ahleharam new dehli report 394

دہلی میں ہنگامے جاری‘ ہلاکتوں کی تعداد 26 تک پہنچ گئی

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں جاری احتجاج اور ہنگاموں کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 26 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 150 سے زائد افراد زخمی ہیں ‘دہلی کے شمالی مسلم اکثریتی علاقوں میں صورتِ حال بدستور کشیدہ ہے جہاں کرفیو نافذکرنے کے بعد نیم فوجی دستے تعینات ہیں. دہلی کے مسلم اکثریتی علاقوں میں کرفیو کے نفاذکے ساتھ ساتھ موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز بند کرکے ان علاقوں کو بھی مقبوضہ کشمیر بنادیا گیا ہے‘بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق صرف گوروبہادر ہسپتال میں 21 افراد کی ہلاکتیں رپورٹیں ہوئی ہیں جبکہ5ہلاکتیں لوک نایک جے پرکاش ہسپتال میں رپورٹ ہوئی ہیں علاقے سیل کردیئے جانے اور مواصلاتی رابطے نہ ہونے کی وجہ سے ہلاکتوں کی درست تعداد ابھی تک معلوم نہیں ہوسکی.
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق نئی دہلی کے علاقے اشوک نگر کی مسجد جس کے میناروں پر منگل کے روز آرایس ایس کے انتہاپسندوں نے ترنگا اور راشٹریہ سیوک سنگھ(آر ایس ایس )کا گیروے رنگ کا جھنڈا(بھگوا) لہرایا تھا ا س پر انتہاپسندوں نے دوبارہ حملہ کرکے آگ لگادی جس سے مسجد کا اگلا حصہ جل گیا . اشوک نگر میں کشیدگی برقرارہے اور مقامی مسلمانوں میں شدیدغم وغصہ پایا جاتا ہے انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ حملہ آوروں کو بھارت کے نیم فوجی دستوں کی مدد حاصل ہے‘رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مسجد کے اندر فرش جلے ہوئے مصلے اور قالین بکھری ہوئی ٹوپیاں پڑی ہیں جبکہ مسجد کے منبر مکمل طور پر جل چکا ہے‘مسجد کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہوئیں جس کے بعد دہلی پولیس کا بیان آیا کہ اشوک نگر میں ایسا کوئی واقعہ نہیں آیا ہے جبکہ برطانوی نشریاتی ادارے کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ عالمی اداروں سے منسلک کچھ صحافی اشوک نگر پہنچنے میں کامیاب ہوگئے اور انہوں نے مسجد کے میناروں پر ترنگا‘ اورہندوانتہاپسند تنظیم آرایس ایس کا جھنڈا( بھگوا) لہراتا ہوا دیکھا جس کی تصاویر اور ویڈیوزبھی انہوں نے اپنی رپورٹ میں شامل کی ہیں جوکہ دہلی پولیس کے دعوی کی نفی کرتی ہیں.
مقامی شہری نے صحافیوں کے گروپ کو بتایا کہ پولیس کی وردیوں میں ملبو س نامعلوم افراد رات گئے مسجد کے امام کو اٹھا کر لے گئے ہیں جبکہ دہلی پولیس امام مسجد کی گرفتاری سے لاعلمی کا اظہار کررہی ہے جس کا مطلب ہے کہ پولیس کی وردیوں میں یا تو نیم فوجی دستوں نے امام مسجد کو اغوا کیا ہے یا ہندوانتہا پسند انہیں اٹھاکرلے گئے ہیں. بھارت کے کئی علاقوں میں اقلیتوں کے خلاف مجرمانہ حملوں میں پہلے بھی کئی مرتبہ آرایس ایس کے غنڈوں کی جانب سے پولیس اور قانون نافذکرنے والے اداروں کی وردیاں استعمال کرنے کے واقعات پیش آچکے ہیں اشوک نگر کی ہندو برادری کا کہنا ہے کہ مسجد یہاں بہت برسوں سے ہے انہیں اس سے کوئی مسلہ نہیں انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ مسجد پر حملہ کرنے والوں کی بات چیت اور لب لہجے سے لگ رہا تھا کہ وہ دہلی کے نہیں ہیں انہوں نے کہا کہ انہیں پورا یقین ہے کہ مسجد پر حملہ کرنے والے باہر سے آئے تھے.
دہلی کے5مسلم اکثریتی علاقوں میں کرفیونافذ ہے شہر کے مسلمان اکثریتی علاقوں میں موبائل فون اورانٹرنیٹ کی سروسزمعطل ہیں پولیس کو ہنگامہ آرائی کرنے والوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم دے دیا ہے نئی دہلی کے وزیر اعلی اروند کجریوال نے وزیر داخلہ اور لیفٹیننٹ گورنر سے امن کی اپیل کی اور کہا کہ قانون کی بالادستی قائم کرنے میں مدد کریں.
کہا جارہا ہے کہ دہلی کے ریاستی انتخابات میں عبرتناک شکست کے بعد مودی سرکار نے منصوبہ بندی کے تحت آرایس ایس کے کارکنوں کو پورے بھارت سے دہلی میں اکھٹا کیا ہے تاکہ ایک طرف تو دہلی میں امن امان کی صورتحال کو خراب کرکے عام آدمی پارٹی سے ذلت آمیز شکست کا بدلہ چکایا جائے اور دوسرا بھارت کو ایک مکمل ہندو ریاست میں تبدیل کرنے کے لیے مسلمانوں کا قتل عام کیا جاسکے کیونکہ دہلی میں مسلمانوں کی قدیم ترین آبادیاں ہیں اور پرانی دہلی میں زیادہ تر کاروباری بھی مسلمان ہیں دہلی کے مسلمان ڈر کر اپنے علاقے چھوڑنا شروع ہوگئے تو بھارت کی دیگر ریاستوں میں ہندتاوا کے پیروکاروں کے لیے اقلیتوں کو بے دخل کرنا آسان ہوجائے گا ہندو انتہا پسندوں نے بجھنگ پورہ میں واقع درگاہ کو بھی آگ لگا دی زخمیوں کوہسپتال لےجانےوالی ایمبولینسوں بھی نہیں بخشا گیا‘انتہا پسند ہندو ﺅں کے گروہ شہر میں شناختی کارڈ چیک کرکے مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں جبکہ پولیس انتہا پسند ہندوبلوائیوں کیخلاف کارروائی کے بجائے ظلم کے خلاف احتجاج کرنے والے مسلمانوں پر لاٹھی چارج‘ آنسوگیس اورگولیاں برسا رہی ہے.
وزیراعظم مودی کے مشیر برائے قومی سلامتی اجیت دوول نے منگل کی رات متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا ان کے دورے کے ”اثرات “ہیں کہ بدھ کی صبح سے آرایس ایس کے دہشت گردوں نے پہلے سے زیادہ طاقت کے ساتھ حملے شروع کیئے دلی کی مساجد کے لاوڈ سپیکرز پر قبضہ کرکے جے شری رام‘ جے ہنومان اور جے بجرنگ بلی‘ کے نعرے لگا جا رہے ہیں ‘ایک بھارتی نشریاتی ادارے نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ دہلی میں شرمناک شکست کو مودی اور امیت شاہ قبول نہیں کرپارہے کہ پوری طاقت استعمال کرکے بھی ریاستی اسمبلی کے 70نشستوں کے ایوان میں سے بی جے پی کو صرف 8نشستوں پر کامیابی حاصل ہوسکی دہلی کے ریاستی انتخابات میں کامیابی کے لیے مودی سرکار نے سارے ریاستی وسائل اور طاقت جھونک دی تھی مگر اس کے باوجود ہندتاوا کا ایجنڈا بری طرح پٹ گیا اور ایک کل کی پارٹی نے قومی سیاسی جماعت کہلانے والی بی جے پی کو چاروں شانے چت کردیا بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کی لیڈر شپ سمجھتی ہے کہ ان کے لیے یہ آخری موقع ہے اور دہلی کے بعد پورا بھارت ان کے ہاتھوں سے نکل جائے گا .
لہذا بی جے پی نے اپنی روایت کے مطابق بیلٹ کی ہار کا بدلہ ”بلٹ“سے لینے کی پالیسی پر عمل شروع کردیا ہے دہلی سے پہلے بی جے پی کو 5دیگر ریاستوں کے انتخابات میں عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے . دہلی پولیس کے سربراہ مندیپ سنگھ رندھاوا نے پولیس کی ناکامی کو تسلیم کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ”فسادات“والے علاقوں میں سی آر پی ایف اور ایس ایس بی کے نیم فوجی دستے تعینات کردیئے گئے ہیں یعنی سیکورٹی کے معاملات ریاستی حکومت کے ہاتھوں سے لے کر وفاق کے زیرکنٹرول اداروں کے حوالے کردیئے ہیں.
دہلی میں امریکی اور مغربی ممالک کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ شہر میں آرایس ایس کے لوگ ہاتھوں میں تلواریں ‘برچھائیاں اور نیزے لیے جے شری رام ، بھارت ماتا کی جے ، وندے ماترم‘جے ہنومان کے نعرے لگاتے پھر رہے ہیں مگر انہیں روکنے والا کوئی نہیں انہتاپسند ہندوﺅں کے گروہوں میں شامل افراد ”ملک کے غداروں کو گولی مارو“جیسے نعرے بھی لگا رہے ہیں ‘غیرملکی صحافیوں کے مطابق موبائل فون پر ویڈیوز یا تصاویر بنانے والوں سے آرایس ایس کے مسلح لوگ موبائل فون چھین کرتوڑرہے ہیں”اے پی“نے بتایا ہے کہ انتہا پسندہندو گروہوں نے کلہاڑیوں ‘تلواروںاور لوہے کی راڈز کے ساتھ مسلم اکثریتی علاقوں میں ہلہ بول دیا جس کے جواب میں مسلمانوں کے پاس دفاع میں پتھر پھینکے کے علاوہ کچھ نہیں تھا .اے پی نے یہ بھی بتایا ہے کہ دہلی کے مسلم اکثریتی علاقے ”بھائی جان پور“ میں دھویں کے سیاہ بادل دیکھے گئے جہاں انتہا پسند ہندوﺅں نے دکانوں کو لوٹ کر آگ لگا دی .نئی دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے شہر کی صورتِ حال کو سنگین قرار دیا ہے بدھ کو انہوں نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ تمام تر کوششوں کے باوجود پولیس صورتِ حال کو قابو کرنے میں ناکام رہی ہے۔

ادھرنریندرمودی نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں فوری طور پر فوج طلب کی جانی چاہیے اور اس حوالے سے وہ وزیرِ داخلہ امت شاہ سے بات کررہے ہیں .نئی دہلی کے کئی علاقوں میں کشیدہ صورتِ حال کے پیش نظر بدھ کو ہونے والے میٹرک اور انٹر کے تمام پرچے ملتوی کر دیے گئے ہیں دہلی حکومت نے تمام نجی سکولوں کو بند رکھنے کا بھی حکم جاری کیا ہے .

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں