36

دوست ملکوں سے 4 ارب ڈالرز کا انتظام ہوگیا

دوست ملکوں سے 4 ارب ڈالرز کا انتظام ہوگیا
کراچی (ٹی وی رپورٹ) وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہاہےکہ IMF بورڈ کے اجلاس سے پہلے دوست ملکوں سے 4ارب ڈالرز کا انتظام ہوگیا، آج مالیاتی ادارے کو جوابی خط دینگے ،ہم تنگ نظر قوم ،پڑھائی کو ترجیح نہیں دی،ہماری حکومت کی غلطی ہے تو ہم تسلیم کرینگے،دیگر کی ہے تو وہ بھی کریں، ایسا وقت آگیا ہے دوست ممالک بھی پیسے دینے میں مشکل کررہے ہیں،یہ نہیں کہتا کہ بنگلہ دیش یا کوریا کا ماڈل اپنائو لیکن کوئی نیا ماڈل تو بناؤ، آگے تو بڑھو،سعودی عرب کے3ارب ڈالرز ری رول اور ایک ارب ڈالرز کی تیل کی سہولت کی تصدیق سعودی وزیر خزانہ ہی کرینگے، پیٹرولیم مصنوعات پر ایک روپیہ ٹیکس بڑھےگا نہ لیوی۔پاکستان کے 75ویں یوم آزادی کے حوالے سےجیو نیوز کے پروگرام’’نیا پاکستان‘‘ میں وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل سے گفتگو کرتے ہوئے شہزاد اقبال کا سوال تھا کہ قائداعظم کا بھی پاکستان کی معیشت کو لے کر ایک ویژن تھا کہ پاکستان کو ایک مضبوط معاشی ملک بنائیں گے لیکن یہ ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا جس کے جواب میں وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا سچ تو یہ ہے کہ جشن آزادی منانے کے ہم مستحق نہیں مگر یوم آزادی ہے تو منابھی رہے ہیں کیونکہ آج 75 سال بعد بھی ہم کو پوچھنا چاہئے کہ ہم اتنے پیچھے کیوں رہ گئے کہ جو قائد اور علامہ کا خواب تھا اس کی تعبیر تک ہم نہیں پہنچ سکے ،اس کو شرمندہ تعبیر ہم نہیں کرسکے ، میرا خیال ہے یہ معاشی نہیں معاشرتی مسئلہ بھی ہے ہم تنگ نظر قوم ہیں ہم پڑھائی کو ترجیح نہیں دیتے ہیں ،ہم ایک جذباتی قوم ہیں ہمارے درمیان عبدالسلام ایک نوبل پرائز ونر تھے لیکن وہ قادیانی تھے تو ہم نے ان کو برا بھلا کہا ،ہماری بچی ملالہ یوسف زئی نوبل پرائز لیتی ہے تو ہم اس میں بھی دنیا بھر کی برائی ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں وجہ یہ ہے کہ ہماری قوم میں اس طرح کا شعور نہیں ہے جو آگے بڑھنے والی قوموں میں دیکھا گیا ، ہم پڑھائی کو عزت نہیں دیتے، پاکستان میں بہت ٹیلنٹ موجود ہے ہم بات یہ بھی کرتے ہیں پاکستان کے بچوں کو ہندوستان کے بچوں کی طرح دنیا میں سوفٹ ویئر ایکسپورٹ کرنا ہے ، ہندوستان ڈیڑھ سو ارب کا کرسکتا ہے تو ہم کیوں نہیں کرسکتے لیکن جواب یہ بھی ہے کہ جب 1950ء میں ہندوستان انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی بنارہا تھا تو آپ یہاں پر کیا کررہے تھے ،کیا آپ نے بچوں کو وہ پڑھائی ، وہ تعلیم دی کہ جس کے تحت دنیا میں وہ مقابلہ کرسکیں ، پرویز ہود بھائی کہتے ہیں 24کے قریب پاکستان میں ایسے پروفیسر نہیں جو اے لیول کی فزکس میتھ کرسکیں ، یہاں پر بڑے بڑے نام ہیں جو مشرف ، عمران خان کے ایڈوائزر رہے ہیں جنہوں نے کیریئر بنائے ، کروڑوں روپے کمائے ، جھوٹی ڈگریاں لوگوں کو دیکر جھوٹی ریسرچ کو اپروو کرکے، ہم نےیہاںنہ پڑھائی کا انتظام کیا اور نہ ہی پاپولیشن کے حوالے سے کوئی پلاننگ کی اور بات معاشی آزادی کی کرتے ہیں ۔ شہزاداقبال کے سوال کہ ہم یہ کیوں نہیں کرسکے جبکہ آپ کی جماعت تو تین مرتبہ اقتدار میں رہ چکی ہے پر مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا یہ کوئی ایک پارٹی کی ذمہ داری ہو بھی نہیں سکتی او رہے بھی نہیں میں سیاسی بات نہیں کررہا اگر اسمیں ہماری پارٹی کی غلطی ہے تو وہ بھی ماننا چاہئے اگر دیگر پارٹیوں کی غلطی ہے تو وہ بھی ماننا چاہئے اگر ہمارے مذہبی علمائے کرام کی ، ہمارے سوشل ورکرز کی غلطی ہے تو وہ بھی تسلیم کی جانی چاہئے،ایک کرسچن کو ہم نے بھٹی میں ڈال کر جلادیا کتنے لوگوں نے آواز اٹھائی ،پرسوں ایک قادیانی کا قتل ہوا ، کتنے لوگوں نے آواز اٹھائی لوگ ڈرتے ہیں ،آج ایک سیاسی جماعت حقیقی آزادی کا نعرہ لگارہی ہے لیکن وہی سیاسی جماعت گزشتہ سال 48 ارب ڈالرز کا تجارتی خسارہ چھوڑ کر گئی جس کی وجہ سے آج ہمیں دنیا بھر میں پیسے مانگنے کے لئے جانا پڑرہا ہے ۔ مفتاح اسماعیل کا مزید کہنا تھاکہ تو یہ حقیقی آزادی دیں گے آپ ملک کو ، ہر حکومت نے خواہ وہ ہم ہوں یا مشرف کا دور حکومت یا پیپلز پارٹی یا پھر پی ٹی آئی تمام لوگوں نے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اتنے لمبے لمبے کرے کہ جس کو فنڈ کرنا مشکل ہوجاتا ہے ۔ایک زمانے میں تو لوگوں کی پاکستان کے ساتھ امیدیں وابستہ تھیں اب تو امیدیں بھی کم ہوگئی ہیں اب تو دوست بھی پیسے دینے میں مشکل کررہے ہیں ،انہوں نے کہاکہ میاں نواز شریف نے 12ہزار سے 25ہزار میگا واٹ بجلی لگادی لیکن کیا ہم نے ایکسپورٹ ڈبل کی؟ نہیں۔ ہم نے شادی ہال لگادیئے اور ہمارے پاس ایندھن خریدنے کے پیسے نہیں ، آپ بات کرتے ہیں پرائیوٹائزیشن کی تو لیبر یونین کھڑی ہوجاتی ہیں ، سیاستدان کھڑے ہوجاتے ہیں آپ نے کرپشن کے خاتمے کے لئے پاکستان میں ادارہ بنایا اور شریف ،ایماندار لوگوں کو پکڑ کر جیل میں بند کردیا لیکن نیب کرپشن کم نہ کرسکا ۔ آئی ایم ایف سے باہر نکلنے کے سوال پر انہوں نے کہا دو چیزیں ہوسکتی ہیں اس کے علاوہ تیسرا کوئی طریقہ نہیں ، نمبر ایک امپورٹ کم کرلو یا ایکسپورٹ بڑھالو ،میں آج کل امپورٹ کم کررہا ہوں مجھے پتہ ہے اس سے معیشت سست ہوجاتی ہے مجھے اس کا اندازہ ہے مگر مجبوری یہ ہے کہ میرے پاس آپشن نہیں،میں نے دو پاکستانی اکانومسٹ آصف خواجہ اور عاطف میاں سے فون پر بات کی، دونوں نے بڑا اچھا مشورہ دیا اور ہم سمجھتے بھی ہیں اس بات کو کہ تھوڑا سا کرنٹ اکاؤنٹ تجارتی خسارہ برا نہیں لیکن پاکستان کو اب دنیا کو سگنل دینا ہے کہ ہم اب ہر وقت پیسے نہیں مانگتے رہیں گے،ہمیں ایکسپورٹ بڑھانا ہوگی، اس کے لئے کمپیریٹو ہونا پڑے گا ، تعلیم دینا پڑے گی لوگوں کو ، اس کے لئے پاکستان میں آپ کو بزنس آسان کرنا پڑے گالیکن ہم اسطرف نہیں جارہے، آپ پولیو کے قطرے پلانے جاتے ہیں تو ہمارے پولیس کے لوگ ، آرمی کے لوگ ، ہمارے ٹیچرز شہید ہورہے ہیں پولیو کے قطرے پلاتے ہوئے ۔ ہمیں یہاں پر بطور قوم فوکس کرنا ہوگا، تمام اسٹیک ہولڈرز کو بیٹھ کر معیشت پر کوئی چارٹر بنانا پڑے گا تاکہ آگے بڑھیں کیونکر ہمارے بچوں کے نصیب میں جہالت اور غربت نہ ہو، بطور قوم کہیں تو ہم کو اسٹارٹ لینا ہوگا یہ تو مانتے ہیں سب کہ جو ہم کررہے ہیں غلط کررہے ہیں تو پھر کچھ تو درست کرو یہ ضروری نہیں کہ بنگلہ دیش کا ماڈل اپناؤ یا کوریا کا، کوئی نیا ماڈل تو بناؤ آگے بڑھو ،ہم تو وہیں کھڑے ہیں ۔بلوم برگ کی خبر کہ سعودی عرب نے فیصلہ کیا ہے کہ جو تین ارب ڈالرز دیئے ہیں وہ واپس نہیں لیں گے اس کو وہ ریونیو کریں گے کے سوال پر وزیر خزانہ کا کہنا تھا بالکل ایسا ہی ہے کچھ دنوں پہلے سعودی وزیر خزانہ سوئٹزر لینڈ گئے تھے تو انہوں نے یہ بات کہی تھی کہ ری رول کردیں گے باقی اس خبر کی جو تصدیق ہے وہ سعودیوں کو کرنے دوں گا مناسب نہیں کہ میں کنفرم یا تردید کروں ، ایک ارب ڈالرز کی جو آئل کی سہولت ہے میرے خیال میں بہتر ہوگا کہ سعودی وزیر خزانہ خود کنفرم کریں اور یہی مناسب ہوگا ۔ اس خبر پر کہ یو اے ای ایک ملین ڈالرز انویسٹ کرے گا پاکستان میں کے جواب میں مفتاح اسماعیل نے کہاکہ پاکستان کی جو مختلف کمپنیز ہیں اس میں یو اے ای نے اسٹیک لینے کا کہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں