Seerat-ul-Nabi 74

سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ رحمت عالم صلی اللہ علیہ و سلم کے چند معجزات

سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ رحمت عالم صلی اللہ علیہ و سلم کے چند معجزات
سفر کے دوران ایک مقام پر پانی ختم ہوگیا… صحابہ رضی اللہ عنہم حضور اکرم ﷺ کے پاس آئے، اس وقت آپ ﷺ کے سامنے پانی کا ایک برتن تھا، آپ ﷺ اس سے وضو فرمارہے تھے، آپ ﷺ نے ان سے پوچھا:
“کیا بات ہے؟”
صحابہ نے بتایا:
“آپ کے پاس اس برتن میں جو پانی ہے، اس پانی کے علاوہ پورے لشکر میں کسی کے پاس اور پانی نہیں ہے -”
یہ سن کر آپ ﷺ نے پانی کے برتن میں اپنا ہاتھ مبارک رکھ دیا، جونہی آپ ﷺ نے ہاتھ مبارک پانی میں رکھا، آپ ﷺ کی انگلیوں سے پانی اس طرح نکلنے لگا جیسے برتن میں چشمے پھوٹ پڑے ہوں ، ایک صحابی کا بیان ہے کہ میں نے آپ ﷺ کی انگلیوں سے پانی کے فوارے نکلتے دیکھے -حضرت موسی علیہ السلام کے لیے ایک پتھر سے پانی کا چشمہ پھوٹ نکلا تھا، لیکن یہاں نبی کریم ﷺ کی انگلیوں سے پانی جاری ہوگیا تھا، علماء کرام فرماتے ہیں کہ یہ واقعہ موسی علیہ السلام والے واقعہ سے کہیں زیادہ حیرت ناک ہے… کیونکہ چشمے پہاڑوں چٹانوں ہی سے نکلتے ہیں ، لہٰذا پتھر سے پانی کا جاری ہونا اتنی عجیب بات نہیں ، جتنی کہ حضور اکرم ﷺ کی مبارک انگلیوں سے پانی جاری ہونا عجیب ہے –
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں :
“جونہی یہ پانی کا چشمہ پھوٹا، ہم سب پینے لگے… ہم نے پیا بھی اور اس پانی سے وضو بھی کیا اور اپنے برتن بھی بھرے… اگر ہم اس وقت ایک لاکھ بھی ہوتے تو بھی پانی ہمارے لیے کافی ہوجاتا، جب کہ اس وقت ہماری تعداد چودہ سو تھی -”
مسلمانوں کا قافلہ “عسفان” کے مقام پر پہنچا تو نبی کریم ﷺ کے پاس بشر بن سفیان عتکی رضی اللہ عنہ آئے، آپ ﷺ نے پہلے ہی انہیں جاسوس بناکر مکہ کی طرف روانہ کردیا تھا، کیونکہ آپ ﷺ کی نیت اگرچہ صرف عمرے کی تھی، لیکن قریش کے بارے میں اطلاعات رکھنا ضروری تھا – بشر رضی اللہ عنہ نے آکر بتایا:
اے اللہ کے رسول! قریش کو اطلاع مل چکی ہے کہ آپ مدینہ منورہ سے روانہ ہوچکے ہیں ، دیہاتوں میں جو ان کے اطاعت گزار لوگ ہیں ، قریش نے ان سے بھی مدد طلب کی ہے، بنی ثقیف بھی ان کی مدد کرنے پر آمادہ ہیں … اور ان کے ساتھ عورتیں اور بچے بھی ہیں ، وہ لوگ مکے سے نکل کر “ذی طوی” کے مقام تک آگئے ہیں ، انھوں نے ایک دوسرے سے عہد کیا ہے کہ وہ آپ کو مکہ میں داخل ہونے نہیں دیں گے… دوسرے یہ کہ خالد بن ولید (جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے) گُھڑسوار دستہ لیے کراعِ غمیم کے مقام تک آگئے ہیں ، ان کے دستے میں دوسو سوار ہیں ، اور وہ آپ کے خلاف صف بندی کرچکے ہیں -”
یہ اطلاعات ملنے پر آپ ﷺ نے حضرت عباد بن بشر رضی اللہ عنہ کو حکم فرمایا کہ وہ مسلمان گھُڑ سواروں کے ساتھ آگے بڑھیں ، یہ آگے بڑھے اور حضرت خالد بن ولید کے دستے کے سامنے پہنچ گئے، انھوں نے بھی صف بندی کرلی –
نماز کا وقت ہوا تو حضور نبی کریم ﷺ نے نماز شروع کی، جب مسلمان نماز سے فارغ ہوئے تو کچھ مشرکوں نے کہا:
“ہم نے ایک اچھا موقع گنوادیا، ہم اس وقت ان پر حملہ کرسکتے تھے، جب کہ یہ نماز پڑھ رہے تھے، ہم اس وقت انہیں آسانی سے ختم کرسکتے تھے -”
ایک اور مشرک نے کہا:
“کوئی بات نہیں ! ایک اور نماز کا وقت آرہا ہے اور نماز ان لوگوں کو اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہے، ظاہر ہے یہ نماز پڑھے بغیر تو رہیں گے نہیں … سو ہم اس وقت ان پر حملہ کریں گے -”
نماز عصر کا وقت ہوا تو اللہ تعالٰی نے حضور نبی کریم ﷺ کے پاس حضرت جبرئیل علیہ السلام کو بھیج دیا – وہ صلوۃِ خوف کی آیت لےکر آئے تھے، جس میں اللہ تعالٰی نے فرمایا:
ترجمہ:”اور جب آپ ان کے درمیان ہوں اور آپ انہیں نماز پڑھانا چاہیں تو یوں کرنا چاہیے کہ لشکر کا ایک گروہ تو آپ کے ساتھ کھڑا ہوجائے اور وہ لوگ ہتھیار لےلیں ، پھر جب یہ لوگ سجدہ کرچکیں تو یہ آپ کے پیچھے آجائیں اور دوسرا گروہ جس نے نماز نہیں پڑھی ہے، آجائے اور نماز پڑھ لے اور یہ اپنے بچاؤ کا سامان، ہتھیار وغیرہ لےلیں -“(سورۃ النساء)
چنانچہ اس طرح نماز ادا کی گئی… یہ نمازِخوف تھی، یعنی جب دشمن سے مقابلہ ہو تو آدھا لشکر پیچھے ہٹ کر دو رکعت ادا کرلے اور واپس اپنی جگہ پر آجائے، باقی جو لوگ رہ گئے ہیں ، اب وہ جاکر دو رکعت ادا کریں – اس نماز کی ادائیگی کا تفصیلی طریقہ فقہ کی کتب میں دیکھا جاسکتا ہے –
مسلمانوں نے جب عصر کی نماز اس طرح ادا کی تو مشرک بول اٹھے:
“افسوس! ہم نے ان کے خلاف جو سوچا تھا، اس پر عمل نہ کرسکے -”
ادھر حضور اقدس ﷺ کو اطلاع ملی کہ قریشِ مکہ آپ کو بیت اللہ کی زیارت سے روکنے کا فیصلہ کرچکے ہیں ، تو آپ ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے اس بارے میں مشورہ کیا اور ان سے فرمایا:
“لوگو! مجھے مشورہ دو، کیا تم یہ چاہتے ہو کہ ہم بیت اللہ کی زیارت کا فیصلہ کرلیں اور جو بھی ہمیں اس سے روکے، اس سے جنگ کریں -”
آپ ﷺ کی یہ بات سن کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا:
“اے اللہ کے رسول! آپ صرف بیت اللہ کی زیارت کا ارادہ فرماکر نکلے ہیں ، آپ کا مقصد جنگ اور خوں ریزی ہرگز نہیں ، اس لیے آپ اسی ارادے کے ساتھ آگے بڑھتے رہیں ، اگر کوئی ہمیں اس زیارت سے روکے گا تو اس سے جنگ کریں گے -”
حضرت مقداد رضی اللہ عنہ نے کہا:
“اے اللہ کے رسول! ہم آپ سے وہ نہیں کہیں گے جو بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا کہ تم اور تمہارا رب جاکر جنگ کرو، ہم تو یہاں بیٹھے ہیں … ہم تو آپ سے کہتے ہیں آپ اور آپ کا رب جنگ کریں ، ہم بھی آپ کے ساتھ جنگ کریں گے، اور اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! اگر آپ ہمیں لےکر “برکِ غماد” بھی جانا چاہیں تو ہم آپ کے ساتھ ہوں گے، ہم میں سے ایک شخص بھی پس و پیش نہیں کرےگا -“(برکِ غماد مدینہ منورہ سے بہت دور دراز کے ایک مقام کا نام ہے) –
ان دونوں حضرات کی رائے لینے کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا:
“بس تو پھر اللہ کا نام لےکر آگے بڑھو -”
چنانچہ مسلمان آگے روانہ ہوئے، یہاں تک کہ حدیبیہ کے مقام پر پہنچے، اس جگہ حضور اکرم ﷺ کی اونٹنی خود بخود بیٹھ گئی، لوگوں نے اٹھانا چاہا، لیکن وہ نہ اٹھی، لوگوں نے کہا:
“قصوی اڑ گئی ہے -”
حضور اکرم ﷺ نے یہ سن کر ارشاد فرمایا:
“یہ اڑی نہیں اور نہ اڑنے کی اس کی عادت ہے، بلکہ اسے اس ذات نے روک لیا ہے، جس نے ابرہہ کے لشکر کو مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا تھا -”
مطلب یہ تھا کہ قصوی خود نہیں رکی، اللہ کے حکم سے رکی ہے – حضور اکرم ﷺ نے اس مقام پر قیام کا حکم فرمایا، اس پر صحابہ نے عرض کیا:
“اللہ کے رسول! یہاں پانی نہیں ہے؟”
یہ سن کر حضور اکرم ﷺ نے اپنے ترکش سے ایک تیر نکال کر ناجیہ بن جندب رضی اللہ عنہ کو دیا جو آپ ﷺ کی قربانی کے جانوروں کے نگران تھے –
حضور اقدس ﷺ نے حکم فرمایا کہ یہ تیر کسی گڑھے میں گاڑدو – تیر ایک ایسے گڑھے میں گاڑ دیا گیا جس میں تھوڑا سا پانی موجود تھا – فوراً ہی اس میں سے میٹھے پانی کا چشمہ ابلنے لگا، یہاں تک کہ تمام لوگوں نے پانی پی لیا، جانوروں کو بھی پانی پلایا، پھر سب جانور اسی گڑھے کے گرد بیٹھ گئے –
جب تک تیر اس گڑھے میں لگا رہا، اس میں سے پانی ابلتا رہا…
گڑھے سے پانی ابلنے کی خبریں قریش تک بھی پہنچ گئیں … ابوسفیان نے لوگوں سے کہا:
“ہم نے سنا ہے، حدیبیہ کے مقام پر کوئی گڑھا ظاہر ہوا ہے، اس میں سے پانی کا چشمہ پھوٹ پڑا ہے، ذرا ہمیں بھی تو دکھاؤ، محمد نے یہ کیا کرشمہ دکھایا ہے -”
چنانچہ انہوں نے وہاں جاکر اس گڑھے کو دیکھا… گڑھے میں لگے تیر کی جڑ سے پانی نکل رہا تھا، یہ دیکھ کر ابوسفیان اور اس کے ساتھی کہنے لگے:
“اس جیسا واقعہ تو ہم نے کبھی نہیں دیکھا، یہ محمد(ﷺ) کا چھوٹا سا جادو ہے -“

اپنا تبصرہ بھیجیں