22

خط ہمارے سفیر نے لکھا، ملک کا نام بتادیا تو نتائج خطرناک ہوسکتے ہیں، وزیراعظم

‏وزیراعظم عمران خان نے سینئر صحافیوں سے ملاقات کرکے انہیں خط کے مندرجات سے آگاہ کیا۔
وزیراعظم عمران خان سے سینئر صحافیوں نے ملاقات کی جس میں ‏وزیراعظم نے صحافیوں کو دھمکی آمیز خط کے مندرجات بتائے۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں اسد عمر نے دھمکی آمیز خط سے متعلق بریفنگ دی ۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ‏روس جانے سے پہلے حکام سے تفصیلی بریفنگ لی تھی اور یہ ‏خط عسکری حکام سے شیئر کیا جاچکا ہے جب کہ ‏خط سے متعلق پارلیمنٹ میں ان کیمرا بریفنگ ہوگی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دھمکی آمیز خط سے متعلق قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلائے جانے کا امکان ہے اور قومی سلامتی کمیٹی کی میٹنگ پارلیمنٹ کے اجلاس سے پہلے بلایا جائے گا جس میں مبینہ دھمکی آمیز خط کا جائزہ لیا جائے گا۔
وزیراعظم عمران خان نے سینئر صحافیوں سے ملاقات کے دوران کہا کہ یہ خط مستند ہے ، خط ہمارے سفیر کی جانب سے ارسال کیا گیا ، باضابطہ ایک سرکاری میٹنگ تھی جس میں پاکستانی آفیشل کو بلایا گیا اور پاکستانی آفیشل نے میٹنگ کے سرکاری طور پر نوٹس لیے۔
وزیراعظم نے کہا جہاں سے خط آیا اس ملک کا نام نہیں بتاسکے اور نہ ہی ان غیر ملکی حکام کا نام بتایا جاسکتا ہے کیوں کہ خط پر نیشنل سکیورٹی قوانین لاگو ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خط میں باقاعدہ دھمکی آمیز زبان استعمال کی گئی اور بتایا گیا کہ روس اور یوکرین سے متعلق پالیسی پر اعتراض ہے جب کہ وزیراعظم کے دورہ روس پر بھی اعتراض کیا گیا۔
دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے دھمکی آمیز خط کابینہ ارکان سے بھی شیئر کردیا اور انہیں بتایا کہ کیسے میرے خلاف عالمی سازش کی گئی ہے۔
خیال رہے وزیر داخلہ شیخ رشید نے بتایا تھا کہ دھمکی آمیز خط دکھانے کے لیے دس صحافیوں کو بلایا گیا ہے جب کہ وزیراعظم عمران خان آخری گیند تک مقابلہ کریں گے۔
اس سے قبل وزیراعظم عمران خان نے بھی ایک تقریب سے خطاب میں کہا تھا کہ تحریک عدم اعتماد ایک بڑی عالمی سازش ہے اور دھمکی آمیز خط سینئر صحافیوں کو دکھاؤں گا۔
واضح رہے وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے امر بالمعروف جلسے کے دوران اپنے خطاب میں ایک خط ہوا میں لہراتے ہوئے کہا تھا کہ بیرونی فنڈنگ کے ذریعے ہماری حکومت تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور میرے پاس یہ خط کے ساتھ ثبوت بھی موجود ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں