mazhar-barlas articles 98

خون بھی انصاف مانگتا ہے.مظہر برلاس

خون بھی انصاف مانگتا ہے.مظہر برلاس
کشمیری برس ہا برس پرامن آواز بلند کرتے رہے پھر گیارہ فروری 1984ء کوکشمیری رہنما مقبول بٹ کو ہندوستان نے تہاڑ جیل دہلی میں پھانسی دے دی، مقبول بٹ شہید کی میت کو بھی وہیں دفن کردیا گیا۔ بھارتی حکومت کے اس اقدام کے بعد کشمیر میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہندوستان پر جواہر لعل نہرو کی بیٹی اندرا گاندھی کی حکومت تھی، اس نے انہی دنوں میں سکھوں کوبھی تنگ کر رکھاتھا۔ گیارہ فروری 1984ء کو آزادی پسند کشمیری رہنما مقبول بٹ شہید کو پھانسی دے کر اندراگاندھی نے پرامن کشمیریوں کو احتجاج کا راستہ دکھایا۔ یاد رہے کہ مقبول بٹ شہید اردو کے ممتاز شاعر احمد فراز کے کلاس فیلو تھے۔ ایک کشمیری رہنما کو پھانسی دے کر بھی اندرا گاندھی کاکلیجہ ٹھنڈا نہ ہوا تو اس نے جون 1984ء میں خالصتان کی تحریک کو کچلنے کے لئے گولڈن ٹیمپل امرتسر میں آپریشن بلیو اسٹار شروع کیا۔ اس آپریشن میں بھارتی فوج کی 9 ویں ڈویژن کے دس ہزار فوجی، پیرا شوٹ رجمنٹ اور آرٹلری یونٹس کے 175، فورتھ سی آر پی ایف بٹالین کے 700 اور پنجاب پولیس کے 150 سکیورٹی اہلکاروں کے علاوہ بی ایس ایف کی ساتویںبٹالین نے حصہ لیا۔ اس آپریشن کے دوران چھ جون کو 37 سالہ بہادر خالصتانی رہنما سنت جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ سنت جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ کے مرنے کے بعد سکھوں کی کمان جنرل شاہ بیگ سنگھ نے سنبھالی، انہیں بھی ہلاک کردیا گیا، یاد رہے کہ جنرل شاہ بیگ سنگھ بھارتی فوج میں جنرل رہ چکے تھے اور مکتی باہنی کے قیام میں ان کا اہم کردار تھا، اس مقصد کے لئے ان کا انتخاب انڈین آرمی چیف جنرل مانک شاہ نے کیا تھا کیونکہ یہ ان کے علاقے امرتسر سے تھے مگر جب جنرل شاہ بیگ سنگھ خالصتان تحریک سے وابستہ ہوئے تو اکثر کہا کرتے تھے …’’ مجھے افسوس ہے کہ میں نے دہلی اور بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی میں اپنا حصہ ڈالا اور مجھے اس کا پچھتاوا مرتے دم تک رہے گا…‘‘ آپریشن بلیوا سٹار کے دوران امرتسر کے علاوہ بھی پورے ہندوستان میں سکھوں کے لئے زمین تنگ کردی گئی۔ سکھوں کاقتل عام کیاگیا۔ اسی سال یعنی 1984ء کو اکتوبر کی آخری تاریخ تھی کہ اندرا گاندھی کے سکھ باڈی گارڈوں نے اپنی وزیر اعظم کو گولیوں سے بھون کر رکھ دیا۔ اس کےبعد بھارت نے ریاستی دہشت گردی کرتے ہوئے 1984ء سے 1994ء تک دس لاکھ سکھ نوجوان موت کی نیند سلا دیئے۔

آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ تحریک آزادی کشمیر کا تذکرہ کرتے ہوئے خالصتان کا قصہ کیوں چھڑگیا۔ اس کی دو تین وجوہات ہیں۔ 1984ء میں مقبول بٹ کو پھانسی دی گئی۔ 1984ء ہی میں آپریشن بلیوسٹار کیاگیا اور سنت جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ سمیت بہت سے سکھوں کو موت کے گھاٹ اتار دیاگیا۔ 1984ء ہی میں اندرا گاندھی سکھوں کے ہاتھوں قتل ہوئی۔ گولڈن ٹیمپل امرتسر جہاں آپریشن بلیو اسٹار کیاگیا تھا اس گوردوارے کا سنگ بنیاد حضرت میاں میرؒ نے رکھاتھا۔ میں دسمبر میں یہ کالم لکھ رہا ہوں اور دو ماہ بعد سنت جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ کی سالگرہ کا دن ہے۔ سکھ قوم کا آزادی پسند بہادر سنت جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ بارہ فروری 1947ء کو ضلع موگاہ کے گائوں روڈا میں پیدا ہواتھا۔

1984ء میں مقبول بٹ کی شہادت کےبعد کشمیر میں بھارت کو نفرت کی نگاہ سے دیکھنے میں شدت آگئی۔ اس شدت کی حدت کو محسوس کرتے ہوئے 1987ء میں ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں مسلم متحدہ محاذ کے امیدواروں کو ریاستی جبر کے ساتھ الیکشن سے باہر کردیاگیا۔ 1989ء میں تحریک آزادی کا پیغام شہروں سے نکل کر ریاست کے ہر گائوں تک پھیل گیا۔ اس پیغام کا کشمیری نوجوانوں کے دلوں پر اس قدر اثر ہوا کہ وہ سب کچھ چھوڑ کر تحریک سے وابستہ ہوگئے۔ اس دوران بھارتی کرکٹ ٹیم کے لئے دہلی میں ٹریننگ کیمپ جاری تھا، بھارتی کرکٹر مدن لال ٹریننگ دے رہے تھے۔ اس کیمپ کو کشمیری نوجوان چھوڑ کرچلے گئے۔ مدن لال نے سری نگر سے تعلق رکھنے والے فاسٹ بائولر عبدالحمید لون کے بڑے ترلے کئے کہ آپ نہ جائو، آپ جیسا بائولر ہمیں کہاں سے ملےگا؟ مگر عبدالحمید لون ٹریننگ کیمپ چھوڑ کر آزادی کی تحریک سے وابستہ ہو گئے۔ یہاں ایک بات آپ کو بتاتا چلوں کہ بھارت میں صرف سبزیاں کھانے کے باعث ہندوئوں میں فاسٹ بائولر بہت کم ہوتے ہیں، فاسٹ بائولنگ کا زیادہ حصہ گوشت خور مسلمانوں کے حصے میں آتا ہے۔

مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور ہندوستان میں مذاکرات کا آغاز ہوا تو ’’را‘‘ نے پارلیمنٹ پر حملہ کروا کے مذاکراتی عمل ختم کروا دیا۔ کشمیریوں پر جبر وستم جاری رہا۔ اس دوران 2009ء میں انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے مقبوضہ کشمیر میں گمنام اجتماعی قبروں کا سراغ لگایا۔ اس وقت تک چھ ہزار سے زائد گمنام قبروں کی نشاندہی ہو چکی ہے۔ 2013ء میں پارلیمینٹ حملہ کیس کا فیصلہ سنایاگیا اور بغیر کسی ثبوت کے محمد افضل گورو کو پھانسی دے دی گئی۔ افضل گورو شہید کوبھی مقبول بٹ شہید کی طرح تہاڑ جیل ہی میں دفن کردیا گیا۔ 2015ء میں بی جے پی کے اقتدار کے ساتھ ہی مظالم میں اضافہ کر دیا گیا۔ گائے کے گوشت کے نام پر زندگی تنگ کردی گئی۔ جولائی 2016ء میں متحرک کشمیری نوجوان برہا ن وانی کی شہادت کے بعد قریباً ڈیڑھ سو افراد شہید کر دیئے گئے اور پندرہ ہزار افراد کوپیلٹ گن اور مہلک ہتھیاروں سے زخمی کردیا گیا۔

پانچ اگست 2019ء کو ہندوستانی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے اسے دو حصوں میں تقسیم کردیا، آرٹیکل 35۔اے ختم کرکے مقبوضہ کشمیر میں مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے منصوبے پر کام شروع کردیاگیا۔ مسلمانوں کوسرکاری عہدوں سے برطرف کرکے اہم سرکاری عہدوں پر غیر ریاستی باشندے تعینات کئے جا رہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کو جیل بنا کر رکھ دیاگیا ہے۔ مسلمانوں کے مذہبی اجتماعات پر پابندیاں ہیں۔ تحریک حریت کے سینئر رہنمائوں محمد اشرف صحرائی اور آل پارٹیز حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی کو طبی سہولتوں سے محروم رکھ کر ماورائے عدالت قتل کردیاگیا۔ شہادت کے وقت وہ زیر حراست تھے۔ ہندوستان کا ظلم وجبر جاری ہے مگر ان تمام تر ظالمانہ کارروائیوں کے سامنے کشمیریوں کا ایک ہی نعرہ ہے …’’ہندوستان سے لیںگے آزادی…‘‘ آج بھی کشمیری نوجوان پرجوش انداز میں سید علی گیلانی کا نعرہ بلند کرتے ہیں …’’ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے…‘‘

بھارتی سرکار سکھ کسانوں کے سامنے ہتھیار ڈال کر کسانوں سے متعلق قوانین واپس لے چکی ہے۔ سنا ہے کہ اسی دسمبر میں کشمیر سے متعلقہ 370 بھی واپس لے لیا جائے گا۔ دونوں کی آزادی کی منزل قریب ہے۔ یعنی خالصتان بھی آزاد ہونے والا ہے اور کشمیری بھی اپنے اصل دیس پاکستان کے ساتھ ملنے والے ہیں۔ بقول اقبالؒ؎

توڑ اس دست جفا کِش کو یا رب جس نے

روحِ آزادیٔ کشمیر کو پامال کیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں