47

حکومت کو آئی ایم ایف سے 7ویں اور 8ویں مشترکہ جائزے کیلئے MEFP مسودہ مل گیا

حکومت کو آئی ایم ایف سے 7ویں اور 8ویں مشترکہ جائزے کیلئے MEFP مسودہ مل گیا
اسلام آباد(نیوز رپورٹ) حکومت پاکستان کو آئی ایم ایف سے 7ویں اور 8ویں مشترکہ جائزے کیلئے میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسیز (MEFP) کا مسودہ موصول ہو گیا، جس سے ایک ارب 90 کروڑ ڈالرز کی 2قسطوں کے اجراء کی راہ ہموار ہوگئی ۔آئی ایم ایف نے معاہدے کے مطابق 2022-23 کے بجٹ اور فنانس بل کی منظوری،کنزیومر پرائس انڈیکس پر مبنی افراط زر کے نتیجے میں مالیاتی پالیسی کو مزید سخت کرنے، بجلی کے نرخوں میں اضافےاور معاشرے کے 2کروڑ غریب ترین طبقات کے لیے ایندھن سبسڈی کے طریقہ کار کا تعین کرنے سمیت پیشگی شرائط سامنے رکھی ہیں۔آئی ایم ایف نے دو جائزوں یعنی 7ویں اور 8ویں جائزوں کی تکمیل کو یکجا کیا ہے جو اب آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے مشروط ہیں جس کے تحت جولائی 2022 کے آخر تک پاکستان کے لیے 1.9 ارب ڈالرز کی دو قسطوں کے اجراء کی راہ ہموار ہوگئی۔وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے منگل کو ایک پیغام میں کہا کہ آج صبح سویرے، حکومت پاکستان کوآئی ایم ایف سے 7ویں اور 8ویں مشترکہ جائزوں کے لیے ایک MEFP موصول ہوا ہے۔اس نمائندے کے رابطہ کرنےاور آئی ایم ایف پروگرام کے حجم کے بڑھنےکے بارے میں پوچھا تو وزیر خزانہ نے جواب دیا کہ آئی ایم ایف نے ابھی تک پروگرام کے حجم کے بڑھنے کے بارے میں بات نہیں کی۔ نمائندے نے جب آئی ایم ایف کی جانب سے آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کے لیے پیشگی شرائط کے بارے میں پوچھا تو وزیر نے جواب دیا کہ 4سے5تھیں لیکن انہیں ٹھیک سے یاد نہیں۔تاہم ذرائع نے بتایا کہ حکومت نے منتخب 2 کروڑ افراد کو سستے پیٹرول کی سبسڈی فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP)سے مستفید ہونے والوں کو2000 روپے کی اضافی رقم فراہم نہیں کی جائے گی۔حکومت نے اس فیول سبسڈی کے لیے 48 ارب روپے مختص کیے ہیں جو کہ بجٹ میں BISPکی مختص رقم کا حصہ ہے۔بجٹ2022-23میں BISP کی کل مختص رقم 364 ارب روپےہے۔آئی ایم ایف نے مانیٹری پالیسی کو مزید سخت کرنے کے لیے بھی کہا ہے لیکن یکم جولائی 2022 کو سی پی آئی کی بنیاد پر مہنگائی کے اعداد و شمار ملنے کے بعد اس کے درست تعین کو حتمی شکل دی جائے گی۔مانیٹری پالیسی کمیٹی (MPC) کا اجلاس جولائی 2022 کے پہلے ہفتے میں متوقع ہےجس میں مانیٹری اسٹانس کو مزید سخت کرنے پر غور کیا جائےگا جو اس وقت 13.75فیصد ہے۔بعد ازاں ٹرن ارائونڈ پاکستان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےوفاقی وزیرخزانہ ومحصولات مفتاح اسماعیل نے کہاہے کہ پاکستان کی معیشت اور سلامتی کو ہمیشہ اپنی سیاست پرترجیح دیں گے، ہم پاکستان کوآگے لیکرجائیں گے، ٹیکس وصولیوں کے بغیرخوداری کی باتیں لامعنی ہیں، حکومتی اقدامات کی وجہ سے پاکستان دیوالیہ ہونے کے خطرات سے نکل گیاہے، اب ڈیفالٹ کاکوئی چانس نہیں ، حالات مشکل ہے لیکن ہمیں ایک راہ پرچلنا ہوگا، اگرمالیاتی نظم وضبط کوبرقراررکھا توہم مشکل سے نکل جائیں گے۔ وزیرخزانہ نے کہاکہ کوئی بھی ملک 5 ، 5 ہزارارب کے خسارے کامتحمل نہیں ہوسکتا، اس سال جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکس وصولیوں کاتناسب 8.7 فیصدہے اورپاکستان دنیا میں جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکسوں کی کم ترین شرح والے ممالک میں شامل ہے، 2018 میں مسلم لیگ ن کی حکومت کے اختتام پرجی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکسوں کی شرح 11.1 فیصدتھی، ری بیسنگ کے بعد نئی جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکسوں کی شرح 8.6 فیصدہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں