imran khan1 19

دسمبر میں مہنگائی مکاؤ پروگرام، 40 فیصد نچلے طبقے کیلئے براہ راست سبسڈی، کورونا اور معیشت دونوں اہم، لاک ڈاؤن سے لوگ بھوکے مرینگے، عمران خان

8 / 100

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مہنگائی سے بچاؤکا پروگرام دسمبر سے شروع ہوجائے گاجس کے تحت 40فیصدنچلے طبقے کو براہ راست سبسڈی دی جائے گی‘ملکی معیشت بڑی مشکل سے سنبھل پائی ہے اور ہم لاک ڈائون سے اس کو تباہ نہیں کرنا چاہتے۔

کورونا اور معیشت دونوں اہم ہیں اس لئے ان کے حوالہ سے سوچ سمجھ کر حکمت عملی مرتب کرنی ہو گی‘بھارت نے غریبوں کی بجائے ایلیٹ کلاس کا سوچا اور سوچے سمجھے بغیر لاک ڈاؤن لگایا‘سندھ میں لاک ڈائون کی وجہ سے لوگ متاثر ہونگے۔صوبائی حکومت اس بات کو ضرور دیکھے کہ لاک ڈاؤن میں دیہاڑی دار اور مزدور طبقہ کیسے گزارا کرے گا؟

اگر وسائل دستیاب نہ ہو سکے تو مزدور طبقہ بھوک کا شکار ہو سکتا ہے ، پاکستان میں دو خاندانوں نے بڑی بے شرمی سے ملک دولت لوٹی ‘ادارے تباہ کئے ‘اب نیب نے ان کی چیخیں نکلوادی ہیں ‘کھیلوں کو جو وقت دینا چاہئے تھا نہیں دے سکا‘آخری دو سال میں اس پر بھرپور توجہ دیں گے‘انتخابی اصلاحات پر اپوزیشن نے اپنی تجاویز نہیں دیں ‘سعودی وزیرخارجہ سے سفری پابندیوں سے متعلق بات کی ہے۔

انہوں نے یقین دلایا کہ اس معاملے کو جلد حل کرلیا جائے گا‘ بچوں اور اساتذہ کی ویکسی نیشن تک اسکو ل نہ کھولے جائیں‘حکومت کے خلاف پروپیگنڈاورجعلی خبریں چلانے پر مجھے میڈیا سے اختلاف ہوتا ہے ‘بھارت نے پاکستان کیخلاف جعلی اور جھوٹی خبریں چلانے کیلئے ڈس انفارمیشن لیب تیار کی اور بدقسمتی سے اسے پاکستان کے صحافی ʼفیڈ کررہے ہیں۔

پانچ سال پورے ہونے پر ملک کے حالات بدلے ہوئے ہوں گے، پاکستان کوخود دار ملک بنانا چاہتے ہیں، بدعنوان عناصر حکومت کو بلیک میل کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاہم کرپشن پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا‘ قیمتوں میں اضافہ روکنے کیلئے 800 نئے اسٹوریج بنا رہے ہیں۔

اتوار کو ’’آپ کا وزیراعظم آپ کے ساتھ‘‘ پروگرام میں ٹیلی فون کالز اور سوشل میڈیا پیغامات کے ذریعہ عوام سے براہ راست گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ بھارتی ویرینٹ ڈیلٹا سب سے خطرناک ہے اور تیزی سے پھیلتا ہے۔ قوم سے اپیل ہے کہ ایس او پیز پر سختی سے عمل کریں، ماسک کا استعمال لازمی کریں ۔عمران خان کا کہناتھاکہ حکومت تین کروڑ سے زائد افراد کو ویکسین لگا چکی ہے۔

عمران خان نے کہا کہ آزاد میڈیا سے ڈرنے والے حکمرانوں نے قانون توڑنا ہوتا ہے اس لئے وہ گھبراتے ہیں یا پھر کرپٹ حکام آزاد میڈیا سے ڈرتے ہیں۔ اگر میں نے چوری کی ہو تو پھر آزاد میڈیا سے ڈروں گا۔میڈیا کا کام مثبت ہونا چاہئے غلط اطلاعات سے اجتناب کرنا چاہئے اور مثبت تنقید کے ذریعہ حکومت اور اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانا چاہئے۔

وزیراعظم نے کہاکہ کھیلوں میں پستی کی بنیادی وجہ دو خاندانوں کی حکومت ہے جنہوں نے ادارے تباہ کئے، انہوں نے نیب میں اپنے من پسند افراد بٹھا کر اسے تباہ کیا لیکن ہمارے دور میں نیب نے پہلی بار بڑے لوگوں پر ہاتھ ڈالا حالانکہ وہی قانون ہے، بے شرمی اور بے دردی سے ملک لوٹا، اب اس ادارے نے ان کی چیخیں نکلوا دی ہیں ۔

عمران خان نے کہاکہ ہم نے شہروں کے ماسٹر پلان نہیں بنائے،اب ہر جگہ ماسٹر پلان ہوں گے، دبئی کی طرح کثیرالمنزلہ عمارتیں بنائیں گے‘بنڈل آئی لینڈ منصوبہ سندھ کے مفاد میں ہے لیکن سندھ حکومت بنانے نہیں دے رہی۔

آزاد کشمیر کے عام انتخابات میں دھاندلی کے حوالہ سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہماری پہلی حکومت ہے جو انتخابی اصلاحات لانا چاہتی ہے تاکہ انتخابی عمل ٹھیک ہو، ہم اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ الیکٹرانک ووٹنگ میشنوں کا نظام لے کر آئیں، یہ تمام مسائل کا حل ہے، اپوزیشن سے اس پر تجاویز مانگی ہیں جو انہوں نے نہیں دیں،آزاد کشمیر میں عام انتخابات مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے کرایا، پولیس ان کی تھی، ممبر الیکشن کمیشن وزیراعظم کا ہم زلف ہے، اس تمام کا حل ای وی ایم ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ کرپٹ معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا،نچلی سطح پر کرپشن زیادہ خطرناک نہیں، کرپشن کے خلاف جنگ پاکستان کی جنگ ہے،طاقتور کرپٹ طبقہ مشرف دور کی طرح این آر او مانگ رہا ہے،آزاد کشمیر میں ایڈہاک ملازمین کو مستقل کرنے پر نظرثانی کریں گے۔ہم نے 1000 سی سی تک گاڑیوں پر ٹیکس میں کمی کی ہے اس کے باوجود گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی نہ کئے جانے کا جائزہ لیں گے۔

اوورسیز پاکستانیوں کو ای ووٹنگ کے ذریعہ ووٹ کا حق دینے کیلئے کام جاری ہے، اگر ایسا نہ ہوا تو پھر پوسٹل بیلٹ کے ذریعہ انہیں یہ حق ضرور دیں گے،پریشر گروپ ، قبضہ گروپوں سے لوگوں کو قانون و انصاف کے ذریعہ آزاد کرانا ہے، پانچ سال بعد قوم یہ فرق دیکھے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں