راز دان رسول حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ 93

راز دان رسول حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ

راز دان رسول حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ

پروفیسر ڈاکٹر مفتی محمد اکبر مصطفوی

غزوہئ خندق کے موقع پرشدید آندھی اور سخت سردی کی رات میں سرکار دو عالم نے اپنے ایک جانثار صحابی کو دشمنوں کی جاسوسی کر کے خبر لانے کا حکم فرمایا۔ جب رسول کریم ﷺنے اس صحابی کو اس مشکل مشن پہ روانہ فرمایا تو بارگاہ رب العزت میں یوں دعا کی: اے اللہ! تو اس کی سامنے سے بھی حفاظت فرما اور پیچھے سے بھی، دائیں طرف سے بھی اسے اپنے امان میں رکھ اور بائیں طرف سے بھی، اوپر سے بھی اس کی نگہبانی فرما اور نیچے سے بھی۔ وہ جانثار صحابی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دعائے نبوی کی بدولت مجھ سے نہ صرف سردی بالکل جاتی رہی، بلکہ مجھے ہر ہر قدم پر تمازت و حرارت کا احساس ہوتا۔ میری یہ حالت اسی طرح رہی حتی کہ میں دشمنوں کا جائزہ لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں واپس حاضر ہوا اور تمام حالات ان کے گوش گزار کیے۔ میری اس خدمت پر کریم آقا ﷺ نے مجھے اپنے خصوصی مہربانی سے نوازا، وہ یہ کہ آپ ﷺنے مجھے اپنے قریب کیا اور اپنے مبارک قدموں کے پاس سونے کے لیے جگہ عطاء فرمائی۔ کرم بالائے کرم یہ کہ اپنی بابرکت چادر کا ایک کنارہ بھی میرے اوپر ڈال دیا۔کرم نوازی، مہربانی اور شفقت کے اس سلوک کا فائدہ اٹھاتے ہوئے میں ساری رات اپنا پیٹ اور سینہ سرکار مدینہ ﷺکے بابرکت قدموں سے باربار مَس کرتا رہا۔ صبح ہونے تک دشمن اپنا محاصرہ اٹھا کے بھاگ چکا تھا۔(تاریخ ابن عساکر)

ٍ رحمتِ عالم ﷺ کے قدموں سے اپنے پیٹ اور سینے کو مسل مسل کر خوب برکتیں لینے والے یہ وفادار اور جانثار صحابی حضرت سیّدنا حذیفہ بن یمان انصاری رضی اللہ عنہ تھے جو کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں اپنے دور کے سپر پاور ایران کے پایہ تخت”مدائن“ کے گورنر بھی رہے۔

نام، لقب، کنیت، حلیہ:

آپ رضی اللہ عنہ کا نام نامی، اسم گرامی”حذیفہ“، کنیت ”ابو عبداللہ“ جبکہ لقب ”صاحبُ سرّ رسول اللہ“ ہے یعنی رسولُ اللہ ﷺکے راز دان۔ آپ کے والد ماجد بھی صحابی رسول تھے، ان کا نام حضرت حِسْل یا حُسَیْل تھا مگر وہ ”یَمان“ کے لقب سے مشہور تھے۔ویسے تو ان کا تعلق مکہ مکرمہ کے قبیلہ عَبْس سے تھا،لیکن کچھ وجوہات کی بناء پر انہوں نے مکہ مکرمہ چھوڑ کر مدینے میں رہائش اختیار کر لی اور یہیں پہ ایک خاتون رباب بنت کعب سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے، یوں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے مدینہ عالیہ میں آنکھ کھولی (زرقانی علی المواہب)آپ رضی اللہ عنہ کا قد درمیانہ، پیشانی چوڑی، دانت سفید اور چمکیلے اور نگاہیں عقابی تھیں۔ہمیشہ مدلل اور میٹھے لہجے میں گفتگو فرماتے، آپ قرآن حکیم کے حافظ،فتنوں سے متعلق رسول اللہ کی احادیث کے عالم اور درویش صفت انسان تھے۔حضرت حذیفہ فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ نے مجھے اختیار دیا کہ چاہوں تو میں اپنے آپ کو مہاجرین میں سے شمار کروں اور چاہوں تو انصار میں سے،تو میں نے گروہِ اَنصار کو پسند کیا۔(معجم کبیر) حضرت حذیفہ کے وا لد گرامی حضرت یمان جنگ اُحد میں شہید ہوئے۔(زرقانی علی المواھب)

آپ کی نمایاں ترین خصوصیت:

آپ رضی اللہ عنہ کو ویسے تو اللہ پاک نے متعدد خصوصیات سے نوازا لیکن آپ کی اہم ترین خصوصیت یہ ہے کہ آپ کو ”راز دار رسول“ کہا جاتا ہے۔ جس کی وجہ حدیث شریف کے مطابق یہ ہے کہ رسول اللہﷺ نے ایک بار انہیں اپنے قریب بلایا اور ایک ایک منافق کا نام بتایا(معجم کبیر)۔ یہ ایک ایسا راز تھا جو کسی اور صحابی کے پاس نہیں تھا۔ آپ ﷺ نے حضرت حذیفہ کو تاکید فرمائی کہ منافقین کی حرکات و سکنات پر خوب نظر رکھنا تاکہ وہ مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے کسی منصوبے میں کامیاب نہ ہو سکیں۔مختصر یہ کہ آپ منافقین اور علامات نفاق سے خوب اچھی طرح واقف تھے،بلکہ قیامت تک آنے والے تمام فتنہ پردازوں کے نام، ان کے باپوں کے نام اور ان کے قبیلوں کے نام بھی خوب اچھی طرح جانتے تھے۔ امیرالمؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا معمول تھا کہ آپ کے مبارک دور میں جب بھی کوئی جنازہ آتا تو آپ رضی اللہ عنہ معلوم کرواتے کہ حضرت حذیفہ جنازے میں شریک ہیں یا نہیں؟۔ اگر وہ شریک ہوتے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نمازِ جنازہ پڑھا دیتے ورنہ خود بھی شریک نہ ہوتے۔ (اسد الغابۃ)

مجاہدانہ کردار:

صحابہ کرام کے تذکرہ نویسوں نے آپ کا شمار جرنیل صحابہ کرام میں بھی کیا ہے۔ دور رسالت مآب ﷺمیں آپ نے غزوہئ بدر کے علاوہ باقی تمام غزوات میں شرکت کی، دورِ فاروقی میں نَہاوَنْد کی جنگ میں جب امیر لشکر حضرت نعمان بن مُقَرِّن رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے تو اسلامی لشکر کا جھنڈا اپنے ہاتھ میں لیااور مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے صرف نہاوند ہی نہیں بلکہ فارس کے دوسرے شہروں ہمدان، رَے اور دینور کی فتح میں نہ صرف یہ کہ نمایاں کردار ادا کیا،بلکہ ان کی فتوحات کا سہرا بھی آپ کے سر پر سجا(تاریخ ابن عساکر)۔

سادگی و استغناء:

امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کو فوجی مہمات سے سبک دوش کر کے مدائن کا گورنر مقرر کر دیا۔ گورنری ملنے کے بعد بھی آپ رضی اللہ عنہ نہایت سادگی طبیعت اور عجز و انکساری کی تصویر بنے رہے، کوئی بھی حاجت مند کسی بھی وقت گھر کا دروازہ کھٹکھٹا سکتا تھا۔ آپ تکلُّفات و آسائشات میں پڑنے سے اپنے آپ کو بہت زیادہ بچاتے تھے۔ چنانچہ صوبے کا انتظام سنبھالنے کے لیے گورنر کی حیثیت سے آپ مدائن میں اس حال میں داخل ہوئے کہ آپ نہایت معمولی لباس زیب تن کیے ہوئے ایک دراز گوش(یعنی گدھے) پر سوار تھے اور بڑی بے نیازی سے دونوں پاؤں اس کے ایک جانب لٹکائے ہوئے تھے، شہر کے لوگ اندازہ بھی نہ لگا پائے کہ نیا گورنر کون ہے؟ جب کافی دیر گزرنے کے بعد انہیں معلوم ہوا تو دوڑ کر آپ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اس وقت آپ ہاتھ میں پکڑی ہوئی روٹی اور نمک تناول فرما رہے تھے۔ لوگوں نے ضروریات کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: دن میں صرف دو مرتبہ اپنے لیے کھانا اور گدھے کے لیے چارہ چاہیے۔(تاریخ ابن عساکر)

کچھ عرصے بعد امیر المومنین حضرت عمر نے آپ کو مدائن سے مدینہ شریف میں طلب فرمایا۔جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو آپ کی واپسی کی اطلاع ملی تو مدینے آنے والے راستے پر وہ آپ کا انتظار کرنے لگے تاکہ آپ کی گورنری سے پہلے والی اور گورنری کے بعد والی حالت کو ملاحظہ فرما سکیں۔کچھ ہی دیر میں انہیں دور سے حضرت حذیفہ آتے نظر آئے۔دیکھا کہ جس حال میں مدینہ سے گئے تھے اس سے زیادہ خستہ حالت میں واپس آ رہے ہیں۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خوش ہو کر فرط محبت سے آپ کو گلے لگا لیا اور فرمایا:اے حذیفہ! تم میرے بھائی ہو اور میں تمہارا بھائی ہوں (کتاب الزہد)

وصال مبارک:

آپ رضی اللہ عنہ بوقت وصال بہت زیادہ گریہ و زاری فرما رہے تھے۔ پاس موجود کسی شخص نے جب اس کی وجہ پوچھی تو ارشاد فرمایا: میں رو اس لیے نہیں رہا کہ مجھ سے دنیا چھوٹ رہی ہے، کیونکہ موت تو مجھے محبوب ہے، میرے رونے کی اصل وجہ یہ ہے کہ مرنے کے بعد جب مجھے بارگاہِ رب العزت میں پیش کیا جائے گا تو میں نہیں جانتا کہ میرا اللہ مجھ سے راضی ہوگا یا ناراض؟(تاریخ ابن عساکر)۔ آپ نے وصیت فرمائی کہ مجھے قیمتی کفن نہ دینا، کیونکہ اگر اللہ کے ہاں میرے لیے بہتری ہے تو مجھے وہاں جنت کے کپڑے کے بہترین کفن سے نوازا جائے گا ورنہ یہ کفن بھی مجھ سے چھین لیا جائے گا۔پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ سے عرض کرنے لگے:”اے اللہ! تو جانتا ہے کہ میں نے امیری کے مقابلے میں ہمیشہ فقیری کو چاہا ہے اور ہمیشہ موت کو زندگی پر ترجیح دی ہے“۔ یہ کہہ کر اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ حضرت عثمان کی شہادت کے 40روز بعد مدائن میں آپ کا وصال ہوا۔

محمد کے غلاموں کا کفن میلا نہیں ہوتا:

وصال کے کم و بیش 13 سو سال بعد جب قبر میں نمی و رطوبت آ جانے کے سبب حضرت سیّدنا حذیفہ اور حضرت سیّدنا جابر رضی اللہ عنہما کے اَجساد مقدسہ کی دوسری جگہ کی طرف منتقلی ہوئی تو ساری دنیا سے آنے والے ہزاروں لوگوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ رسول خدا کے دونوں اصحاب کے اجساد مطہرہ، پاکیزہ کفن یہاں تک کہ داڑھی مبارَک کے بال بھی بالکل صحیح سلامت اور بے عیب تھے۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ شاید انہیں اس دنیا سے رخصت ہوئے دو تین گھنٹے سے زائد وقت نہیں گزرا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں