41

حکومت، اپوزیشن مذاکرات: ہنگامہ آرائی افسوسناک قرار، روک تھام کیلئے کمیٹی بنانے پر اتفاق، 7ارکان پر پابندی ختم

53 / 100

اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے بالآخر چوتھے روز بجٹ کے حوالے سے اپنی تقریر مکمل کرلی۔ قومی اسمبلی کا اجلاس اسد قیصر کی زیر صدارت مقررہ وقت سے اڑھائی گھنٹے تاخیر سے شروع ہواتاہم 3 روزکی ہنگامہ آرائی کے بعد ماحول بدل گیا، ایوان میں امن و سکون دیکھنے میں آیا، ارکان اپنی اپنی نشستوں پر خاموشی سے موجود رہے ۔گزشتہ روز اپوزیشن نے حکومتی وفد سے براہ راست مذاکرات سے انکار کردیا تھا، جس کے بعد سپیکر کو مفاہمت کیلئے خود آگے بڑھنا پڑا، اور سپیکر نے مفاہمت کی غرض سے ہی حکومتی و اپوزیشن کے 7 ارکان پر اجلاس میں لگائی گئی پابندی ہٹائی۔ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے اپنی تقریر مکمل کرتے ہوئے حکومت اور آئندہ مالی سال کے بجٹ پر شدید تنقید کی۔شہباز شریف نے کہا کہ غریب کی جیب خالی ہے تو یہ بجٹ بھی جعلی ہے جس کو مسترد کرتے ہیں ،نئے میزانیہ سے ملک میں مزید بد حالی آئیگی۔مہنگائی کم نہیں ہوگی تو ہم اس بجٹ کو پاس نہیں ہونے دینگے ۔مہنگائی سے ملک برباد ہوچکا ہے ۔ پی ٹی آئی حکومت کے 3 سالوں میں 2کروڑ لوگ غریب کی لکیر سے بھی نیچے چلے گئے ۔ پاکستان کی ترقی تب ہے جب ایک صوبہ نہیں بلکہ پورا پاکستان ترقی کرتا ہے ۔ بجٹ میں ٹیکسوں کی بھرمارہے ۔ ہم بولتے ہیں تو نیب نیازی گٹھ جوڑ سے منہ بند کردیا جاتا ہے ۔ ہاتھ پھیلانے والا ڈکٹیشن لے سکتا ہے لیکن فیصلہ نہیں کرسکتا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بھرتیوں کے بدلے تجوریاں بھری جارہی ہیں۔ شہباز شریف نے مطالبہ کیا کہ چینی اور دودھ دہی پر عائد نئے ٹیکسز واپس لیے جائیں ، سرکاری ملازمین کی تخواہوں میں 20 فیصد اضافہ کیا جائے اور مزدور کی تنخواہ 25 ہزار روپے کی جائے ۔ بجلی و گیس کے بلوں کو ہمارے دور کی قیمتوں پر واپس لایا جائے ، مشینری پر سیلز ٹیکس ختم کیا جائے ، ایم ایل ون فوری طور پر بنایا جائے ۔ انہوں نے سوال کیا کہ کہاں ہیں 50 لاکھ نوکریاں اور 50 لاکھ گھر ؟ ۔ شہباز شریف نے کہا کہ لنگر خانوں سے معیشت ٹھیک نہیں ہو گی بلکہ ان لوگوں کو اہل بنانا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ دفاعی بجٹ پورا کرنے کیلئے 40 فیصد قرض لینا پڑتا ہے وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اپنے بڑے بھائی کے ضمانتی تھے ، کاش یہ انھیں واپس آنے کا کہتے ، نواز شریف تین بار ملک کے وزیراعظم رہے ، وہ واپس آئیں۔ تین دفعہ وفاق میں حکومت کرنے کے بعد کاش مسلم لیگ (ن) کی قیادت ایک ہسپتال اپنے علاج کیلئے ہی بنا لیتی، کاش ایک ہسپتال ایسا بنا ہوتا جس پر نوازشریف کو یقین ہوتا۔شہباز شریف نے ڈینگی ختم کرنے پر بڑی لمبی تقریر کی لیکن یاد رکھیںکورونا کے حوالے سے عمران خان کی کارکردگی کی دنیا معترف ہے ، کورونا کے دوران عالمی ادارے پاکستان کی تعریف کر رہے ہیں۔ بل گیٹس کہتا ہے دنیا کو کورونا سے نمٹنے کیلئے پاکستان سے سیکھنا چاہیے ۔ پی ٹی آئی کے 41 اراکین قومی اسمبلی نے شہباز کی بجٹ پر تقریر کا بائیکاٹ کیا۔ تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی عامر لیاقت حسین نے اپنے ٹویٹ میں 41ارکان کے بائیکاٹ کا دعویٰ کرتے لکھا کہ ’’گالی گلوچ نا ہاتھا پائی۔۔۔اب یہی ہوگا شہباز بھائی۔قبل ازیں سپیکر اسد قیصر نے بجٹ اجلاس کے دوران کتابوں پر پابندی کے بعد سینیٹائزر بوتلوں پر بھی پابندی عائد کردی ۔ اسلام آباد (سپیشل رپورٹر،خصوصی نیوز رپورٹر) وفاقی حکومت نے 15 جون کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں ہونے والی ہنگامہ آرائی کو انتہائی افسوسناک اور سیاستدانوں کیلئے باعث ندامت قرار دیتے ہوئے آئندہ اس قسم کے واقعات کی روک تھا م اور سپیکر کے اختیارات میں اضافے کیلئے اپوزیشن کے ساتھ ایوان کی کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز پر اتفاق کیا ہے ۔ حکومت اوراپوزیشن کی ٹیموں کے درمیان مذاکرات قومی اسمبلی کے اجلاس سے قبل پارلیمنٹ ہا ئوس میں ہوئے ۔ اجلاس میں حکومت کی طرف سے پرویز خٹک، اسد عمر، علی محمد خان، عامر ڈوگر اورمسلم لیگ (ن) کی طرف سے رانا ثنائاللہ، ایاز صادق اور رانا تنویر اور پیپلز پارٹی کی طرف سے راجہ پرویز اشرف اور شازیہ مری شامل تھے ۔ اجلاس میں ہنگامہ آرائی کے واقعے اور آئندہ اس قسم کے واقعات کی روک تھام اور اجلاس کی کارروائی خوشگوار ماحول میں چلانے کی تجاویز پر غور کیا گیا ۔ اجلاس کے بعد وزیر دفاع پرویز خٹک کے ساتھ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات چو دھری فواد حسین نے کہا کہ آج حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تفصیلی بات ہوئی ۔ انہوں نے بتایا کہ اتفاق ہوا کہ اسمبلی کے اندر ایسا ماحول پیدا نہیں ہونا چاہئے جس سے ادارے فنکشنل نہ ہوں، اسمبلی کے اندر ہنگامہ آرائی سے پارلیمان کی سبکی ہوئی اوراس سے سیاستدانوں کو ندامت کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں آئندہ ایسے واقعات کو کنٹرول کرنے اور اجلاس کی کاروائی کو افہام و تفہیم سے چلانے اور سپیکر کے اختیارات میں اضافے کیلئے ایوان کی ایک کمیٹی کی تشکیل کی تجویز پر غور کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن سے درخواست کی گئی کہ وہ ڈپٹی سپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد واپس لے ، اس پر بھی مثبت پیشرفت کا امکان ہے ، اپوزیشن اپنی قیادت سے مشورہ کر کے اس بارے میں جواب دے گی۔ انہوں نے کہا کہ تضحیک کسی کی نہیں ہونی۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ پرویز خٹک کی سربراہی میں پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا، جس میں 186 اراکین نے ڈپٹی سپیکر قاسم سوری پر اعتماد کا اظہار کیا۔ ہمیں اکثریت حاصل ہے ۔ اپوزیشن کو پہلے بھی کہتے رہے ہیں کہ وہ الیکٹورل ریفارمز اور جوڈیشل ریفارمز پر بات کرے ۔ انہوں نے کہا کہ دونوں اطراف میں پارلیمانی کمیٹی بنانے پر بھی اتفاق ہوا جو ایسی صورتحال سے نمٹنے کیلئے جہاں رولز درکار ہوں وہ تجویز کرے گی۔ ایک سوال کے جواب میں پرویز خٹک نے کہا کہ جس روز ایوان میں ہنگامہ آرائی ہوئی اس وقت سینیٹائزر کی ایک بوتل ان کی ٹانگ میں آکر لگی جو انہوں نے اٹھا کر واپس پھینکی۔ انہوں نے کہا کہ ایوان میں اگر ہنگامہ آرائی اور شور شرابا کی صورتحال برقرار بھی رہے تو بجٹ پھر بھی منظور ہو جا ئیگا۔دوسری جانب سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈ لاک کے خاتمے کیلئے اپوزیشن رہنمائوں سے ملاقات کی۔ملاقات میں رانا ثناء اللہ، سردار ایاز صادق، رانا تنویر اور مولانا اسعد محمود بھی شامل تھے ۔ سپیکر نے درخواست کی کہ ایوان کو خوش گوار ماحول میں چلانے کیلئے تعاون کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں