63

حکومت سے باہر زیادہ خطرناک ہوں گا،خبردار کرتا ہوں سڑکوں پر آیا تو آپ کیلئے چھپنے کی جگہ نہیں ہوگی، اگلی باری بھی میری، عمران خان

اسلام آباد (ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان نے خبردارکرتے ہوئے کہاہے کہ اگر میں حکومت سے باہر نکل گیاتو زیادہ خطرناک ہوں گا‘ابھی تک تو میں چپ ہوں اور تماشے دیکھ رہاہوں ‘اگرسڑکوں پر نکل آیاتو آپ کیلئے چھپنے کی جگہ نہیں ہوگی ‘پینتیس سالوں میں سب نے ملکر جو ملک کے ساتھ کیا ہے لوگ آپ کو پہچان چکے ہیں ‘آپ سمجھ جائیں جو لاوا نیچے پک رہاہے ‘لوگوں کو صرف آپ کی طرف دکھانا ہے ‘پھر کوئی لندن بھاگ رہاہوگا ‘پہلے بھی لوگ بھاگے ہوئے ہیں ‘باقی بھی ادھر جارہے ہوں گے‘ ماضی میں ججز کو یہ لوگ پیسے کھلاتے تھے، اسی لئے جسٹس کھوسہ نے انہیں سسلین مافیا قرار دیا تھا ‘ ڈیل کی باتیں ہورہی ہیں مگر نوازشریف قوم کے پیسے لوٹ کر بھاگا ہے‘واپس نہیں آئے گا‘کل کے آتے آج آجاؤپاکستان ‘پلیز واپس آجائیں‘ میں منتظرہوں‘سارا ٹبر باہر بھاگا ہوا ہے‘ کوئی پولو کھیل رہا ہے تو کوئی مہنگی گاڑیوں میں گھوم رہے رہا ہے‘ اتنا پیسہ تو برطانیہ کی رائل فیملی نہیں خرچ کر سکتی ‘ پرویز مشرف نے دوخاندانوں کو این آراو دیکر ظلم کیا‘قوم جانتی ہے اپوزیشن کا وقت ختم ہوچکا ہے ‘شہباز شریف کو اپوزیشن لیڈر نہیں قوم کا مجرم سمجھتا ہوں‘اس نے 8 ارب روپے کے گھپلوں کا نیب کو جواب دینا ہے‘ عدلیہ سے اپیل ہے کہ وہ ملک پر رحم کرے اور روزانہ کی بنیاد پران کے کیس کی سماعت کرے‘پی ٹی ایم اور ٹی ایل پی سمیت سب سے بات کرنے کو تیار ہوںمگر چوروں سے نہیں‘ ملک لوٹنے والوں سے مفاہمت اور سمجھوتہ ملک اور قوم سے غداری ہوگی‘پاکستان میں غربت کم ہورہی ہے ‘یہ میں نہیں ورلڈبینک کہہ رہاہے ‘پاکستان کی معاشی نمو کورونا کے باوجود 5.37 فیصد، برآمدات 31 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح پر ہیں، ترسیلات زر 30 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں‘ میڈیا لوگوں کو یہ پہلو دکھائے‘یوریاکھاد کی پیداوار گیس قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے متاثر ہوئی ہے‘میڈیا ہم پر تنقید ضرور کرے مگر پروپیگنڈہ نہیں ‘جان بوجھ کرفیک نیوز کے ذریعے مایوسی پھیلائی جا رہی ہے‘اگر اتنے ہی برے حالات تھے تو ملک کو دیوالیہ ہوجانا چاہیے تھا اور بیروزگاری بڑھنی چاہیے تھی۔امریکا ‘جاپان ‘ جرمنی ‘کینیڈا اور فرانس میں بھی مہنگائی ہے‘ جس طرح کورونا سے نکلے ہیں، مہنگائی سے بھی نکلیں گے‘ مہنگائی کی وجہ سے راتوں کو نیند نہیں آتی‘اگلے پانچ سال بھی حکومت ہماری ہوگی‘ احتساب کو جہاد سمجھتا ہوں‘ بلدیاتی انتخابات کے اگلے مرحلے میں ٹکٹوں کی تقسیم اور امیدواروں کی اہلیت خود دیکھوں گا‘بڑی گاڑیوں اور گھروں میں رہنے والے ٹیکس ادا کریں ‘ ہر شہری کو ٹیکس دینا ہوگا‘ ٹیکس محصولات 8 ہزار ارب تک لے جائیں گے‘تنخواہ دارطبقہ صبر کرے ‘ محصولات بڑھنے پر تنخواہوں میں اضافہ کریں گے ۔ مافیازنے 800اسٹے آرڈرزلے رکھے ہیں ‘ اڑھائی سو ارب روپے یہاں پھنسے ہیں، ایف بی آر کے اڑھائی ہزار ارب روپے کے کیسز عدالتوں میں زیرالتوا ہیں‘ہوسکتاہے ایف بی آرکے کچھ لوگ ٹیکس چوری میں ان کی مددکررہے ہوں ‘کارپوریٹ سیکٹرکو اپنے ورکرزکی تنخواہ بڑھانی چاہئے ‘میں اکیلا کچھ نہیں کرسکتا‘عوام اور اداروں کو ساتھ دیناہوگا‘ عدالتیں آزادہیں ‘ان کی بھی ذمہ داری ہے ‘ جیلوں میں کوئی طاقتورڈاکونہیں‘وہاں قید چھوٹے لوگوں کو بھی چھوڑدینا چاہئے ۔اتوار کو ’’آپ کا وزیراعظم آپ کے ساتھ‘‘ میں براہ راست عوام کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ میں پارلیمنٹ میں سوالوں کا جواب دینا چاہتا تھا لیکن وہاں این آر او مانگنے والے شور مچا دیتے ہیں ، وہاں بات نہیں کر سکتا۔ وزیراعظم نے کہاکہ مہنگائی مجھے کئی بار راتوں کو جگاتی ہے، تاہم بڑا افسوس ہوتا ہے کہ جہاں اس مقصد میں اچھے صحافی اور لوگوں کو ملک کی صورتحال سے آگاہ کرنے والے بھی ہیں، وہاں بہت سے صحافی عوام میں مایوسی پھیلاتے ہیں‘دنیا میں کورونا سے امیر ترین لوگوں کو فائدہ ہوا اور ان کی آمدن میں نمایاں اضافہ ہوا جبکہ ساری دنیا میں نچلا طبقہ متاثرہوا۔ عوام احتیاط کریں تاکہ اسپتالوں پر بوجھ نہ پڑے‘ ہم پانچویں لہر سے بھی نکل جائیں گے۔ ان کا کہناتھاکہ ہم نے بڑے ڈاکوئوں سے کوئی مفاہمت اور سمجھوتہ نہیں کرنا‘ میں سیاست میں آیا ہی ان کے خلاف ہوں‘مجھے ایسے گھٹیا لوگوں کی گالیاں سننے کی کیا ضرورت تھی لیکن میں اسے جہاد سمجھتا ہوں‘ مجھے پتہ تھا کہ انہوں نے این آر او کیلئے بلیک میل کرنا ہے‘ان کی کوشش تھی کہ مشرف کی طرح مجھے بھی اتنا بلیک میل کریں گے تو میں انہیں این آر او دیکر کہوں گا کہ یہ قوم کا لوٹا پیسہ رکھ لیں لیکن میں ان سے مفاہمت اور سمجھوتے کو سب سے بڑی غداری سمجھتا ہوں۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی جی ڈی پی 5.37 فیصد پر ہے، کورونا کے باوجود یہ اضافہ ہے تو کیسے کہا جا سکتا ہے کہ غربت میں اضافہ ہوا۔ پراپیگنڈا اور جعلی خبریں پھیلا کر ملک میں تباہی کی باتیں کرنے والے مافیاز ہیں، ان کا صرف ایک مقصد ہے کہ ان کی بیرون ملک جائیدادوں پر ہاتھ نہ ڈالا جائے‘ہمارے معاشرے میں سب سے بڑی خرابی یہی ہے یہاں طاقتور کیلئے ایک اور غریب کیلئے دوسراقانون ہے، قانون کی بالادستی ختم ہو چکی ہے‘اس وقت جیلوں میں کوئی طاقتور ڈاکو نہیں‘بدعنوان لوگوں کی اس معاشرے میں کوئی جگہ نہیں ہے‘انہوں نے پہلے اپنے بچے باہر بھگا دیئے، کبھی ایسا نہیں ہوا کہ تین بار کے وزیراعظم کے بیٹے باہر بھاگے ہوںلیکن انہیں معاشرے میں ایسے پروٹوکول دیا جا رہا ہے کہ جیسے یہ بڑے ڈیموکریٹ ہیںیہاں نامور صحافی سزا یافتہ نوازشریف کو تقریر کا موقع دینے کی بات کرتے ہیں، ملک میں جیلوں میں قید چھوٹے سزا یافتہ لوگوں کا کیا قصور ہے، انہیں بھی باہر نکال دینا چاہئے‘ وزیر اعظم نے کہاکہ ماضی میں ججز کو یہ لوگ پیسے کھلاتے تھے، اسی لئے جسٹس کھوسہ نے انہیں سسلین مافیا قرار دیا تھا‘ہم سب نے ان کے خلاف ملکر لڑنا ہے‘ اس ملک میں سیاست دان ہی نہیں بلکہ مافیاز بیٹھے ہیں جو ملکر ذخیرہ اندوزی کر کے قیمتوں میں اضافے کا سبب بنتے ہیں، ان پر بنائی گئی ریگولیٹری اتھارٹیاں ان کو اس وجہ سے کنٹرول نہیں کر پا رہیں کہ یہ مافیا عدالتوں سے حکم امتناعی لے لیتا ہے، قوم کو چند ماہ میں کریمنل جسٹس سسٹم میں اصلاحات کی خوشخبری دیں گے۔22 کروڑ کے ملک میں اگر 22 لاکھ لوگ ٹیکس دیں گے تو وہ باقیوں کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتے، پاکستان میں لوگ دنیا میں سب سے کم ٹیکس دیتے ہیں، جب ہم ٹیکس نہیں دیں گے تو ملک ٹھیک کرنے کیلئے پیسہ کہاں سے آئے گا، وزیراعظم نے کہا کہ بڑے گھروں اور گاڑیوں والوں کی تفصیل لے رہے ہیں، انہیں ایک بار موقع دیں گے، وہ ساری سہولتیں لے رہے ہیں اور ٹیکس نہیں دے رہے کیونکہ ماضی میں ایسے لوگوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی، ہر شہری کو ٹیکس دینا ہوگا۔لانگ مارچ کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ اپوزیشن نے تین سال میں کونسا کام نہیں کیا، بے روزگار سیاستدان حکومت گرانے کی بات کرتا ہے، اس ملک میں عوام کو ذوالفقار علی بھٹو نے نکالا تھا اور پھر ﷲ کے کرم سے عوام میرے ساتھ نکلی‘عوام مہنگائی سے بھلے تنگ ہوں لیکن وہ ان کیلئے نہیں نکلے گی، قوم ان کی چوری بچانے نہیں نکلے گی‘ اب تو ہم مشکل وقت سے نکلے ہیں۔لوگوں کے اندر ان کی حکومتوں کا 30 سال کا لاوا اگر پھٹ گیا تو یہ باقی بھی لندن بھاگیں گے‘تین بار وزیراعظم رہنے والا حساب دینے کی بجائے کہتا ہے کہ میرے بیٹوں سے پوچھیں جو کہتے ہیں کہ وہ پاکستانی نہیں، میں ان کے پاکستان آنے کا انتظار کر رہا ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں