں کے لئے بہترین قرنطینہ ہے۔
رمضان المبارک مسلمانوں کے لئے بہترین تربیت کا نمونہ ہے۔عام طورپر رمضان شریف میں عبادت باقی مہینوں سے بڑھ جاتی ہے۔ مثال کے طور پر رمضان میں پانچ نمازوں کے علاوہ بیس تراویح پڑھتے ہیں۔ قرآن کی تلاوت اور سخاوت، جھوٹ سے پرہیز، حلال حرام میں فرق کرتے ہیں۔ تمام مسلمان رمضان کی تربیت سے یہ سبق حاصل کریں ۔ہم اپنی زندگی کا معمول بنائیں پانچ وقت کی نماز جھوٹ سے پرہیز اور سخاوت کریں۔
سید جہانگیر شاہ سعیدی، سربراہ تحریک پیغام مصطفیٰ 03326029389

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں