47

خیبرپختونخوا: گندم کی اسمگلنگ روکے، گندم چوری اور کرپشن کے خاتمے کیلئے جامع لائحہ عمل مرتب کیا جائے، وزیراعظم، خریداری کا ہدف بڑھانے کا حکم

اسلام آباد (نمائندہ نیوز، اے پی پی) وزیر اعظم شہبازشریف نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت کیساتھ ملکر صوبائی کھپت کی نشاندہی کرنے اور انکی مطلوبہ گندم کی فراہمی کو یقینی بنانے،گندم کی اسمگلنگ کو روکنے کے اقدامات اٹھائے جائیں، گندم کاشت کے دنوں میں کھاد کا بحران پیدا کیا گیا،مجرمانہ غفلت بد انتظامی اور لا پرواہی سے کسانوں کو نقصان پہنچایا، ہم پاکستان کو بہتر حکمت عملی سے گندم کی پیداوار میں خود کفیل ملک بنائینگے۔جمعہ کو وزیر اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت ملک میں گندم کی پیداوار، موجودہ ذخائر اور صوبائی و قومی سطح پر کھپت کے حوالے سے اعلی سطح کااجلاس ہوا۔اجلاس میں ملک میں گندم کی اس سال پیداوار کے حوالے سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا۔اس موقع پر وزیراعظم نے گندم خریداری کا ہدف بڑھانے کا حکم بھی دیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ رواں سال گندم کی مجموعی پیداوار کا ہدف 28اعشاریہ 89ملین میٹرک ٹن لگایا گیا تھا جبکہ متوقع پیدوا ر26اعشاریہ 173ملین رہنے کی امید ہے۔ گندم کی ملکی سطح پر مجموعی کھپت کا تخمینہ 30 اعشاریہ 79ملین میٹرک ٹن لگایا گیا ہے۔ گندم کی پیداوار کے ہدف اور متوقع پیداوار میں فرق کی وجوہات میں گندم کی کاشت میں کمی، پانی کی قلت اور گزشتہ حکومت کی کھاد کی فراہمی میں بد انتظامی کی وجہ سے کھاد کا بحران ہے۔مزید یہ کہ مارچ میں گندم کی امدادی قیمت کے دیر سے اعلان کی وجہ سے کسانوں کی گندم کی کاشت میں 2 فیصد کمی کا رجحان بھی دیکھنے میں آیا۔اسکے علاوہ تیل کی قیمتوں میں اضافے اور موسمیاتی تبدیلی یعنی وقت سے پہلے گرمی کی شدت میں اضافہ بھی گندم کے طے شدہ ہدف کے حصول میں بڑی رکاوٹ رہے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ گندم کی حکومتی سطح پر خریداری کے حوالے سے پنجاب 91 اعشاریہ 66 فیصد، سندھ 49 اعشاریہ 29 فیصد، بلوچستان 15اعشاریہ 29 فیصد جبکہ پاسکو نے 100 فیصد ہدف حاصل کر لیا ہے۔ وزیرِ اعظم کو موجودہ حکومت کے عوامی ریلیف کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا،انہیں بتایا گیا کہ حکومت کی فلوز ملز کو گندم کی فراہمی پر سبسڈی، آٹے کے دس کلو کے تھیلے کی 400 روپے کی قیمت پر فراہمی، بلوچستان میں یوٹیلٹی سٹورز کے ذریعے سستے آٹے کی فراہمی اور خیبر پختونخوا کو 2 لاکھ میٹرک ٹن گندم کی فراہمی ان اقدامات میں شامل ہیں۔ وزیرِ اعظم نے حکام کو خیبر پختونخوا حکومت کے ساتھ ملکر صوبائی کھپت کی نشاندہی کرنے اور انکی مطلوبہ گندم کی فراہمی کو یقینی بنانے کی ہدایات جاری کیں۔وزیر اعظم نے گندم کی اسمگلنگ کو روکنے کی ہدایات بھی جاری کیں۔ اسکے علاوہ ملک میں گندم کی چوری اور کرپشن کے خاتمے کیلئے جامع لائحہ عمل مرتب کرنے اور گندم ذخیرہ کرنے کیلئے سائیلوز کی تعمیر کی حکمتِ عملی تیار کرکے جلد پیش کرنے کی بھی ہدایات جاری کیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ گندم کی کاشت کے دنوں میں مجرمانہ غفلت، بد انتظامی اور لاپرواہی کی وجہ کھاد کا بحران پیدا کیا گیا جسکی بدولت کسانوں اور ملک کو نقصان پہنچا، سائیلوز کی تعمیر سے چوری اور کرپشن کا خاتمہ ہوگا۔وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے، غلط فیصلوں اور بر وقت حکمتِ عملی نہ ہونے کی وجہ سے ہم گندم کی ملکی ضروریات پوری کرنے کی بجائے گندم کی درآمد کرنے والا ملک بنا دیئے گئے، گندم کی سپورٹ پرائس کے دیر سے اعلان سے نہ صرف کسانوں کی کاشت میں کمی پیدا ہوئی بلکہ اس کا فائدہ براہ راست ذخیرہ اندوزوں کو پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ وزیراعظم نے پنجاب حکومت کو اپنا خریداری کا ہدف بڑھانے کی ہدایات جاری کیں اور فوڈ سیکورٹی ڈویژن کو شارٹ فال کو پورا کرنے کیلئے ضرورت پڑنے پر بر وقت گندم درآمد کرنے کی بھی ہدایات جاری کیں۔اجلاس میں وفاقی وزیرِ غذائی تحفظ طارق بشیر چیمہ، فوڈ سیکورٹی، پاسکو اور متعلقہ محکموں کے اعلی افسران کی شرکت۔ چیف سیکرٹری پنجاب اور صوبائی عہدیداران کی وڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں