53

’’خیال رکھنا ‘‘اعزازسید

سال 2004کی بات ہے۔ فوجی ڈکٹیٹر پرویز مشرف پوری قوت اوردبدبے کیساتھ ملک پر حکمرانی کررہے تھے۔ ملک تو ان کے قبضے میں تھا ہی لیکن ایک دن نجانے انہیں کیا خیال آیا کہ اسلام آباد کے تعلیمی اداروں کی نگرانی کرنے والے بے ضرر سے ادارے فیڈرل بورڈ آف ایجوکیشن میں بریگیڈئیر مقصودالحسن نامی اپنے ایک ساتھی کوڈائریکٹر جنرل تعینات کردیا۔ اس عہدے پر عام طور پر فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کے کالجز کے سب سے سینئر پرنسپل تعینات ہوا کرتے تھے۔ مگراب یہاں بھی مشرف صاحب نے اپنے بندے کو تعینات کیا تو اس تعیناتی پر کسی کو چون وچرا کرنے کی ہمت بھی نہ ہورہی تھی۔ ہوتی بھی کیسے ملک پر ایک طاقتورحکمران براجمان تھا اور اس کا ساتھی اسی کے بل بوتے پراب اسلام آباد کے تعلیمی اداروں کا نگران تھا۔

جب شہر اقتدار میں سب لوگ خوف اور مصلحت کا شکار تھے تو ایسے میں ایک مرد آہن نے اس غیر قانونی تعیناتی کو عدالت میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ اس وقت اسلام آباد کے تعلیمی اداروں میں سب سے سینئر معلم تھا۔اس معلم کے ساتھیوں نے اسے بڑا سمجھایا کہ ’’آپ کے بولنے سے کچھ نہیں بنے گا کیونکہ ان طاقتورلوگوں کے سامنے ایک معلم کی حیثیت کچھ نہیں ‘‘۔ ’’کچھ نہیں بنتا تو نہ بنے لیکن ریکارڈ پر یہ بات تو رہے گی کہ کوئی غیر قانونی کاموں کو چیلنج کرنے والا موجود ہے‘‘، اس نے ساتھیوں کو جواب دیا اورنتائج کی پروا کیے بغیرلاہور ہائیکورٹ پنڈی بنچ میں انصاف کے لیے درخواست دائرکردی۔ انصاف کیا ملنا تھا کیس کی سماعت تک نہ ہوئی الٹا اس معلم کو معطل کردیا گیا اور اگلے سال وہ ریٹائر ہوگیا۔ خوف اتنا تھا کہ یہ معاملہ اخباروں کی زینت بھی نہ بن سکا۔

اس وقت آمرانہ فیصلے کو چیلنج کرنے والا یہ عظیم معلم جاوید محسن ملک تھا۔ شاید آپ میں سے اکثراسے نہ جانتے ہوں۔جانیں بھی کیوں؟وہ ٹیلی وژن چینلز کی زینت بنتے ہیں نہ سوشل میڈیا پرکہیں نظرآتے ہیں۔ جمہوریت کے نام پر انگلی کٹوا کر شہیدوں میں نام لکھوانے والوں کی فہرست میں بھی ایسے عظیم لوگ نہیں پائے جاتے۔ یہ کوئی موٹی ویشنل اسپیکر بھی نہیں جن کے کھاتے میں صرف مسحورکن اوررٹی رٹائی باتیں سنانے کے علاوہ اورکوئی کارنامہ درج نہ ہو اور ہرطرف ان کا ڈنکا بھی بجتا ہو۔ جاوید محسن ملک کا حوالہ صرف آمرانہ اقدام کےسامنے کھڑے ہونے کا ہے۔ وہ 50 سال سے زائد عرصہ سے شعبہ درس و تدریس سے منسلک ہیں۔ اسکول، کالجز اور یونیورسٹیز کے لیے 50 سے زائد درسی کتب کے علاوہ ایک سفرنامے اور اپنے ساتھی اساتذہ کی زندگیوں پرلکھی ایک کتاب کے الگ سے مصنف ہیں۔ بنیادی طور پر سائنس کے آدمی ہیں زوالوجی ان کا موضوع ہے مگر ان کی دلچسپیاں صرف زوالوجی کے درودیوار میں ہی قید نہیں۔

انہوں نے پاکستان بنتے ہی نہیں ٹوٹتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔ وہ بھارتی صوبہ بہار میں پیدا ہوئےابھی دو سال کے تھے کہ پاکستان بن گیا۔ والدین کیساتھ بنگلہ دیش آگئے۔ وہیں تعلیم حاصل کی اور پھر بحیثیت معلم محمد پورکالج، قائداعظم کالج،نوٹرے ڈیم کالج ڈھاکہ میں خدمات سرانجام دیتے رہے۔ مارچ 1971 میں پاکستان آئےاور پھر یہیں کے ہوکررہ گئے۔ یہاں وہ وفاقی حکومت کے زیرانتظام مختلف تعلیمی اداروں میں معلم رہے اسلام آباد کے ایچ ایٹ کالج، ایف ٹین فور کالج میں پرنسپل اور پھر فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف کالجز کے ڈائریکٹر رہے۔ آج کل اسلام آباد میں ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہے ہیں۔

اگلے دن نیشنل بک فائونڈیشن جانا ہواتو کتابوں کی ونڈوشاپنگ کےدوران جاوید محسن ملک صاحب کی تازہ کتاب ’’خیال رکھنا‘‘ ہاتھ لگی۔ کتاب کھولی تو پتہ چلا کہ یہ جاوید محسن ملک کی طرف سے لکھے مختصر مضامین کا مجموعہ ہے جس میں انہوں نے پاکستان ٹوٹنے کیساتھ ساتھ ہمارے معاشرے میں رونما ہونیوالی تبدیلیوں کو بڑے احسن انداز میں قلمبند کیا ۔ ان کی کتاب پڑھنے کے بعد 15 دسمبر 2021 کو میں ان سے ملاقات کے لیے ان کے گھر چلا گیا اور ملک کی تازہ ترین صورتحال پر اپنی مایوسی کا اظہاربھی کیا۔ انہوں نے بڑے پیارسے کہا، ’’بیٹا ہمیں نتائج کی پروا کیے بغیراپنا کام کرنا چاہیے‘‘۔ انہوں نے مجھے تسلی دی اور میں چلا آیا۔مایوسی کے دنوں میں وہ واحد آدمی نظرآئے ہیں جو لوگوں کو امید کی روشنی دے رہے ہیں۔ ایک عظیم معلم طالبعلموں کے ساتھ ایسا ہی کرتا ہے۔

ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے قومی منظرنامے پر جاوید محسن ملک جیسے عظیم لوگوں کی بجائے جعلی لوگ براجمان ہیں ایسے ہی جعلی لوگوں کے ہاتھوں اس ملک کے اکثر شعبے یرغمال بنے ہوئے ہیں۔ جاوید محسن ملک جیسے افراد ہی اُن چند لوگوں میں شامل ہیں جن کے دم سے ملک چل رہا ہے یہ لوگ ہر جگہ پائے جاتے ہیں مگر خاموش رہ کربس اپنا کام کرتے ہیں۔ شورنہیں مچاتے۔ ہمیں ایسے عظیم لوگوں کا خیال رکھنا چاہئے اور ان سے رہنمائی لیتے رہنا چاہئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں