راشدمنہاس شہید،نشان حیدر 100

راشدمنہاس شہید،نشان حیدر

راشدمنہاس شہید،نشان حیدر

تعارف :
پاکستان کے دفاع میں پاک فضائیہ کی قربانیاں کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ وطن عزیز پر جب بھی آزمائش کی گھڑی آئی پاک فضائیہ کے شاہینوں نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر لیبک کہا۔ ایسے ہی جانباز سرفروشوں میں ایک باوقار نام فلائٹ لیفٹیننٹ راشد منہاس کا ہے۔
20 اگست1 197ء کوایک تربیتی پرواز کے دوران ان کے جہاز کو ان کے انسٹریکٹر نے ہائی جیک کر لیا اور جہاز کا رخ زبردستی انڈیا کی طرف موڑ دیا۔راشد منہاس شہید نے جہاز کو واپس پاکستان لانے کی سرتوڑ کوششیں شروع کردیں ۔جہاز کے کاک پٹ میں ان کے اور انسٹریکٹر کے درمیان یہ کشمکش میدان جنگ بن گئی۔نوعمر تربیتی پائلٹ نے جب دیکھا کہ ان کا انسٹریکٹر ہر صورت میں جہاز کو انڈیا کی طرف لے کر ہی دم لے گا توانہوں نے دشمن کے قبضے میں جانے کی بجائے جہاز کو پاکستانی حدود(ٹھٹھہ کے قریب) کے اندر ہی زمین سے ٹکرا کر شہادت کو ترجیح دی ۔ یوں انہوں نے اپنی جان، جان آفرین کے حوالے تو کر دی لیکن وطن کی آن پر آنچ نہ آنے دی۔ اس ناقابل یقین سرفروشی کے اعتراف میں پائلٹ آفیسر راشد منہاس کو بعد از شہادت پاکستان کا اعلیٰ ترین فوجی اعزاز نشان حیدر عطا کیا گیا۔ وہ بہادری کا سب سے بڑا اعزاز نشان حیدر پانے والے کمر عمر ترین پائلٹ ہیں۔
ابتدائی زندگی:
راشد منہاس شہید 17 فروری 1951کی رات تقریبا 9بجے کراچی میں ( فضائیہ کے ہسپتال میں) پیدا ہوئے۔ان کے والد کا نام عبدالمجید منہاس تھا۔ ان کا تعلق راجپوتوں کی ایک مشہور شاخ منہاس سے تھا۔جب راشد منہاس کے بزرگ جموں و کشمیر میں آباد ہوئے تو اس دوران انہوں نے اسلام قبول کیا۔بوقت قبول اسلام راشد منہاس کے بزرگ چار گاؤں کے مالک تھے اور سینکڑوں ایکڑ زرعی اراضی ان کی ملکیت تھی۔چونکہ اس خاندان میں کسی شخص نے ہی اسلام قبول نہیں کیا تھابلکہ پورا خاندان ہی مشرف بہ اسلام ہوا لہذا یہ خاندان رفتہ رفتہ ہندؤں کے تعصب کا شکار ہو گیا اور بہ مجبوری اپنی زمین اونے پونے فروخت کر کے جنوبی پنجاب کے ایک معروف شہر گورداس پور میں آباد ہو گیا ۔یہاں کچھ عرصہ قیام کے بعد اس خاندان نے ضلع سیالکوٹ کے موضع قلعہ سوبھا سنگھ میں رہائش اختیار کی۔ چونکہ یہ ایک زمیندار خاندان تھا اس لئے اس کے بزرگوں نے زرعی علاقے کو پسند کیا ۔راشد منہاس کے دادا ایک پرہیز گار نمازی شخص تھے ۔وہ پابند صوم و صلوۃ اور تہجد گزار شخص تھے۔۔اسی طرح راشد منہاس کی دادی اماں بھی نہایت ہی نیک سیرت خاتون تھیں ۔آپ کے والدعبدالمجید منہاس تقسیم ہند سے قبل بری فوج میں گریژن انجینئر تھے۔راشد منہاس کے خاندان کے اکثر افراد اپنی قابلیت کی بنا پر بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہوئے۔ان کی سب سے بڑی بہن محترمہ فریدہ منہاس کی شادی میجر نصیر احمد کے ساتھ ہوئی۔میجر نصیر احمد کو 1965کی پاک جنگ کے دوران وطن کے لئے بہادری کے کارنامے سرانجام دینے کے صلے میں ستارہ جرات عطا کیا گیا ۔راشد منہاس کے دو بھائی خالد مجید اور ارشد مجید امریکہ میں مقیم ہوئے ۔
تعلیم:
راشد منہاس ابھی زیر تعلیم ہی تھے کہ انکے والد محترم کا تبادلہ کراچی میں ہو گیا ۔ انہوں نے سینٹ پیٹرک کالج کراچی میں داخلہ لیا اور یہیں سے انہوں نے سینئر کیمرج کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیا ۔راشد منہاس نے امتحان کے نتیجے کا انتظار کرنا بے مقصد خیال کیا اور بڑی تیزی سے ایئر فورس میں شامل ہونے کیلئے درخواست دی۔اس کے بعد انہیں پاک فضائیہ میں بحیثیت پائلٹ منتخب کر لیا گیا۔
فضائیہ سے محبت:
فلائٹ لیفٹیننٹ راشد منہاس کے دل میں پاک فضائیہ کی محبت بچپن سے ہی سے موجزن تھی۔ایک دن ائیر فورس کے ایک اعلیٰ افسر اُن کے والد سے ملنے ان کے گھر آئے۔ انہوں نے دیکھا کہ ان کے میزبانوں کے گھر میں ایک چھوٹا سا بچہ یونیفارم میں ملبوس ائیر فورس افسر کو بہت غور سے دیکھ رہا ہے اور ان کے سامنے نہایت تمکنت اور وقار کے ساتھ کرسی پر بیٹھا ہوا ہے۔ابھی مہمان نوازی شروع بھی نہ ہوئی تھی کہ وہ افسر صاحب ہاتھ دھونے ملحقہ کمرے کے غسل خانہ میں چلے گئے مگر جاتے وقت اپنی کیپ میز پر رکھ گئے ۔وہ جب واپس آئے تو انہوں نے دیکھا کہ ان کو بڑے غور سے دیکھنے والا بچہ ان کی کیپ پہن کر بڑے وقار کے ساتھ کرسی پر بیٹھا ہواہے۔اور اس کے چہرے پر خوشی و انبساط کے جذبات دیدنی ہیں۔یہ عبدالمجید منہاس کے ہونہار فرزند راشد منہاس تھے۔اس آفیسر نے پیشن گوئی کی کہ یہ بچہ بڑا ہو کر ملک کا نام روشن کرے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کوبچپن سے ہی انہیں پاک فضائیہ کا آفیسر بننے کا شوق تھا ۔یہ لگن راشد کو اس عمر میں تھی جب انہیں یہ معلوم بھی نہیں تھا کہ ائیر فورس ہوتی کیا چیز ہے۔ان کا پاک فضائیہ کے لئے شوق و ولولہ ملاحضہ کریں کہ راشدمنہاس کو بچپن میں ایک بیماری کی وجہ سے ایم ایچ میں داخل کروایا گیا ۔ایک روز انہیں اطلاع ملی کہ پاک فضائیہ کے سربراہ ہسپتال کا دورہ کر رہے ہیں۔ چنانچہ ننھا راشد منہاس بھی بے چین ہو گیا کہ وہ ضرور ان سے ملے گا۔بس اسی دن سے راشد نے زور و شور سے کہنا شروع کر دیا کہ وہ بھی ایک دن ائیر چیف مارشل بنے گا۔یہ وہی راشد منہاس تھے جنہوں نے اپنے کھیلنے کودنے کے دنوں میں اپنی جان وطن عزیز پر قربان کر کے قوم کے نونہالوں کو جان فروشی کا سبق سکھایا۔
جہاز اڑانے کا شوق:
راشد منہاس کو کم سنی میں کھلونوں میں جہاز بہت پسند تھا۔ وہ کتابوں یا رسائل میں جب بھی کسی جہاز کی تصویر دیکھ لیتے تو اسے احتیاط سے کاٹ کر اپنے پاس محفوظ کر لیتے۔اور ان میں سے جو تصویر انہیں پسند آتی اس کو یا تو دیوار پر چسپاں کر لیتے یا کتابوں میں رکھ لیتے۔ایک مرتبہ وہ اپنے گھر کے لان میں ایک درخت سے جھول رہے تھے کہ اچانک و ہ جھولے پر الٹے لیٹ گئے اور بازوؤں کو پھیلاتے ہوئے قریب کھڑے ہوئے اپنے چچا عبدالعزیز منہاس سے کہنے لگے:’’ دیکھیں چچا جان میں جہاز بن گیا ہوں۔‘‘یہ واقعہ معلوم ہوتا ہے کہ بہت ہی کم سنی کا ہے مگر اس سے آپ کی ذہنی صلاحیت کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کے ذہن کے نہاں خانوں میں جہاز ہی بسے ہوئے تھے۔اسی طرح اگرچہ انہوں نے انگلش میڈیم میں تعلیم حاصل کی لیکن اس کے باوجود ان کے اندر مذہبی اقدار پوری توانائی کے ساتھ موجود تھیں۔راشد منہاس میں وہ تمام صفات موجود تھیں جو ایک مومن میں ہونا چاہیں۔وہ چونکہ بہت کم عمری میں شہادت کے مرتبہ پر فائز ہوئے اس لئے ان کی زندگی کی مصروفیات کے بارے میں بہت ہی کم تفصیلات میسر آسکی ہیں۔
فضائیہ میں شمولیت:
انہوں نے 1968ء میں فضائیہ میں شمولیت اختیار کی ۔پہلے مرحلے میں انہیں کوہاٹ روانہ کیا گیا۔کوہاٹ میں تربیت کے دوران ان کی پوشیدہ صلاحیتوں میں نکھار آ تا گیا اور ان کے ہر کام میں نمایاں کارکردگی رہی۔کوہاٹ میں تربیت حاصل کرنے کے بعد ان کو فلائٹ کیڈٹ کی تربیت کیلئے رسال پور بھیج دیاگیا۔وہاں انہوں نے پرواز کی تربیت کے علاوہ جوڈوکراٹے اور سیلف ڈیفنس کے بھی کور س کامیابی سے مکمل کئے۔ان تمام مصروفیات کے باوجود 1970میں انہوں نے پشاور یونیورسٹی سے بی ایس سی کے امتحان میں فرسٹ ڈویژن بطور ائیر فورس اکیڈیمی کیڈٹ کے حاصل کی۔یہ ایک حیرت انگیز کارنامہ تھا ۔دوران تربیت انہوں نے سائنس ،الیکٹرونکس ، پرواز اور موسمیات کے علم کے بارے میں بڑی عرق ریزی سے مطالعہ کیا ۔ان مضامین کے مطالعہ کے بعد انہوں نے ان مضامین کے امتحان 1971میں دئیے اور امتیازی نمبروں سے کامیاب ہوئے۔یہ تمام مراحل طے کرنے کے بعد ان کو 15اگست1971کو پائلٹ آفیسر بنا دیا گیا اور یہی وہ خواب تھا جو انہوں نے بچپن سے دیکھا تھا۔اگر آپ شہید نہ ہو جاتے تو آپ یقیناًائیر مارشل ضرور بن جاتے ۔جب آپ پائلٹ آفیسر بنے تو آپ کی عمر 20 برس تھی۔
سیرت و کردار:
راشد منہاس کو اپنے والدین کے ساتھ والہانہ محبت تھی۔آپ ہفتہ وار چھٹی پر گھر آتے تو پھر آدھی رات تک تمام گھر والوں کو جگائے رکھتے۔اسی دوران وہ اپنی تمام باتوں سے سب کو لطف اندوز کرتے۔پاک فضائیہ کے واقعات سناتے اور دوستوں کے ساتھ گزرے واقعات یاد کرتے۔اسی طرح راشد اپنے دوستوں اور ساتھیوں میں بھی بہت مقبول تھے اور ان کا سبھی احترام کرتے تھے اور اہم بات یہ ہے کہ ان کا جھگڑا کبھی آپس میں نہیں ہوا ۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ راشد میں درگزر کرنے کی عادت بھی تھی اور برداشت کرنے کی بھی۔اکثر اوقات راشد منہاس اپنے دوستوں کو معلوماتی باتیں بتاتے اور ان کے دوست ہمہ تن گوش ہو کر ان کی بات سنتے رہتے۔کتابیں ان کا شوق تھیں اور انہیں جتنے بھی پیسے ملتے وہ ان سب پیسوں کی کتابیں خرید لیتے۔ ان کے آئیڈیل بھی جنگجو اور بہادر جرنیل قسم کے لوگ ہوتے تھے۔انہیں ایسی کتابیں پسند تھیں جن میں جنگوں کے بارے میں معلومات یا واقعات تحریر ہوں۔ اسی طرح ان کو انہی موضوعات پر بننے والی فلموں میں از حد دلچسپی تھی۔ اپنے کمرے میں راشد نے دیواروں پر پاک فوج کے بہادروں کی تصاویر اخبارات یا کیلنڈروں سے کاٹ کاٹ کرلگا رکھی تھیں۔سپاہیانہ خیالات کے علاوہ راشد ایک بے باک قسم کے مقرر بھی تھے جن کے پاس اپنی بات کی وضاحت کیلئے دلائل کا ایک وسیع خزانہ موجود تھا۔اس کے علاوہ وہ موسیقی اور تیراکی کا شوق رکھتے تھے ۔خاص کر ان کو فوٹو گرافی میں خصوصی مہارت حاصل تھی۔انہیں ڈائری لکھنے کا شوق تھا۔جب انہوں نے ڈائری لکھنا شروع کی تو اس وقت ان کی عمر تقریباََ15,14 برس تھی ۔انہوں نے اپنی ڈائری کا آغاز قائد اعظم محمد علی کے اس قول سے کیا تھاجو کہ پوری قوم کے لئے مشعل راہ ہے: یہ قول ہے (ایمان ، اتحاد ،تنظیم)راشد منہاس کا بھی یہی منشور تھا ۔
والد سے آخری ملاقات:
یوں تو راشد منہاس نے بچپن سے جوانی تک لاتعداد سفر کئے مگر جس سفر کی ابتداء 20اگست 1971کو ہونے والی تھی وہ دراصل شہادت کا سفر تھا ۔یہ ایک ایسا سفر تھا کہ جس سفر کے اختتام پر راشد منہاس نے ایک نا معلوم نوجوان سے قوم کا ہیرو بننا تھا اور اسی سفر کے اختتام پر راشد منہاس نے پاکستان کی قومی تاریخ اپنے خون سے رقم کرنا تھی۔19اگست1971کو جمعرات کا دن تھا۔راشد منہاس کے والد محترم کو یکایک راشد منہا س کی یادآئی۔انہوں نے بلاتوقف راشد سے ملنا ضروری خیال کیا ۔انہیں معلوم تھا کہ راشد اس وقت پاک فضائیہ کے ماڑی پور کے مسرور اسٹیشن پر موجود ہیں؛وہ وہاں چلے گئے۔انہیں بتایا گیا کہ راشد منہاس اس وقت میس میں کھانا کھا رہے رہے ہیں۔جب راشد منہاس کے والد میس میں داخل ہوئے تو راشد منہاس بے ساختہ اپنی کرسی سے اٹھ کر کھڑے ہوئے۔دونوں باپ بیٹا نے اس دن میس میں اکٹھے بیٹھ کر کھانا کھایا اورساتھ ساتھ آپس میں باتیں بھی کرتے رہے۔راشد کے والد نے راشد سے کہا کہ گھر چلیں مگر راشد نے اپنے والد کو بتایا کہ ہمیں اس روز کھیلنے کیلئے جانا ہے جبکہ کل کادن ان کیلئے بہت اہم ہے کیونکہ دوسرے روز ان کی سولوفلائٹ تھی۔سولو فلائٹ تنہا پرواز کو کہتے ہیں۔ان کے والد کے لئے بھی یہ بات بہت خوش کن تھی۔انہوں نے بہت جلد ہی راشد سے رخصت ہونا چاہا کیونکہ وہ یہ خبر جلد از جلد اپنے گھر والوں کو سنانا چاہتے تھے کہ ان کا بیٹا تنہا پرواز پر جانے والا ہے۔جب انہوں نے یہ خبر اپنے گھر والوں کو سنائی تو راشد کی بھائی، بہنیں اور والدہ بہت خوش ہوئے۔بہنیں تو اپنے اپنے تحفوں کے بارے میں سوچنے لگیں کیونکہ راشد کی یہی عادت تھی ۔راشد نے تحفہ تو ضرورر دیا لیکن یہ تحفہ انہوں نے صرف اپنی بہنوں کو ہی نہیں دیا بلکہ پوری پاکستانی قوم کو دیا۔ایک ایسا تحفہ جس سے پوری قوم کا سر فخر سے بلند ہو گیا یعنی شہادت کا۔
شہادت کا رتبہ:
اس دن تاریخ 20اگست 1971 اور جمعتہ المبارک کا دن تھا ۔ وہ کراچی میں ماڑی پور ائیر بیس پر تعینات تھے ۔یہ وہ تاریخی دن تھا کہ جب پاکستان کی تاریخ میں کم عمر ترین تربیتی پائلٹ آفیسر نے نشان حیدر کا اعزاز پایا ۔ اس دن تین آزمائشی پروازیں تھیں۔تینوں پروازوں میں تین تین منٹ کا وقفہ تھا۔تیسری پرواز ایک تاریخی پرواز ثابت ہوئی اور یہ پرواز راشد منہاس شہید کی پرواز تھی۔گیارہ بج کر 26منٹ پر راشد منہاس اپنے ٹرینر جیٹ طیارے ٹی 303میں سوار چکے تھے۔یہ ایک تربیتی طیارہ تھاجس میں کنٹرول نصب تھا۔دوہرا کنٹرول اس لئے کہ ایک کنٹرول تو کیڈٹ کیلئے جبکہ دوسرا کنٹرول اس کے انسٹریکٹر کے لئے ۔دونوں کے لئے اس طیارے میں کنٹرول پینلز ہوتے ہیں۔دوران تربیتی پرواز زیر تربیت پائلٹ کے عقب میں اس کا انسٹریکٹر کا کوئی عمل دخل نہیں تھا۔گیارہ بج کر 26منٹ ہو چکے تھے جب راشد کو کنٹرول ٹاور سے پرواز کی کلیرنس ملی۔راشد نے طیارے کو رن وے پر دوڑانا شروع کیا ۔ابھی طیارے کی رفتار تیز نہیں ہوئی تھی کہ راشد نے دیکھا کہ ان کا انسٹریکٹر مطیع الرحمن طیارے کے قریب پہنچ چکا ہے۔اس نے اپنی کار سے اتر کر راشد کو طیارہ روکنے کا اشارہ کیا۔راشد نے اپنے انسٹریکٹر کو پہچان کر طیارے کی رفتار آہستہ کی اور طیارہ روک دیا۔اسی اثنا میں مطیع الرحمن کاک پٹ کے قریب پہنچ چکاتھا۔جونہی راشد نے اس سے پوچھا کہ کیا بات ہے تو اس نے اس موقع سے فائدہ اٹھایااور جلدی سے کاک پٹ میں داخل ہو کر پائلٹ کی عقبی نشست پر براجمان ہو گیا۔راشد منہاس ابھی سنبھل بھی نہ پائے تھے کہ فلائٹ لفٹنینٹ مطیع الرحمن نے طیارے کا کنٹرول سنبھالتے ہی اپنے ساتھیوں کو پیغام دیا کہ اس کے بیوی بچوں کو بھارتی ہائی کمیشن میں لے جائیں اور انہیں تحفظ دلائیں اور یہ پیغام دیا کہ وہ جودھاپور جارہا ہے۔ نو عمر راشد منہاس کو یہ ہرگز معلوم نہ تھا کہ ان کے جہاز کو کیوں اغواء کیا جا رہا ہے مگر یہ بات واضح تھی کہ جہاز کو دشمن ملک لیجایا جارہا تھا۔چنانچہ عین ممکن ہے راشد کو معلوم ہو کہ غدار وطن حساس نوعیت کی دستاویزات بھی ساتھ لے جا رہا ہو گا۔راشد منہاس نے فوراً کنٹرول ٹاور کو اطلاع دی کہ اس کے طیارے کو اغواء کر لیا گیا ہے۔ اسی کے سا تھ ہی راشد نے یہ اطلاع بھی دی کہ مطیع الرحمن نے کچھ دیر پہلے اپنے ساتھیوں کو کیا حکم دیا ہے۔یہ پیغام جونہی کنٹرول ٹاور کو وصول ہوا تمام آفیسر دم بخودرہ ہو گئے۔فوری طور پر اعلیٰ حکام تک موجودہ صورت حال پہنچائی گئی ۔کنٹرول سے آفیسرز نے راشد کو حکم دیا کہ کچھ بھی ہو جہاز کو بھارت میں داخل نہ ہونے دے۔جہاز میں چونکہ ڈبل کنٹرول کی سہولت موجود تھی۔لہذا مطیع الرحمن نے دوسری طرف کا کنٹرول سنبھال کر جہاز کو بھارت کی طرف موڑنا شروع کر دیا۔راشد منہاس نے اپنے وطن کے غدار کو یہ موقع فراہم نہ ہونے دیا کہ وہ ان کے جہاز کو اغوا کر کے بھارت لے جا سکے۔اس وقت تو جہاز راشد منہاس کا ہی تھا کیونکہ یہ ان کی تنہا فلائٹ تھی۔یہ دیکھ کر مطیع الرحمن نے راشد منہاس کو حکم دیا کہ جہاز کو بھارتی ہوائی اڈے جام نگر کی طرف لے چلیں مگر یکا یک راشد منہاس نے یہ دیکھتے ہوئے کہ مطیع الرحمن ہوا بازی کا مخصوص لباس نہیں پہنے ہوئے جہاز کو بلند کرنا شروع کر دیا ۔مگر بلاشبہ مطیع الرحمن ایک منجھا ہوا پائلٹ تھا اس نے جہاز کو کامیابی سے نیچے کی طرف اڑانا شروع کر دیا۔موقع پاتے ہی راشد منہاس نے طیارہ زمین کی طرف لانا شروع کر دیا ۔یہ صورتحال مطیع الرحمن کے لئے خطرناک تھی کیونکہ غدار ہمیشہ بزدل ہوا کرتے ہیں۔ابھی وہ کوئی عملی قدم اٹھانا ہی چاہتا تھا کہ طیارہ زمین کے ساتھ زور دار دھماکہ کے ساتھ ٹکرایا اور آگ کے شعلوں میں گھر گیا۔راشد منہاس نے گیارہ بجکر چھبیس منٹ پر اپنی پرواز شروع کی اور تقریباََ گیارہ بجکر پینتیس منٹ پر طیارہ زمین سے ٹکرا چکا تھا۔ طیارے کا یہ حادثہ ٹھٹھہ کے قریب32کلو میٹر پاکستانی علاقے میں پیش آیا۔
فضائیہ کے ہیڈ کوارٹر سے فون آیا کہ راشد منہاس کے اسکواڈرن لیڈر ان کے گھر آرہے ہیں۔اسکواڈرن لیڈر اپنے ساتھیوں سمیت آئے ۔مگر ان کے چہرے بتا رہے تھے کہ ان کے پاس کوئی اچھی خبر نہیں ہے۔جلد ہی انہوں نے بھری ہو ئی آواز میں بتایا کہ راشد منہاس کے طیارے کے ساتھ کیا گزری ہے ۔تمام گھر والے دیوانہ وار رونے لگے۔عبدالمجید منہاس کے بیٹے کی تو یہ پہلی پرواز تھی اور پہلی پرواز آخری ثابت ہوئی۔اسی پہلی اور آخری پرواز میں راشد منہاس نے وہ اعزاز حاصل کر لیا جو بہت سے پائلٹ ہزاروں ،لاکھوں پروازوں کے بعد بھی حاصل نہیں کر پاتے۔راشد منہاس جس عمر میں مرتبہ شہادت پر فائز ہوئے وہ عمر لڑکپن کی عمر کہی جاتی ہے۔مگر اسی عمر میں جب شہادت نصیب ہو تو مسلمان والدین فخر محسوس کرتے ہیں۔اگر ان کی جرات مندانہ شہادت کی اطلاع نہ ہوتی توان کے بھائی بہن صدمے کی تاب نہ لاسکتے مگر اللہ تعالی نے اتنا بڑا رتبہ راشد منہاس کو عطا فرمایا کہ اس جرات مندانہ اقدام نے ان کا سر فخر سے بلند کر دیا اور ان کے چہروں پر جہاں غم اور آنسو تھے وہاں فخر بھی تھا۔راشد منہاس کی جان نثاری کو علامہ محمد اقبال کے الفاظ میں کچھ یوں بیان کیا جا سکتا ہے:
پرواز ہے دونوں کی مگر ایک ہی جہاں میں
گرکس کا جہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور
نشان حیدر کا اعزاز:
کمانڈران چیف جنرل محمد موسیٰ خان نے فلائٹ لیفٹیننٹ راشد منہاس کی بہادری کوان الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا:’’ راشد منہاس نے اپنی قیمتی چیز یعنی اپنی جان عزیز وطن پر نثار کر دی ہے۔اس کے تشکر کے طور پر وطن نے اپنا سب سے اعلیٰ اعزاز راشد منہاس شہید کے حضور پیش کیا ہے۔‘‘راشد منہاس شہید کو ائیر مارشل نور خان نے ان الفاظ میں نذرانہ عقیدت پیش کیا :’’ شہید میں جرات و بے خوفی ،یقینِ محکم اور جذبہ قربانی کے تینوں اوصاف موجود تھے۔راشد منہاس نے بے مثال قربانی دے کر ملک و قوم کا سر ایک ایسے بحرانی دور میں بلند کیا جب ہم پر چاروں طرف سے اعتراضات کی بوچھاڑ ہو رہی تھی۔‘‘پاکستان کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا :’’ راشد منہاس ایسے ہی فرض شناس نوجوان قوموں کی تاریخ بناتے ہیں۔راشد منہاس جیسے فرزند قوم کا قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں۔ان کی قربانی بے مثال ہے اور اسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔‘‘راشد منہاس کی اس قربانی کے بارے میں پاک فضائیہ کے کمانڈران چیف ائیر مارشل اے رحیم خان نے ویکلی میگزین کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا: ’’ اپنے ملک کے وقاراور ناموس پر مٹنے والے راشد منہاس کی روایت ہمیشہ قائم رہے گی۔راشد منہاس میں وہ تمام صلاحیتیں موجود تھیں جو کہ انہیں پاکستان ائیر فورس میں اعلی مقام دلاتی ہیں۔راشد منہاس کا کارنامہ پاکستان ائیر فورس کے افسروں اور جوانوں کیلئے مشعل راہ ہے۔‘‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں