56

حکومت کو مذاکرات کی مشروط پیشکش

حکومت کو مذاکرات کی مشروط پیشکش اب کی بار پوری تیاری سے آئیں گے، عمران خان
پشاور(ٹی وی رپورٹ) تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ کوئی نہ سمجھے کہ میری اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل ہوئی ہے بلکہ خون خرابے سے بچنے کیلئے لانگ مارچ ختم کیا ہے‘اس کو ہماری کمزوری نہ سمجھاجائے ‘ حکومت‘ عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کے پاس 6 روز کا وقت ہے۔اگر اسمبلیاں تحلیل کرکے ملک میں نئے انتخابات کا اعلان نہ کیا گیا تو اگلی مرتبہ مکمل تیاری کیساتھ اسلام آباد آئیں گےکیوں اس بار ہماری تیاری نہیں تھی ‘ کسی کیساتھ لڑائی نہیں چاہتے ، عمران خان نے حکومت کو مذاکرا ت کی مشروط پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کیلئے ہمارے در کھلے ہیں‘چیف جسٹس کو خط لکھ دیا ہے کہ جمہوریت میں احتجاج کا حق ہے یا نہیں؟ اگر احتجاج کا حق بھی نہیں دیا جائیگا تو پھر کیا آپشن رہ جاتا ہے؟ 6 دن میں ہمیں پتہ چل جائیگا کہ سپریم کورٹ ہمارے حقوق کا تحفظ کرتی ہے یا نہیں، ہمیں عدالت سے پروٹیکشن چاہیے جو ہمارا حق ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیر اعلیٰ ہاؤس پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔عمران خان نےکہاکہ رات کے اندھیرے میں لوگوں کے گھروں پر حملے کیے گئے‘ یہ یزید کے فالوورز ہیں۔عمران خان کا کہنا تھا کہ اگر مجھے اپنی قوم کا خیال نہ ہوتا اور میں بیٹھ جاتا تو بہت خون خرابہ ہونا تھا، نفرتیں بڑھنی تھیں لیکن پولیس بھی ہماری ہے اس لیے ہم نے اپنے ملک کی خاطر فیصلہ کیا۔ چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ حکومت نے جو کچھ کیا اس سے ساری قوم کو پتہ لگ جانا چاہیے کہ کون اس قوم کی حقیقی آزادی کے لیے کھڑا ہے اور کون قومی اداروں کو آپس میں لڑانا چاہتا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ آئی ایم ایف کے دباؤ پران لوگوں نے 30 روپے فی لیٹر پیٹرول مہنگا کر دیا، باہر کی حکومتیں چاہتی ہی نہیں ہیں کہ پاکستان اپنے پاؤں پر کھڑا ہو، اس سے عوام میں بددلی آئے گی اور عوام میں بغاوت پیدا ہو گی، ہمارے اوپر بھی آئی ایم ایف کا دباؤ تھا کہ قیمتیں بڑھاؤ لیکن ہم نے نہیں بڑھائیں اور عوام کو ریلیف دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں