100

خلافت بنو امیّہ 661تا750عیسوی . تاریخی احوال

خلافت بنو امیّہ

661تا750عیسوی

خلافت بنی اُمیہ کا تعارف:

سانحہ کربلا کے بعد مملکت اسلامیہ،جس کا رقبہ 64 لاکھ مربع کلومیٹر سے زیادہ تھا، خاندان بنی امیہ کے زیر تسلط چلی گئی اور حضرت امیر معاویہؓ نے اس حکومت کی بنیاد رکھی۔ان کے انتقال کے بعد ان کا بیٹا یزید تین سال کی حکمرانی کے بعد انتقال کرگیا۔ یزید کے فرزند معاویہ ثانی جو کہ بہت نیک اور پاکباز شخص تھا،نے خلافت سے انکار کر تے ہوئے دنیاوی امور سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ ان غیر یقینی حالات میں اسی خاندان کے ایک اورفرد مروان بن الحکم نے خلافت کی باگ دوڑ سنبھال لی اور اسلامی دارلحکومت کو مستقل طور پر دمشق منتقل کر دیا۔ یوں حضرت امیر معاویہ ؓ نے جس حکومت کی بنیاد ڈالی اسے” خلافت بنو امیّہ “کہتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس حکومت میں جس قدر خلیفہ ہوئے وہ سب ہی” اموی” خاندان سے تھے۔ یہ خاندان 41ھ سے 132ھ تک (661تا 750) 91سال تک برسراقتدار رہا۔ ا ن کے کل خلفاء چودہ تھے۔ذیل میں اس خاندان کی مسلم دنیا پر حکمرانی کا مختصر جائزہ لیا جاتا ہے۔

حضرت امیر معاویہؓ:

حضرت امیر معاویہ ؓ بن ابی سفیان ؓ بانی خلافت امویہ، قبیلہ قریش کی ایک شاخ بنی امیہ میں سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کا سلسلہ نسب یہ ہے:معاویہ بن ابی سفیان ؓ بن حرب بن امیّہ بن عبدشمس بن عبدمناف۔ اس طرح عبد مناف پر پہنچ کر آپؓ کا سلسہ نسب رسول اللہ ﷺ سے جا ملتا ہے۔آپؓ ہجرت سے پندرہ سال پہلے مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے۔ فتح مکہ کے موقع پر پر 23سال کی عمر میں اپنے خاندان کے دوسرے افراد کے ساتھ جناب رسالت مآب ﷺ کے دست مبارک پر مشر ف باسلام ہوئے۔

امیر معاویہ ؓ پڑھے لکھے اورعقلمند نوجوان تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے جوہر قابل دیکھ کر ان کو کاتبان وحی میں شامل کرلیا۔ اطرا ف ملک سے جو وفود بار گاہِ نبوّت میں حاضر ہوتے ان کی مہمان نوازی بھی آپ ہی کے سپرد فرمائی۔ 13 ھ میں حضرت ابوبکرؓ کے عہد میں جب لشکر اسلام نے شام پر یلغار کی تو اُن کے بڑے بھائی یزیدؓ بن ابی سفیان کی ماتحتی میں بھی ایک فوج دمشق کی طرف بھیجی گئی۔ امیر معاویہ ؓ کو اپنے بھائی کی امداد کے لئے اس فوج کے ایک دستے کا افسر بنایا گیا۔ شام کے ساحلی شہروں صیدا، عرفہ، جلیل اور بیروت کی فتوحات میں مقدمہ الجیش کے افسر یہی تھے۔ قیساریہ کے معرکہ کا سہرا جس میں اسی ہزار رومی قتل ہوئے، آپ ہی کے سررہا۔

حضرت عمر ؓ نے اُن کی کارگزاری سے خوش ہوکر اُنہیں ولایت اردن کا حاکم مقرر کیا۔ طاعون عمواس میں ان کے بڑے بھائی حضرت یزید بن ابی سفیان ؓ نے وفات پائی تو امیر معاویہ ؓ ان کی جگہ دمشق کے والی مقررہوئے۔ اردن کی ولایت بھی بدستور ان کے پاس رہی۔ حضرت عثمان ؓ کے عہد میں امیر معاویہ ؓ پورے ملک شام کے والی قرار پائے۔ ماتحت عمال کا عزل ونصب انہی سے متعلق تھا۔ 35 ؁ ھ میں حضرت عثمان ؓ کی شہاد ت کے بعد جب حضرت علیؓ خلیفہ منتخب ہوئے تو انہوں نے امیر معاویہ ؓ کو شام کی ولایت سے معزول کردیا۔ مگر امیر معاویہ ؓ نے حضرت علیؓ کوخلیفہ تسلیم کرنے ہی سے انکار کردیا اور ان پر حضرت عثمان ؓ کی مدافعت سے پہلو تہی اور ان کے قاتلوں کی حمایت کاالزام لگایا۔

اہل شام نے قصاصِ عثمان ؓ کے مطالبہ پر امیر معاویہ ؓ کے ہاتھ پر بیعت کرلی۔ اس کے بعد حضرت علیؓ اور حضرت امیر معاویہ ؓ کے درمیان قابل افسوس چپقلش کا آغاز ہوا۔اس سلسلے میں میدان صفین میں حضرت علی ؓ اور حضرت امیر معاویہ ؓ کی فوجوں میں لڑائی ہوئی اور آخر کار اس فیصلہ پر لڑائی ملتوی ہوئی کہ دونوں ا طراف سے دوجج (قاضی)مقرر کئے جائیں اور وہ جو کچھ طے کردیں؛ اس پردونوں فریق کار بند ہوں (حضرت عمرو بن العاصؓ اور حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ)۔

حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ نے قرار دیا کہ دونوں خلفاء کو برطرف کر کے نئے خلیفہ کا انتخاب کیا جائے لیکن حضر ت عمرو بن العاص ؓ نے فیصلہ دیا کہ حضرت علیؓ کو برطرف کر کے حضرت امیر معاویہؓ کو برقرار رکھا جائے۔اس فیصلے کو حضرت علیؓ کے لشکر نے قبول نہ کیا اوردونوں اطراف سے مسلسل جنگ وجدل کا سلسلہ جاری رہا۔ یہاں تک کہ 40 ؁ھ میں حضرت علیؓ ایک خارجی کی تلوار سے شہید ہوئے اور40 ھ کے آغاز میں حضرت حسن ؓ نے حق خلافت سے دستبرار ہو کر اپنے بے نظیر ایثار سے اس خانہ جنگی کا خاتمہ کردیا۔ یہ سال ” عام الجماعۃ ” کہلاتا ہے۔ اور اسی سال حضرت امیر معاویہؓکی متفق علیہ خلافت کا دور شروع ہوا۔

خوارج کا فتنہ:

تاریخ کے اس نازک موڑ پر خوارج کا ظہور ہو ا جنہوں نے حکومت کو بہت نقصان پہنچایا۔ جب حضرت علی ؓ اور حضرت امیر معاویہ ؓ کے مابین جنگ صفین ہو رہی تھی تو شامیوں نے اپنی شکست کو یقینی جانتے ہوئے قرآن کو نیزوں پر لٹکایا اور اعلان کیا کے یہ کتاب ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ کرے گی۔ یہ شامیوں کی جنگی چال تھی۔ چنانچہ حضرت علی ؓ نے جنگ جاری رکھنے پر زور دیا۔اس پر ان کے لشکر سے ایک گروہ یہ کہہ کر الگ ہو گیا کہ قرآن کی موجودگی میں کوئی فرد فیصلہ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ اس غلط تشریح نے مسلم اتحاد کو پارہ پارہ کردیا اور مسلمانوں کی ایک متشدد جماعت الگ ہوگئی۔اس نے آ نے والے وقتوں میں مسلمانوں سے طویل جنگ کی۔ اس فرقے کو خوارج کہتے ہیں۔

اس کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ فروہ بن نوفل اشجعی پانچ سو خوارج کوساتھ لے کر شہر سے دور چلا گیا او رموقع کا منتظر رہنے لگا۔ جب اسے معلوم ہوا کہ امام حسن ؓ نے خلافت کوامیر معاویہ ؓ کے حوالے کردیا ہے تو اس نے کہا اب تلوار کو بے نیام کرنے کاوقت آگیا ہے۔ وہ اپنے ساتھیوں کو لے کر مقابلے کے ارادے سے مقام نجید میں آکر ٹھہرگیا۔ امیر معاویہؓ نے اُ س کے مقابلے کے لئے شامیوں کی ایک جماعت بھیجی لیکن فروہ نے اُسے شکست فاش دی۔ امیر معاویہ ؓ نے اہل کوفہ فروہ سے کہا اگر میری طرف سے تم نے اُن کامقابلہ نہ کیا تو میں تمہیں امن نہ دوں گا۔ اہل کوفہ فروہ کے مقابلہ کونکلے۔ خوارج نے ان سے کہا ” کیا امیر معاویہ ؓ ہمارے اور تمہارے مشترک دشمن نہیں؟” تم انہیں تنہا ہمار ا مقابلہ کرنے دو۔ اگر ہم نے انہیں شکست دیدی تو تم ان کے پنجہ سے آزاد ہو جاؤ گے او ر اگر انہوں نے ہمیں شکست دی تو تم ہماری طرف سے بے فکر ہو جاؤگے۔

مگر اہل کو فہ نہ مانے۔ انہوں نے خوراج کا مقابلہ کیا اور فروہ کو زندہ گرفتار کرکے کوفہ لے آئے۔ اب خوارج نے عبداللہ بن ابی الحوساء کو جو بنی طے کے قبیلہ کا سردار تھا، اپنا سردار بنالیا۔ اہل کوفہ نے پھر مقابلہ کیا۔ ابو الحوسا ء بہادر انہ طریقے پر مقابلہ کرتے ہوئے ماراگیا۔

یہ واقعہ ربیع الاول کا ہے۔ابن ابی الحوساء کے قتل کے بعد خوارج پھر جمع ہوگئے۔ انہوں نے موثرہ بن وداع اسدی کو اپنا سردار منتخب کیا۔

موثر ہ ایک سوپچاس آدمیوں کو اپنے ساتھ لے کرمقام نخیلہ پہنچا۔ ابن ابی الحوساء کے بچے کھچے ساتھی جو کچھ زیادہ نہ تھے اس سے آملے۔امیر معاویہ ؓ نے موثر ہ کے باپ ابو موثر ہ کو جو کوفہ میں رہتا تھا بلایااور اُس سے کہا کہ اپنے بیٹے کو سمجھاؤ۔ ابو موثر ہ بیٹے کے پاس گئے اور اُسے سمجھایا، مگر وہ نہ مانا۔ ابو موثر ہ نے کہا میں تیرے بچے کو تیرے سامنے لاتا ہوں۔ شاید اس کی صورت دیکھ کر تجھے رحم آئے اور اپنے ارادے سے باز آئے۔ موثر ہ نے جواب دیا مجھے کسی کافر (غیر خارجی) کے نیزہ کی انی پر کروٹیں بدلتا اپنا بچہ گود میں کھلانے سے زیادہ پسندید ہے۔

ابو موثر ہ لوٹ آیا اور امیر معاویہ ؓ سے اپنے بیٹے کی گفتگو نقل کی۔ امیرمعاویہ ؓ بو لے، تمہارے بیٹے نے تو بڑی سرکشی پر کمر باندھی ہے۔ اب امیر معاویہ ؓ نے عبداللہ بن عوف احمر کو دوہزار کی جماعت کے ساتھ موثر ہ کے مقابلہ کے لئے بھیجا۔ خود ابو موثرہ بھی اس فوج میں شامل تھا۔ لڑائی شروع ہوئی تو بیٹے کو مبارزت کے لئے بلایا۔ موثرہ نے کہا۔میرے علاوہ آپ کے مقابلہ کیلئے اور بہت ہیں۔ پھر عام جنگ شروع ہوئی، خوارج بڑی بہادری کے ساتھ لڑے۔ موثرہ اور اُس کی فوج کے اکثر سپاہی مارے گئے۔ صرف پچاس آدمی زندہ بچے جنہوں نے اطاعت قبول کرلی۔ یہ واقعہ جمادی الآخر یٰ41ھ کا ہے۔

خوارج کی جماعتیں اسی طرح یکے بعد دیگرے ہنگامہ آراء رہیں اور بلاد عراق میں انہوں نے دہشت پھیلائے رکھی۔ حضرت امیر معاویہ ؓ نے سوچا کہ عراق میں امن ومان اور نظم ونسق قائم کرنے کے لئے بااثر اور صاحب تدبیر حکام کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کیلئے اُن کی نگاہ انتخاب زیادبن سمعیہ اور حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ پر پڑی۔ یہ دونوں حضرات حُسن و تدبیر اور سیاست میں مشہورتھے۔

ولایت کوفہ:

50 ؁ھ میں حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ والی کوفہ کاانتقال ہو ا تو کوفہ کی ولایت بھی زیادکے سپر د کردی گئی۔ زیاد نے کوفہ میں ایک خطبہ دیا۔ کوفہ کے شورش پسندوں نے اپنی عادت کے مطابق اس پر کنکریاں پھینکیں۔ زیاد نے فوراََ مسجد کے دروازے بند کرادیئے اور خود مسجدکے دروازے پر بیٹھ گیا اور حکم دیا کہ چار چار آدمی باہر نکلیں، جو شخص قسم کھا کر کنکریاں پھینکنے کا انکار کرتا اُسے چھوڑ دیا جاتا اور جواس میں تامل کرتا اسے روک لیا جاتا۔ اس طرح تیس آدمی روک لئے گئے اور اُن کے ہاتھ اُسی وقت کاٹ دیئے گئے۔ اس واقعہ کے بعد زیاد نے مسجد میں اپنے لئے ایک الگ منبر بنوالیا۔

زیاد کی نامزدگی:

ابن اثیر نے لکھا ہے کہ زیاد نے حضرت امیر معاویہ ؓ کو لکھا: “میں نے عراق کو اپنے بائیں ہاتھ سے قابو میں کرلیاہے میرا دایاں ہاتھ خالی ہے۔ اسے حجاز دے کر مشغول کردیجئے “۔ حضرت امیر معاویہ ؓ نے اس کے نام حکومت حجاز کا بھی پروانہ لکھ دیا۔ اہل حجاز کو یہ خبر معلوم ہوئی تو بہت پریشان ہوئے۔ ان کا ایک وفد حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور فریاد کی۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے قبلہ رخ ہو کر دُعا مانگی۔ ” اے اللہ! ہمیں زیاد کے شر سے محفوظ رکھ “۔ یہ دعا قبول ہوئی اور زیاد کی دائیں ہاتھ کی انگلی میں طاعون کی گلٹی نکلی اور وہ مرگیا 53ھ کو مر گیا۔ جب ا س کی موت کی خبرحضرت عبداللہ بن عمرؓ کو پہنچی تو آپ نے فرمایا: ” جااے ابن سمعیّہ! نہ تو نے آخرت پائی اور نہ ہی دنیا تیرے لئے باقی رہی “۔

حضرت مغیرہ بن شعبہؓ:

حضرت مغیرہؓ بن شعبہ کی سیاست بہت نرم تھی۔ وہ صلح وآتشی کو پسندکرتے تھے۔ مخالفین کے پیچھے نہیں پڑتے تھے۔ لوگ ان سے آکرکہتے فلاں شخص خارجی عقیدہ رکھتا ہے۔ فلاں شخص شیعی خیال کا حامل ہے۔ آپ یہ فرما کر ٹال دیتے تھے ” خدا کی حکمت اسی میں ہے کہ اس کے بندوں کے خیالات میں اختلاف رہے۔ قیامت کے دن وہ ان کے اختلافات کا خود فیصلہ فرمائے گا”۔ لیکن خوارج کب چین سے بیٹھنے والے تھے۔ وہ امن وطاعت کو گناہ سمجھتے تھے اور فساد وبغاوت کو ثواب۔ انہوں نے مستور د بن علقمہ کو اپنا سردار بنا کر مقابلہ کی تیاریاں شروع کردیں۔ کوفہ میں حیان بن ظبیان کے مکان پر خفیہ مشورہ ہوا اور قرار پایاکہ خاص عید الفطر 43ھ کے دن میدان میں نکلا جائے۔

حضرت مغیرہ بن شعبہؓ کو اس اجتماع کی خبر ہوئی۔ پولیس نے حیان کے مکان کا محاصرہ کرلیا۔ مستورداور اس کے کچھ ساتھی نکل بھاگے اور باقی گرفتار ہوگئے۔ مستور د نے کوفہ سے نکل کر پھر ا پنے ساتھیوں کو مجتمع کیا اور مقابلہ کی تیاریاں شروع کردیں۔حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓنے اہل کوفہ کو جمع کرکے ایک موثر تقریر کی اور خارجیوں کے فتنہ کی سرکوبی کیلئے ان سے مدد چاہی۔ معقل بن قیس ریاحی نے کہا اے امیرہر قبیلہ کا سردار اپنے اپنے قبیلہ کی ذمہ داری لے۔ میں اپنے قبیلہ کی ذمہ داری لیتا ہوں۔ حضرت مغیرہ بن شعبہؓ نے اس رائے کو پسند کیا اور ہر قبیلہ کے سردار کو حکم دیا کہ وہ اپنے قبیلہ کو اس فتنہ کی آگ میں کودنے سے بچائے۔

تمام سرداران ِقبائل نے اس حکم کی اطاعت کی اور اللہ کا واسطہ دے کر اپنے اپنے قبیلے کو اس شورش سے باز رکھا۔ حضرت مغیرہ بن شعبہؓ سات سال اورکچھ مہینے کوفہ کے والی رہے۔ 50؁ھ میں ان کا انتقال ہوگیااور کوفہ بھی بصرہ کے ساتھ زیاد کی ولایت میں شامل کردیاگیا۔ حضرت مغیرہؓ بن شعبہ، نرم صلح جو اور باتد بیر تھے۔ وہ خود کہاکرتے تھے کہ میں اہل کوفہ کا خون بہاکر انہیں سعید اوراپنی ذات کو شقی بنانا نہیں چاہتا۔ میں نیکوکار کو جزائے نیک دوں گا۔ غلط کار سے درگزر کروں گا۔ سنجیدہ سخن کی تعریف کروں گا اور بے وقوف کو سمجھاؤں گا۔ حتیٰ کہ قضا کا ہاتھ میرے اور اُن کے درمیان جدائی ڈال دے۔ اہل کوفہ کو میرے بعد دوسرے امیر سے سابقہ پڑے گا تو وہ مجھے یاد کیا کریں گے۔

کوفہ کے ایک شخص نے اُن کے انتقال کے بعد کہا: ” خدا کی قسم ہم نے انہیں آزمایا تو اُنہیں بہترین والی پایا۔ نیک کردار کے ثناخواں او رگناہ گار کو معاف کرنے والے تھے اور عذر کو قبول کرلیتے تھے “۔ امام شعبی ؒ نے فرمایا ہے : ” حضرت مغیرہ بن شعبہؓ کے بعد ان جیسا کوئی والی نہ آیا وہ سنت صالح کی پیروی کرنے والے تھے “۔ البتہ حضرت علیؓکی مذمت اور حضرت عثمان ؓ کے لئے دعا رحمت ان کا معمول تھا۔ مگر اس زمانہ میں حامیاں بنو امیہ اور شیعان حضرت علی ؓدونوں ہی اس مرض میں مبتلا تھے۔ دونوں اپنے مخالفت کے اکابرکی عیب جوئی کو بُرا نہ سمجھتے تھے۔ یہ سلسلہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے خلیفہ بن کر روکا۔

ولایت مصر:

مصر کے والی فاتح مصر اور مصر کے حالات کے نبض شناس حضرت عمر وبن العاصؓ تھے۔ 43ھ میں ان کا انتقال ہو ا تو ان کے بیٹے عبداللہ بن عمر و مصر کے والی مقر ر ہوئے پھر ان کو معزول کردیا گیا۔

ولایت حجاز:

حجاز کی ولایت بنی امیّہ کیلئے مخصوص تھی۔ مدینہ کا والی کبھی مروان بن حکم ہوتا اور کبھی سعید بن العاص۔ حضرت امیر معاویہ ؓ کا طریقہ کاریہ تھا کہ جب کبھی کسی اموی کو حاکم بناتے تو پہلے اُسے طائف کی حکومت سپردکرتے۔ اگر وہ کامیاب ثابت ہوجاتا تووہ اسے مکہ کی حکومت بھی دیتے پھر اگر وہ ان دونوں مقامات کی ذمہ داری کو خوش اسلوبی کے ساتھ ادا کرتا تو مدینہ کی حکومت بھی اس کو عطاکردیتے۔ مدینہ کے والی ہی امیرا لحج کے فرائض سر انجام دیتے تھے۔ حضرت امیر معاویہ ؓنے اپنے زمانہ حکومت میں صرف دو مرتبہ حج کیا، 44؁ھ میں پھر 50؁ھ میں۔

حضرت امیر معاویہ ؓکی فتوحات:

حضرت امیر معاویہ ؓ کے عہد میں مشرقی سرحدوں پر بہت کم فتوحات ہوئیں۔ زیاد ہ تر بغاوتوں کو فرد کرنے کا سلسلہ جاری رہا۔ عبداللہ بن سوار نے جو سرحد سند ھ پر متعین تھے دومرتبہ قیقان پر حملہ کیا۔ دوسری مرتبہ اہل قیقان نے ترکوں کی مدد سے اُن کو قتل کردیا۔

۴۴؁ھ میں مہلب بن ابی سفرہ نے سرحدسندھ پر حملہ کیا اور بتہ اور لاہور کو جو کابل اور ملتان کے درمیان واقع ہیں،فتح کیا۔یہاں ان کا دشمن سے مقابلہ ہوا۔ ایک مرتبہ انہیں بارہ ترک سواروں نے گھیر لیا۔ مہلب نے ان سب کو قتل کردیا۔اسی زمانہ میں مسلمانوں کی توجہ زیادہ ترشمال ومغرب کی طرف رہی۔ جہاں عظیم الشان رومی حکومت مسلمانوں کودعوت مقابلہ دیتی رہی تھی۔ رومی بادشاہوں میں سے امیر معاویہ ؓ کے معاصر دوبادشاہ ہوئے قسطنطین ثانی بن ہرقل ثانی (از 641ء تا 668؁ء) اور قسطنطین رابع بو غاناقس (از 668؁ء تا 689؁ء)ان دونوں بادشاہوں کے عہد میں مصر وشام کی سرحدوں پر رومیوں اور مسلمانوں کی چھیڑچھاڑ جاری رہی۔ حضرت امیرمعاویہ ؓ نے سمندر اور خشکی میں اُن کے مقابلے کیلئے بہترین انتظامات کئے۔ سمندر ی مقابلہ کیلئے انہوں نے ایک زبر دست جنگی بیڑہ تیار کیا۔

ستر ہ سو سپاہیوں اور سامان جنگ سے مسلح جہاز ہر وقت تیار رہتے تھے۔ ان جہازوں کی تیاری کے لئے شام میں جہاز سازی کے کارخانے کھولے گئے اور لبنان کے پہاڑوں سے لکڑی حاصل کی جاتی تھی۔ امیر معاویہ ؓ کے اس جنگی بیڑے نے بحرروم کے سینہ کو چیر کر بار بار رومی طاقت کے مقابلہ میں اسلامی سطوت کا سربلند کیا۔ جزیرہ قبرص، بعض جزائریونان اور جزیرہ روڈ رس مسلمانوں کے ہاتھوں مفتوح ہوئے۔ یہ جزیرے سمندری چھاؤنیوں کاکام دیتے تھے۔ رومی جہازوں کو اسلامی علاقوں کی طرف نہ بڑھنے دیتے تھے۔ امیر معاویہ ؓ نے بحری فوج کی تنخواہ بھی بیش قرار مقرر کی تھی۔

خشکی میں مقابلہ کے لئے امیر معاویہ ؓ نے شواتی اور صوائفی کے نام سے دو مستقل فوجیں تیارکیں۔ شواتی وہ فوج تھی جو موسم سرما میں دشمن کا مقابلہ کرنے کیلئے نکلتی تھی اور صوانی وہ جو موسم گرما میں مقابلہ کرتی تھی۔ اس طرح لڑائیوں کا سلسلہ برابر جاری رہتا تھا اورد شمن کو اسلامی سرحدوں کے قریب پھٹکنے کی ہمت نہ ہوتی تھی۔

قسطنطنیہ پرحملہ:

49 ؁ ھ میں امیر معاویہ ؓ نے مشرق رومی سلطنت کے دارالحکومت قسطنطنیہ پر حملہ کرنے کیلئے زبردست فوج بھیجی۔ سفیان بن عوف ؓ اس فوج کے سالار تھے۔ مقام فرقدو نہ پہنچ کر یہ فوج بخارا ور چیچک میں مبتلا ہو گئی۔ حضرت امیر معاویہ ؓ نے اپنے بیٹے یزید کو بھی ساتھ جانے کا حکم دیا مگر وہ بیماری کا بہانہ کرکے پیچھے رہ گیا۔ شہنشاروم نے قسطنطنیہ کی حفاظت کیلئے بڑے انتظامات کئے تھے۔ ” آتش یونانی” کے ذریعے مسلمانوں پر آگ برسائی جارہی تھی اور قلعے سے تیروں کی بارش کی گئی لیکن مسلمانوں نے کئی معرکوں میں بڑی جاں بازی کے ساتھ آگ اور خون کا کھیل کھیلا۔ عبدالعزیز بن زرادہ کلبی کاتو یہ حال تھا کہ شوق شہادت میں بار بار آگے بڑھتے تھے اور دشمنوں کی صفوں کو درہم برہم کردیتے تھے۔ آخر کار رومیوں نے انہیں گھیرلیا اور نیزوں سے ان کا بدن چھلنی کرکے شہید کردیا۔ تاہم مسلمان قسطنطنیہ کے بہترین محل وقوع اُس کی فصیل کی بلندی کی مضبوطی اور دشمن کے اعلیٰ انتظامات اور مداخلت کی وجہ سے فتح نہ کرسکے اور ناکام واپس آئے۔ اس معرکہ میں مسلمانوں کو سپاہ اور جہازوں کا بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔

یزیداول بن معاو یہ (60 ؁ھ تا 64؁ھ)

یزید نام، معاویہ بن ابی سفیان والد کا نام، سون بنت سجدل ماں کا نام تھا ۔ 26؁ھ میں حضرت عثمان ؓ کے عہد خلافت میں پیدا ہوا۔ حضرت معاویہؓ اس وقت پورے ملک شام کے امیر تھے۔ اس لئے یزید نے ناز ونعمت کی آغوش میں آنکھ کھولی اور دولت وحکومت کے گہواروں میں پرورش پائی۔وہ ایک عیاش اور مطلق العنان حکمران تھا۔اس نے اہل بیت پر ظلم کے پہاڑ توڑے اور مسلمان دو جماعتوں میں بٹ کر اپنی طاقت کو ہردور میں کمزور کرتے رہے اور آ ج تک یہ سلسلہ جاری ہے۔

یزید کی ولی عہدی:

مغیرہ بن شعبہ ایک مرتبہ دمشق گئے تو انہوں نے یزید کی بیعت کی تجویز پیش کی۔ صورت یہ ہوئی کہ دوران ملاقات انہوں نے یزید سے کہا ” اکابر صحابہ ؓ اور بزرگان اہلبیت دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں۔ اب اُن کی اولاد رہ گئی ہے۔ تم نسبی بزرگی، حسن رائے، علم سنت اور مہارت سیاست میں کسی سے کم نہیں ہو۔ میں نہیں سمجھتا کہ امیر المومنین کو تمہیں ولی عہد قرار دینے میں تامل ہوسکتا ہے”۔

یزیدنے اس گفتگوکا ذکر حضرت امیر معاویہ ؓ سے کیا۔ انہوں نے مغیرہ بن شعبہ کو طلب کیا اورکہا، یزید کہتا ہے!مغیرہ بن شعبہ نے کہا ہے۔” حضرت عثمان غنی ؓ کے بعد مسلمانوں میں جو اختلاف وخونریزی ہوئی اس سے کوئی ناواقف نہیں۔ لہذا یزید کی جو آپ کی جانشینی کی صلاحیت رکھتا ہے بیعت لے کر اسے اپنا جانشین بنادیجئے تاکہ حادثہ پیش آئے تو وہ مسلمانوں کیلئے پشت پناہ ثابت ہوا ور خلافت میں فساد وخونریزی کا امکان باقی نہ رہے۔زیاد کے انتقال کے بعد امیرمعاویہ ؓ نے اپنے اس ارادہ کی تکمیل کا فیصلہ کرلیا۔ شام تو خود ان کا دارالحکومت تھا۔ بصرہ اور کوفہ کا معاملہ کچھ مشکل نہ تھا۔

اصل مرحلہ حجاز کو ہموار کرنا تھا کہ اکابر ملت یہاں مقیم تھے اور عہد خلافت راشدہ میں اہل حجازہی کی رائے سے خلافت کا انتخاب ہوتا رہاتھا۔ اس کے بعد حضرت امیرمعاویہ ؓ نے مدینہ میں مقیم مروان بن الحمکم کو لکھا:” اب میری عمر زیادہ ہوگئی ہے۔ میرے قویٰ کمزور ہوگئے ہیں اور مجھے ڈر ہے کہ میرے بعد اُمت میں پھر جھگڑے اُٹھ کھڑے ہوں گے۔ لہذا میری رائے یہ ہے کہ اپنی زندگی میں ہی کسی کو اپنا جانشین مقرکردوں۔ لیکن یہ کام میں بغیر اہل مدینہ کے مشورہ کے نہیں کرنا چاہتا۔ تم میرے اس خیال کو اہل مدینہ کے سامنے پیش کرواور جو کچھ وہ جوابدیں اس کی مجھے اطلاع دو”۔ مروان نے اکابر اہل مدینہ کو بلاکر امیر معاویہ ؓ کے ارادے کی اطلاع دی تو سب نے اتفاق کرلیا اور کہا کہ ہمیں منظور ہے کہ حضرت امیر معاویہ ؓ یزید کو اپنا جانشین مقرر کر دیں۔ اس کے بعد امیر معاویہ ؓ نے یزید کو اپناجانشین منتخب کرلیا۔

امام حسین ؓ وعبدا للہ بن زبیر ؓ کا یزید کی بیعت سے انکار:

ولید نے حضرت اما م حسین ؓ اورحضرت عبداللہ بن زبیر ؓ کو بلا بھیجا۔ یہ دونوں بزرگ اس وقت مسجد میں تھے۔اس غیر معمولی وقت کے بلاوے سے وہ معاملہ کی تہہ کو پہنچ گئے اور انہوں نے آپس میں کہا ہو نہ ہو امیر کا انتقال ہو گیا ہے اور ہمیں بیعت کیلئے بلایا جارہاہے۔ حضرت امام حسین ؓ کچھ آدمیوں کو اپنے ساتھ لے کرولید کے ہاں پہنچے۔ آپ نے اپنے ساتھیوں کو باہر بیٹھا دیا اور اُنہیں سمجھایا کہ کسی قسم کا شور وغل سنوتو فوراََ اندر چلے آنا۔ ولید نے حضرت امام حسین ؓ کوحضرت امیر معاویہ ؓ کے انتقال کی خبردی۔ حضرت حسین ؓ نے اِنَّا للہ پڑھی اور امیر کیلئے دعائے رحمت مانگی۔ اب ولید حرف مطلب زبان پرلایااو ربیعت کی دعوت دی جس پر حضرت امام حسین ؓ نے فرمایا:

” مجھ جیسا شخص خفیہ بیعت نہیں کرسکتا۔ آپ عام لوگوں کو اس مقصد کے لئے جمع کیجئے۔میں اُن کے ساتھ آؤں گا جو سب کی رائے ہوگی وہی کیا جائے گا۔ حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ نے ولید سے ایک دن کی مہلت مانگی مگروہ راتوں رات مدینہ سے نکل کھڑے ہوئے اور مکہ کی راہ لی۔ ولیدکو خبر ہوئی تو اس نے اپنے آدمیوں کو تعاقب میں بھیجا۔حضرت عبدا للہ بن زبیر ؓ ایک غیر معروف راستہ سے گئے تھے لہذا یہ لوگ ان کی گرد بھی نہ پاسکے اور ناکام واپس لوٹے۔

اہل کوفہ کے دعوتی خطوط:

حضرت امام حسین ؓ نے مکہ پہنچ کر شعب بن ابی طالب میں قیام کیا۔ اہل مکہ اور دوسرے مقامات کے لوگ جو حج کے سلسلہ میں آئے ہوئے تھے۔ انہیں جب حضرت ؓ امیرکی آمد کا علم ہوا تو جوق درجوق آپ ؓ کی خدمت میں حاضر ہونے لگے۔ ہر وقت یہ لوگ آپ کو گھیرے رہتے اور آپ کی طرفداری وجانثاری کا دم بھرتے۔ حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ خانہ کعبہ کے ایک گوشہ میں مقیم تھے۔وہ دن نماز وطواف میں گزارتے کبھی حضرت امام حسین ؓ کے پاس بھی آتے اور مشوروں میں شریک ہوتے۔ جب حضرت امیر معاویہ ؓ کے انتقال کی خبر اہل کوفہ کو ملی تو انہوں نے حضرت امامؓ کی بیعت لینے کی مہم شروع کر دی۔ سلیمان بن صرو بنی خزاعہ کا سردار تھا۔ اُس کے مکان پر ایک خفیہ اجتماع ہوا۔ا س میں یہ طے ہوا کہ حضرت امام حسین ؓ کو کوفہ بلاجائے اور ان کے ہاتھ پر بیعت کرکے خلافت کو اہل بیت میں منتقل کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس تجویز کے مطابق عمائدین کوفہ کی طرف سے تقریباََ دیڑھ سو خطوط حضرت امام حسین ؓ کو روانہ کئے گئے۔

حضرت امام حسین ؓ کا عزم کوفہ اور ہمدردوں کی نصیحت:

حضرت مسلم بن عقیل جب کوفہ پہنچے اور ان کے ہاتھ پر اٹھارہ ہزار کوفیوں نے حضرت امام حسین ؓ کی بیعت کرلی تو انہوں نے حضرت امام حسین ؓ کو لکھا۔” آپ بے خطرتشریف لے آئیں۔ اہل عراق آپ کے حامی اور بنی امیہ سے بے زار ہیں “۔ اب آپؓ نے کوفہ کو روانگی کی تیاریاں شروع کردیں۔ آپ کے ہمدردوں کو جب علم ہوا تو انہوں نے آپ کو اس ارادے سے باز رکھنے کی کوشش کی۔ عمر بن عبدالرحمان بن حرث نے کہا! مجھے معلوم ہے کہ آپ عراق کا ارادہ فرمارہے ہیں۔حالانکہ وہاں کے حکام وامراء بنی امیہ کے ساتھ ہیں او روہاں کا خزانہ بھی ان کے قبضہ میں ہے۔ عوام کا کچھ بھروسہ نہیں۔ وہ بندہ زر ہوتے ہیں۔ دوسرے دن پھر حضرت عبداللہ بن عباس ؓ آئے اور کہا اے ابن علیؓ آپ کوفہ کے پاس کبھی نہ پھٹکنا۔ اہل کوفہ غدار ہیں۔ آپ مکہ میں قیام فرماکر اپنی بیعت کی دعوت دیجئے۔

آپ اول حجاز کے سردار ہیں۔ وہ آپ کی بات مانیں گے۔ اگر مکہ سے جاناہی ہے تو یمن جایئے وہ ایک وسیع ملک ہے۔ وہاں حفاظت کے سامان ہیں اور آپ کے والد گرامی کے ہمدرد بھی وہاں موجود ہیں۔ وہاں قیام کرکے بلاد اسلامیہ میں اپنی خلافت کا پیغام بھیجئے۔ مجھے امید ہے کہ آپ کامیاب ہوں گے۔حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ کو معلوم ہوا تو انہوں نے بھی سمجھا یا اور جانے سے منع فرمایا۔حضر ت امام حسین ؓ نے فرمایا کہ بھائی میں نے کوفہ روانگی کا فیصلہ کرلیا ہے۔

آخر آپ ؓ نے 8؁ ذی الحجہ کو اہل وعیال، عزیزوں اور رفیقوں کے ساتھ مکہ سے کوفہ روانہ ہوگئے۔ ابن زیاد کو امام حسین ؓ کی روانگی کی اطلاع مل چکی تھی۔ چنانچہ ا س نے یزیدکی ہدایت کے مطابق مدینہ سے عراق آنے والے تمام راستوں کی ناکہ بندی کردی اور حر بن یزید تمیمی کو ایک ہزار سوار دے کر امام حسین ؓ کا کھوج لگانے اور انہیں گھیر نے کیلئے آگے بھیج دیا تھا۔امام حسین ؓ مقام ” ذی چشم ” پہنچے تو وہاں حر بن یزید تمیمی آپ کا کھوج لگاتا آپہنچا اور آپ کے لشکر کے مقابل پڑاؤ ڈال دیا۔ حرنے مزاحمت کی اورکہا میں آپ کو واپس نہ جانے دو ں گا لیکن آپ سے جنگ بھی نہ کروں گا۔بہتر یہ ہے کہ آپ کوئی ایسا راستہ اختیار کیجئے جو عراق وحجاز دونوں کے درمیان ہو۔

ابن زیاد کو لکھتا ہوں آپ یزید کو لکھئے شاید کوئی ایسی صورت پیدا ہوجائے کہ مجھے آپ کے مقابلہ میں صف آراء نہ ہونا پڑے۔امام حسین ؓ نے اس تجویز کو قبول کرلیا اور شمال کی طرف رُخ کرکے نینوی کے راستہ پر ہولئے۔ کربلا میں اُترنے کے دوسرے دن عمر بن سعدبن ابی وقاص بھی اپنے چار ہزار سپاہیوں کو ساتھ لیکر آن پہنچا۔ عمر بن سعد بن وقاص کو ابن زیاد نے رے اور سرحد ویلم کا حاکم مقرر کیا تھا۔ وہ اپنے علاقہ میں جانے کی تیاری کرہی رہا تھا کہ امام حسین ؓ کی روانگی کی اطلاع پہنچی اور ابن زیاد نے اسے ان کی مدافعت کا حکم دیا۔امام حسین ؓ کو معلوم ہوا تو آپ نے ایک رات کی مہلت چاہی۔ ابن سعد نے مہلت دے دی۔

حضرت امام حسین ؓ کو اب یقین ہو گیا تھا کہ راہ حق میں ان کو اپنے سرکی قیمت پیش کرنی پڑے گی۔ دشمن ان کے خون سے اپنی پیاس بجھائے بغیر نہ مانیں گے۔ آخر گربیان عاشور چاک ہوا۔آفتاب خونیں آنسو ؤں کی لڑیاں بکھیرتا ہوا طلوع ہوا۔ حضرت امام حسین ؓ نماز فجر سے فارغ ہو کر اپنے 72جانثاروں کو ساتھ لے کر میدان کارزار میں نکلے۔پہلے مبارزت شروع ہوئی۔ دونوں طرف سے ایک ایک جنگجو نکلتا اور اپنے حریف سے لڑتا۔ مگر اس طرح کو فیوں کو بہت نقصان ہوا۔اب عام لڑائی شروع ہوگئی۔مٹھی بھر جانثاران اہل بیت نے ٹڈی دل کوفیوں کا منہ پھیر دیا۔ بہادران فوج حسینی ؓجد ھر نکلتے دشمنوں کی صفوں کو درہم برہم کردیتے تھے۔ مگر دونوں گروہوں کی تعداد میں کوئی نسبت نہ تھی۔ دوپہر ڈھلتے تک آپ کے تمام ساتھی پروانہ وار شمع بیت نبوت ﷺ پر قربان ہو گئے۔

آخر میں حضرت امام حسین ؓ کے ساتھ اُن کے چار بھائیوں عباسؓ، عبداللہؓ، جعفرؓ اور عثمان ؓ کے سوا کوئی نہ رہا۔جب تک سینہ میں دم رہا یہ ہروار کو اپنے سینہ پر لیتے رہے۔آخر ایک ایک کرکے وہ بھی راہی جنت ہوئے۔اب حضرت امام حسین ؓ تنہاتھے۔ وہ زخموں سے چورچور تھے۔ پیاس سے بیتاب تھے مگر آپ کی بہادری، جوش اور ہمت میں کوئی کمی نہ آئی۔

جس طرف بھی آپ کی تلوار چمکتی دشمنوں کے بادل کے بادل چھٹتے چلے جاتے۔آخر آپ نڈھال ہوکر زمین پربیٹھ گئے اور بڑی دیر تک خاموش رہے۔آپ کے جسم مبارک پر تینتیس زخم نیزہ کے اور تینتیس زخم تلوارکے لگے تھے اورتیر کے زخم ان کے علاوہ تھے۔بالآخر آپ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جام شہادت نوش فرماگئے۔ شہادت عظمیٰ کا یہ حادثہ 10 محرم الحرام 61 ؁ ھ کو جمعہ کے دن پیش آیا۔ اگلے دن اہل غاضر یہ نے نماز جنازہ ادا کرکے شہدا کی لاشوں کو اُسی میدان میں دفن کر دیا۔

معاویہ ثانی:

یزیدجو بہت سے ارمانوں کے ساتھ تخت نشین ہوا تھا قتل حسینؓ کے افسوس میں خود ہی جل گیا اور صرف تین سال کی حکومت کے بعد وفات پا گیا۔اس کی موت کے بعد دمشق میں ربیع الاو 64؁ھ میں اس کا بیٹا معاویہ بن یزید تخت نشین ہوا۔ معاویہ اکیس سال کا نوجوان صالح تھا۔ یزید کے زمانہ میں جو اموی مسندِ حکومت،خون ِاہل بیت سے داغدار ہوچکی تھی، وہ اس پر متمکن ہونا پسند نہ کرتا تھا۔ پھروہ کچھ بیمار بھی تھا۔بیعت کے چالیس دن بعد وہ خلافت سے دستبردار ہوگیا اور مجمع عام میں یہ تقریر کی۔” میں خلافت کا بوجھ اٹھانے کی طاقت نہیں رکھتا۔ میں نے چاہا کہ حضرت ابو بکرؓ کی طرح حضر ت عمرؓ جیسے کسی شخص کو اپنا جانشین بنادوں مگر ایسا کوئی مجھے نہ ملا۔ پھرمیں نے چاہا کہ حضرت عمرؓ کی طرح چند اہل شوریٰ کو نامزد کردوں۔ مگر اس کیلئے بھی موزوں اشخاص مجھے نہ مل سکے۔ اب تم جانو اور تمہارا کام اور جسے مناسب سمجھواپنا خلیفہ منتخب کرلو”۔اس تقریر کے بعد معاویہ ثانی گو شہ نشین ہوگیا اور بیعت سے تین مہینے بعد انتقال کرگیا۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ اسے زہردیاگیا تھا۔

عبداللہ بن زبیر ؓ (63 تا 64ھ) اور مروان بن حکم (64تا 65؁ھ):

حصین بن نمیر مکہ کا محاصرہ کئے ہوئے تھا کہ دمشق سے یزید کی موت کی خبر آئی۔ یہ خبر پہلے عبداللہ بن زبیر ؓ کومعلوم ہوئی۔ انہوں نے اعلان کرایا: ” اے اہل شام کیوں لڑرہے ہو، تمہارا سردار مر گیا ہے ” اہل شام کو ابن زبیرکی بات کا یقین نہ آیا مگر جب خود اُن کے خبررساں نے انہیں یہ خبر پہنچائی تو حصین بن نمیر نے محاصرہ اٹھا لیا۔ یزید کے انتقال کے بعد حجاز میں عبداللہ بن زبیرؓ کی باقاعدہ حکومت قائم ہوگئی۔ انہوں نے اپنے بھائی عبیداللہ بن زبیر کو مدینہ کا والی مقرر کیا۔ عبیداللہ نے بنی امیہ کے تمام افراد کو جن میں مروان بن حکم اور اس کا بیٹا عبدالملک بھی تھا مدینہ سے نکال دیا۔ یہ لوگ شام چلے گئے۔

مصر میں بھی حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کی خلافت تسلیم کی گئی۔ عبدالرحمٰن بن حجدم فہری مصر کے والی مقرر ہوئے۔ مروان بن حکم جب مدینے سے نکلا تو بنی امیہ کے حالات بہت نازک تھے لیکن یہ شخص جب دمشق پہنچا تو اس نے اپنے آپ کو خلیفہ کی حیثیت سے مستحکم کرنا شروع کردیا۔ اہل شام نے جب دیکھا کہ خلافت ان کے خاندان سے نکل رہی ہے تو انہوں نے مروان کو تخت پر بٹھا دیا۔مروان ایک سال کی حکومت کے بعد ملک کو جنگ و جدل کے حوالے کر کے خود انتقال کر گیا۔ جس کے بعد اموی خلافت اس کے مضبوط کردار، دلیر، دوراندیش اور بیدار مغز بیٹے عبدالملک کے سپرد ہوئی جس نے بنو امیہ کی خلافت کو استوار کرتے ہوئے اس میں نئی روح پھونک دی اور ملک سے افراتفری کا خاتمہ کر کے ایک مضبوط اموی حکومت کی بنیاد رکھی۔

عبدالملک بن مروان (65؁ھ تا 68ھ ):

عبدالملک بن مروان بن الحکم 26؁ھ میں حضرت عثمان غنی ؓ کے عہد خلافت میں مدینہ منورہ میں پیداہوا۔ عبدالملک کی نشو نما مدینہ ہی میں ہوئی۔ اس لئے اس کو فضلاء مدینہ کی صحبت سے فائدہ اُٹھانے کا پورا موقعہ ملا اور اپنے زمانے کے ارباب علم ودانش میں شمار ہونے لگا۔شعبی کہتے ہیں میں نے جس کس سے بھی گفتگو کی اپنے آپ کو اس سے برتر پایا بجز عبدالملک کے کہ اس سے جب کسی حدیث یا شعر پر گفتگو ہوئی تو اس نے میرے علم میں اضافہ کیا۔ اس زمانہ میں فقہا ءِ مدینہ چار شخص شمار ہوتے تھے۔ سعید بن مسیب، عروہ بن زبیر، قبیصہ بن ذویب اور عبدالملک بن مروان۔

وہ علم وفضل کے ساتھ ساتھ فہم وتدبر اور عزیمت وشجاعت کی دولت سے بھی مالامال تھا جس زمانہ میں تاج شاہی سرپررکھا گیا عالم اسلامی میں سخت اضطراب پھیلا ہواتھا۔ ایک طرف عبداللہ بن زبیر ؓ جیسی بااثر شخصیت مقابلہ پر تھی۔ دوسری طرف شیعہ وخوارج کی اندرونی شورشیں تھیں۔ عبدالملک اپنے فہم وتدبر اور مستقل مزاجی وسخت گیری سے تمام مخالف طاقتوں پر غالب آگیا اور بنو امیہ کی حکومت کی بنیاد وں کی جو یزیدکی موت کے بعد اُکھڑچکی تھیں ازسر نو قائم کردیا۔اسی لئے عبدالملک کو حکومت امویہ کا بانی ثانی کہاجاتا ہے۔ اس کے زمانے میں مسلمانوں نے افریقہ، اندلس عرب کے باقی ماندہ ممالک، خراسان اور ہندوستان کے علاقوں میں بڑی بڑی فتوحات کیں۔

ولید اوّل بن عبدالملک: ( 68ھ تا 96؁ھ):

ولیداول بن عبدالملک بن مروان کا بڑا بیٹا تھا جس کی والدہ دلاوہ بنت عباس بن جزء عیسی تھی۔ وہ 50ہجری میں پیدا ہوا۔ وہ آغوش ناز ونعمت میں پلا پڑھا۔ اس لئے علم وفضل سے بے بہرہ رہا مگر آئین جہان بانی اور اصول حکمرانی سے پورے طورپر واقف تھا۔مزاج میں سختی تھی۔باپ کے دفن ہونے سے فارغ ہو کر سیدھا مسجد میں پہنچااور خطبہ دیا۔ پہلے عبدالملک کی خوبیاں بیان کیں پھرکہا۔ ” لوگو تمہارے لئے حکومت کی اطاعت اور جماعت کے ساتھ اتحاد ضروری ہے جو شخص جماعت سے علیحدہ گی اختیار کرتا ہے وہ شیطان کا بھائی ہے، لوگو! جو شخص مخالفت کا اظہار کرے گا اس کا سرتوڑ دیا جائے گا۔ اور جو اُسے چھپائے گا وہ اسی مرض میں ہلاک ہو جائے گا”۔ ولیدکاعہد دولت بنی امیہ کی پیشانی کا نور ہے۔ عبدالملک حکومت کے راستہ کے تمام کانٹے پہلے ہی صاف کرچکا تھا۔

خوارج کا فتنہ دب چکا تھا، شیعہ اہل بیت کے جذبات سرد ہوچکے تھے۔ بنو امیہ کی رقیب طاقتیں ٹکڑے ٹکڑے ہوچکی تھیں۔اس لئے ولید کو اطمینان کے ساتھ داخلی انتظامات اور خارجی اقدامات کی طرف توجہ دینے کاموقعہ ملا۔ خوش قسمتی سے اسے محمد بن قاسم، قتیبہ بن مسلم،موسی ٰ بن نصیر اور مسلم ابن عبدالملک جیسے عظیم الشان فاتحین نصیب ہوئے جنہوں نے اپنے گھوڑوں کی ٹاپوں سے یورپ اور ایشیا ء کے میدانوں کو روندڈلا۔محمد بن قاسم نے راجہ داہر کو شکست دے کر سندھ کو مملکت اسلامیہ کا حصہ بنایا جب کہ موسی بن نصیرکی زیر نگرانی طارق بن زیاد نے اسپین فتح کیا۔ ولید بن عبدالملک نے دس سال بلاد اسلامیہ پر حکومت کی۔ اس نے حکومت کے مالی، انتظامی امور پر خوب توجہ دی۔وہ ایک قابل اور بیدار مغز حکمران تھا۔ اس نے اپنے آپ کو عیاشی اور دوسری اخلاقی بیماریوں سے دور رکھا۔

سلیمان بن عبدالملک:( 96 ؁ھ تا 99ھ):

سلیمان بن عبدالملک بن مروان کا بیٹا اور ولید کا حقیقی چھوٹا بھائی تھا۔ مدینہ منورہ میں محلہ بنی حذیلہ میں 54ھ میں پیدا ہوا تھا اور ملک شام میں اپنے باپ کے پاس تعلیم وتربیت پائی۔ وہ راوی حدیث بھی تھا۔ اپنے باپ کی وصیت کے مطابق ولید کے بعد 15جمادی ٓآلاخر 96؁ھ کو رملہ میں وارث تاج تخت ہوا۔ سلیمان کی صبح حکومت کا دامن بعض نامور سپہ سالاروں کے شفق رنگ خون سے رنگین ہوا۔ اس نے محمد بن قاسم، موسیٰ بن نصیر اور دیگر اعمال بنی امیہ جو اس کی حکومت کے راستے میں حائل ہوئے تھے، کو موت کے گھاٹ اتارا۔

ولید نے اپنے باپ کی وصیت کے برخلاف سلیمان کو معزول کرکے اپنے بیٹے عبدالعزیزکو عہدبنانا چاہا۔ امرائے حکومت میں سے حجاج بن یوسف اور قتیبہ بن مسلم نے اس کی اس رائے کی تائید کی، مگر دوسرے امراء کے اختلاف اور موت کی پیش دستی کے سبب یہ کام انجام نہ پاسکا۔ وہ مختصر عرصہ یعنی تین سال خلیفہ رہنے کے بعد اچانک بیمار ہو کر انتقال کر گیا۔ اچانک انتقال کی وجہ سے وہ ولی عہد کو تبدیل نہ کرسکا۔ اس کے دور میں ایران اور افریقہ میں بغاوتیں ہوئیں جو اسلامی افواج نے کامیابی سے دبا دیں۔

حضرت عمر بن عبدالعزیزؓ: ( 99ھ تا 101 ھ ) :

حضرت عمر،عبدالعزیز ؓبن مروان بن حکم کے صاحبزادے تھے۔ والد ہ ماجدہ اُمّ عاصم، عاصم بن عمر ؓبن خطاب کی صاحبزادی تھیں۔

61ھ امیں پیداہوئے اور دولت وحکومت کی آغوش میں پلے بڑھے۔ بچپن ہی سے علم وتقویٰ کی طرف میلان تھا۔ تھوڑی ہی عمر میں قرآن کریم حفظ کرلیا۔ باپ نے طبیعت کا میلان دیکھ کر مدینہ منورہ کے مشہور محدث صالح بن کیسان کی خدمت میں تحصیل علم کے لئے بھیجا۔

زمانہ طالب علمی میں ایک دن ان کی نماز باجماعت فوت ہوگئی۔ استاد نے جواب طلب کیا۔ عمر عبدالعزیز نے کہا ” انا میرے بال سنواررہی تھی “۔ صالح نے عبدالعزیز کو جو اس زمانے میں مصر کے والی تھے کو واقعہ کی اطلاع دی اور اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔ عبدالعزیز نے فوراََ ایک قاصد کو مصر سے روانہ کیا جس نے عمر بن عبدالعزیزؓ سے کسی قسم کی گفتگو کے بغیر اُن کے بال مونڈ دیئے۔

بیعت خلافت:

10 صفر 99ھ کو سلیمان بن عبدالملک کا انتقال ہوا۔ سلیمان اگر چہ رجا ء بن حیواۃ کے ذریعہ سے حضرت عمر بن عبدالعزیز کی بیعت لے چکا تھا۔ لیکن رجاء کو یقین تھا کہ بنی امیہ آسانی سے عمر ؒ کی خلافت کو منعقد نہ ہونے دیں گے۔ اس لئے سلیمان کے انتقال کی خبر کو مخفی رکھا گیااور مرج وابق کی جامع مسجد میں خاندان حکومت کو جمع کرکے دوبارہ سلیمان کے نامزد کردہ شخص کی بیعت لی۔جب سب نے دوبارہ بیعت کرلی تو رجاء نے آگے بڑھ کر حضرت عمر بن عبدالعزیز ؓکے بازؤں کو پکڑا ور انہیں منبر کی طرف بڑھایا۔ جب حضرت عمر بن عبدالعزیزؓ کی خلافت کا اعلان ہوا تو انَّا للہ کی دو صدائیں بیک وقت مسجد میں گونجیں۔

عمر بن عبدالعزیز ؓنے اس لئے اِنَّ اللہ پڑھی کہ خلافت کا بار گراں اُن کے کندھوں پر آپڑاتھا اور ہشام بن عبدالملک نے اسلئے کہ وہ متوقع تخت حکومت سے محروم رہا تھا۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے بار خلافت سنبھالتے ہی بنو؎ امیہ کی تمام جائیدادیں ضبط کر دیں۔ انہوں نے فوری طور پر اہل بیت پر لعن طعن اور تبرہ بازی کو ایک حکم نامے کے ذریعے منسوخ قرار دیا۔ انہوں نے اہل بیت کو عزت دی۔ اسلامی حکومت کو خلفاء راشدین کے نقش قدم پر استوار کیا۔ انہوں نے خلافت کو موروثی حکومت سے نکال کر اسے حقیقی فلاحی مملکت بنانے کی کوششیں شروع کر دیں لیکن ظاہر ہے شخصی حکومت کی تمام تر برائیاں اس حکومت میں گھر کر چکی تھیں جن کو ختم کرنے کے لئے ایک عرصہ درکار تھا۔

وہ ایک متقی، پرہیز گار، انصاف پسند اور صوم و صلواۃ کے پابند مسلمان تھے۔ ان کے دور میں اسلامی حکومت میں امن و امان رہا۔ اللہ کی رحمت کی وجہ سے بڑے بڑے فتنے آپ ہی اپنی موت مر گئے۔ بنی امیہ ان کے انقلابی اقدامات کی وجہ سے ان کو سخت ناپسند کرتے تھے۔ مثال کے طور پر انہوں نے خلیفہ بنتے ہی اپنی اہلیہ کے زیورات کو بیت المال میں جمع کر وا دیا۔ اپنی تمام جائیداد کو بیت المال کے لئے وقف کر دیا۔ دوسری جانب انہوں نے ملک میں یتیموں، بیواؤ ں اور مسکینوں کے لئے بیت المال کو وقف کردیا۔ ان کے حسن سلوک سے اہل بیت بھی بہت خوش ہوئے اور اموی حکومت کے خلاف زیر زمین تحریکوں کا خاتمہ ہو کر رہ گیا۔

ایسے انصاف پسند خلیفہ کے اموی خاندان کے سارے لوگ خلاف ہو گئے۔چنانچہ ان کو راستے سے ہٹانے کے لئے سازشیں ہونے لگیں۔ ان کو زہر دے کر ہلاک کیا گیا۔ انہوں نے ۲ سال اور چند ماہ خلافت کی۔ان کے اس مختصر دور کو تمام مورخین خلفائے راشدین قرار دیتے ہیں۔

یزید بن عبدالملک: ( 101ھ تا 105ھ ):

یزید بن عبدالملک بن مروان 65؁ھ میں پیدا ہوا۔ اپنے بھائی سلیمان بن عبدالملک کی نامزدگی کے مطابق حضرت عمر بن عبدالعزیز کے وصال کے بعدوہ تخت خلافت پر متمکن ہوا۔ جواں سال تھا اور پہلو میں جوان دل رکھتا تھا۔ بادہ وساغر اور جنگ ورباب کا شغل جاری کیا اس نے دوکنیزوں جابہ وسلامہ کو انیس وجلیس بنایا۔ اس نے حضرت عمر بن عبدالعزیز کی اصلاحات ختم کردیں اور دربار اموی کا نظام قدیم طرز پر پھر جاری کیا۔

ہشام بن عبدالملک: (105 ھ تا 125ھ) :

ہشام بن عبدالملک بن مروان 72ھ میں عائشہ بنت ہشام کے بطن سے تولد ہو ا۔ باپ نے اس کا نام منصور رکھا۔ کیونکہ اسی سال اسُ نے مصعب بن زبیرؓ (جو حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کے چھوٹے بھائی تھے) کو قتل کیا تھا۔ ماں نے اپنے باپ کے نام پر اس کانام ہشام تجویزکیا اور اسی نام سے مشہور ہوا۔

یزید کے انتقال کے وقت وہ رصافہ میں مقیم تھا۔ یہیں اس کی رسم تاجپوشی ہوئی اورا عصاء وخاتم اس کی خدمت میں پیش کئے گئے۔ پھر دمشق پہنچ کر اس نے بیعت عام کا اعلان کیا۔ اس وقت اس کی عمر34 سال تھی ۔105ھ سے 125ھ تک تقریباََ بیس سال وہ تخت حکومت پر متمکن رہا۔ وہ حلیم، عفیف، مدبر اور حوصلہ مند بادشاہ تھا۔ اس کے زمانے میں بہت سے اندرونی بغاوتیں اور بیرونی مہمات پیش آئیں مگر سب میں وہ کامیاب وکامران رہا۔وہ بنی امیہ کے بہترین خلفاء میں شمار کیاجاتا ہے۔

ولیدثانی بن یزید بن عبدالملک: (125ھ تا 126؁ھ) :

ولید بن یزید بن عبدالملک بن مروان، اپنے باپ یزید بن عبدالملک کی وصیت کے مطابق، ہشام کی وفات کے بعد ربیع الثانی 125ھ میں اردن میں تخت نشین ہوا۔ ولید ایک عیش پسند اور آوارہ مزاج نوجوان تھا۔ اُسے نغمہ شیریں اور بادہ رنگین کے سواکسی چیز سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ ہشام نے پہلے تو اسے درست کرنے کی کوشش کی مگر جب یہ کوشش کامیاب نہ ہوئی تو اُسے ولی عہدی سے محروم کرکے اپنی بیٹے مسلمہ کو ولی عہد بنانا چاہا۔ ابھی یہ تجویزپایہ تکمیل کو نہ پہنچی تھی کہ ہشام وفات پا گیا۔ ولید کو یہیں ہشام کی موت کی خبرملی۔ سب سے پہلا کام اُس نے یہ کیا کہ عباس بن عبدالملک بن مروان کو حکم دیا کہ فوراََ اضافہ جاکر ہشام کے اہل وعیال کو نظر بند اور اُس کے مال ومنال پر قبضہ کیا جائے۔ البتہ اُس نے مسلمہ کے ساتھ نرم برتاؤ کی ہدایت کی کیونکہ وہ اپنے باپ کے ساتھ متفق الرائے نہ تھا۔ عباس بن عبدالملک نے صافہ پہنچ کر ولید کے حکم کی تعمیل کی۔

اس کے دور حکومت میں زیر زمین تحریکوں کا آغاز ہوا۔ اس نے صرف ایک سال حکومت کی اور شراب و شباب میں لت ہو کر اچانک وفات پا گیا۔اس کے دور میں مسلم دنیا میں کئی فتنے سر اٹھانے لگے تھے اور اموی حکومت میں زوال کے آثار عیاں ہونے لگے تھے۔

مروان بن محمدبن مروان: (127ھ تا 132؁ھ):

مروان بن محمد مروان بن حکم کی ماں ایک کردی خاتون تھی۔ وہ 70 ؁ھ میں پیداہوا۔ اپنے باپ کے بعد جزیرہ آرمینیہ کا والی مقرر ہوا۔ ابراہیم کی شکست اور فرار کے بعد صفر 127ھ میں دمشق میں تخت خلافت پر متمکن ہوا۔ مروان بہادر،جفا کش، معمر اور تجربہ کار بادشاہ تھا۔ مگر اُ س نے زمانہ ایسا پایا کہ حکومت امویہ کا شیراز ہ پہلے ہی بکھر چکا تھا اور اس کی تمام صلاحیتیں اس کے منتشر اجزاء کو مجتمع کرنے میں ناکام ثابت ہوئیں ۔132 ہجری میں اسے عباسی لشکر جس کی قیادت پہلے عباسی خلیفہ ابوالعباس السفاح کا چچا علی بن عبداللہ کر رہا تھا؛نے دریائے ژاب (عراق میں واقع) کے کنارے ایک گھسمان کی جنگ میں شکست ہوئی۔ مروان بن حکم اس جنگ میں فرار ہوتے ہوئے دریا میں ڈوب کر ہلاک ہو گیا۔ اس جنگ میں اموی شکست کے ساتھ بنی امیہ کی حکومت کا خاتمہ اور بنو عباس کی حکومت کا آغاز ہو ا۔

اموی خلافت کے نمایاں کارنامے:

اموی حکومت جس کی بنیاد حضرت امیر معاویہ ؓنے شام میں رکھی تھی ایک خاندانی حکومت تھی جس میں خلفائے راشدین کے طریقہ حکومت سے سرا سر انحراف کیا گیا۔ تاہم اس حکومت کے کئی نقائص کے باوجود مسلمانوں کی حکومت سرزمین عرب سے نکل کر افریقہ، یورپ اور مشرقی ایشیا تک پہنچی۔ بلاد اسلامیہ میں اسلامی تبلیغ کا آغاز ہوا اور ان گنت غیر مسلم فاتحین، مبلغین اور صوفیائے کرام کے ہاتھوں پر اسلام لائے۔ اسی دور میں مسلمانوں کا نشاط ثانیہ کا آغاز ہوا اور مسلمان دنیا کی سپر پاور بنے جب کے اس دور کے بعد مسلمان دنیا میں علم و ہنر اور سائنس و ٹیکنالوجی کے امام بنے۔ اس دور میں میں مسلمان مجموعی طور پر ایک بااعتماد اور مضبوط قوم بن کر ابھرے۔

اموی دور کو علمی لحاظ سے دوحصوں میں تقسیم کیاجاسکتا ہے۔ ایک ابتدائی دور جس میں نامور صحابہ کرام ؓ معلمین کے فرائض انجام دیتے تھے۔ عبداللہ ابن عباس ؓ، حضرت عبداللہ بن عمر ؓ، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ، حضرت ابوہریرہ ؓ، حضرت جابر بن عبداللہؓ اور حضرت انس بن مالکؓ اس دور کے مشہور اہل علم تھے۔ احادیث کی بیشتر روایات ان ہی بزرگوں کے ذریعہ ہم تک پہنچی ہیں۔

دوسرادور وہ ہے جس میں تابعین نے معلموں کی حیثیت سے فرائض انجام دیئے اور ان کا علم بھی بہت اہم تھا کیونکہ انہوں نے صحابہ کرام سے نبی ﷺ اور ان کے رفقائے خاص(خلفائے راشدین) کے زمانے کی باتیں سنی تھیں۔ اسی طرح بنی امیہ کادور معاشی خوشحالی کا زمانہ تھا۔ مشر ق قریب کے وہ تمام علاقے جو اسلامی فتوحات سے پہلے ایرانیوں اور رومیوں کی مسلسل جنگوں کی وجہ سے اجڑچکے تھے ایک بار پھر سے آباد ہوئے۔ صدسالہ امن اورحکومت کی تعمیر ی حکمت عملیوں کے نتیجے میں زراعت اور صنعت وحرفت کوفروغ حاصل ہوا۔

کوفہ، بصرہ اور قسطاط کے شہر جن کی بنیاد خلافت راشدہ میں پڑی تھی، اب مملکت کے سب سے بڑے شہر بن چکے تھے۔ دمشق، اسکندریہ، اصفہان اور نیشاپورکے شہروں کی نہ صرف قدیم عظمت بحال ہوچکی تھی بلکہ وہ پہلے سے زیادہوسیع ہو گئے تھے۔ شمالی افریقہ میں قیروان کی بنیاد پڑی جو دوسری صدی کے آغاز تک اس خطہ میں تجارت وصنعت، علم وادب اور اسلامی تہذیب کا سب سے بڑا مرکز بن گیا تھا۔ فلسطین میں رملہ، ایران میں شیراز اور سند ھ میں منصورہ اور محفوظہ کے نئے شہر آباد ہوئے۔

خلافت بنی امیہ کے زوال کے اسباب:

خلافت بنی امیہ کی بنیاد چونکہ مطلق العنان خاندانی حکومت کی بنا پر پڑی تھی؛ لہذا یہ حکومت عرصہ95 سال میں ہی مٹ کر رہ گئی۔ اس کی جڑوں کو سب سے زیادہ جس چیز نے کھوکھلا کیا وہ حضرت امام حسین ؑ ان کے رفقاء کار کی شہادت تھی۔ واقعہ کربلا کے بعد دوسرا سنگین واقعہ ایک اور صحابی رسول حضرت عبداللہؓ بن زبیر کی شہادت تھی جو حجاج بن یوسف ثقفی کی ظلم و بربریت کا بین ثبوت ہے جس سے امویوں کے خلاف نفرت ایک مستقل شکل اختیار کر گئی۔ امویوں کے دور حکومت میں حجاج بن یوسف نے کعبہ پر منجنیقوں سے پتھراؤ کیا جس سے خانہ کعبہ کی دیواروں کو نقصان پہنچا۔ان مذموم اقدامات سے عوامی رائے امویوں کے خلاف ہوگئی۔

مندرجہ بالا اقدمات کی وجہ سے یزید، مروان، عبدالملک اور ولید اسلامی دنیا میں ناپسندیدہ ترین شخصیات بن کر ابھرے۔ حجاج بن یوسف،ابن زیاد، عمروبن سعد اور دیگر کئی لوگ جنہوں نے لالچ میں آکر قتل حسین ؑ کا ارتکاب کیا تھا بعد میں نفرت کا استعارہ بن کر رہ گئے۔ جب بنی امیہ کی خلافت عبدالملک اور ولید کی کوششوں سے استوار ہوئی تو وہ طبقہ جس نے حضرت حسین ؑ سے وفا نہ کی تھی، اس بات پر کمر بستہ ہوگیا کہ کسی نہ کسی طرح،حکومت ان لوگوں کو ملے جو خلافت کے اصل حقدار ہیں اور یہ کہ بنوامیہ ظالم و غاصب ہیں۔وہ اس پر متفق ہوگئے کہ خلافت اہل بیت کا حق ہے۔اسکے نتیجے میں کئی زیرزمین تحریکیں چلی اور کئی فوجی بغاوتوں نے جنم لیا۔

حضرت زینب ؑ بنت علی ؓ نے جو خطبہ یزید کے دربار بمقام دمشق دیا تھا وہ مسلمان دنیا کی آواز بن کر بنو امیہ کے خلاف ایک تحریک کی شکل اختیار کر گیا۔ دوسری طرف فارس، مصر اوریمن اور کئی عجمی علاقے اس تحریک کا گڑھ بن گئے۔ اس کے علاوہ خارجیوں نے بھی بنوامیہ کوسکھ کی سانس نہ لینے دیا۔ امویوں نے حسب سابق ولی عہدی پر جھگڑے شروع کر دیئے۔ اسی طرح بعد میں آنے والے خلفاء آرام پرستی،عیاشی اور عیش و عشرت میں مشغول ہوگئے۔ ان وجوہات کی بنا پر جب امویوں حکومت اندرسے کمزور ہوگئی تو اہل بیت کا جھنڈا بلند کر کے بنو عباس نے اموی حکومت پر کاری ضرب لگائی اور کئی معرکوں کے بعد ۲۳۱ ہجری میں بالآخر بنی امیہ کی حکومت کا خاتمہ کردیا۔اس نازک موڑ پراموی حکومت کو اصل میں جس شخص نے آخری کاری ضرب لگائی وہ ابومسلم خراسانی تھا جس نے فارس کے علاقوں سے عربوں کے خلاف ایک مضبوط فوج اکٹھی کی اور اسی فوج نے اموی تخت کو اکھاڑ پھینکا۔

خلاصہ:

بنی امیہ کا دور اپنے تمام تر نقائص کے باوجود تاریخ اسلام کا سنہری دور کہلاتاہے۔ اس دور کا جب گہرا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کو سپر پاور کا درجہ دینے والے یہی خلفاء تھے۔ تاہم اس دور میں شخصی حکومت کی جو بنیاد پڑی وہ بعد کی پوری اسلامی تایخ کا سیاہ باب بن کر رہ گئی جس سے اسلام کوخوب نقصان پہنچایا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں