61

خاتون اول کی قریبی دوست فرح خان کون ہیں؟

اس وقت جہاں حزب اختلاف اور پاکستان تحریک انصاف کے ناراض اراکین وزیر اعظم پاکستان اور ان کے حالیہ فیصلوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں وہیں وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی ایک قریبی دوست فرح خان کی جانب بھی توپوں کے رخ دیکھے جا رہے ہیں۔
مختلف میڈیا رپورٹس کے مطابق فرح خان دو روز قبل ملک چھوڑ کر دبئی جا چکی ہیں جبکہ ان کے شوہر احسن جمیل گجر ان سے پہلے ملک سے چھوڑ چکے ہیں۔
فرح خان کے ایک قریبی دوست سے، جو اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے ہیں، فرح خان کے بارے میں معلومات حاصل کیں کہ آخر وہ ہیں کون اور انہیں تنقید کا نشانہ کیوں بنایا جا رہا ہے؟
فرح خان 1995 میں اپنی بہن مسرت شہزادی کے ساتھ شیخوپورہ سے لاہور آئیں تھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ فرح کا اصل نام فرحت شہزادی ہے، یہ دونوں بہنیں ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں۔
لاہور آ کر انہوں نے گلبرگ کالج میں داخلہ لیا۔ فرح شیخوپورہ میں سکول لیول پر اور پھر کالج میں بھی ہاکی کی کھلاڑی رہیں۔ جب کہ ان کی بہن مسرت بیڈمنٹن کی کھلاڑی تھیں۔
فرح کے دوست کے بقول فورٹریس سٹیڈیم لاہور میں ایک مشہور کپڑوں کا برانڈ نی پنہال ہوا کرتا تھا جس کے مالک کو فوٹو گرافی کا شوق تھا۔
نوے کی دہائی میں ہی فرح کی ان سے دوستی ہوئی اور انہوں نے ان کا فوٹو شوٹ کیا اور سوشل سرکل میں داخل کر دیا۔
اسی دوران فرح کی ملاقات ان کے شوہر احسن جمیل گجر سے ہوئی جنہوں نے کچھ عرصے بعد گجرانوالہ میں جی مگنولیا نامی ایک ہاؤسنگ سوسائٹی کا آغاز کیا تھا۔
نوے کی دہائی کے اواخر میں فرح اور احسن جمیل گجر نے شادی کر لی۔ فرح ان کی دوسری بیوی ہیں جبکہ ان کے دو بچے ہیں۔
دوست نے مزید بتایا کہ فرح نے احسن سے شادی کے بعد ان کے کاروبار کی دیکھ بھال شروع کر دی اور گلبرگ سینٹر پوائنٹ کے قریب واقع اپنے شوہر کے دفتر میں بیٹھنا شروع کر دیا۔
انہوں نے بتایا کہ فرح خان نے انگریزی زبان پر عبور حاصل کرنے کے لیے ایک استاد بھی رکھا۔
ان کا دعویٰ ہے کہ فرح خان زبان اور غصے کی انتہائی تیز ہیں، یہاں تک کہ ہاؤسنگ سوسائٹی کے معاملات میں بھی سرمایہ کار ان سے بات کرنے سے گھبراتے تھے۔
اس شخص نے بتایا کہ سوشل سرکل میں ان ہونے کے بعد سماجی سرگرمیوں کے دوران فرح کی ملاقات عمران خان کی موجودہ اہلیہ بشریٰ بی بی سے ہوئی اور ان کی دوستی بڑھتی چلی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ دوستی اس حد بڑھی کہ عمران خان کی شادی کی تقریب کا اہتمام بھی فرح خان کے ڈیفنس لاہور والے مکان میں کیا گیا۔ شادی کی تصاویر میں فرح خان کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
فرح کے دوست نے یہ بھی انکشاف کیا کہ پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ عثمان بزدار احسن جمیل گجر کے قریبی دوست تھے اور عثمان بزدار کو عمران خان اور بشریٰ بی بی کے قریب لانے والے بھی یہی دونوں میاں بیوی تھے۔ تاہم اس انکشاف کی دیگر ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
اگرچہ لاہور کی ماڈرن کلاس کے سماجی حلقوں میں فرح خان کا نام تقریباً ڈیڑھ دہائی سے مشہور ہو چکا تھا لیکن میڈیا پر فرح خان کا نام بشریٰ بی بی اور عمران خان کی 2018 میں ہونے والی شادی کے بعد سامنے آیا۔
اور تو اور فرح خان بشریٰ بی بی کے لاہور کے دوروں کے دوران بھی ان کے ہمراہ ہوتیں اور انہیں حکومت کی جاری کردہ تصاویر میں دیکھا جاتا رہا۔
فرح خان کے شوہر احسن جمیل گجر کا نام بھی میڈیا پر تب سامنے آیا جب عمران خان کی حکومت بننے کے بعد پاکپتن کے ڈی پی او رضوان گوندل کو تبدیل کروانے کا الزام احسن جمیل گجر پر آیا۔
اگست 2018 میں پولیس کی جانب سے بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا کے اہل خانہ کی گاڑی روکنے پر وزیر اعلیٰ پنجاب کے دفتر سے ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل کو تبدیل کرنے کا حکم جاری ہوا۔
اس واقعے کی رپورٹ عدالت عظمیٰ میں نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی کے چیف مہر خالق داد لک نے اکتوبر 2018 میں جمع کروائی۔
رپورٹ کے مطابق مانیکا فیملی نے پولیس کے ساتھ تلخ کلامی بھی کی تھی۔ اس رپورٹ پر اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے نوٹس لیا اور احسن جمیل گجر کو عدالت سے غیر مشروط معافی مانگنی پڑی اور حلف اٹھانا پڑا کہ وہ آئندہ کسی حکومتی معاملے میں دخل اندازی نہیں کریں گے۔
اس کے علاوہ 2019 میں قومی احتساب بیورو نے گجرانوالہ مگنولیہ پارک ہاؤسنگ سکیم میں بے قاعدگیوں کی تحقیقات شروع کیں تو اس میں بھی احسن جمیل گجر کو نوٹسسز جاری کیے گئے۔
فرح خان کا نام چند ماہ قبل اس وقت بھی بہت سنا گیا جب میڈیا اور سوشل میڈیا پر عمران خان اور ان کی اہلیہ کے درمیان مبینہ ناچاقیوں کی خبریں گردش کر رہی تھیں۔
افواہیں تھیں کہ بشریٰ بی بی عمران خان سے ناراض ہو کر لاہور اپنی دوست فرح خان کے گھر قیام پذیر ہیں۔
عمران خان کے مشیر شہباز گل نے ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ بشریٰ بی بی لاہور نہیں بلکہ اپنے گھر بنی گالہ میں موجود ہیں۔
چند روز قبل مسلم لیگ ن نائب صدر مریم نواز نے اپنی تقاریر میں الزام عائد کیا تھا کہ فرح خان نے پنجاب میں سرکاری ملازمین کی تقرریوں اور تبادلوں کے بدلے اربوں روپے کمائے۔
مریم نواز نے فرح خان کو ’تبادلوں اور تقرریوں کے سکینڈلز کی ماں‘ قرار دیا اور کہا کہ اس سب کا تعلق بنی گالا سے جڑتا ہے۔
مریم نواز نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس حوالے سے جلد ثبوت بھی سامنے آجائیں گے۔
اس کے علاوہ عمران خان کے قریبی ساتھی اور تحریک انصاف کے ناراض رہنما علیم خان نے اتوار کو اپنی ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اسسٹنٹ کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کروڑوں روپے رشوت دے کر اپنی پوسٹنگ کرواتے رہے اور یہ سارا عمل مبینہ طور پر فرح خان کے ذریعے ہوتا رہا۔
پنجاب حکومت کے سابق ترجمان حسان خاور سے رابطہ کیا اور ان سے فرح خان اور پنجاب حکومت کے سابق وزیر اعلیٰ پر اٹھائے جانے والے سوالات و الزامات میں صداقت کے بارے میں پوچھا تو ان کا کہنا تھا: ‘میرے دور میں میرے سامنے جتنے تبادلے یا پوسٹنگز ہوئیں وہ بالکل میرٹ پر ہوئیں اور ایک طریقہ کار کے ذریعے ہوئیں۔
’بات یہ ہے کہ اس ملک میں الزام تراشی بہت آسان ہو گئی ہے۔ جس کا جو دل کرتا ہے کسی کے بارے میں بات کرتا ہے۔
’اگر کسی کے پاس کوئی ثبوت ہے تو وہ سامنے لائیں اور اگر کسی کے کہنے پر ایسا ہوا ہے تو انکوائری ہونی چاہیے، کسی پر بلاوجہ الزام لگانا مناسب نہیں۔ میرے خیال میں یہ تمام الزامات بے بنیاد ہیں۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں