91

خوشحال گھرانہ کیسے؟ حافظ محمد جمیل

خوشحال گھرانہ کیسے؟
(حافظ محمد جمیل (ریسرچ سکالر، دارالعلوم جامعہ نعیمیہ اسلام آباد

اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے انسان کو جن نعمتوں سے نوازا ان کا شمار انسانی بساط میں نہیں ہے۔اُس خالق و مالک وپروردگار نے نعمتوں کی تقسیم میں مراتب بھی قائم کیے ہیں۔ آج ہر وہ شخص بھی جس کو دنیا و جہاں کی وافر نعمتوں سے نوازا گیا ،وہ بھی زندگی کی خوشی سے خالی ہے۔دُکھ ،درد،پریشانیاں ایسے لگتا ہےکہ جیسےہمیشہ کے لئے زندگی کا باقاعدہ ایک جُزو بن چکی ہوں۔مایوسی اور بے چینی اس انتہاء کو پہنچ چکی ہے کہ چند لمحوں کے آرام کے لئے بھی میڈیسن لینی پڑتی ہے۔بعض دفعہ اس حد تک لےجاتی ہیں کہ بندہ ڈیپریشن کا مریض کہلاتا ہے یا خود کشی جیسے عمل سے اپنے خالق حقیقی کو ناراض کرتے ہوئے اُسی کے پاس جا پہنچتا ہے۔اس کی وجوہات میںسب سے بڑی اور اہم وجہ انسان کا اپنا گھرانہ ہے۔

حکایت بیان کی جاتی ہے کہ ایک بادشاہ کا گزر کسی مکان کی تعمیر والی جگہ سے ہوا جہاں اس نے ایک مزدور کو مکان کی دوسری منزل تک بازوؤں کی طاقت سے اینٹیں پہنچاتے دیکھا تو حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے وزیر سے استفسار کیا کہ یہ کیسے ممکن ہے ؟ وزیر نے اس کی وجہ گھریلو خوشحالی بیان کی اور اس کو ثابت کرنے کےلئے بادشاہ کی اجازت سے اس مزدورکے گھر کی خوشحالی کو برباد کرنے کے لیے چند عورتوںکو مقرر کیا جنہوں نے اس کی بیوی کےمختلف حیلوں سے اس کے خلاف کان بھرے ، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ تین دن میںہی خوشحالی جھگڑوں کے ذریعہ بربادی کی جانب رواں دواں ہوئی۔ ایک ہفتہ بعد بادشاہ سلامت جائزہ کےلیے دوبارہ وہاں پہنچےتو اُسی مزدور کو پہلی منزل تک اینٹوں کو بڑی مشکل سےپہنچاتے ہوئے دیکھا۔او ر اس کی حالت سے اُس کے گھر کا حال واضح معلوم ہو رہا تھا۔

آج ہماری صورت حال اس سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے۔مذکورہ بالا وجہ سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔کوئی غیر کسی فیملی ممبر کے بارے میں کچھ کہتا ہے تو ہمارارویہ اُس سے جس نے اپنی زندگی کا ہر پل ہمارے لیے قربان کیا ہوا ہوتا ہے،اپنے والدین، بہن بھائی کو ہمارے لیے چھوڑ ا ہوتا ہے فوراً بدل جاتا ہے۔ بغیر تحقیق اور غور فکر کے اُس غیر کی بات کو ترجیح دیتے ہوئے تمام تر تعلقات کو پارہ پارہ کرتے ہوئے غیر دانشمندانہ فیصلہ کرنے میں تاخیر نہیں کرتے۔آج مفتیان کرام کے پاس 90فیصد یہ مسائل جاتے ہیں کہ غصے میں طلاق کہہ بیٹھا ہو ں، ساتھ رہنا چاہتے ہیں براہ کرم کوئی راہ نکالیے،پر کیا حاصل۔۔
اپنوں سے زیادہ غیروں پر بھروسہ کرنے لگ گئے ہیں، باہر خوش ہیں ، گھر میں داخل ہوتے ہی expression تبدیل ہو جاتے ہیں۔ بیٹا دوستوں کے ساتھ تو خوش مزاج لیکن والدین کے ساتھ بد مزاج ،ایسے ہی والد کو کاروبار و معاملات میں اپنے دوستوں پر تو بھروسہ ہے لیکن اپنی اولاد پر نہیں۔بوڑھے والدین ترس جاتے ہیں کہ کب بیٹا آکر صرف اتنا پوچھے گا کہ ابو ،امی جی کیسے ہیں؟اب تو اکثر ابو کہنے سے بھی شرماتے ہیں ،نام سے پکارتے ہیں ۔اس کو اولاد کی نالائقی کہیں یا والدین کی تربیت کا فقدان۔۔۔لیکن ان تمام وجوہات کی وجہ دین سے دوری ہے۔ہم نے ان تمام تعلیمات کو پس پشت ڈال دیا ہے جو ایک گھرانےکو خوشحال بناتی ہیں ۔کچھ حقوق والدین پر ہیں تو کچھ اولاد پر ۔والدین کی عظمت کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا
أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ(لقمان)
ترجمہ:حق مان میرا اور اپنے ماں باپ کا۔
وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا ۭ اِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَآ اَوْ كِلٰـهُمَا فَلَا تَـقُلْ لَّهُمَآ اُفٍّ وَّلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيْمًا (بنی اسرائیل)
ترجمہ:اور ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنا اور اگر تمہاری زندگی میں وہ دونوں یا ان میں سے کوئی ایک بڑھاپے کو پہنچ جائے تو ان کو اف تک نہ کہنا اور نہ ان کو جھڑکنا اور ان سے ادب سے بات کرنا۔
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:” الا اخبركم باكبر الكبائر؟”، قالوا: بلى يا رسول الله، قال:” الإشراك بالله، وعقوق الوالدين
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کیا میں تمہیں سب سے بڑے گناہ کی خبر نہ دوں۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔
اسی طرح اولاد کا حق بھی ماں باپ پر عظیم رکھا ہے۔امام احمد رضا خان بریلوی لکھتے ہیں کہ بیٹا اور بیٹی عام طور پر مسلمان ہونے ،پھر خاص پڑوسی ہونے، پھر قریبی رشتہ دار ہونے اور بالخصوص اُسی کے کنبہ میں ہونےکی وجہ سے باپ کی سب سے زیادہ خصوصی توجہ کے حق دار ہوتے ہیں۔
اگر زندگی کی ابتداء ہی شرعی اصولوں کو بروئے کار لاتے ہوئے کی جائے تو یقینا مستقبل خوشحال میسر آتا ہے۔رشتہ داری کے وقت میرے آقا ﷺ کے فرمان کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے قدم اٹھایا جائے کہ جب تم کسی سے رشتہ کرومال یا حسن کی بناء پر نہیں بلکہ دینداری کی بناء پر کرو۔بچے پر نانا وماموں کی عادات و افعال کا اثر پڑتاہے۔فرمانبردار اولاد کے حصول کے لیے اس حدیث مبارکہ کو ذہن میں رکھنا بہت اہم ہے رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایاکہ جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی سے قرابت کا ارادہ کرے تو دعا پڑھ لیا کرے۔جو بچہ ہو گا شیطان کبھی اسے نقصان نہ دے سکے گا۔بعض علماء فرماتے ہیں کہ بچے کی سلامتی اور اسکی نشوونما او راس کے اچھے اوصاف(خوبیاں) ہونا عقیقہ کے ساتھ وابستہ ہیں۔شریعتِ اسلام کا ہر ہر عمل اپنے اندر بے پناہ خوبیاں وکمالات رکھے ہوا ہے۔اولاد کی اعلی تربیت کے لیے ضروری ہے کہ آپ کا رویہ بھی ان کے ساتھ مثالی ہو ۔ مجلس ہے تو ان کے لئے جگہ چھوڑیں،مارنے اور بُرا بھلا کہنے میں احتیاط رکھیں خاص طور کوئی اور موجود ہوتو ان کی عزت مجروح نہ ہونے پائے، اولاد کو ان کے دوستوں کے سامنے عزت دیں ، اچھے القابات سے پکاریں،پیار سےایسے نام نہ دیں کہ بچے جب باہرجائیں یا بڑے ہو جائیں تو ان ناموں سے کراہت محسوس کریں،اس طرح کی چیزیں بچوں اور والدین میں دوریاںپیدا کرتی ہیں۔اولاد کو نیک و فرمانبردار بنانے کےلیے سب سے اہم اور لازم چیز ہے کہ ان کو رزق حلال کھلائیں کیونکہ نا پاک مال ناپاک عادتیں ہی لاتاہے۔شعور کو پہنچیں تو ان کو کھانے ، پینے،بولنے، اٹھنے،بیٹھنے،چلنے،پھرنے،حیا ،لحاظ،بزرگوں کی تعلیم،ماں باپ، استاد کے آداب سکھائیں۔آداب سکھائیں گے تو آپ کا ادب کیا جائے گا۔حضورﷺ اور آپ کی آل واصحاب و اولیاءو علماء کی محبت وعظمت کی تعلیم دیں کیونکہ دنیا و آخرت کی کامیابی اسی میںہے۔اسی طرح اگر کوئی ایسے کام کا کہنا ہو جس میں نافرمانی کا اندیشہ ہو تو اسے اَمروحکم کے صیغہ سے نہ کہے بلکہ نرمی کے ساتھ بطور مشورہ کہیں تاکہ وہ نافرمانی کی مصیبت میں پڑ کے اپنی دنیا و آخرت برباد نہ کر بیٹھیں۔تربیت اولاد کے متعلق اللہ تعالی کا فرمان ہے
يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَكُمْ وَاَهْلِيْكُمْ نَارًا وَّقُوْدُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ عَلَيْهَا مَلٰۗىِٕكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا يَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَآ اَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُوْنَ
ترجمہ: مسلمانوں اپنی جانوں کو اور اپنے بال بچوں کو دوزخ کی آگ سے بچائو جس کے ایندھن آدمی ہیں اور پتھر، وہاں ایسے فرشتے تعینات ہیں جو اکھڑ بےرحم ہیں ۔اللہ جو ان کو حکم دے وہ نافرمانی نہیں کرتے ۔
تفسیر بیان القرآن میں ہے کہ
آیت زیر مطالعہ میں اہل و عیال کے بارے میں مثبت طور پر خبردار کیا جا رہا ہے کہ بحیثیت شوہر اپنی بیویوں کو اور بحیثیت باپ اپنی اولاد کو دین کے راستے پر ڈالنا تمہاری ذمہ داری ہے۔ یہ مت سمجھو کہ ان کے حوالے سے تمہاری ذمہ داری صرف ضروریاتِ زندگی فراہم کرنے کی حد تک ہے ‘ بلکہ ایک مومن کی حیثیت سے اپنے اہل و عیال کے حوالے سے تمہارا پہلا فرض یہ ہے کہ تم انہیں جہنم کی آگ سے بچانے کی فکر کرو۔ اس کے لیے ہر وہ طریقہ اختیار کرنے کی کوشش کرو جس سے ان کے قلوب و اذہان میں دین کی سمجھ بوجھ ‘ اللہ کا تقویٰ اور آخرت کی فکر پیدا ہوجائے تاکہ تمہارے ساتھ ساتھ وہ بھی جہنم کی اس آگ سے بچ جائیں ۔
جب شریعت پر عمل کرنے کی وجہ سے تمام کے حقوق ادا ہو ں گے تو کہیں پر نفرت ، ناراضگی،کراہت،دوری و بغاوت جیسے عناصر پیدا نہیں ہو ں گے اور ان شاء اللہ ایک خوشحال گھرانہ میسر آئے گا۔ والد کا اچھی تربیت کی وجہ سے اولاد پر بھروسہ ہو گا۔اولاد اپنے والد کو ایک اچھا دوست مانتے ،سمجھتے ہوئے ہر بات شیئر کرے گی اور باہر کی بجائے گھر میں وقت گزارنے کو ترجیح دے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں