104

دھرنا،بین الاقوامی معاملات اور لبیک . تحریر مفتی گلزاراحمد نعیمی

دھرنا،بین الاقوامی معاملات اور لبیک 


تحریر مفتی گلزاراحمد نعیمی


پاکستان میں ایمان دار اور قابل بھروسہ سیاسی قیادت کے فقدان نے اسے بے شمار مسائل سے دوچار کر رکھا ہے اور یہ مسائل آئے روز کم ہونے کی بجائے بڑھ رہے ہیں۔ان مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک مخلص سیاسی قیادت کی ضرورت ہے۔اسی طرح اس ملک میں مذہبی قیادت کا بھی فقدان ہے۔مخلص و محسن مذہبی قیادت ہمیں کہیں نظر نہیں آتی الا ماشاء اللہ۔مذہبی سیاست کے بڑے نام اس دنیا سے رخصت ہوئے اور انکی جگہ پر ایسے لوگ قابض ہوگئے ہیں جن کے پاس علم،حلم،وقار ،متانت،معاملہ فہمی اور سنجیدگی نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔نتیجتا سیاست اور اہل سیاست، اور اہل مذہب سے عوام کا اعتبار مکمل طور پر اٹھ گیا ہے۔میرا چونکہ ایک مذہبی ادارے سے تعلق ہے اور شناخت بھی مذہبی ہے اس لیے میرے نزدیک قابل اعتماد مذہبی قیادت نہ ہونے  کی وجہ سے عوام کی مذہب سے دوری کسی خوفناک المیہ سے کم نہیں ہے۔اہل مذہب بے شمار معاشرتی ،سیاسی اور اخلاقی بیماریوں کا شکار ہیں۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ تمام مکاتب فکر کی قیادت سرجوڑ کر بیٹھتی اور ان مسائل کے حل کے لیے لائحہ عمل مرتب کرتی مگر بدقسمتی ہے کہ ایسا نہیں ہورہا اور دور دور تک ان مسائل کے حل کی کوئی صورت گری بھی نظر نہیں آرہی۔یہ ایک حقیقت ہے کہ معاشرے کے تمام مسائل کا حل قوت نافذہ کے بغیر ممکن نہیں ہے۔جبکہ قوت کے سرچشموں سے اہل مذہب بہت دور ہیں اور مزید برآں المیہ یہ ہے کہ وہ کسی کے مقاصد کے لیے تو استعمال ہوتے رہتے ہیں مگر اپنے الہی مقاصد کے لیے کسی کو استعمال کرنے کا ہنر نہیں رکھتے۔یہ صورت حال کسی ایک جگہ نہیں ہے بلکہ ایک تحصیل کے اسسٹنٹ کمشنر کے آفس سے لیکر ایوان وزیراعظم تک اہل مذہب کو استعمال کیا جاتا ہے اور وہ بھی استعمال کے لیے ہمہ وقت دستیاب ہوتے ہیں۔حکمت وتدبر جو اہل مذہب کا طرہ امتیاز تھا وہ پاکستان کی بدبودار سیاست میں غرق ہوچکا ہے۔اب صرف اور صرف مفادات کی جنگ ہے جو ایک مکتب دوسرے سے جیتنے کے لیے سر توڑ کوشش میں مصروف ہے۔
میری تمہید طولانی ہوگئی ہے جس کے لیے میں معذرت خواہ ہوں۔اب آتے ہیں آج کے المیہ کی طرف جو آہستہ آہستہ اپنے منطقی انجام کی طرف رواں دواں ہے۔بارہ ربیع الاول سے شروع ہونے والا دھرنا اور مارچ اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے۔مارچ وزیر آباد آکر رک گیا اور یہاں اس نے ایک دفعہ پھر دھرنے کی صورت حال اختیار کر لی۔یہاں آکر قوت کے سرچشموں کی مداخلت پر معاملات حل ہونا شروع ہوگئے۔علماء و مشائخ اہل سنت نے کئی دن اس گتھی کو سلجھانے کے لیے صرف کیے مگر انکی تمام تر کاوشیں اس وقت  رائیگاں چلی گئیں جب کراچی سے ایک معروف عالم اہل سنت مفتی منیب الرحمن نے ایک سماجی شخصیت مولانا محمد بشیر فاروقی اور ایک بزنس ٹائیکون عقیل کریم ڈھیڈھی کو اپنے ساتھ ملا کر فوج کے سالار اعظم کے ساتھ ملاقات کر کے تمام معاملات کو اپنے ہاتھ میں لے لیا۔کراچی کے اس تین رکنی وفد کی مداخلت کے فورا بعد مسائل حل کی طرف بڑھنا شروع ہوگئے۔مظاہرین نے دھرنا جی ٹی روڈ سے اٹھا کر نزدیک ایک پارک میں منتقل کردیا۔جب معاملات حل کی طرف جارہے تھے تو اس وقت مظاہرین بھی اپنے گھروں کی جانب رخت سفر باندھ رہے تھے۔اب پارک میں تعداد کم ہے۔مگر دھرنا تادم تحریر موجود ہے۔لیکن حالات مسائل کے حل کی طرف جارہے ہیں جو بہت خوش آئند بات ہے۔اس پورے فساد کے دوران چار یا پانچ پولیس اہلکا شھید ہوئےاور اسی 80 سے ریادہ شدید زخمیوں کی بھی اطلاع ہے،کم و بیش اتنی ہی شھادتوں کا دعوی لبیک والے بھی کررہے ہیں مگر انکے شھداء کو منظر عام پر نہیں لایا گیا اور نہ انکے جنازوں کی انکی جماعت نےویڈیو یا کوئی تصویر جاری کیں۔تاہم پولیس اہلکاروں کی شہادتوں نے بہت سی خواتین کو بیوہ اور بہت سے بچوں کو یتیم کردیا۔یہ صورت حال بہت ہی دل دہلا دینے والی ہے کہ انہیں ایسے لوگوں نے شہید کیا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ناموس کے تحفظ کے لیے نکلے تھے۔ظاہر ہے تاریخ تو وہ ہی لکھے گی جو اس نے دیکھا اور جو تاریخ نے دیکھا ہے وہ انتہائی شرمناک ہے۔
یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ آج دنیا میں قومیں اپنے معاملات معاشی مفادات کے تناظر میں طے کرتی ہیں۔مذہب بالکل پس منظر میں چلا گیا ہے۔حتی کہ بعض مسلم ممالک بھی اپنی ترجیحات میں معاشی منفعت کو سامنے رکھتے ہیں مذہب کو نہیں۔پاکستان اور ایران دنیائے اسلام کے دو ایسے ممالک ہیں جو مذہب کو تمام معاملات میں بہت اہمیت دیتے ہیں خصوصا پاکستان کی عوام مذہب کی حفاظت میں ہراول دستے کے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔مگر یہ بات بھی اظہر من الشمس ہے کہ مسائل چند خوبصورت اور خوشنما نعروں کے ذریعے حل نہیں ہوتے۔ان کے لیے سیاسی سمجھ بوجھ اور تدبر درکار ہوتا ہے۔اگر ہم دنیا کا غور سے مشاہدہ کریں تو بات واضح ہوتی ہے کہ آج پوری دنیا میں مسابقت کا میدان مذہب نہیں رہا بلکہ معیشت و اقتصاد بن گیا ہے۔آج ہم اپنے مطالبات تشدد اور انتہاء پسندانہ روش سے نہیں منوا سکتے۔مطالبات منوانے کے لیے کسی بھی ریاست کا معاشی طور پر مضبوط ہونا از بس ضروری ہے۔ہمارے کچھ ساتھی یہ سمجھتے ہیں کہ طاقت کا استعمال ہر مسئلے کا حل ہے مگر ایسا بالکل نہیں ہے۔بطور خاص ریاست کے ساتھ لڑائی مسائل کو اور بڑھا دیتی ہے۔ اس موجودہ دنگل میں اربوں روپئے کا ملک کو نقصان ہوا جو جانیں ضائع ہوئیں وہ الگ ہیں۔ہم اپنے عمل سے ملک کو معاشی طور پر کمزور کریں اور پھر اسی ملک کو کہیں کہ وہ دنیا کی مضبوط معیشتوں سے ٹکر لیکر ہماری ترجمانی کرے تو ایسا ممکن نہیں ہے۔معاشی طور مضبوط پاکستان ہی ہمارے تمام مسائل کا حل ہے۔سرکار دوعالم نور مجسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مکی زندگی سے تو ہمیں یہی سبق ملتا ہے۔
اس تمام قضیے کے دوران علماءو مشائخ اہل سنت نے فساد کو ختم کرنے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔حتی کہ جن لوگوں کو گالم گلوچ سے نوازا گیا انہوں نے بھی مخلصانہ طریقے سے اپنی خدمات پیش کیں مگر انکی بات نہیں مانی گئی۔ایک ہفتہ سے زیادہ وہ مصروف رہے مگر انکی بات نہیں مانی گئی۔مزید برآں وفاقی وزیر مذہبی امور جنہوں نے حکومت میں ہونے کے باوجود لبیک کو بہت سپورٹ کیا۔کچھ چیزوں کا میں خود چشم دید گواہ ہوں۔مگر انکو بھی معاف نہیں کیا گیا الزام تراشی کی انتہاء کردی گئی جو بہت ہی قابل افسوس ہے۔
بہرحال یہ ایک کٹھن معاملہ تھا جس نے معصوم جانوں کا خون کیا۔لبیک کے قائدین کو سوچنا ہوگا کہ انکے مارچ اور دھرنوں میں قیمتی جانیں کیوں ضائع ہورہی ہیں ۔کیا اہل سنت کا خون اتنا ارزاں ہوگیا ہے کہ بلاوجہ بہایا جاتا ریے اورانکی کوئی قیمت نہ ہو۔اب میری اطلاع کے مطابق حکومت پنجاب کے ہوم ڈیپارٹمنٹ میں سمری چل رہی ہے اور عنقریب لبیک سے کالعدم کا لفظ ہٹا دیا جائے گا اور اسے پر امن سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت مل جائے گی۔اب لبیک کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا اپنے کارکنوں کی تربیت کرنی ہوگی۔ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ممالک کے ساتھ تعلقات رکھنا یا ختم کرنا یہ ریاست کی صوابدید ہے۔انہیں متشدد جتھوں کے مرضی پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں