29

حمزہ سے حلف نہ لینے پر گورنر پنجاب برطرف، سمری صدر کو ارسال، نوٹیفکیشن تک کام کرونگا، عمر سرفراز

لاہور(نمائندہ نیوز، مانیٹرنگ سیل) نومنتخب وزیراعلیٰ حمزہ شہبازسے حلف نہ لینے پر گورنر پنجاب کو برطرف کردیا گیا، تقریب حلف برداری موخر ہوگئی، وزیراعظم نے صوابدیدی اختیاراستعمال کرتے ہوئے عمر سرفراز چیمہ کو عہدے سےہٹا دیا، سمری صدر مملکت کو بھیج دی، دستخط کیلئے صدر عارف علوی کے پاس 15دن ہیں، ڈپٹی اسپیکر نے 4اسمبلی افسرمعطل کردیئے اور سیکرٹری اسمبلی محمد خان بھٹی، سیکرٹری پارلیمانی امور عنایت لک، اسپیشل سیکرٹری عامر حبیب، چیف سکیورٹی آفیسر اکبر ناصر کو شوکاز نوٹس جاری، کرتے ہوئے اسمبلی حدود میں داخلے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی، جبکہ ترجمان پنجاب اسمبلی کے مطابق ڈپٹی اسپیکر20گریڈکےافسران کومعطل نہیں کرسکتے، عمر سرفراز چیمہ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کو ہٹانے کا اختیار نہیں،نوٹیفکیشن تک کام کروں گا۔ تفصیلات کےمطابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ، پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اور نگزیب نے تصدیق کی کہ گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے گورنر پنجاب کو ہٹانے کی سمری صدر مملکت کو بھیج دی ہے، وزیر اعظم نے صوابدیدی اختیارات استعمال کرتے ہوئے گورنر کو عہدے سے ہٹایا ہے۔گزشتہ روزساڑھے 4بجے گورنر سرفراز چیمہ کی پریس کانفرنس شیڈول تھی اور اسی دوران انکی برطرفی کی خبریں سامنے آئیں۔ عمر سرفراز چیمہ نے اپنے وقت پر پریس کانفرنس شروع کی اس دوران ایک صحافی نے انکی برطرفی کی خبر انہیں سنائی اور سوال کیا۔سرفراز چیمہ نے جواب دیا کہ وزیراعظم مجھے عہدے سے اس طرح نہیں ہٹاسکتے، وہ سمری صدر مملکت کو ارسال کرسکتے ہیں، جب تک صدر مملکت چاہیں گے میں گورنر ہاؤس میں رہونگا، مجھے ڈی نوٹیفائی کرنے کا اختیار صدرمملکت کے پاس ہے وزیراعظم کے پاس نہیں، ابھی صرف سمری بھیجی گئی ہے جسکے بعد صدر مملکت کے پاس سمری پر دستخط کرنے کیلئے 15دن کا وقت ہوتا ہے۔نو منتخب وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف کی حلف برداری کی تقریب موخر کردی ہے کیونکہ سازش کے تحت اقتدار پر قبضہ کرایا گیا ہے ،وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب سے متعلق جو کچھ ہوا وہ قوم نے دیکھا ، کل جو کچھ ہوا وہ افسوسناک ہے ، پنجاب اسمبلی کے واقعے کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے ، دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کن لوگوں کو اقتدار دیا جارہا ہے۔ عمر سرفراز چیمہ نے کہا کہ کیا گزشتہ روز پنجاب اسمبلی کا اجلاس لاہور ہائیکورٹ کی ہدایت کے مطابق ہوا؟ ارکان اسمبلی پر جس طرح تشدد کیا گیا اسکی کوئی مثال نہیں ملتی۔ عمر سرفراز چیمہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے قانونی ٹیم سے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا کہ ابھی نومنتخب وزیراعلیٰ پنجاب کی حلف برداری کی تقریب نہ منعقد کی جائے۔آئینی سفارشات صدر مملکت کو بھیجنے کا فیصلہ کیاہے، صدر مملکت کی آئینی ٹیم سفارشات کا جائزہ لے گی۔ عمرسرفراز چیمہ کا کہنا تھا الیکشن کے دن مخالفین کو غنڈہ گردی سے بھگا دینا الیکشن نہیں، حمزہ شہباز کے پاس ووٹ پورے تھے تو الیکشن متنازع بنانے کا کیا مقصد تھا۔ عمرسرفراز چیمہ کا کہنا تھا کہ ڈپٹی اسپیکر کل ہونے والے الیکشن میں غیر جانبدار نہیں تھے، جب تک مطمئن نہ ہو جاؤں کہ گزشتہ روز ہونے والا الیکشن آئین اور قانون کے مطابق ہے اسوقت تک نئے وزیر اعلیٰ سے انکے عہدے کا حلف نہیں لوں گا۔ انکا کہنا تھا کہ کسی غیر آئینی اقدام کی حمایت نہیں کر سکتا، جب تک صدر مملکت کا نوٹیفکیشن نہیں آتا گورنرپنجاب کے طورپرکام کرتارہوں گا، وزیراعظم کی سمری کے بعد صدرگورنرکو ہٹانے کیلئے ڈی نوٹی فائی کرتا ہے، اسمبلی میں ہنگامہ آرائی کی رپورٹ مجھے مل گئی ہے، کیا یہ الیکشن عدالت کی ہدایات کے مطابق ہوا ؟ غنڈا گردی کرکے لوگوں کوہراساں کیا جارہا ہے، کیا اس طرح کے الیکشن کروانے ہیں؟انہوں نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر خود لوٹےثابت ہوئے، میں آئینی عہدے پر بیٹھ کر کوئی غیر آئینی کام نہیں کرسکتا، جب تک قانونی رائے نہیں آجاتی کہ الیکشن آئین و قانون کے مطابق ہوئے تب تک کارروائی آگے نہیں بڑھاؤں گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں