59

حمزہ سے آج حلف لیا جائے، تاخیر آئین کی خلاف ورزی، گورنر یہ ذمہ داری ادا نہیں کرتے تو صدر کسی اور کو نمائندہ نامزد کریں، لاہور ہائیکورٹ

لاہور(نمائندہ نیوز،اے پی پی )چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ نےکہاہےحمزہ شہباز سے آج حلف لیا جائےتاخیر آئین کی خلاف ورزی، گورنر یہ ذمہ داری ادا نہیں کرتے تو صدر کسی اور کو نمائندہ نامزد کریں،حلف میں بار بار تاخیرکی جارہی ہے، صوبہ 25 روز سے وزیراعلیٰ کے بغیر چل رہا ہے اور حکومت غیر فعال ہے،صدر مملکت پنجاب میں حکومت کا قیام یقینی بنانے کیلئے اپنا آئینی کردار ادا کریں،جسٹس محمدامیربھٹی نے فیصلےکی کاپیاں صدر علوی اور گورنر چیمہ کو فیکس کرنیکا حکم دیدیا،عدالت نے3 صفحات پرمشتمل محفوظ مختصرفیصلہ جاری کرتےہوئےدرخواست نمٹادی،پی ٹی آئی اورق لیگ ارکان اسمبلی نےہائیکورٹ فیصلہ چیلنج کرنےکااعلان کردیا،اپیل آج دائرکی جائےگی،دوسری جانب لاہور کی اسپیشل سینٹرل عدالت کے باہر گفتگو کرتے ہوئے نو منتخب وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے کہا ہے کہ صدر، گورنر عمران نیازی کے ذاتی ملازم نہ بنیں،میرا حلف نہ لینے کا مجرم عمران خان ہےجس نے آئین توڑا۔ صدر اور گورنر تاریخ کو داغدار نہ کریں، آئین کے تحت کام کریں، کہ ساری قوم نے سن لیا کہ عدالت میں کیا دلائل ہوئے، 3ہفتے ہونے کو ہیں سب سے بڑے صوبے کا کوئی وزیر اعلیٰ نہیں ،میرا خیال ہے کہ صدر صاحب اور گورنر کو ہوش کے ناخن لینے ہوں گے، آئین سب سے بڑا ہے، اناء چھوٹی ہے، عمران نیازی نے لاکھوں لوگوں کو بے روزگار کیا گیا، پرویز الٰہی کو سمجھ آ جانی چاہیے، گنڈے اور ڈنڈے کی سیاست نہیں چلے گی،عمران نیازی کارکنوں کو اداروں پر چڑھائی کی تربیت دے رہے ہیں۔تفصیلات کےمطابق چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ جسٹس محمدامیربھٹی نےگورنر پنجاب عمرسرفراز چیمہ کو حکم دیاکہ وہ نومنتخب وزیر اعلیٰ پنجاب محمد حمزہ شہباز شریف سے آج (جمعرات)رات 12بجےتک حلف لینے کے حوالہ سے اقدامات کریں۔عدالت نے قراردیاہے کہ اگر گورنر پنجاب عمرسرفراز چیمہ کسی وجہ سے حمزہ شہباز شریف سے حلف نہیں لیتے تو اپنے کسی نمائندے کے ذریعے حمزہ شہباز شریف سے حلف لیں، عدالت نے کہاصدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی بھی وزیر اعلیٰ پنجاب کے حلف کے حوالے سے اپنا مثبت اور جمہوری کردار ادا کریں، عدالت نےکہاتفصیلی فیصلے میں تمام وجوہات دے دی جائیں گی۔ گزشتہ 25روز سے صوبہ پنجاب ، وزیر اعلیٰ کے بغیر چل رہا ہے جس سے گورننس متاثر ہو رہی ہے، سابق وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان احمد خان کا استعفیٰ منظور ہو چکا ہے۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں قراردیا ہے کہ حلف لینے میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لئے عدالتی فیصلے میں حل بھی دیا گیا تھا۔ حکومت بنانے کے حوالہ سے آئین کے آرٹیکل کہتے ہیں کہ حلف جلدسے جلد ہونا چاہئے۔ عدالت نے قراردیا کہ فوری طور پر حلف برداری کی تقریب ہونا ضروری ہے اس میں تاخیر کرنا آئین کی بنیادی روح کے منافی ہے۔آرٹیکل 255 کے تحت گورنر پنجاب کل تک خود یا کسی نمائندے کے ذریعے نومنتخب وزیرِ اعلیٰ پنجاب سے حلف لیں،تحریری فیصلے میں عدالت نے گورنر کو اس عمل کیلئے مخاطب کرتے ہوئے لفظ order کی بجائے الفاظ suggested،proposed،advised استعمال کئے گئے ہیں،فیصلے میں کہا گیا صدرپاکستان بھی آئین کے تحت ذمہ داری عائد ہوتی ہےکہ وہ حلف برداری کے عمل کی تکمیل کروائیں، اس لئے تجویز دی جاتی ہے کہ صدر صوبے میں حکومت کا قیام یقینی بنانے کے لیے آئینی کردار ادا کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں