84

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقۂ تربیت!ام ہانی

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقۂ تربیت!
ام ہانی

نبی کریم ﷺ دعوتی اور تربیتی طریقوں میں دانائی اور حکمت کو پیش نظر رکھتے تھے۔آپ ﷺکوئی ایسا لفظ زبان سے نہ نکالتے اور نہ کوئی ایسی روش اختیار فرماتے جس سے مخاطب کوئی غلط تاثر قبول کرلے،اس کے اندر بے اطمینانی کی کیفیت پیدا ہو یا وہ کسی رد عمل کا شکار ہوجائے۔حضورﷺکی پوری دعوتی اور تربیتی زندگی حکمت سے بھری ہوئی ہے۔آپ کے حکیمانہ اصولوں اور طریقوں کوترتیب دینے کے لیے ایک ضخیم تالیف کی ضرورت ہے۔یہاں پر صرف چند نمایا ں اور اہم پہلوؤں کی جانب اشارہ کیا جا رہا ہے۔

نبی کریم اس بات کا بھر پور خیال رکھتے کہ اگر کسی کی کوتاہی علم میں آجائے تو اس کو اس انداز سے نہ ٹوکا جائے کہ اسے برا محسوس ہو یا اس کے جذبات کو ٹھیس لگے۔چنانچہ آپ اس کے لیے کسی مناسب موقع کا انتظار کرتے۔انفرادی طور پر متنبہ کرنے کے بجائے کسی مجمع کو خطاب کرتے ہوئے اُس کوتاہی کی طرف اشارہ فرمادیتے۔غلطی کرنے والے کو احساس ہوجاتا اور وہ اسے ترک کردیتا اور اسے یہ بھی محسوس نہ ہو پاتا کہ یہ بات خاص طور پر مجھ سے ہی کہی جا رہی ہے۔گویا کہ براہ راست سمجھانے کے بجائے اجتماعی طور پر سمجھانے کا طریقہ اختیار فرماتے تھے۔

ایک بار رسول اللہ ﷺکو معلوم ہوا کہ کچھ لوگوں نے آپؐ کی بتائی ہوئی عبادت کو کم سمجھ کر غلو اختیار کرنے کا تہیہ کرلیاہے……کسی نے کہا میں کبھی گوشت نہیں کھاؤںگا،کسی نے عزم کیا کہ میں کبھی شادی نہیں کروںگا،کسی نے کہا کہ میں بستر پر نہیں سوؤںگا۔جب آپ کے علم میں یہ بات آئی تو آپ نے براہ راست گفتگو کرنے کے بجائے لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا’’کیا بات ہے کہ کچھ لوگ ایسی ایسی بات کرتے ہیں ،حالانکہ میں روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں۔سوتا بھی ہوں اور نماز کے لیے کھڑا بھی ہوتا ہوں۔گوشت بھی کھاتا ہوں اور شادیاں بھی کرتا ہوں۔پس جو شخص میری سنت کو پسند نہیں کرتا وہ مجھ سے نہیں۔‘‘ (متفق علیہ)

جب لوگوں کی غیر اسلامی روش رسول خدا ﷺکے علم میں آئی تو آپ نے اجتماعی طور پر لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے اس غلط طرز فکر کی اصلاح فرمادی۔اس سے ایک فائدہ یہ ہوا کہ عام حضرات کے سامنے بھی اسلام کا صحیح طرز فکر آگیااورلوگوں کو غلوپسندی کے بجائے اعتدال کی راہ معلوم ہوگئی۔
اگر کبھی اس کی ضرورت محسوس فرماتے کہ غلطی پر براہ راست متنبہ کردیا جائے تو تنہائی میں نہایت دل سوزی اور محبت کے انداز میں سمجھاتے تاکہ مخاطب کسی احساس کمتری کا شکار بھی نہ ہو اور وہ اپنی اصلاح بھی کرلے۔کبھی ایسا بھی ہوتا کہ حضور کسی غلطی کی طرف توجہ مبذول کرانے کے لیے زبان سے کچھ نہ کہتے بلکہ اشارہ فرمادیتے اور غلطی کرنے والے کو اپنی غلطی کا احساس ہو جاتا ۔بعض موقعوں پر یہ اشارہ زبانی ہدایت سے زیادہ مؤثر اور نصیحت آموز ہوتا۔
’’ ایک بار حضرت فضل ؓ سواری پرحضورﷺکے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک عورت آئی، حضرت فضلؓ اس عورت کی طرف دیکھنے لگے اور وہ عورت حضرت فضلؓ کو دیکھنے لگی۔ حضورنے اپنے ہاتھ سے حضرت فضلؓ کا چہرہ دوسری طرف کردیا۔‘‘(بخاری) اس موقع پر زبان سے کوئی بات کہنا حکمت کے خلاف تھا۔کس انداز سے بات کہی جائے؟دونوں میں سے کس کو مخاطب بنایا جائے؟کن الفاظ کا استعمال کیا جائے؟اگر نہایت احتیاط کے ساتھ الفاظ استعمال کیا جائیں تب بھی جذبۂ خودداری کو ٹھیس لگنے کا اندیشہ تھا،اس لیے اللہ کے رسول ﷺنے نہایت حکیمانہ طریقہ استعمال فرمایا،بہت آہستہ سے حضرت فضل ؓکے سر پر ہاتھ رکھا اور ان کا رخ دوسری جانب موڑ دیا۔سمجھنے والا رسول ﷺکے اشارہ کو سمجھ گیا ۔یقینا حضرت فضلؓ کو اپنی کوتاہی کا احساس ہو گیا ہوگا اورحضور ﷺکے حکیمانہ طریق توجہ کا اچھا اثر بھی پڑا ہوگا۔

دعوت و تربیت کے سلسلہ میں آپ کی ایک خاص حکمت یہ بھی رہی ہے کہ زیادہ لمبی بات اور اکتا دینے والے وعظ سے گریز فرماتے۔مختصر سے مختصر الفاظ میں مدعا بیان کرنے کی کوشش کرتے تاکہ سننے والے کے ذہن میں بات اچھی طرح سے بیٹھ جائے ۔چنانچہ احادیث میں آپ کے بہت سے ایسے جملہ ملتے ہیںجو الفاظ کے اعتبار سے بہت مختصر ہیں،مگر اُن میں معانی کا ایک سمندر پنہاں ہے۔ اصطلاح میں اس طرح کے کلمات کو ’’جامع الکلم‘‘کہا گیا ہے۔مثال کے طور پر ہم چند ’’جوامع الکلم‘‘ یہاں نقل کرتے ہیں ،تاکہ آپ اندازہ لگا سکیں کہ نپی تلی بات کو کس انداز سے کہنا چاہیے۔
’’بہترین معاملہ وہ ہے جس کا عزم کرلیا گیا ہو ۔سب سے برا اندھا پن دل کا اندھا پن ہے۔ بہترین علم وہ ہے جو نفع بخش ہو۔اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔قیامت کے روز لاحق ہونے والی پشیمانی سب سے بڑی پشیمانی ہوگی۔کم اگر کافی ہے تو اس سے بہتر ہے جو غافل کردے۔بہترین سیرت انبیاء کی سیرت ہے۔بہترین مالداری دل کی مالداری ہے۔ہر آنے والی چیز قریب ہے۔نوجوانی پاگل پن کا ایک دور ہے۔‘‘
یہ چند جوامع الکلم ہیں جن سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حضور ﷺنے مختصر الفاظ میں بے پناہ معانی کو سمو دیا ہے ۔آپ کے مواعظ و نصائح بہت مختصر ہوتے تھے ۔ احادیث میں آتا ہے :’’رسول اللہ ﷺجمعہ کے روز لمبی نصیحت نہ کرتے بلکہ تھوڑی باتیں کہتے تھے۔‘‘(ابو داؤد)
ہر وقت نصیحت کرتے رہنا کبھی کبھی اکتاہٹ اور کبھی کبھی رد عمل کا باعث بن جاتا ہے۔اس لیے اس بات کا خیال رکھا جائے کہ مخاطب جتنی باتوں کو ہضم کرسکتا ہے اتنی ہی باتوں کی اس کو توجہ دلائی جائے۔ بار بار ٹوکنے یا نصیحت کرنے سے فائدہ کے بجائے نقصان ہوتا ہے۔چنانچہ حضور ناغہ کرکے وعظ و نصیحت فرمایا کرتے تھے تاکہ لوگ اکتا نہ جائیں۔

آپ کی حکمت و دانائی کا ایک پہلو یہ ہے کہ اگر آپ یہ محسوس کرتے کہ زبانی بات زیادہ مؤثر ثابت نہیں ہوسکتی یا سوال کرنے والے کا ذہن پوری طرح مطمئن نہیں ہوسکتا تو آپ عملی طور پر کرکے دکھاتے۔ ایک بار نبی نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔آپ نے ممبر پر کھڑے ہوکر امامت کی تاکہ لوگ آپ کے طریقہ نماز کو واضح طور پر دیکھ سکیں اور پھر آپ ہی کی طرح نماز پڑھیں۔چنانچہ آپ نے نماز سے فراغت کے بعد فرمایا’’ اے لوگو! میں نے ایسا اس لیے کیا ہے تاکہ تم میری پیروی کرو،اور دوسروں کو میری نماز سکھاؤ۔‘‘ (بخاری)

حضرت علی ؓسے روایت ہے کہ ’’رسول اللہ نے اپنے بائیں ہاتھ میں ریشم لی اور داہنے ہاتھ میں سونا ،ہاتھو ں میں لے کر دونوں کو اوپر اٹھایا اور فرمایا: یہ دونوں چیزیں میری امت کے مَردوں پر حرام ہیں اور عورتوں کے لیے حلال ہیں ۔‘‘(ابو داؤد اور نسائی)
اس حدیث میںحضور نے سونے اور ریشم کی حرمت واضح کرنے کے لیے لوگوں کو ریشم اور سونا اوپر اٹھاکر دکھایا تاکہ ان کی حرمت کی وضاحت ہوجائے اور لوگوں کے دلوں میں ان سے اجتناب کی اہمیت بیٹھ جائے۔عمرو بن شعیبؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور اس نے سوال کیاکہ اے اللہ کے رسول ا ! وضو کیسے کیا جائے ؟رسول اللہ اگر وضو کی ترکیب اور طریقہ زبانی بتادیتے تو سوال کا جواب مکمل ہو جاتا مگر آپ ا نے ایک برتن میں پانی منگوایا اور پورا وضو کرکے دکھایا تاکہ پوچھنے والا عملی طور پر وضوکے طریقہ اور ترکیب کو دیکھ لے اور اس کے بھول جانے یا کمی بیشی کردینے کا کوئی خدشہ باقی نہ رہے۔چنانچہ آپ نے وضو مکمل کرکے فرمایا’’جس شخص نے اس وضو میں کچھ بڑھایا ، یا کوئی کمی کی تو اس نے حد سے تجاوز کیا اور ظلم کیا ۔‘‘ (ابو داؤد)

اگر وقت متقاضی ہوتا اور آپ ضرورت محسوس کرتے تو نہایت اثر انگیز انداز میں خطاب فرماتے ۔حضرت عرباضؓبن ساریہ کا بیا ن ہے کہ’’ ایک بار رسول اللہ نے ایسا وعظ فرمایا کہ ہمارے جسم سوز و تپش سے جل اٹھے، آنکھیں بہہ پڑیں اور دل لرز اٹھا۔‘‘(ترمذی )حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کا بیان ہے کہ ایک بار آپ ﷺنے سوز و گداز میں ڈوب کر اس طرح خطاب فرمایا کہ جس ممبر پر آپؐ کھڑے تھے وہ لرزنے لگا،ہم نے سوچا کہ یہ ممبر اب گر جائے گا۔ (مسلم)وعظ و نصیحت میں یہ سوز و گداز اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب اپنے مخاطبین سے بے پناہ محبت ہو، ان کی خیر خواہی کا خیال ہو ،ان کے لیے داعیانہ تڑپ ،بے چینی اورخلوص کے جذبات کارفرماں ہوں ۔

اصلاح و تربیت کے سلسلہ میں حضور محبت اور دل سوزی کا لب و لہجہ اپناتے ۔آپ کے دل کی گہرائیوںسے نکلنے والی آواز مخاطب کے دل میں اترتی چلی جاتی ۔آپ ﷺکا انداز اس قدرخیر خواہانہ اور اس قدر شیریں ہوتا کہ مخاطب کو سرتابی کی مجال نہ ہوتی اور وہ آپ کی بات کو نہایت خوش دلی سے عملی جامہ پہنانے کے لیے تیار ہو جاتا۔

ایک بار ایک شخص آپ کی خدمت میںحاضر ہو کر دست سوال دراز کرتا ہے تو نہ آپ کے تیور بدلتے ہیں،نہ نگاہوں میں بے التفاتی کی جھلک نظر آتی اور نہ لبوں پر حرف شکایت آتا ہے ۔آپ چاہتے ہیں کہ دست سوال دراز کرنے کی عادتوں کو ختم کیا جائے مگر اس کے لیے خشک وعظ و نصیحت نہیں فرماتے، بلکہ نہایت حکمت و دانائی کا طریقہ اختیار فرماتے ہیں۔ آپ سائل سے پوچھتے ہیں کہ کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے؟سائل عرض کرتا ہے کہ اللہ کے رسول میرے پاس صرف ایک کٹورا اور ایک چادر ہے ۔آپ چادر اور کٹورا منگوا کر اسے دو درہموں میں فروخت کردیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ’’جاؤ ایک درہم سے اپنے گھر والوں کے لیے کھانا خریدو اور ایک درہم سے کلہاڑی خرید کر لاؤ۔‘‘پھر آپ اپنے مبارک ہاتھوں سے کلہاڑی میں دستہ لگاتے ہیں اور اس کوسائل کے حوالے کرکے فرماتے ہیں کہ ’’جاؤ اس کلہاڑی سے لکڑیاں کاٹا کرو اور ان کو فروخت کرکے اپنے گھر والوں کی ضروریات پوری کیا کرو۔ یہ کام تمہارے لیے دست سوال دراز کرنے سے کہیں زیادہ بہتر ہے۔‘‘آپ لوگوں کے دکھ درد میں بذات خود شریک ہوتے ،مصائب میں ان کی دل جوئی کرتے، خوشی کی تقریبات میں شرکت کرکے ان سے اپنی قربت کا اظہار فرماتے ۔ہمیشہ خندہ پیشانی سے ملتے، اظہار محبت کے لیے مصافحہ اور معانقہ بھی کرتے ،بعض اوقات پیشانی چوم لیتے ،محبت آمیز بے تکلفی میں کبھی کبھی احباب کو مختصر ناموں سے پکارتے۔حضرت عائشہؓ کو کبھی کبھی ’’عائش‘‘ کہہ کر پکارتے ۔کبھی حضرت ابو ہریرہ ؓکو صرف ’’اباہر ‘‘کے نام سے پکارتے۔محبت و ہمدردی پیدا کرنے والے الفاظ اور جملوں کا استعمال کرتے۔حضرت انس ؓ کو پیار سے ’’یا ذوالاذنین‘‘(دونوں کان والے) کہہ کر خطاب کرتے۔اگر کبھی کوئی نا خوش گوار بات سامنے آتی تب بھی اسے محبت و پیار کے الفاظ میں ڈھال کر پیش فرماتے۔ایک بار عبداللہ بن بشیر ؓ کی والدہ نے ان کے ہاتھ حضورﷺکی خدمت میں ہدیہ کے طور پر کچھ انگور بھیجے۔حضرت عبد اللہ راستہ میں کھاگئے ۔بعد میں اصل معاملہ کھلا تو آپ نے پیار سے عبد اللہ کا کان پکڑ کر کہا ’’ یا غدریا غدر‘‘(او دھوکے باز،اودھوکے باز)

آپ کا سلوک لوگوں کے ساتھ کس قدر محبت آمیز ہوتا تھا اس کا اندازہ حضرت انس ؓ کے اس بیان سے لگایا جا سکتا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’میں دس برس تک حضور کی خدمت میں رہا مگر آپ نے کبھی اف تک نہ کہا ۔جو کام جس نے جس طرح بھی کردیا آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ یہ کیوں کیا ؟اور اگر کوئی کام نہ کر سکا تو یہ نہیں فرمایا کہ یہ کیوں نہیں کیا؟یہی معاملہ آپ کا کنیزوں اور خادموں کے ساتھ رہا۔آپ نے ان میں سے کبھی کسی کو نہیں مارا۔‘‘

رسول اللہ ﷺلوگوں کے مراتب اور ان کی نفسیات کا پورا خیال رکھتے ۔ آپ کو مردم شناسی میں کمال حاصل تھا ۔ ہر شخص کی خوبیوں اور اس کے کمزور پہلوؤں پر آپ کی گہری نظرہوتی ۔ جن لوگو ںکی تربیت آپ کو مقصود ہوتی آپؐ ان کی فطری صلاحیت اوران کے مزاج وطبیعت کوملحوظ رکھتے ۔ ایک شخص آتا ہے، وہ سب سے افضل عمل کے بارے میں پوچھتا ہے تو آپ اسے جواب دیتے ہیںکہ ’’ جہاد سب سے افضل عمل ہے ۔‘‘ دوسرا شخص آتاہے اور یہی سوال کرتا ہے تو آپ اسے جواب دیتے ہیں کہ’’ نماز سب سے افضل عمل ہے ۔ ‘‘تیسرے شخص کو آپ بتاتے ہیں کہ’’ حسن اخلاق سب سے بہتر عمل ہے ۔ ‘‘بظاہر آپؐ کے ان اقوال میں تضاد ہے ،مگر حقیقت میں یہ جوابات مخاطب کے ذہن اور اس کی نفسیات کو سامنے رکھ کر دیے گئے ہیں۔ ایک شخص جو کہ نماز روزہ کی بڑی پابندی کرتا ہے ،نوافل کا بھی اہتمام کرتا ہے مگر جہاد سے اس کی طبیعت ابا کرتی ہے تو آپ ؐاسے جہاد پر آمادہ کرنے کے لیے جہاد کو سب سے افضل عمل قرار دیتے ہیں ۔ دوسرا شخص آتا ہے جو بہت سی نیکیاں کرتا ہے مگر نماز سے جی چراتا ہے ،آپ ؐ اس سے بھی اچھی طرح واقف ہیں اس لیے اس کے لیے نماز کو سب سے افضل عمل قرار دیتے ہیں ۔
اسی سلسلے میں ایک اور واقعہ پر غو رکریں ۔ ایک شخص رسول خداﷺکی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کرتا ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ! میں بہت سے گناہوں کا ارتکاب کرتا ہوں،البتہ میں صرف کسی ایک گناہ کو چھوڑ سکتا ہوں ۔حضور نے دریافت فرمایا ’’کیاتم مجھ سے یہ عہد کرتے ہو کہ کبھی جھوٹ نہیں بولو گے ؟‘‘ وہ شحص کہتا ہے اے اللہ کے رسول ! میں وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ کبھی جھوٹ نہیں بولوں گا ۔ اس کے بعد وہ شخص یہ کہتے ہوئے چلا گیا کہ رسول اللہ ﷺنے مجھ سے کتنی آسان چیز کا مطالبہ کیا ہے ،مگر فوراً ہی اسے خیال آتاہے کہ کل جب رسول اللہ سے ملاقات ہوگی اور وہ مجھ سے سوال کریں گے تومیں کیا جواب دوں گا ۔ اگر سچ بولوں گا تو مجھ پر گناہ کی حد جاری کی جائے گی اور اب میں جھوٹ بول سکتا نہیں۔ اس شخص کے قدم جب بھی کسی گناہ کے لیے آگے بڑھتے یہی خیال اس کے پیروں کی زنجیر بن جاتا ۔ چند دنوں بعد جب رسول اللہ ﷺسے اس کی ملاقات ہوئی اور آپ نے اس کے حالات پوچھے تو بولا اے اللہ کے رسول ﷺ! جھوٹ نہ بولنے کے عہد نے تمام گناہ چھڑا دیے ہیں ۔ اگر اللہ کے رسول ﷺنے نفسیات و مزاج کا خیال نہ کیا ہوتا تو شاید اس کی زندگی میں اتنی جلدی انقلاب نہ آتا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں