فلسطینی جدوجہد نے حجت تمام کر دی، مزاحمتی محاذ میدان میں اتر پڑے، سید حسن نصراللہ 23

داعش کی تشکیل کا ایک مقصد مسئلہ فلسطین کو بھلانا تھا، سید حسن نصراللہ

7 / 100

لبنانی مزاحمتی تحریک حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے آج سہ پہر “فلسطین فتحیاب ہو گا” کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کیا ہے۔

نصراللہ نے اپنے خطاب میں میڈیا کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے تاکید کی کہ آج “فوجی مقابلے” کے مانند “میڈیا کے مقابلے میں توسیع” کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ہے جبکہ میڈیا ہی دشمن کے ساتھ مقابلے کے میدان میں اسلامی مزاحمتی محاذ کا سب سے اہم ہتھیار ہے لہذا فوجی مقابلے کی طرح ہمیں “میڈیا کے محاذ میں بھی دشمن کے ساتھ مقابلے میں توسیع” دینا ہو گی۔ سید مقاومت نے کہا کہ ہم بہت سادہ زبان میں، اس مزاحمتی محاذ کے رکن ممالک و جماعتوں اور تحریکوں میں مزاحمتی محاذ کی موجودگی کے بارے میں بات کر رہے ہیں تاہم اس مقصد کے حصول کے لئے ہم نے خون، جانیں اور بہت سی دوسری قربانیاں بھی دی ہیں۔

حزب اللہ لبنان کے سربراہ نے کہا کہ اس تاریک فتنے (داعش) کی تشکیل کا ایک مقصد مسئلہ فلسطین کو بھلانا تھا درحالیکہ میڈیا پر ہونے والی ہماری گفتگو کی تجدید کے لئے ایک ضروری عامل مزاحمتی محاذ کی ثابت قدمی ہے جو درحقیقت “سیف القدس” مزاحمتی آپریشن میں فلسطینی مزاحمتی محاذ کی نمایاں فتح ہے۔ سید حسن نصراللہ نے خطے میں موجود امریکی افواج کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکی تسلط ہمارے خطے کے لوگوں کے لئے خطرے کی سب سے بڑی وجہ ہے جبکہ اس تسلط نے حاکم حکومتوں اور فوجوں کو متغیر ڈھانچے میں بدل کر رکھ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی ہر جارحیت، امریکہ کی بھی جارحیت ہے جبکہ اپنی سرزمینوں پر فلسطینی عوام کا “بحر تا نہر” تک کا حق حکمرانی اور اپنے باقی مقبوضہ علاقوں پر لبنان کا حق؛ مسلم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ہماری اقوام کا “حق” ہے کہ وہ اپنی اسی ثروت کو استعمال کرتے امریکہ کا بھرپور مقابلہ کریں جس پر امریکہ کی جانب سے مسلسل ڈاکے ڈالے جا رہے ہیں جبکہ خطے کی اقوام کو امریکی مداخلت و آمریت سے دور رہتے ہوئے اپنے مقدر کا فیصلہ خود کرنے کا بھی مکمل حق حاصل ہے۔

سید حسن نصراللہ نے تاکید کی کہ مزاحمتی محاذ کی گفتگو اپنی قوم اور دشمن سے متعلق میدانی و احساساتی حقائق پر مبنی ہے جبکہ ہم دشمن کی طاقت کے نکات کو جانتے اور ان کا اعتراف کرتے ہیں تاہم ہم ان نکات کا مقابلہ کرنے اور انہیں کمزور بنانے کے لئے سرگرم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غاصب صیہونی رژیم (اسرائیل) میں “عوام” نام کی کوئی چیز موجود نہیں کیونکہ وہ سب کے سب قابض اور غیر قانونی و غاصب صیہونی آباد کار ہیں۔ حزب اللہ کے سربراہ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ آج دشمن کو عام میڈیا اور اس کے سربراہوں سے بڑھ کر مزاحمتی میڈیا پر اعتماد ہے کیونکہ جب مزاحمتی محاذ نے اپنے قیدیوں کے (صیہونی) جیلوں میں مزید رہنے کی اجازت نہ دینے کا وعدہ دیا تھا تو پھر اس نے اپنے اسیروں کو رہا کروانے کے لئے اسرائیلی دشمن کے خلاف ایک بڑا محاذ بھی کھولا تھا۔ انہوں نے تاکید کرتے ہوئے کہا کہ اسی طرح آج جب ہم فلسطین کو مکمل طور پر آزاد کروانے اور قابض صہیونی رژیم کے مکمل خاتمے کی بات کرتے ہیں تو ہم یقینی طور پر خوابوں اور آرزوؤں کی بات نہیں کرتے بلکہ ہم حقیقی امیدوں کے بارے بات کر رہے ہیں! سید مقاومت نے خطے میں امریکی بالادستی پر خبردار کرتے ہوئے کہا کہ آج خطے پر موجود امریکی تسلط نے خطے کے تمام وسائل کا رخ غاصب اسرائیلی دشمن کے مفاد میں موڑ رکھا ہے جبکہ غاصب صیہونیوں نے بھی اپنا وجود اور اپنا تمام گھمنڈ امریکہ کے سر پر ہی قائم کر رکھا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں