56

دسویں قومی خاتون جنت کانفرنس 14 جنوری کو ہوگی، مفتی گلزار نعیمی


دسویں قومی خاتون جنت کانفرنس 14 جنوری کو ہوگی، مفتی گلزار نعیمی
ملکی مسائل کا حل باہمی اتحاد اور سیاسی شائستگی میں ہے، سربراہ جماعت اہل حرم پاکستان
دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں، دہشت گردی کے خلاف ملک کی بڑی قربانیاں ہیں، شہدا کو سلام پیش کرتے ہیںخواجہ سرائوں کے حقوق کی حفاظت بہت ضروری ہے، خواجہ سرائوں کے حقوق کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کی روشنی میں قانون مرتب کیا جائے-
اسلام آباد (پ ر) جماعت اہل حرم پاکستان کے زیر اہتمام دسویں سالانہ خاتون جنت کانفرنس 14 جنوری بروز ہفتہ صبح دس بجے منعقد ہوگی، ملک بھر سے جید علماء کرام و مشائخ عظام شریک ہونگے، ملک کے مسائل کا حل اتحاد امہ اور سیاسی شائستگی میں ہے، دہشتگردوں کا کوئی مذہب یا مسلک نہیں، جلد ملی یکجہتی کونسل کے زیر اہتمام بین الاقوامی کانفرنس کا اسلام آباد میں انعقاد ہوگا، خواجہ سرائوں کے حقوق کے لیے قانون سازی اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کی صورت میں ہونی چاہیے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، سربراہ جماعت اہل حرم پاکستان مفتی گلزار نعیمی کا کہنا تھا کہ دسویں سالانہ خاتون جنت کانفرنس 14 جنوری کو منعقد ہوگی، تمام مکاتب فکر کے علماء و مشائخ شریک ہونگے، سابق وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری صدارت کریں گے۔ کانفرنس کے مہمانان خصوصی وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ریاض حسین پیرزادہ، سربراہ مجلس وحدت المسلمین علامہ راجہ ناصر عباس، متحدہ مجلس اہل حدیث کے سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، سید ذوالفقار عباس بخاری پی ٹی آئی، سید ناصر عباس شیرازی جنرل سیکرٹری مجلس وحدت المسلمین، سید علی رضا بخاری اور ڈاکٹر مسعود الرضا الرفاعی اور صاحبزادہ حامد رضا سنی اتحاد کونسل ، سمیت ملک کے جید علما و مشائخ کے علاوہ سیاسی جماعتوں کے رہنما شریک ہونگے، انکا مزید کہنا تھا کہ محبت اہل بیت، بین المذاھب و بین المسالک ہم آہنگی اور سیاسی شائستگی اس کانفرنس کے مقاصد میں شامل ہیں ، دشمن قوتیں ہمیں آپس میں لڑانے کی سازش کرتی رہتی ہیں ہمیں اس سے خبردار رہنا ہوگا، ان کا مزید کہنا تھا کہ خاتون جنت کانفرنس کے ذریعے ہی مسئلہ کشمیر و فلسطین کو اجاگر کیا جاتا ہے – ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب یا مسلک نہیں ہے یہ بد امنی پیدا کرنے والے عناصر ہیں ، دہشت گرد یا انتہا پسند جس بھی روپ میں ہوں وہ قابل مذمت ہیں ، دہشت گردی میں جانیں نچھاور کرنے والے سیکیورٹی افسران،اہلکاروں اور عوام کو سلام پیش کرتے ہیں ، علماء و مشائخ کے اتفاق کے سبب ہی پیغام پاکستان مرتب ہوا، اس پر عملدرآمد ضروری ہے – ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ جلد بین الاقوامی کانفرنس ملی یکجہتی کونسل پاکستا کے زیر اہتمام اسلام آباد میں انعقاد پذیر ہو گی۔ جس میں عالم اسلام کی بڑی شخصیات کو دعوت دی جارہی ہے – ایک اور سوال پر انکا کہنا تھا کہ خواجہ سرائوںکے مسائل بہت ہیں ان مسائل کا حل ضروری ہے، افسوس کی بات ہے کہ خواجہ سراؤں کو نہ خاندان تسلیم کرتے ہیں اور نہ ہی معاشرہ، ہمیں اس رویے کو ترک کرنا ہوگا اور خواجہ سرائوں کو ان کے حقوق دینا ہونگے ، خواجہ سرائوں سے متعلق قانون سازی بھی اتفاق رائے اور اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کی روشنی میں ہونی چاہیے- اس موقع پر جماعت اہل حرم پاکستان کے سیکرٹری جنرل میجر محمد سہیل عالم اور ڈپٹی جنرل سیکرٹری ڈاکٹر محمد شیر سیالوی اور دیگر رہنما بھی موجود تھے-

اپنا تبصرہ بھیجیں