Pm Imran Khan 36

رحمت اللعالمینﷺ اتھارٹی قائم، اسکولوں کے نصاب، سوشل میڈیا پر نازیبا مواد کی مانیٹرنگ ہوگی، عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے سیرت النبی ﷺاور مدینہ کی ریاست کے مختلف پہلوئوں پر تحقیق کے لئے اپنی سربراہی میں رحمت اللعالمین اتھارٹی قائم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اتھارٹی نہ صرف اسکولوں کے نصاب بلکہ سوشل میڈیا پر نازیبا مواد کی بھی مانیٹرنگ کرے گی۔

اتھارٹی میں دنیا بھر کے اسکالرز شامل ہوں گے‘بچوں کو اپنی ثقافت سے متعارف کرانے کے لئے کارٹون سیریز بنائیں گے‘کمزور انسان انصاف اور طاقتور این آر او چاہتا ہے‘ نوجوان نسل انتہائی دباؤ کا شکار ہے، جنسی جرائم میں اضافہ ہورہا ہے۔

بچوں کیساتھ زیادتی معاشرے میں سرایت کرچکی ہیں‘فحاشی پر بات کریں تولبرل طبقہ شور مچاتاہے ‘مغربی ممالک کا خاندانی نظام ہمارے سامنے تباہ ہوا، تو مغربی کلچراپنانے سے ہمارامعاشرہ کیسے بچ سکتا ہے؟۔ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ قیادت کا فقدان ہے۔

ایک آدمی پیسہ چوری کرکے لندن بیٹھا ہے اور وہاں سے تقریریں کررہا ہے اور اس کے لوگ اس پر پھول پھینک رہے ہیں‘حکومت نہیں معاشرہ کرپشن کے خلاف لڑتا ہے‘تاریخ میں حضرت خالد بن ولیدؓسے بڑا شاید ہی کوئی جنرل ہو لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے بھی کہا کہ آپ چھوڑ دیں‘ وہ کسی اور کو کمان دے دیتے ہیں۔

وہ اتوار کو یہاں عشرہ رحمت اللعالمین ﷺکی مرکزی تقریب سے خطاب کر رہے تھے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر چلیں گے تو ملک ترقی کرے گا‘ اوپر کی سطح پر اگر اربوں روپے کی کرپشن ہو رہی ہو تو کلرک اور پٹواری کو پکڑنے سے کرپشن ختم نہیں ہو گی۔

انہوں نے کہاکہ میں نے بہت تاخیر سے سیرت النبی ﷺکا مطالعہ شروع کیا ،میں روز اپنی زندگی کا تنقیدی جائزہ لیتا ہوں ۔اگر ہم نے اپنے ملک کو ترقی کے راستے پر گامزن کرناہے تو ہمیں نبی ۖ ﷺکی اتباع کرنا ہوگی ۔ہمیں قرآن کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

کرپشن کے خلاف پورا معاشرہ لڑتا ہے اکیلی حکومت کتنی کرپشن پکڑ سکتی ہے ۔ وزیراعظم نے کہاکہ پولنگ کے بعد اور نتیجے کے اعلان کے درمیان اصل دھاندلی ہوتی ہے اس کی روک تھام کے لئے بہترین حل الیکٹرانک ووٹنگ مشین ہے‘ دھاندلی کرنے والے نہیں چاہتے کہ نظام بہتر ہو۔

وزیراعظم نے کہا کہ رحمت ا للعالمین اتھارٹی بنائی جائے گی جس کے سرپرست اعلیٰ وہ خود ہوں گے جبکہ قرآن پاک کی تفسیر کے لئے نمایاں مقام رکھنے والے اسکالر کو اس کا چیئرمین بنایا جائے گا۔

اس کے اوپر ایک انٹرنیشنل ایڈوائزری کمیشن بنے گا یہ اتھارٹی دنیا کے سامنے اسلام کا حقیقی چہرہ پیش کرے گی‘یہ اتھارٹی مغربی تہذیب کے معاشرے پر اثرات ، اس کے نقصانات اور فوائد پر بھی تحقیق کرے گی ۔

وزیراعظم نے فحاشی کو اہم معاشرتی برائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ فحاشی کے اثرات خاندانی نظام پر پڑتے ہیں ،ہمیں اپنے نوجوانوں کو اس کے معاشرتی اثرات سے آگاہ کرنا ہو گا ،موبائل فون نے پوری دنیا بدل دی ہے۔

اس میں ایسا مواد ملتا ہے جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی یہ ایک چیلنج ہے ۔انہوں نے کہاکہ ہالی ووڈ اوربالی ووڈ کی وجہ سے خاندانی نظام متاثر ہوا۔ اس کے علاوہ منشیات کی لعنت بھی ایک بڑا مسئلہ ہے ، ان برائیوں سے بچنے کا واحد راستہ نبی ﷺ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونا ہے ۔

بچوں کو دکھائے جانے والے کارٹون پروگرام ہماری ثقافت سے مطابقت نہیں رکھتے ،اس سے بچوں کی تربیت پر اثر پڑ رہاہے ، قصور میں ہونے والے جنسی زیادتی کے واقعات پر رپورٹ بڑی خوفناک ہے ، جنسی جرائم پر قابو پانے کے لئے پورے معاشرے کو کردار ادا کرنا ہوگا ۔ہمارے معاشرے میں طلاق کی شرح میں اضافہ تشویش ناک ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں