58

حکمت عملی دوسری ہوگی عمران خان

حکمت عملی دوسری ہوگی عمران خان
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کی جانب مارچ میں سپریم کورٹ کے حکم کے بعد سمجھے تھے کہ ’راستے کھل گئے ہیں مگر ہم بغیر تیاری کے جا کر پھنس گئے، لیکن اس بار ہم تیاری سے آئیں گے۔‘
پشاور میں وکلا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ’میں سپریم کورٹ سے کہہ رہا ہوں کہ ہمیں رولنگ دیں، ہمیں بتائیں کہ ہمیں کس بنیاد پر روکا گیا اور یہ انتشار کیا گیا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمیں بتایا جائے کہ ہم جب دوبارہ آئیں گے تو کیا سپریم کورٹ اس بات کی اجازت دے گی؟ اتنا ظلم تو ڈکٹیٹرشپ میں نہیں ہوتا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اگر سپریم کورٹ ہمیں تحفظ دیتی ہے تو ہماری کوئی اور حکمت عملی ہو گی۔ اگر ہمیں تحفظ نہیں دیا جاتا تو پھر میری حکمت عملی دوسری ہو گی۔‘
واضح رہے کہ عمران خان نے 25 مئی کو اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کیا تھا۔ تاہم 26 مئی کی صبح جب ان کا قافلہ اسلام آباد پہنچا تو انہوں نے اپنے خطاب میں دھرنا نہ دینے اور حکومت کو چھ دن کی مہلت دینے کا اعلان کیا تھا۔
اس سے قبل سابق وزیراعظم عمران خان نے جمعے کو بھی پشاور میں ایک پریس کانفرس میں کہا تھا کہ انہوں نے پاکستان کے چیف جسٹس کو خط لکھا ہے جس میں انہوں نے سوال کیا ہے کہ ’کیا احتجاج کرنے کا حق ہے یا نہیں۔‘
انہوں نے کہا تھا کہ ’چھ دن میں پتا چل جائے گا کہ سپریم کورٹ ہمارے بنیادی حقوق کا تحفظ کرتی ہے یا نہیں۔‘
تاہم اب عمران خان نے اب کہا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے تحفظ نہ ملنے کی صورت میں ’ہم پلان کر کے آئیں گے اور ان کی تمام رکاوٹوں کو ہٹا دیں گے۔‘
’اس بار تو ہم نے تیاری نہیں کی تھی کیونکہ سپریم کورٹ کے حکم کے بعد ہم نے سمجھا تھا کہ راستے کھل گئے ہیں۔ اس لیے ہم بغیر تیاری کے جا کر پھنس گئے۔‘
اسلام آباد کی جانب مارچ کے حوالے سے عمران خان کا کہنا تھا کہ ’جب ہم ڈی چوک پہنچے تھے، اس دن جو بربریت حکومت نے کی، اس پر لوگوں کو غصہ تھا، مجھے خوف تھا کہ صورت حال انتشار کی طرف جائے گی۔ میں یہ نہیں چاہتا تھا کہ قوم تقسیم ہو اور دشمنوں کا فائدہ ہو۔‘
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ وہ سپریم کورٹ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ پنجاب میں حمزہ شہباز شریف کو وزارت اعلیٰ کے عہدے سے ہٹایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ’ایک ایسے وزیراعلیٰ کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے جو اکثریت کھو بیٹھا ہے۔ پوری قوم الیکشن کمیشن کی جانب دیکھ رہی ہے۔‘

اپنا تبصرہ بھیجیں