196

حکیم الامت پر بہتان تراشی ناقابل برداشت جسارت،تحریر. محمد جاوید اقبال کھارا

حکیم الامت پر بہتان تراشی ناقابل برداشت جسارت
تحریر. محمد جاوید اقبال کھارا
پرنسپل جامعہ مدینۃ النبی نوشہرہ وادی سون
دنیامیں یوں تو روزانہ بہت سے لوگ پیدا ہوتے ہیں. اور چلے بھی جاتے ہیں. مگر حضرت اقبال جیسے نابغہ عصر، یکتا زمانہ کم ہی پیدا ہوتے ہیں. جنکو اللہ پاک قبولیت عامہ عطا فرماتا ہے. حکیم الامت حضرت اقبال کا شمار عالمی راہنماؤں میں ہوتا ہے جن سے ایک ارب سے زائد لوگ محبت کرتے ہیں بالخصوص پاکستان، ایران، ترکی، افغانستان، انڈیا اور تمام مسلم برادری بلکہ یورپی ممالک میں بھی اقبال کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے.
علامہ صاحب ہمیشہ عشق رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا درس دیتے رہے اور اسلام کے سچے پیروکار اور پرجوش داعی رہے. پرفتن دور میں تقلید کو محفوظ راستہ قرار دیتے رہے اور کبھی کسی مصلحت اور دباؤ کا شکار نہیں ہوئے.
علامہ اقبال ہر ذی شعور شخص کے نزدیک فلسفی، بیدار مغز، یورپ کے مزاج آشنا، اسلام کے رمز شناس، اور حکیمانہ نقطہ نگاہ کے حامل تھے. یہ صدی بھی اقبال کی صدی ہے اور آنے والا دور اقبال کی حکمتوں اور صداقتوں کو مزید اجاگر کرے گا
دراصل علامہ صاحب کی فکر پختہ اور قرآن سے سنت سے مزین تھی. آپ راسخ العقیدہ اور روحانی ورثے کی حفاظت کا درس دینے والے تھے. آج جو لوگ دین بیزار ہیں وہ علامہ صاحب کے خلاف میدان عمل میں نکل کھڑے ہوئے ہیں. انکی تعداد اگرچہ آٹے میں نمک کے برابر ہے. اور ان کا اسلام اور اسلامی روایات سے تعصب بھی عیاں ہے. مگر ابھی سے انکا علمی و فکری محاسبہ ضروری ہے.
ہمارے قلب و نظر کے سلطان، اس عہد کے عظیم مفسر، سیرت نگار اور مصلح حضرت ضیاءالامت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمۃ اللّٰہ علیہ کو اقبال اور فکر اقبال سے جو محبت تھی وہ کسی سے مخفی نہیں. تفسیر ضیاء القران میں علامہ کے اشعار جابجا موجود ہیں. اور اقبالیات پہ آپ باقاعدہ لیکچر دیتے. اور اپنے تلامذہ کو فکر اقبال سے ناصرف روشناس کراتے بلکہ اسکی تفہیم اور اسکو عام کرنے پر بھرپور زور دیتے.
آج حضور ضیاءالامت کے غلام حکیم الامت کی بارگاہ میں ہرزہ سرائ پہ کیسے خاموش رہ سکتے ہیں.
حکیم الامت نے تین شادیاں کیں تو یہ کونسا غیر شرعی عمل ہے. اور پھر ان ناہنجاروں کا یہ کہنا کہ اقبال کے افئیرز تھے.
تو انگریز معاشرہ میں افئیرز کا مطلب کیا لیا جاتا ہے کہ بغیر نکاح کے زنا کا مرتکب ہونا. اور یہ بہتان عظیم اس ہستی پہ لگایا جائے جو فیلسوف اسلام تھے اور ہم خاموش رہیں یہ کیسے ممکن ہے.
انگریزی الفاظ کے استعمال سے قبل انکا محل تو جانا جاتا مگر افسوس آج کے اس مادر پدر آزاد معاشرے کے نوجوان کو اس سے کیا غرض اس نے تومحض اپنی انگریزی دانی کا ثبوت دینا ہے. چاہے اس کی زد میں کوئ بھی آجائے تو اس قسم کی تحریروں کی ہم بھرپور مذمت کرتے ہیں. اور ارباب حکومت سے مطالبہ بھی کرتے ہیں. کہ وہ بھی ایسے عناصر کو لگام ڈالے.
رونامہ جنگ 31 مارچ 2014 کو حامد میر نے علامہ اقبال پر الزامات کے جوابات کے عنوان سے ایک کالم لکھا اس کا ایک اقتباس یہاں ہم نقل کیے دیتے ہیں.:
علامہ اقبالؒ کو سرکا خطاب 1923ء میں ملا۔ یہ خطاب ملنے سے پہلے اور بعد میں وہ مسلسل برطانوی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتے رہے۔ اس خطاب کا تعلق سیاست سے نہیں تھا۔ اس خطاب پر مولانا محمد علی جوہر ،عبدالمجید سالک اور مولانا ظفر علی خان نے بھی تنقید کی لیکن جب پتہ چلا کہ ’’اسرار خودی‘‘ کے انگریزی ترجمے کے باعث سر کا خطاب دیا گیا اور اقبالؒ نے کافی تردد سے یہ خطاب قبول کیا اور اس سے قبل وہ کئی سرکاری عہدے بھی ٹھکرا چکے تھے تو بات ختم ہوگئی۔ جن اصحاب نے سر کا خطاب قبول کرنے پر اقبالؒ کو ہدف تنقید بنایا انہی اصحاب کے اصرار پر 1926ء میں اقبالؒ نے پنجاب اسمبلی کا الیکشن لڑنے پر آمادگی ظاہر کی۔ علامہ اقبالؒ کی انتخابی مہم چلانے والوں میں ڈاکٹر سیف الدین کچلو پیش پیش تھے۔ عبدالمجید سالک، مولانا ظفر علی خان اور حفیظ جالندھری صبح و شام اقبالؒ کے ساتھ ہوتے لیکن انتخابی مہم میں اقبالؒ کے مدمقابل ملک محمد دین نے ہندو پریس کے ساتھ مل کر شاعر مشرق کی ذات پر کئی رکیک حملے کئے۔ اس انتخابی مہم میں علامہ اقبالؒ پر ایک طوائف کے قتل، شراب نوشی اور مذہبی انتہا پسندی پھیلانے کے بے بنیاد الزامات لگائے گئے۔ اس الیکشن کو ارائیوں اور کشمیریوں کی لڑائی بنانےکی کوشش بھی ہوئی لیکن پڑھے لکھے ارائیوں نے علامہ اقبالؒ کو ووٹ دئیے اور ملک محمد دین کو شکست ہوئی۔ پنجاب اسمبلی کا رکن بننے کے بعد اقبالؒ نے سیاست کو قریب سے دیکھا اور آخر کار 1930ء میں انہوںنے مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ مملکت کا تصور پیش کیا۔ 1930ء کے خطبہ الہٰ آباد کے بعد پنڈت جواہر لال نہرو اور ایڈورڈ تھامسن نے اقبالؒ کے خلاف بہت زہر اگلا۔ جنرل ایوب خان کے دور میں کے کے عزیز نے بھی اقبالؒ پر وہی اعتراضات کئے جو ایک بھارتی مصنف اقبال سنگھ نے اپنی کتابTHE ARDIENT PILGRIM میں کئے۔پھر تارا چند رستوگی نے اقبال سنگھ کی کتاب کی بنیاد پر اقبالؒ کے معاشقوں کی کہانیاں لکھیں لیکن پروفیسر ڈاکٹر ایوب صابر نے ’’اقبالؒ کی شخصیت پر اعتراضات کا جائزہ‘‘ کے نام سے کتاب میں سب الزامات کا ٹھوس حقائق کی مدد سے جواب دے ڈالا۔ ایاز امیر ایک نیا نکتہ یہ لائے ہیں کہ اقبالؒ نے بھگت سنگھ کی حمایت کیوں نہ کی۔ بھگت سنگھ متحدہ ہندوستان کی آزادی چاہتا تھا۔ اقبالؒ ہندوستان کی تقسیم چاہتے تھے۔ بھگت سنگھ نے بم دھماکے کئے۔ اقبالؒ کو بھگت سنگھ کے سیاسی نظریات سے ا تفاق نہ تھا اگر بھگت سنگھ کے بم دھماکے ٹھیک تھے تو پھر بھارتی فوج کے خلاف کشمیری مجاہدین اور امریکی فوج کے خلاف افغان طالبان کے بم دھماکے غلط کیوں؟ کالم کا دامن تنگ ہے۔ اقبالؒ کا مرد مومن بے تیغ لڑتا اور آتش نمرود میں کودتا ہے۔ اقبال سے نفرت کی اصل وجہ یہی ہے کہ وہ عاشق رسول ؐتھے۔ وہ اجتہاد کے حامی تھے لیکن جب انگریزوں نے اپنے زرخرید علماء کے ذریعہ برطانوی حکومت کے خلاف جہاد کی مخالفت کی تو انگریزوں سے سر کا خطاب پانے والے اقبالؒ نے کہا؎
تعلیم اس کو چاہئے ترک جہاد کی
دنیا کو جس کے پنجہ خونیں سے ہو خطر
باطل کے فال و فر کی حفاظت کے واسطے
یورپ زرہ میں ڈوب گیا دوش تا کمر
ہم پوچھتے ہیں شیخ کلیسا نواز سے
مشرق میں جنگ شر ہے تو مغرب میں بھی ہے شر
حق سے اگر غرض ہے تو زیبا ہے کیا یہ بات
اسلام کا محاسبہ، یورپ سے درگزر!:
دراصل اقبال و قائد کی سیرت کو داغدار بنانے کی یہ ایک مکروہ سازش ہے اور اس کا مقصد مغربی قوتوں کو خوش کرنا اور ان سے مفاد اٹھانا ہے. لیکن اقبال کے شیدائ ان شاءاللہ اس طرح کی تمام کوششوں کوناکام بنادینگے. ہر سال جامعہ مدینۃ النبی نوشہرہ وادی سون میں یوم اقبال کا 12 اپریل اور 9 نومبر کو بھرپور پروگرام ہوتا ہے اور آئندہ بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا. امسال حکومتی سطح پہ 9 نومبر کی تعطیل بحال کی گئ یہ بھی خوش آئند ہے. اور تعلیمات اقبال کو سرکاری سرپرستی میں عام کرنا یہ وقت کا تقاضا ہے. آخر میں اہل علم اور اصحاب دانش کی بارگاہ میں عرض ہے کہ وہ اسلاف کی کردار کشی پہ مجرمانہ غفلت کا شکار نا ہوں بلکہ اپنے قلم کو جنبش دیں اور ایسی زہرناک تحریروں کی سرکوبی کریں. حکیم الامت کے اس شہرہ آفاق شعر پہ اپنی معروضات کا اختتام کرتا ہوں کہ
خیرہ نا کرسکا مجھے جلوہ دانش فرنگ
سرمہ ہے میری آنکھ کا خاک مدینہ و نجف

اپنا تبصرہ بھیجیں