11

حکومت گرانے کی سازشوں کا جولائی سے علم تھا، اس لئے ڈی جی ISI بدلنا نہیں چاہتا تھا، عمران خان

میانوالی ‘ اسلام آباد (ایجنسیاں) تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ 20مئی کے بعد کسی بھی وقت اسلام آباد آنے کی کال دوں گا‘نہ کوئی کنٹینر آپ کو روکے گا ،نہ رانا ثنااللہ آپ کو روکے گا‘ یہ ڈاکوؤں کا پلندہ اور ان کو لانے والے سمجھتے تھے کہ قوم تھک جائے گی، قوم تو ابھی تیاری کر رہی ہے ، پارٹی تو ابھی شروع ہوئی ہے ۔اگر ضمیرفروش اورلوٹے کسی بھی حلقے میں آئیں تو کارکنوں نے ان کا بندوبست کرنا ہے، ان ضمیر فروشوں کو وہ سبق سکھانا ہے کہ ساری زندگی ووٹ اور ضمیر بیچنے سے ڈریں۔کسی نے پی ٹی آئی کے کارکنوں کو روکا‘پرچے کاٹے یا کسی کارکن کو کچھ ہوا تو ذمے دار تھری اسٹوجز اور ان کے ہینڈلرز ہوں گے، پاکستان میں کون حکومت کرے گا؟ فیصلہ امریکا نہیں عوام کریں گے‘جب بھی حق اور باطل، سچ اور جھوٹ کا مقابلہ ہو تو حق اور اچھائی کا ساتھ دینے کا اللہ کا حکم ہے‘نیوٹرل جانور ہوتا ہے انسان نیوٹرل نہیں ہوتا‘حکومت گرانے کے منصوبے کا علم گزشتہ سال جولائی میں ہی ہوگیا تھا‘ حکومت گرانے کی سازشوں کی وجہ سے ڈی جی آئی ایس آئی نہیں بدلنا چاہتا تھا‘اس بات پر یہ تاثر دیا گیا کہ میں جنرل فیض کو آرمی چیف بنانا چاہتا ہوں‘ میرے ذہن میں ایسی کوئی بات نہیں تھی۔ تفصیلات کے مطابق جمعہ کو میانوالی میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھاکہ میانوالی سے حقیقی آزادی کی تحریک شروع کرنے کا اعلان کرتا ہوں ، 20 مئی کے بعد کسی بھی دن کال دے سکتا ہوں، آپ کو کوئی نہیں روکے گا، نہ 18 قتل کرنے والا رانا ثنا اللہ روکے گا نہ شہبازشریف۔ عمران خان نے کہا کہ جب یہ ڈاکو مجھے نیازی کہتے ہیں تو مجھے اچھا لگتا ہے‘جب تک یہ چور جیل نہیں جاتے میں ان کے خلاف جہاد کرتا رہوں گا۔ شہبازشریف کہتے ہیں کہ بھکاریوں کو غلامی کرنا پڑے گی، شہباز شریف تم غلام ہو ہم نہیں۔جھوٹے، مکار لوگوں چیلنج کرتا ہوں کہیں بھی دنیا میں جاؤ ایک ہی آواز آئے گی غدار اور چور۔اسلام آباد میں تاریخ کا سب سے بڑا عوام کا سمندر آنے والا ہے،پنجاب میں ہماری حکومت لوٹوں اور پیسے کے ذرایعے گرائی گئی‘شرم آنی چاہیے، لوگوں نے اپنے ضمیر بیچ کر بیرونی سازش کو کامیاب کیا ‘انصاف کے اداروں سے پوچھتا ہوں کیا اس پر سوموٹو ایکشن نہیں لینا چاہیے تھا؟ ۔عدالتیں رات 12 بجے کھل سکتی ہیں تو ان چوروں کو کیوں ڈس کوالیفائی نہیں کیا جاسکتا؟۔ دریں اثناء جمعہ کو سوشل میڈیا پر خصوصی پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں خانہ جنگی کے خدشات تھے اس لیے میں نہیں چاہتاتھا کہ مشکل وقت میں انٹیلی جنس چیف تبدیل ہو‘دوسرا مجھے یہ بھی معلوم ہوگیا تھا کہ یہ ن لیگ والے ری انٹری کرنے والے ہیں، یہ جو انہوں نے ابھی کیا ہے مجھے گزشتہ برس جولائی سے پتہ چلنا شروع ہوگیا تھا کہ انہوں نے پورا پلان بنایا ہوا ہے حکومت گرانے کا، لہٰذا میں نہیں چاہتا تھا کہ جب تک سردیاں نہ نکل جائیں ہمارا انٹیلی جنس چیف تبدیل ہو اور یہ کوئی خفیہ بات نہیں تھی، میں نے اپنی کابینہ میں کھلے عام کہا تھا کہ جب آپ پر مشکل وقت ہے تو آپ اپنے انٹیلی جنس چیف تبدیل نہیں کرتے کیوں کہ وہی حکومت کی آنکھ اور کان ہوتے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ ایف آئی اے نے شہباز شریف کے نوکروں کے نام پر 16 ارب روپے پکڑا لیکن نیب اور عدلیہ آزاد ہے اس لیے ہم کچھ کر نہیں سکتے تھے اور اسی لیے ہم اپنے ساڑھے 3 سال کی حکومت میں اسے سزا نہ دلواسکے۔ اداروں میں مجرم کو پکڑنے کی صلاحیت اور خواہش ہی نہیں ہے، اداروں میں کرپٹ نظام سے فائدہ اٹھانے والے لوگ بیٹھے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارا قصور صرف یہ تھا کہ ہم ایک آزاد خارجہ پالیسی چلانا چاہتے تھے، آزاد خارجہ پالیسی کا مطلب امریکا مخالف ہونا نہیں ہے، میں تو بھارت مخالف بھی نہیں ہوں‘ وہ یہ چاہتے تھے کہ ہم روس کا دورہ منسوخ کریں، روس کے ساتھ تجارت بھی نہ کریں، چین کے ساتھ اپنے روابط محدود کریں، افغانستان پر نظر رکھنے کے لیے اڈے بھی مانگ رہے تھے، اس لیے انہیں یہ لگا کہ میرے ہوتے ہوئے وہ پاکستان کو ٹشو پیپر کی طرح استعمال نہیں کر سکیں گے۔انہوں نے کہا کہ میں نے ساڑھے 3 برسوں میں یہ سیکھا ہے کہ جب تک مجھے صحیح معنوں میں بھاری اکثریت نہیں ملے گی میں اقتدار میں آنا ہی نہیں چاہتا‘ہمارے حکومت میں ہاتھ بندھے تھے، ہم سینیٹ میں قانون سازی ہی نہیں کرپاتے تھے۔ اب باری ملے تو اکثریت سے ملے تاکہ مافیا کے خلاف کارروائی کرسکوں۔عمران خان نے کہا کہ دنیا کا کوئی بھی نظام لے آئیں اور اس پر شریف اور زرداری کو بٹھا دیں تو وہ نظام کرپٹ ہوجائے گا، آپ کسی طرح نواز شریف کو برطانیہ کا وزیراعظم بنادیں تو 10 سال میں برطانیہ مقروض ہوجائے گا اور پاکستان سے قرضہ مانگے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ادارے کہتے ہیں کہ ہم نیوٹرل ہیں‘حق اور باطل کی جنگ میں آپ نیوٹرل ہوجائیں اس کا مطلب آپ باطل کا ساتھ دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ چیف الیکشن کمشنر سے زیادہ متعصب آدمی پاکستان کی تاریخ میں نہیں آیا، آئین میں لکھا ہے کہ حکومت جانے کے بعد 3 مہینے میں لازمی الیکشن کروانے ہیں، یہ کس منہ سے کہہ رہا تھا کہ 7 ماہ سے پہلے الیکشن نہیں کروا سکتے۔عثمان بزدار کو وزیراعلیٰ پنجاب بنائےجانے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ہم امید کررہے تھے کہ شاہ محموسد قریشی الیکشن جیتیں گے اور انہیں ہم وزیراعلیٰ پنجاب بنادیں گے لیکن وہ الیکشن ہار گئے‘دوسری چوائس ہمارے پاس علیم خان تھے لیکن ان پر نیب میں کرپشن کیس ہوگیا، اس لیے میں نے عثمان بزدار کا انتخاب کیا کیونکہ وہ مکمل طور پر وفادار تھے ۔ عمران خان نے گذشتہ حکومت میں آنے والے چیلنجز پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کچھ تبدیلیاں حکومت میں آتے ہی کر لینی چاہیے تھیں کیونکہ بعد میں وہ بہت مشکل ہو جاتی ہیں، حکومت میں آنے کے بعد پہلے سے پتا ہونا چاہیے کہ اہم عہدوں پر کس نے آکر بیٹھنا ہے، نیب اور عدلیہ تو ہمارے ہاتھ میں نہیں تھی لیکن باقی اداروں کی بھی آخری سال میں سمجھ آئی، اگلی بار پہلے سے پلاننگ کرکے آئیں گے، معلوم ہوگا کہ کرنا کیا ہے اور اہم عہدوں پر کسے بٹھانا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں