Seerat-ul-Nabi 75

سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺخیبرکی فتح

سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺخیبرکی فتح
خیبر ایک بڑا قصبہ تھا۔اس میں یہودیوں کی بڑی بڑی حویلیاں ، کھیت اور باغات تھے۔یہ یہودی مسلمانوں کو بہت ستاتے تھے اور اسلام کے خلاف سازشیں کرتے رہتے تھے۔مدینہ منوره سے خیبر کا فاصلہ 150 کلومیٹر کا ہے۔حدیبیہ سے تشریف لانے کے بعد حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم ایک ماہ تک یا اس سے کچھ کم مدت تک یعنی ذی الحجہ 6 ھ کے آخر تک مدینہ ہی میں رہے اور اس کے بعد رسول اللّٰه صلی الله علیہ وسلم خیبر کی طرف روانہ ہوئے۔رسول اللّٰہ صلی الله علیہ وسلم نے اپنے صحابہ میں سے صرف ان لوگوں کو چلنے کا حکم فرمایا جو حدیبیہ میں بھی ساتھ تھے، جو لوگ حدیبیہ کے سفر میں نہیں گئے تھے، انہوں نے بھی چلنے کا ارادہ ظاہر کیا، لیکن آپ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
“میرے ساتھ چلنا ہے تو صرف جہاد کے ارادے سے چلو، مال غنیمت میں سے تمہیں کچھ نہیں ملے گا۔”
مدینہ منوره سے روانہ ہوتے وقت رسول اللّٰه صلی الله علیہ وسلم نے حضرت سباع بن عرفط رضی الله عنہ کو مدینہ منوره میں اپنا قائم مقام مقرر فرمایا۔اس غزوے میں آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی ازواج میں سے حضرت اُمّ سلمہ رضی الله عنہا بھی ہمراہ تھیں ۔اللّٰه کے رسول صلی الله علیہ وسلم جب خیبر کے سامنے پہنچے تو یہ صبح کا وقت تھا۔حضرت عبدالله بن قیس رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللّٰه صلی الله علیہ وسلم کی سواری کے پیچھے پیچھے تھا۔ایسے میں میں نے “لاحول ولا قوۃ الا بالله العلی العظیم ” پڑھا۔
میرے منہ سے یہ کلمہ سن کر حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
“اے عبدالله! کیا میں تمہیں ایسا کلمہ نہ بتادوں جو جنت کے خزانوں میں سے ہیں ۔”
میں نے عرض کیا:
“اے اللّٰه کے رسول! ضرور بتایئے۔”
آپ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
“وہ یہی کلمہ ہے جو تم نے پڑھا ہے، یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے اور یہ کلمہ اللّٰه تعالیٰ کو بہت پسند ہے۔”
خیبر کے لوگوں نے جب آپ صلی الله علیہ وسلم اور آپ کے لشکر کو دیکھا تو چیختے چلاتے میدانوں اور کھلی جگہوں میں نکل آئے اور پکار اٹھے۔
“محمد! ایک زبردست لشکر لے کر آگئے ہیں ۔”
یہودیوں کی تعداد وہاں تقریباﹰ دس ہزار تھی، اور وہ یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ مسلمان ان سے مقابلہ کرنے کے لیے نکل کھڑے ہوں گے۔جب مسلمان جنگ کی تیاری کررہے تھے تو اس وقت بھی حیران ہو ہو کر کہہ رہے تھے:
“حیرت ہے… کمال ہے… ”
نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے یہودیوں کے ان قلعوں میں سے سب سے پہلے ایک قلعہ نطات کی طرف توجہ فرمائی اور اس کا محاصرہ کرلیا۔اس مقام پر آپ صلی الله علیہ وسلم نے ایک مسجد بھی بنوائی۔حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم جتنے دن خیبر میں رہے، اسی مسجد میں نماز ادا فرماتے رہے۔اس جنگ کے موقع پر آپ صلی الله علیہ وسلم نے دو زرہیں پہن رکھی تھیں اور گھوڑے پر سوار تھے۔رسول اللّٰہ صلی الله علیہ وسلم کے گھوڑے کا نام ظرب تھا۔آپ صلی الله علیہ وسلم کے ہاتھوں میں نیزه اور ڈھال بھی تھی۔آپ صلی الله علیہ وسلم نے اپنے ایک صحابی کو پرچم دیا۔وہ پرچم اٹھائے آگے بڑھے۔انہوں نے زبردست جنگ کی، لیکن ناکام لوٹ آئے۔آپ صلی الله علیہ وسلم نے پرچم ایک دوسرے صحابی کو دیا، وہ بھی ناکام لوٹ آئے۔محمد بن مسلمہ رضی الله عنہ کے بھائی محمود بن مسلمہ رضی الله عنہ قلعہ کی دیوار کے نیچے تک پہنچ گئے۔لیکن اوپر سے مرحب نامی یہودی نے ان کے سر پر ایک پتھر دے مارا اور وہ شہید ہوگئے۔کہا جاتا ہے کہ قلعہ کی دیوار کے قریب انہوں نے بہت سخت جنگ کی تھی، جب بالکل تھک گئےتو اس قلعہ کی دیوار کے سائے میں دم لینے لگے۔اسی وقت اوپر سے مرحب نے پتھر گرایا تھا۔
قلعہ نطات کے لوگ سات دن تک برابر جنگ کرتے رہے۔حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم روزانہ محمد بن مسلم رضی الله عنہ کو ساتھ لے کر جنگ کے لیے نکلتے رہے۔پڑاؤ میں حضرت عثمان رضی الله عنہ کو نگراں بناتے۔شام کے وقت حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم اسی جگہ واپس آجاتے۔زخمی مسلمان بھی وہیں پہنچا دیے جاتے۔رات کے وقت ایک دستہ لشکر کی نگرانی کرتا، باقی لشکر سوجاتا۔آپ صلی الله علیہ وسلم بھی نگرانی کرنے والے دستے کے ساتھ گشت کے لیے نکلتے۔کئی روز تک جب قلعہ فتح نہ ہوا تو حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم نے محمد بن مسلمہ رضی الله عنہ سے فرمایا:
“آج میں پرچم اس شخص کو دوں گا جو الله اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللّٰه اور رسول بھی اس سے محبت کرتے ہیں ، اور وہ پیٹھ دکھانے والا نہیں ، اللّٰه تعالیٰ اس کے ہاتھ پر فتح عطا فرمائیں گے اور اس طرح اللّٰه تعالیٰ تمہارے بھائی کے قاتل پر قابو عطا فرمائے گا۔
صحابہ کرام نے جب یہ اعلان سنا تو ہر ایک نے چاہا کہ حضور صلی الله علیہ وسلم پرچم اسے دیں ، مگر پھر رسول اللّٰه نے حضرت علی رضی الله عنہ کو طلب فرمایا۔ان دنوں حضرت علی رضی الله عنہ کی آنکھوں میں تکلیف تھی۔چنانچہ لوگوں نے حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کو بتایا کہ ان کی تو آنکھیں دکھنے آئی ہوئی ہیں ۔آپ صلی الله علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا کہ کوئی انہیں میرے پاس لے آئے، تب حضرت سلمہ بن اکوع رضی الله عنہ گئے اور انہیں لے آئے۔آپ صلی الله علیہ وسلم نے ان کا سر اپنی گود میں رکھا اور پھر ان کی آنکھوں میں اپنا لعاب دہن ڈالا۔لعاب کا آنکھوں میں لگنا تھا کہ وہ اسی وقت ٹھیک ہوگئیں ۔یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ان میں کوئی تکلیف تھی ہی نہیں ۔حضرت علی رضی الله عنہ فرماتے ہیں :
“اس کے بعد زندگی بھر میری آنکھوں میں کبھی کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔پھر آپ صلی الله علیہ وسلم نے پرچم حضرت علی رضی الله عنہ کو مرحمت فرمایا اور ارشاد فرمایا:
“جاؤ اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھنا۔”
حضرت علی رضی الله عنہ پرچم کو لہراتے ہوئے قلعہ کی طرف روانہ ہوئے، پھر قلعہ کے نیچے پہنچ کر انہوں نے جھنڈے کو نصب کردیا، قلعہ کے اوپر بیٹھے ہوئے ایک یہودی نے انہیں دیکھ کر پوچھا:
“تم کون ہو؟ ”
جواب میں انہوں نے فرمایا:
“میں علی ابن ابی طالب ہوں ۔”
اس پر یہودی نے کہا:
“تم لوگوں نے بہت سر اٹھایا ہے، حالانکہ حق وہی ہے جو موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوا تھا۔”
پھر یہودی قلعہ سے نکل کر ان کی طرف بڑھے، ان میں سب سے آگے حرش تھا۔وہ ایک مرحب کا بھائی تھا۔یہ شخص اپنی بہادری کے سلسلے میں بہت مشہور تھا، اس نے نزدیک آتے ہی حضرت علی رضی الله عنہ پر حملہ کیا۔حضرت علی رضی الله عنہ نے اس کا وار روکا اور جوابی حملہ کیا، اس طرح دونوں کے درمیان تلوار چلتی رہی۔آخر حضرت علی رضی الله عنہ نے اسے خون میں نہلادیا… اس کے گرتے ہی مرحب آگے آیا۔یہ اپنے بھائی سے زیادہ بہادر اور جنگ جو تھا۔آتے ہی اس نے زبردست حملہ کیا۔حضرت علی رضی الله عنہ پر تلوار کا وار کیا۔
حضرت علی رضی الله عنہہ نے اس کی تلوار کو اپنی ڈھال پر روکا… حملہ اس قدر سخت تھا کہ ڈھال ان کے ہاتھ سے نکل کر دور جاگری ۔مرحب اس وقت دو زرہیں پہننے ہوئے تھا، دو تلواریں لگا رکھی تھی اور عمامے بھی دو پہن رکھے تھے۔ان کے اوپر خود پہن رکھا تھا۔دیکھنے کے لیے خود میں آنکھوں کی جگہ دو سوراخ کررکھے تھے، اس کے ہاتھ میں نیزہ تھا، اس میں تین پھل لگے تھے۔
اب حضرت علی رضی الله عنہ نے اس پر وار کیا اور ان کی تلوار اسے کاٹتی چلی گئی۔اس طرح حضرت علی رضی الله عنہ نے اسے قتل کردیا۔مرحب کے بعد اس کا بھائی یاسر آگے آیا۔
وہ آگے آکر للکارا:
“کون ہے جو میرے مقابلے میں آئے گا۔”
حضرت زبیر بن عوام رضی الله عنہ مسلمانوں کی طرف سے آگے آئے اور اسے ٹھکانے لگادیا۔
خیبر کی جنگ ہورہی تھی کہ ایک شخص آپ صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔اس کا نام اسود راعی تھا اور وہ یہودی تھا۔ایک شخص کا غلام تھا۔اس کی بکریاں چراتا ہوا اس طرف آگیا تھا، اس نے کہا:
“اے اللّٰه کے رسول! مجھے اسلام کے بارے میں بتایئے۔”
رسول اللّٰه صلی الله علیہ وسلم نے مختصر طور پر اسلام کی خوبیاں بیان فرمائیں اور اسے اسلام قبول کرنے کی دعوت دی، اس نے فوراً کلمہ پڑھ لیا۔اس کے بعد یہ اسود راعی رضی الله عنہ تلوار لے کر مسلمانوں کے ساتھ قلعہ کی طرف بڑھے اور جنگ کرتے ہوئے شہید ہوگئے۔جب ان کی لاش آپ صلی الله علیہ وسلم کے سامنے لائی گئی تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
“اللّٰه تعالیٰ نے اس غلام کو بلند مرتبہ عطا فرمایا ہے۔”
اسود رضی الله عنہ کس قدر خوش قسمت تھے، نہ کوئی نماز پڑھی، نہ روزہ رکھا… نہ حج کیا، لیکن پھر بھی جنت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔
آخر یہ قلعہ فتح ہوگیا۔اس قلعے کے محاصرے کے دوران مسلمانوں کو کھانے کہ تنگی ہوگئی۔وہ بھوک سے بے حال ہونے لگے، لوگوں نے اس تنگی کے بارے میں آپ صلی الله علیہ وسلم سے ذکر کیا۔اس پر آپ صلی الله علیہ وسلم نے دعا فرمائ:
“اے اللّٰه ! ان قلعوں میں سے اکثر قلعوں کو فتح کرا کہ ان میں رزق اور گھی کی بہتات ہو۔”

اپنا تبصرہ بھیجیں