17

حکومت شوگر مافیا کے سامنے بے بس. ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ

فروری 2020ء میں حکومت کی جانب سے شوگر اسکینڈل کے خلاف ڈی جی ایف آئی اے واجد ضیاکی سربراہی میں 7رکنی اعلیٰ سطح انکوائری کمیشن، جس میں نیب، ایف آئی اے اور ایف بی آر کے اعلیٰ افسران شامل تھے، کی رپورٹ میںچینی کی قیمتوں اور سپلائی کے بارے میں بے ضابطگیوں کا انکشاف اور اسکینڈل میں ملوث شوگر ملوں کے خلاف کارروائی کرنے کی سفارش کی گئی تھی، جسے سندھ ہائیکورٹ نے مئی 2020ء میں میر پور خاص اور 19دیگر شوگر ملوں کی درخواست پر عملدرآمد اور کارروائی سے روک دیا تھا۔ اس دوران انکوائری کمیشن کے سربراہ واجد ضیا کو دھمکیاں دی گئیں کہ اگر انہوں نے شوگر ملوں کے خلاف انکوائری نہیں روکی تو ملک میں چینی کی کمی کا شدید بحران پیدا کردیا جائے گا جس سے چینی کی قیمت 110روپے فی کلو تک جاسکتی ہے، جو گزشتہ دنوں بڑھ کر 150روپے فی کلو تک پہنچ گئی تاہم وفاقی حکومت کی مداخلت سے چینی کی قیمت میں کمی آئی ۔ سابق ڈی جی ایف آئی اے اور انکوائری کمیشن کے سربراہ یہ تمام معاملات وزیراعظم آفس کے علم میں لائے لیکن شوگر مافیا جس کے پیچھے بڑے بڑے سیاستدان ہیں، زیادہ طاقتور نکلا اور چینی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا جبکہ حکومتی مشینری ان ذخیرہ اندوزوں کے کارٹیل کے سامنے بے بس نظر آئی۔ وزیراعظم نے خود بتایا کہ ان ذخیرہ اندوز شوگر ملوں نے جولائی 2021 سے کورٹ سے حکمِ امتناعی لے رکھا ہے جس کی وجہ سے حکومت ان ذخیرہ اندوز شوگر ملوں کے خلاف کارروائی نہیں کرسکتی۔

کمپی ٹیشن کمیشن، پاکستان جو کارٹیل کے خلاف کارروائی کرتا ہے، نے ایسی شوگر ملوں پر 40 ارب روپے کے جرمانے عائد کئے تھے مگر اس کے خلاف بھی شوگر ملوں نے ہائیکورٹ سے حکمِ امتناعی حاصل کرلیا۔ وزیراعظم کے مطابق ایف بی آر نے اِن شوگر ملوں پر بغیر حساب(Offbooks) چینی فروخت کرنے پر500 ارب روپے کے ٹیکسز عائد کئے تھے لیکن شوگر مافیا کی طاقتور لابی نے بڑے وکلاء کے ذریعے ایف بی آر کے خلاف عدالتوں سے حکم امتناعی حاصل کرلئے۔وزیراعظم نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے عدالتوں سے حکم امتناعی ختم کرانے کو کہا ہے لیکن حکومت شوگر مافیا کےسامنےبے بس نظر آتی ہے۔ سندھ میں 2شوگر ملوں نے کرشنگ شروع کرکے اپنی ملز بند کردیں تاکہ سازش کے تحت ملک میں چینی کی قلت پیدا کی جاسکے جس کی وجہ سے چینی اور کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی کا طوفان آگیا۔ حال ہی میں پیٹرول کی قیمتوں میں8روپے سے زائد اضافے سے پیٹرول کی قیمت 146 روپے فی لیٹر ہوگئی جس میں حکومتی ٹیکسز اور ڈیوٹی کی مد میں 2.6روپے فی لیٹر سیلز ٹیکس، 9.74روپے کسٹم ڈیوٹی اور 5.62روپے پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی شامل ہے جو 17.96 روپے فی لیٹر بنتا ہے۔ اس کے علاوہ آئل ریفائنری کا پیٹرولیم مصنوعات پر 4.8روپے فریٹ، 2.97روپے آئل کمپنیوں کا منافع اور 3.91 روپے ڈیلرز کمیشن بھی شامل ہے جو 10.96 روپے فی لیٹر بنتا ہے۔ اس طرح ایک صارف فی لیٹر پیٹرول اور ڈیزل پر مجموعی 28.92 روپے ٹیکسز اور چارجز ادا کرتا ہے۔ آئی ایم ایف نے پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کی مد میں 600ارب روپے سالانہ وصول کرنے کا ہدف دیا ہے جو 30روپے فی لیٹر بنتا ہے لیکن حکومت نے رواں مالی سال 250سے 300 ارب روپے لیوی کی مد میں وصول کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے جو 15روپے فی لیٹر بنتا ہے جس کیلئے حکومت کو جون 2022ء تک پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کی مد میں مزید 5.38روپے فی لیٹر بڑھانے پڑیں گے۔

حکومتی وزرااور مشیروں کا ٹی وی چینلز پر یہ کہنا کہ پاکستان میں اب بھی پیٹرول دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں سستا ہے، میںاس سے اتفاق نہیں کرتا۔ پیٹرول سستا اور مہنگا ہونے کا دارومدار عام آدمی کی قوت خرید اور آمدنی پر ہوتا ہے۔ یو اے ای میں مزدور کی یومیہ دیہاڑی پاکستانی روپے میں 3500 روپے ہے اور پیٹرول کی قیمت 117روپے فی لیٹر ہے۔ سعودی عرب میں دیہاڑی 4500 روپے، پیٹرول کی قیمت 107روپے، چین میں دیہاڑی 2000روپے، پیٹرول کی قیمت 205 روپے، امریکہ میں دیہاڑی 10,000روپے اور پیٹرول کی قیمت 165روپے، برطانیہ میں دیہاڑی 12,000 روپے اور پیٹرول کی قیمت 205روپے، بھارت میں دیہاڑی 2000 روپے اور پیٹرول کی قیمت 210روپے، بنگلہ دیش میں دیہاڑی 1800 روپے اور پیٹرول کی قیمت 175 روپے جبکہ پاکستان میں یومیہ دیہاڑی 800روپے اور پیٹرول کی قیمت 146روپے فی لیٹر ہے۔ بنگلہ دیش کی فی کس آمدنی 2227ڈالرز اور بھارت کی 2191 ڈالرز ہے جبکہ پاکستان کی فی کس آمدنی 1279 ڈالر ہے جو خطے میں سب سے کم ہے۔ اس طرح آمدنی اور یومیہ 800روپے دیہاڑی کے تناظر میں 146روپے فی لیٹر پیٹرول مہنگا ہے۔ مہنگے فیول کی امپورٹ سے بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، حکومت نے آئی ایم ایف سے بجلی کے فی یونٹ نرخ 4.95 روپے بڑھانے کا وعدہ کیا ہے جس سے حال ہی میں گھریلو صارفین کیلئے 1.68اور کمرشل کیلئے 1.39روپے فی یونٹ جبکہ واپڈا نے فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 2.52روپے فی یونٹ اضافہ کیا ہے لہٰذا مستقبل میں ہمیں سستے مقامی وسائل کوئلہ، ہوا، شمسی، ہائیڈرو اور نیوکلیئر ذرائع سے متبادل توانائی پیدا کرنا ہوگی۔ حکومت چینی، گیہوں، دالیں، خوردنی تیل، گھی اور دیگر کھانے پینے کی اشیا 175.75 روپے کے ڈالر پر امپورٹ کرکے مقامی طور پر سستی فراہم نہیں کرسکتی لہٰذا ہمیں ماضی کی طرح ان اشیاکو ملک میں پیدا کرکے فوڈ سیکورٹی میں خود کفالت حاصل کرنا ہوگی، نہیں تو مہنگائی ہمارا مقدر رہے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں