حقیقت سے اغماضِ. مفتی گلزار احمد نعیمی 140

حقیقت سے اغماض. مفتی گلزار احمد نعیمی، ممبر : قومی اقلیتی کمیش پاکستان۔صدر :جماعت اہل حرم پاکستان.مہتمم.جامعہ نعیمیہ اسلام آباد

حقیقت سے اغماض


مفتی گلزار احمد نعیمی
ممبر : قومی اقلیتی کمیش پاکستان۔
صدر :جماعت اہل حرم پاکستان.
مہتمم.جامعہ نعیمیہ اسلام آباد


ہمارے دینی مدارس قومی یا بین الاقوامی سطح پر کہیں بھی ہمیں مسابقت کی دوڑ میں نظر نہیں آتے۔اسکی بنیادی وجہ قدیم مروجہ نصاب تعلیم اور طرز تعلّم ہے۔سکولوں اور کالجوں میں علماء و معلمین کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہے۔
جب مدرسہ بورڈز کے سربراہان سے اس حوالہ سے سوال کیا جاتا ہے تو وہ جواب دیتے ہیں کہ یہ سپیشلائزیشن کا دور ہے۔اگر آنکھ میں مسئلہ ہو تو کسی عام ایم بی بی ایس ڈاکٹر کے پاس مریض نہیں جاتا بلکہ کسی آئی سپیشلسٹ کے پاس جاتا ہے۔ہم بھی ایک خاص تعلیم دے رہے ہیں جو صرف مذہبی تعلیم ہے۔ہم مذہبی تعلیم کے سپشلسٹ ہیں۔وغیرہ وغیرہ۔میرے نزدیک یہ حقائق سے آنکھیں چرانے کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔اگر کچھ وقت کے لیے یہ بات مان بھی لیا جائے تو کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ آج جو امت کو جدید شرعی  مسائل کا سامنا ہے اس کے لیے کسی دینی مدرسہ کے بورڈ نے علماء اور محققین کی کوئی ایسی ریسرچ کونسل بنا رکھی ہے جو ان مسائل نو کے حل پر تحقیق و تدقیق کر رہی ہو۔؟اگر آپ جدید فقہی مسائل کا متفقہ حل پیش نہیں کررہے تو پھر آپکی کس بات پر سپشلائزیشن ہے؟کسی بھی دینی مدارس کے بورڈ نے ابھی تک کوئی ریسرچ کونسل نہیں بنائی۔حتی کہ
دورہ حدیث کے طلباء سے جو مقالے لکھائے جاتے ہیں وہ بھی اس قابل نہیں  ہوتے کہ انکو کہیں پیش کیا جاسکے؟۔الا ماشاء اللہ.مدارس کے فضلاء ،معلمین اور ریسرچرز قومی یا بین الاقوامی معیار کے سالانہ کتنے تھیسز لکھتے ہیں؟حقیقت یہ ہے کہ ہم کچھ بھی نہیں کررہے۔امریکہ اور مغرب کو صرف برا بھلا کہنے سے انہیں مغلوب نہیں کیا جاسکتا۔
اس ملک میں بیورکریسی کا ایک بدترین مگر مضبوط نظام مسلط ہے جو اپنی من مانی سے ملک کو تباہ کررہا ہے۔اگر دینی مدارس کے بورڈز کے مالکان اس طرف توجہ کرتے تو ملک کے معاشی،سیاسی اور معاشرتی مسائل اگر بالکل حل نہ چکے ہوتے تو ان میں کمی ضرور آجاتی۔مسجد اور مدرسہ سے وابستگان طلباء میں ٹیلنٹ کی بالکل کمی نہیں ہے مگر انہیں زیادہ تر وہ کچھ پڑھایا جارہا ہے جسکی معاشرے کو ضرورت نہیں ہے۔بیوروکریسی بھی یہی چاہتی ہے کہ مدارس کے طلباء جدید عصری علوم کی طرف نہ آئیں تاکہ افسرشاہی کی آنے والی نسلیں اس نظم حکومت پر مسلط رہیں۔ہمیں نئے تشکیل پانے والے بورڈ سے بہت زیادہ توقعات وابستہ تھیں مگر یہ توقعات بھی آہستہ آہستہ دم توڑ رہی ہیں۔کیونکہ جن نئے بورڈز کے نصابوں کا میں نے مطالعہ کیا وہ اس قابل نہیں ہیں کہ وہ کوئی بڑے تخلیق کار پیدا کر سکیں۔بعض بورڈز ایسے لوگوں کو ایوارڈ کیے گئے ہیں جو انکو چلانے کی بالکل صلاحیت نہیں رکھتے۔یہ ایک المیہ ہے کہ ہمارا مذہبی نظام تعلیم دن بدن تنزل کی طرف جارہا ہے اور اس پر کوئی توجہ نہیں کررہا۔میں اکٹر کہتا ہوں کہ ان بورڈز کی طاقت کے بل بوتے پر ایک مذہبی ایلیٹ کلاس پیدا ہوچکی ہے جو ان مدارس کی طاقت کو سرکاری مناصب کے حصول کے لیے بطور پریشر استعمال کرتی ہے۔جس سے  نقصان یہ ہو رہا ہے کہ ہم اہل مذہب اپنے اصلی اہداف سے روزبروز دور ہوتے جارہے ہیں۔ہمارا بنیادی فریضہ مذہبی تعلیم کی نشر اشاعت اور معاشرے کی تربیت کرنا تھا۔ہم اس ہدف سے دور سے دور تر ہوتے چلے جارہے ہیں۔یہ بدقسمتی ہے کہ ہمارے پاس ان تمام نصابوں میں اپنے طلباء کے لیے بھی کوئی عملی نظام تربیت نہیں ہے۔ایک خاص سانچہ ہے جس میں ہم اپنے طلباء کو ڈھال رہے ہیں۔ہمارے طلباء کو قومی اور بین الاقوامی حالات کا بالکل کوئی شعور نہیں ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ ممالک کو ہمیشہ دیانتدار اور باشعور قیادت ہی چلا سکتی ہے۔ہمارے پاس ایسا کوئی نظم موجود نہیں ہے کہ جس کے تحت ہم ایسے لوگ تیار کر سکیں جو ملک کی باگ ڈور سنبھال کر اس کو مسائل کی گرداب سے نکال کر ترقی کی شاہراہ پر گامزن کر سکیں۔ہمارا دینی طبقہ کئی دہائیوں سے سازشوں کا شکار ہورہا ہے۔اس سے محفوظ رہنے کے لیے بھی ہمارے پاس کوئی حکمت عملی نہیں ہے۔بین المسالک اختلافات تو اپنی جگہہ مگر یہاں تو ایک مسلک کے اندر کئی مسالک بنے ہوئے ہیں۔اس پر مستزاد یہ کہ جو چند باشعور قائدین ہیں انکی نظریں سرکاری عہدوں پر جمی ہوتی ہیں۔انکو اصلاح احوال کی کوئی فکر نہیں ہے۔مسالک اپنی بنیادی تعلیمات سے منحرف ہورہے ہیں۔
اس وقت ایک مضبوط اور مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے جو ہمہ جہتی ہو۔وطن عزیز پر ایسے لوگوں کا قبضہ ہے جنہیں دین سے قطعا کوئی دلچسپی نہیں ہے۔بلکہ وہ ملکی ترقی میں مذہب کو ایک بہت بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں۔یہ مغربی فکر ہے جس سے وہ متاثر ہوکر مذہب پر الزام تھوپتے ہیں۔
میرے سامنے سب سے  بڑھ کر خطرناک مسئلہ یہ ہے کہ ہم اہل سنت اپنی نسل نو کی ذہنی و فکری تربیت سے بالکل دستبردار ہوچکے۔ہم اپنی نسل کو نعرے تو سکھا رہے مگر ناموس رسالت اور ختم نبوت کے عقیدے کی مضبوطی کے لیے انکی تعلیم و تربیت کی طرف بالکل متوجہ نہیں ہیں۔عقیدہ ختم نبوت کی مخالفہ ایک خاتوں اپنی آنے والی  نسل کو دوران مدت رضاعت  ہی قرآن مجید کی آیات یاد کروا کے اور ان سے سوئے استفادہ کر کےاسکی گمراہی کو پختہ کررہی ہے ۔جبکہ ہماری ماؤں کو اس مسئلہ سے واقفیت ہی نہیں ہے۔میری نسل کی ماں کے سامنے عقیدہ ختم نبوت کی حقیقت واضح نہیں ہے۔اس پر بھی کام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔جو صاحب وسائل ہیں وہ اسکی طرف توجہ کریں۔۔
ہمارے مدارس کے بورڈز اپنا نصاب تعلیم مرتب کرنے میں بالکل آزاد ہیں مگر مدارس میں عقیدہ ختم نبوت اور تحفظ ناموس رسالت کو بطور مضمون نہیں پڑھایا جارہا۔نہ الحاد کے حوالہ  سے کوئی تعلیم وتعلم کا نظام ہے۔میری اپنے اکابر علماء اور دینی مدارس کے بورڈ کے سربراہان کی خدمت میں گزارش ہے کہ وہ برائے کرم اس پر توجہ دیں۔۔اس پر توجہ کرکے ہم اہنے آنے والی نسلوں کو بچا سکتے ہیں۔
وما توفیقی الا باللہ
طالب دعاء
جی اے نعیمی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں