10

خلاف قانون پوسٹ پر نام ECL میں ڈال سکتے ہیں، FIA کی اوورسیز پاکستانیوں کو وارننگ

راولپنڈی(نیوز رپورٹر)وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے خبردار کیا ہےکہ سوشل میڈیا پر کوئی پوسٹ قابل اعتراض اور باغیانہ نہیں ہونی چاہیے، تارکین وطن قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو ان کےنام ای سی ایل پر رکھے جاسکتے ہیں۔ایف آئی اےکی جانب سے جاریاعلامیے میں کہا گیا ہےکہ تارکین وطن پیکا 2016ایکٹ کا مطالعہ کریں، پاکستان یا دوسرے ملک میں رہنے والے پاکستانیوں کو جعلی خبروں کی بنیاد پر بدنام نہیں کیا جاسکتا،جعلی خبروں کی بنیاد پربدنام کرنےکی کوششیں پاکستانی قوانین کے مطابق جرم ہیں۔ایف آئی اے نےکہا ہےکہ تارکین وطن قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو ان کےنام ای سی ایل پر رکھے جاسکتے ہیں، قانون کے پابند شہریوں کو پریشان ہونےکی ضرورت نہیں، یہ ہدایت صرف قانون توڑنے والوں کے لیے ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہےکہ سوشل میڈیا پرمبینہ طورپر ریاست مخالف بیانات پر ایک یوٹیوبر کے خلاف انکوائری شروع کردی ہے، یوٹیوبر ریاست مخالف جھوٹی خبریں پھیلانے میں ملوث ہے، اس نے بیرون ملک رہتے ہوئے پاکستان میں ہیجان پیدا کرنےکی کوشش کی، یوٹیوبرکو انٹرپول کے ذریعےریڈ نوٹس جاری کیا جائےگا۔وفاقی تحقیقاتی ادارہ(ایف آئی اے) نے اینکر پرسن سمیع ابراہیم کے خلاف مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ریاست مخالف ویڈیوز اور بیانات نشر کرنے پر انکوائری شروع کر دی ہے۔ ایف آئی اے کے ترجمان نے پریس ریلیز میں کہا ہے کہ سمیع ابراہیم ریاستی اداروں کے حوالے سے جعلی خبریں پھیلانے میں ملوث ہیں اور ان کے لگائے گئے الزامات مسلح افواج کے اہلکاروں کو بغاوت پر اکسانے کی واضح کوششیں ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ سمیع ابراہیم نے بیرون ملک رہ کر میڈیا کے ذریعے پاکستان میں افراتفری پھیلانے کی کوشش کی ہے۔ ان کے پاس انکوائری میں اپنا دفاع کرنے کا موقع ہے اور اگر وہ اپنا دفاع کرنے میں کامیاب ہوئے تو انکوائری بند کر دی جائے گی۔ اگر جرم ثابت ہوا تو ان کے خلاف ایف آئی آر کے ذریعے مقدمہ درج کیا جائے گا۔ جب ممکن ہوا گرفتار کرکے عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا۔ ترجمان نے کہا کہ چونکہ وہ بیرون ملک ہیں اس لئے ان کیخلاف انٹرپول کے ذریعے ریڈ نوٹس جاری کیا جائے گا اور ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ ای سی ایل میں ڈالا جائے گا۔ ایف آئی اے نے پاکستان سے باہر رہنے والے تمام پاکستانی نژاد تارکین وطن کو مشورہ دیا ہے کہ وہ بیرون ملک رہتے ہوئے پاکستان میں افراتفری پھیلانے سے باز رہیں۔ ان کی سوشل میڈیا پوسٹس جارح اور فتنہ انگیز نہیں ہونی چاہئیں۔ انہیں پاکستان الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016کا مطالعہ کرنا چاہئے تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ ان کی سوشل میڈیا پوسٹس خلاف قانون نہیں ہیں۔ خلاف ورزی کی صورت میں ایسے افراد کی گرفتاری کے لئے انٹرپول کے ذریعے ریڈ نوٹس جاری کیا جاسکتا ہے۔ یہ انتباہ قانون شکن کیلئے ہے قانون کی پاسداری کرنے والوں کو پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں