46

درود پاک کی شرعی حیثیت.مولانا عبد الرؤف (متعلم جامعہ نعیمیہ اسلام آباد)

درود پاک کی شرعی حیثیت
مولانا عبد الرؤف (متعلم جامعہ نعیمیہ اسلام آباد)
اللہ تعالیٰ نے اپنی لاریب اور مقدس کتاب میں ارشاد فرمایا
إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا (الاحزاب)
ترجمہ:بیشک اللہ اور ا س کے (سب) فرشتے نبیِ (مکرمّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود بھیجتے رہتے ہیں، اے ایمان والو! تم (بھی) اُن پر درود بھیجا کرو اور خوب سلام بھیجا کرو۔
دورد شریف کی بہت برکتیں اور فضیلتیں ہیں
حدیث شریف میں ہے سید دو عالم ﷺ نے فرمایا کہ جب دورد بھیجنے والا مجھ پر درود بھیجتا ہے تو فرشتے اس کے لیے دعا ئے مغفرت کرتے ہیں اور دوسری حدیث میں آتا ہے بخیل وہ ہےجس کے سامنے میر اذکر کیا جائے اور وہ درود نہ بھیجے۔
(1) امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کا مذہب یہ ہے کہ زندگی میں کم از کم ایک مرتبہ درود پاک پڑھنا واجب ہے ۔
(2) علامہ کمال الدین ابن ہمام (صاحب فتح القدیر) کا مذہب یہ ہے کہ زندگی میں کم از کم ایک مرتبہ درودپڑھنا فرض ہے ۔
(3) ایک مجلس میں اگر بار بار رسول ﷺ کا ذکر کیا جائے تو سب پڑھنے اور سننے والوں پر واجب ہے کہ کم از کم ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ پر دورد پاک بھیجیں اور اس سے زیادہ مرتبہ مستحب ہے۔
(4) نماز کے قعدہ اخیرہ میں تشہد کے بعد درود پاک پڑھنا سنت ہے۔
(5) غیر نبی پر مستقل طور پر درود پاک پڑھنا جائز نہیں ۔نبی پاک ﷺ کی اتباع میں غیر نبی پر درود پاک پڑھنا جائز ہے۔ یعنی اولاً نبی پاک ﷺ پر درود پاک پڑھ لیا جائے بعد میں نبی کے تابع رکھتے ہوئے غیر نبی یعنی صحابہ کرام ، اہل بیت اطہار اور اولیاء و صالحین پر بھی درو د پاک پڑھ سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں