31

دھمکی آمیز مراسلے سے متعلق الزامات میں صداقت نہیں، وائٹ ہاؤس

واشنگٹن(اے ایف پی)ترجمان وائٹ ہائوس کاکہناہےکہ دھمکی آمیز مراسلے سے متعلق الزامات میں صداقت نہیں،امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس کاکہناہےکہ پاکستان کےآئینی عمل کا احترام کرتے ہیں،صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں،دھمکی آمیز الزامات میں’’کوئی سچائی‘‘ نہیں ،ہم پاکستان میں ہونے والی پیش رفت کوباریک بینی سے دیکھ رہے ہیں، ہم پاکستان کے آئینی عمل کا احترام اور قانون کی حکمرانی کی حمایت کرتے ہیں۔قبل ازیں ، نمائندہ کے سوالات کے جواب میں امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے وزیراعظم کی تقریر کے ختم ہونے کے بعد بھیجی گئی ای میل میں سوالات کا مختصر جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان الزامات میں کوئی صداقت نہیں، پاکستان کی داخلی صورتحال پر پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا گیاکہ ہم صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں، وزیراعظم کے دورہ روس کے تناظر میں پاکستان کے موجودہ سیاسی بحران کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ امریکا پاکستان کے آئینی طریقہ کار اور قانون کی بالادستی کے اُصول کا احترام اور حمایت کرتا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے نمائندہ جنگ/جیو کے سوالات کے جواب میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ وزیراعظم عمران کے عوامی طور پر امریکا پر سازش کا الزام عائد کرکے نہ صرف امریکا میں آباد پاکستان کمیونٹی کیلئے بھی مسائل پیدا کردیئے ہیں بلکہ امریکا میں قائم پی ٹی آئی کےارکان کیلئے بھی امریکا دشمنی کے قوانین کو متحرک کیا جاسکتا ہے جبکہ امریکا میں آباد پاکستانیوں نے عمران خان کی پارٹی تحریک انصاف اور شوکت خانم اسپتال کیلئے نہ صرف کئی ملین ڈالرز کے فنڈز اور عطیات بھی فراہم کیے ہیں۔ وزیراعظم عمران کے ان الزامات سے انہیں پاکستان میں عوامی سطح پر ہونے والا فائدہ یا نقصان بھی سامنے آنا ہے لیکن امریکا اور یورپی سطح پر پاکستان کی سفارتکاری اور پاکستان کے امیج کو نقصان پہنچنے کا امکان ہے،تجارتی، معاشی، سفارتی اور پاکستان کے امیج کیلئے مشکلات و مسائل کو جنم ملے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں