112

حضرت آدم علیہ السلام کے حالات زندگی پر ایک مختصر نظر .

Hazrat Adam ( A.S)
حضرت آدم علیہ السلام کے حالات زندگی پر ایک مختصر نظر .

تعارف :
تمام آسمانی کتابوں کے ماننے والوں کاعقیدہ ہے کہ ا س رُوئے زمین پر اللہ جل شانہ‘ نے حضرت آدم علیہ السلام کو تخلیق کیا۔حضرت آدمؑ کی تخلیق کا مقصد اللہ کی عبادت اور اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا قرار دیا۔ اللہ تعالیٰ نے حضر ت آدم ؑ کو اشرف المخلوقات کے درجے پر فائز کیا اور ساتھ ہی اولادِ آدم کو یہ اختیار دیا کہ اچھے اعمال کا بدلہ جنت اور برے اعمال کا بدلہ دوزخ کی آگ ہو گی ان کی اپنی مرضی پر منحصر ہے۔اگر ایسا نہ ہوتا تو شاید دنیا میں لوگ ایک دوسرے کا بے دریغ قتل کرتے اور ایک دوسرے کا حق مارتے ہوئے ذرا برابر نہ چوکتے۔اس کے بعد اس زمین پر حضرت آدم کی اولاد بتدریج پھیلنے لگی اور آج کرہ ارض پر انسانوں کی کل تعداد 7.6 بلین ہے(2018کے اعداد وشمار کے مطابق)۔

تخلیقِ آدم ؑ :

قرآن مجید فرقانِ حمید میں حضرت آدم ؑ کی اس دنیا میں تشریف آوری کا قصہ وضاحت سے بیان کیا گیا ہے۔اسی طرح نبی آخرالزمان ﷺ کی احادیث کے مطابق حضرت آدم ؑ کی پیدائش کا احوال کچھ یوں ہے :اللہ تعالی نے تمام زمین سے ایک مٹھی مٹی لے کر آدم علیہ السلام کو بنایا۔اس لئے زمین کے لحاظ سے لوگ سرخ ،سفید ، سیاہ اور درمیانے درجے میں ،اسی طرح اچھے ،برے ، نرم اور سخت طبیعت والے اور کچھ درمیانے درجے کے پیدا ہوئے(روایت : حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ )۔ اللہ تعالی نے جبریل علیہ السلام کو زمین میں مٹی لانے کیلئے بھیجا تو زمین نے عرض کی کہ میں تجھ سے اللہ کی پناہ میں آتی ہوں کہ تو مجھ سے کوئی کمی کرے یا مجھے عیب ناک کر دے تو وہ مٹی لئے بغیر ہی واپس چلے گئے اور عرض کی :اے اللہ!اس نے تیری پناہ میں آنے کی درخواست کی تو میں نے اس کو پناہ دے دی۔ اللہ تعالیٰ نے پھر حضرت میکائل کو بھیجا ،زمین نے اس سے بھی پناہ مانگی تو اس نے بھی پناہ دے دی اور حضرت جبریل کی طرح واقعہ بتا دیا پھر اللہ نے موت کے فرشتوں کو بھیجا۔زمین نے اس سے بھی پناہ مانگی تو اس نے کہا میں اس سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں کہ میں اللہ کے حکم کی تعمیل کئے بغیر واپس چلا جاؤں اور اس سے مختلف جگہوں سے سرخ ،سیاہ اور سفید مٹی اکٹھی کی جس کی بنا پر آدم علیہ السلام کی اولاد بھی مختلف رنگوں والی ہے ۔( روایت سدی رحمتہ اللہ بحوالہ ابن عباسؓ وابن مسعودؓ )وہ مٹی لے کرعرش پر چلے گئے اور اس کو پانی کے ساتھ تر کیا ۔پانی سے تر کرنے سے وہ چپکنے والی لیس دار مٹی بن گئی۔ اس پر باری تعالیٰ نے فرشتوں کو فرمایا :میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں ۔جب میں اس کو اچھی طرح بنا لوں اور اس میں اپنی پیدا کردہ روح ڈال دوں تو اس کیلئے سجدہ کرتے ہوئے گر جانا۔
مٹی سے تخلیق :
اللہ تعالی نے حضرت آدم علیہ السلام کی اہمیت جتلانے کے لئے ان کواپنے ہاتھ سے تخلیق کیا تاکہ ابلیس اس سے تکبر نہ کرے۔پس اللہ نے ایک انسان بنایا وہ چالیس سال تک مٹی کے ڈھانچے کی شکل میں پڑا رہا اور یہ وقت در حقیقت جمعہ کے دن کے برابر تھا ۔جب جسد آدم ؑ میں روح پھونکنے کا وقت آیا تو اللہ تعالی نے فرشتوں کو کہا:’’میں جب اس میں روح پھونک دوں تو اس کے لئے سجدہ کرتے ہوئے گر جانا ۔جب اللہ نے اس میں روح پھونکی تو روح ان کے سر میں داخل ہوئی تو آدم علیہ السلام کو چھینک آئی ۔اس پر فرشتوں نے کہا الحمداللہ کہو تو آدم علیہ السلام نے الحمداللہ کہا۔جب روح آنکھوں میں داخل ہوئی تو انہوں نے آنکھوں کے ساتھ جنت کے پھل دیکھے۔جب روح پیٹ میں آئی تو انہیں کھانے کی طلب ہوئی توروح پاؤں تک پہنچنے سے پہلے اچھلی اور جنت کے پھلوں کی طرف جلدی کی۔اس کے متعلق اللہ تعالی نے فرمایا کہ انسان جلدی سے پیداہوا ہے۔پس تمام فرشتوں نے سجدہ کیا۔ مگر ابلیس نے انکار کردیا اور سجدہ کرنے والوں میں سے نہ ہوا۔رسول اللہﷺ نے فرمایا:اللہ تعالی نے آدم علیہ السلام کو مٹی سے بنایا ،اس مٹی کا گارا بنا کر چھوڑ دیا ۔جب وہ مٹی بد بو دار اور کالی بن گئی تو اس کی تصویر بنا کر چھوڑ دی۔پھر جب ٹھیکری کی طرح آواز دینے لگے تو ابلیس اس کے پاس سے گزرتا اور کہتا :عظیم کام کے لئے پیدا ہوا ،پھر اللہ نے اس میں اپنی روح پھونکی ( روایت حضرت ابو ہریرہؓ )۔
آدم علیہ السلام کو چھینک آئی تو اللہ نے ان کو رحمت کے کلمات سکھائے اور کہا تیرا رب تجھ پر رحمت کرے۔پھر اللہ نے کہا اے آدم!اس جماعت کی طرف جا اور ان سے بات چیت کر اور غور کرو وہ کیا کہتے ہیں ۔آدم علیہ السلام آئے اور انہیں سلام کیا۔انہوں نے جواب دیا اور تجھ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت اور برکت نازل ہو ۔پھر کہا :اے آدم!یہ تیرا اور تیری اولاد کا تحفہ ہے ۔پھر آدم علیہ السلام نے کہا:اے میرے پروردگار میری اولاد کیا ہے؟اللہ نے فرمایا :اے آدم میرا ایک ہاتھ پسند کر اور کہا:میں اپنے رب کا دائیاں ہاتھ پسند کرتا ہوں اور میرے رب کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں ۔پھر اللہ نے اپنی ہتھیلی پھیلائی تو پیدا ہونے والی تمام اولاد آدم ؑ کی ہتھیلی میں تھی۔ان میں سے کچھ لوگوں کے چہروں پر نور چمک رہا تھا ۔ایک آدمی کا نور آدم علیہ السلام کو بہت پسند آیا ۔آدم علیہ السلام نے کہا :اے پروردگار ا س کی عمر کتنی ہے؟کہا اس کی عمر ساٹھ سال ہے ۔آدم علیہ السلام نے کہا :اے اللہ!میری عمر اس کو دے کر اسکے سو سال پورے کر دے۔اللہ نے ایسا ہی کیا اور اس پر گواہ بنایا ۔جب آدم علیہ السلام کی عمر مکمل ہوئی تو اللہ نے ملک الموت کو آدم علیہ اسلام کی طرف بھیجا ۔آدم علیہ السلام نے کہا :کیا میری عمر سے ابھی چالیس سال باقی نہیں ؟فرشتے نے کہا:کیا آپ نے اپنے بیٹے داؤد کو اپنی عمر سے چالیس سال نہیں دئیے تھے؟آدم علیہ السلام نے اس کا انکار کر دیا اور اس کی اولاد بھی انکار کرتی ہے ۔آدم علیہ السلام بھول گئے اور اس کی اولاد بھی بھول جاتی ہے۔اللہ تعالی نے فرمایا :
ترجمہ:’’بے شک اللہ کے نزدیک عیسی علیہ السلام کی مثال آدم علیہ السلام کی سی ہے۔ اس اللہ نے اس کو مٹی سے پیدا کیا ،پھر اس کو کہا ہو جا تو وہ آدم بن گیا۔اے لوگو! اپنے رب سے ڈرتے رہو ،جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اس سے اس کی بیوی پیدا کی اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں اور اس اللہ سے ڈرتے رہو جس کے واسطہ کے ساتھ تم آپس میں سوال کرتے رہو اور رشتےناطے سے بچو بے شک اللہ تم پر نگران ہے۔اے لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور ہم نے تم کو قومیں اور خاندان بنایا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔بے شک اللہ کے نزدیک تم میں وہی عزت والا ہے جو تم میں زیادہ پرہیز گار ہے۔بے شک اللہ علم والا خبررکھنے والا ہے۔‘‘

فضیلت:

اللہ تعالی ٰنے علم کے ساتھ آدم علیہ السلام کا ان پر شرف اور مرتبہ واضح کیا ۔حضرت ابن عباسؓ نے کہا ان سے مراد وہی نام ہیں جو لوگوں کے ہاں مشہور و معروف ہیں۔انسان ، جانور ، زمین ، سمندر ، پہاڑ ، اونٹ ، گدھا وغیرہ۔مجاہد نے کہا :پیالہ اور ہنڈیا وغیرہ کے نا م سکھائے،حتی کہ پھسکی اور گوز کا نام بھی بتا یا۔ مجاہدنے مزید کہا:ہر جانور ،پرند ، چرند اور ہر ضرورت کی ہر چیز کے نام سکھائے۔سعید بن جبیر ، قتادہ وغیرہ نے بھی اسی طرح کہا ہے۔الربیع نے کہا:فرشتوں کے نام سکھائے۔عبدالرحمن بن زید نے کہا :ان کی اولاد کے نام سکھائے۔اللہ نے آدم علیہ السلام کو ہر چھوٹی اور بڑی چیز اور ان کے افعال کے نام سکھائے ۔ حضرت انس بن مالکؓ نے رسول اللہﷺ سے روایت کرتے ہوئے فرمایا :قیامت کے دن ایمان والے اکٹھے ہوں گے اور کہیں گے کاش ہم اپنے رب کے پاس سفارش کرنے والا طلب کریں ،پھر وہ آدم کے پاس آئیں گے اور کہیں گے اے آدم! تو ابو البشر ہے ،اللہ نے تجھے اپنے ہاتھ سے بنایا ،فرشتوں سے تجھے سجدہ کرایا اور تجھے ہر چیز کے نام سکھائے۔حضرت حسن بصری نے کہا:جب اللہ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کرنے کا ارادہ کیا تو فرشتوں نے کہا:اللہ جو مخلوق بھی پیدا کرے گا ،ہمارا علم اس سے زیادہ ہو گا اس بات کی وجہ سے اللہ نے ان کو آزمائش میں ڈال دیا اور فرمایا کہ اگر تم اپنی اس بات میں سچے ہو تو ان چیزوں کے نام بتاؤ۔فرمان الہی :یہ آدم کا بہت بڑا شرف ہے کہ اللہ نے اس کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور اس میں روح پھونکی۔جیسے اللہ نے فرمایا کہ میں جب اس کو اچھی طرح بنا لوں اور اس میں اپنی روح ڈال دوں تو تم سجدہ کرتے ہوئے گر جانا ۔اس جگہ آدم علیہ السلام کو شرف و مرتبہ چار لحاظ سے ظاہر ہو رہا ہے:
۱۔اللہ تعالی نے ان کو اپنے ہاتھ سے بنایا۔۲۔ان میں اپنی روح ڈالی۔۳۔فرشتوں کو اسے سجدہ کرنے کا حکم دیا۔۴۔ان کو تمام اشیاء کے نام بتائے۔
مناظرہ:
تحقیق کے مطابق حضرت موسیٰ کلیم اللہ کی حضرت آدم علیہ السلام سے جب ملاقات ہوئی اور ان کا آپس میں بحث و مناظرہ ہو اتو اس موقع پر موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا :تو آدم ابو البشر ہے۔تجھے اللہ نے اپنے ہاتھ سے بنایا ہے۔ تجھ میں روح پھونکی،تیرے لئے فرشتوں سے سجدہ کروایا اور اس نے تم کو تمام چیزوں کے نام سکھائے۔سورۃ ص میں اللہ تعالی نے فرمایا :
ترجمہ: اس وقت کو یاد کر جب تیرے رب نے فرشتوں کو کہا : میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں جب میں اس میں روح پھونک دوں تو اس کے لئے سجدہ میں گر جانا ۔پس تمام فرشتوں نے ایسا ہی کیا مگر ابلیس نے تکبر کیا اور وہ کافروں میں سے ہو گیا ۔اللہ تعالی نے فرمایا:اے ابلیس تجھ کو کس چیز نے روکا تو اس آدم کو سجدہ کرے جسے میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا ،کیا تو نے تکبر کیا؟یا تو بلند مرتبہ والوں میں سے ہے؟اس نے کہا:میں اس سے بہتر ہوں ،تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اس کو مٹی سے بنایا ہے ۔اللہ نے فرمایا:اس سے نکل جاؤ بے شک تو راندہ ہوا ہے اور یقیناًقیامت والے دن تک تیرے اوپر میری لعنت ہے ۔اس نے کہا: اے میرے رب !مجھے ان کے دوبارہ اٹھائے جانے کے دن تک مہلت دے اللہ تعالی نے فرمایا:وقت معلوم کے دن تک تجھے مہلت ہے ۔اس نے کہا :تیری عزت کی قسم !میں ان تمام کو ضرور گمراہ کروں گا مگر ان میں سے تیرے مخلص بندے محفوظ رہیں گے فرمایا :یہ برحق ہے اور میں حق سچ کہتا ہوں کہ میں ضرور تجھ سے اور تیرے پیروکاروں سے جہنم بھروں گا۔‘‘

آدم علیہ السلام کا جواب:

حضرت ابو ہریرہؓ نبی اکرم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:موسیٰ علیہ السلام نے آدم علیہ السلام سے بحث و مباحثہ اور مناظرہ کیا اور کہا :آپ نے غلطی سے لوگوں کو جنت سے نکلوا دیا تھا اور جنت سے محروم کر دیا ہے ۔آدم علیہ السلام نے کہا:اے موسی!اللہ نے آپ کو اپنے پیغامات اور کلام کیلئے منتخب کیا ،تو مجھے ایسی چیز پر ملامت کرتا ہے جو اللہ نے مجھے پیدا کرنے سے پہلے میرے بارے میں لکھ دیں تھی یا مجھے پیدا کرنے سے پہلے اس کا فیصلہ کر دیا تھا :رسول اللہﷺ نے فرمایا :دو مرتبہ آدم علیہ السلام موسی علیہ السلام پر غالب آ گئے۔حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا :آدم اور موسی علیہ السلام کا جھگڑا ہوا موسی نے کہا:اے آدم!تو ہمارا باپ ہے ،تو نے ہمیں جنت سے نکال دیا ۔آدم علیہ السلام نے کہا ۔اے موسی!اللہ نے تجھے اپنے کلام کے ساتھ شرف بخشا کیا تو مجھے ایسی چیز پر ملامت کرتا ہے جو اللہ نے مجھے پیدا کرنے سے چالیس سال پہلے میرے مقدر میں لکھ دیں تھی۔پس حضرت آدم ؑ حضرت موسیٰؑ کو سمجھانے میں کامیاب ہوگئے۔یہ بات آ پ نے تین بار ارشاد فرمائی ۔ابن ابی حاتم نے سند کے ساتھ ابو ہریرہؓ کی حدیث بیان کی اور کہا :رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :موسی ٰعلیہ السلام کا آدم علیہ السلام کے ساتھ اللہ کے پاس مناظرہ ہوا جس میں آدم علیہ السلام غالب آ گئے۔موسی علیہ السلام نے کہا:اے آدم! للہ نے تجھے اپنے ہاتھ کے ساتھ بنایا ،تجھ میں اپنی روح پھونکی فرشتوں سے تجھے سجدہ کروایا تجھے اپنی جنت میں بسایا پھر تونے لوگوں کو اپنی غلطی سے جنت سے نکال کر زمین کی طرف اتار دیا۔آدم علیہ السلام نے کہا:تو موسیٰ ہے۔ اللہ نے اپنے کلام اور پیغام کیلئے تجھے خاص بنایا ۔تجھے تختیاں دیں جن میں ہر چیز کی وضاحت ہے ۔ اس نے تجھے سر گوشیاں کرنے کیلئے اپنے قریب کیا ۔بتاؤ اللہ تعالی ٰنے یہ تورات میری پیدائش سے کتنی مدت پہلے لکھی تھی؟موسی نے کہا :چالیس سال پہلے۔آدم نے کہا:کیا اس میں یہ لکھا ہوا ہے کہ آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور وہ بھٹک گیا ‘‘کہا ہاں لکھا ہوا ہے آدم نے کہا:تو مجھے ایسے کام پر ملامت کرتا ہے جو اللہ نے میرے بارے میں مجھے پیدا کرنے سے بھی چالیس سال پہلے لکھ دیا تھا ۔پس آدم علیہ السلام موسی علیہ السلام کو سمجھانے میں کامیاب ہوگئے۔

قابیل و ہابیل کا واقعہ:

اللہ نے فرمایا:اور اے نبیﷺ ان پر آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں کا واقعہ پڑھو ،جب ان دونوں نے قربانی کی پس ان میں سے ایک کی قربانی قبول ہوئی اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی ۔قابیل جس کی قربانی قبول نہ ہوئی اس نے کہا:میں تجھے ضرور قتل کروں گا تو ہابیل نے کہا:اللہ صرف پرہیز گاروں سے قربانی قبول کرتا ہے ۔اگر تو مجھے قتل کرنے کیلئے میری طرف ہاتھ پھیلائے گا تو میں تجھے قتل کرنے کیلئے اپنا ہاتھ تیری طرف نہیں پھیلاؤں گا۔بے شک میں اللہ سے ڈرتا ہوں جو جہانوں کا پروردگار ہے۔بے شک میرا ارادہ ہے کہ تو میرے اور اپنے گناہ کے ساتھ لوٹے ۔پس تو آگ میں جانے والوں میں سے ہو جائے اور زیادتی کرنے والوں کو یہی بدلہ ہے ۔قابیل کے نفس نے اسے اپنے بھائی کو قتل کرنے پر ابھارا،پس اس نے اس کو قتل کر دیا اور وہ گھاٹا پانے والوں میں سے ہو گیا۔پھر اللہ نے ایک کوا بھیجا وہ زمین کو کرید رہا تھا تاکہ وہ اس قابیل کو دکھائے کہ وہ اپنے بھائی کی میت کو کیسے چھپائے ۔یہ دیکھ کر وہ کہنے لگا ہائے افسوس!میں اس سے عاجز آ گیا کہ میں اس کوے کی طرح ہو جاتا پس اپنے بھائی کی لاش کو چھپا لیتا ۔پس وہ پشیمانوں میں سے ہو گیا۔‘‘

آدم علیہ السلام کی اولاد:

اللہ تعالی نے قابیل کو مہلت دی اور وہ عدن کی مشرقی جانب نود جگہ میں رہائش پذیر ہو گیا ۔اہل کتاب اس کو قنین کہتے ہیں۔اس کی پشت سے خنوع پیدا ہوا ۔ خنوع کے ہاں عندر اور عندر کے ہاں محاویل اور محاویل کے ہاں متوشیل اور اس کے ہاں لامک اس نے عدااورصلادو عورتوں سے شادی کی۔عداء کے ہاں ابل نامی ایک لڑکا پیدا ہوا ۔یہ پہلا شخص ہے جس نے خیمے بنا کر چھت کا سایہ بنایا اور ان میں رہائش پذیر ہوا اور مال جمع کیا ۔اس نے نوبل کو جنم دیا ۔نوبل پہلا آدمی تھاجس نے سب سے پہلے طبلہ اورسرنگی بنائے۔صلانے بلقین نامی بچہ جنم دیا۔جس نے پہلے لوہے اور تانبے کی صنعت ایجاد کی اور نعمی نامی لڑکی بھی اسی صلا کے ہاں پیدا ہوئی۔آدم علیہ السلام اپنی بیوی حوا کے پاس گئے تو انہوں نے ایک لڑکا جنم دیا ۔اس کا نام ماں نے شیث رکھا کیونکہ وہ اس ہابیل کا متبادل تھا جسے قابیل نے قتل کیا تھا اور شیث کی پشت سے انوش پیدا ہوا ۔جب آدم علیہ السلام کی پشت سے شیث پیدا ہوا تو آدم کی عمر ایک سو تیس سال تھی اور اس کے بعد وہ آٹھ سو سال زندہ رہے۔جب انوش پیدا ہوا تو شیث کی عمر ایک سو پینسٹھ سال تھی اور وہ اس کے بعد آٹھ سو سات برس زندہ رہا۔انوش کے علاوہ بھی ان کے لڑکے لڑکیاں پیدا ہوئیں۔انوش کی پشت سے قینان نامی شخص پیدا ہوا۔اس وقت انوش نوے برس کا تھا ۔وہ اس کے بعد آٹھ سو پندرہ برس زندہ رہا اور ان کے ہاں بچے اور بچیاں ہوئیں۔قینان نے ستر سال کی عمر میں مہلاییل پیدا کیا ۔وہ اس کے بعد آٹھ سو چالیس برس زندہ رہا ۔بہت سے لڑکے لڑکیاں اس کے ہاں پیدا ہوئے۔جب مہلاییل کی عمر پینسٹھ برس ہوئی تو اس کے ہاں یردنامی لڑکا پیدا ہوا اور وہ اس کے بعد آٹھ سو تیس برس زندہ رہا اور اس کے ہاں بہت سے بچے بچیاں پیدا ہوئیں۔جب یرد ایک سو باسٹھ سال کا ہوا تو اس کے ہاں خنوع پیدا ہوا اور اس کے بعد آٹھ سو سال زندہ رہا اور اس کے ہاں بھی بہت سے لڑکے لڑکیا ں بھی پیدا ہوئے۔جب متوشلخ ایک سو ستاسی برس کا ہوا تو اس کے ہاں لامک پیدا ہوئے اور اس کے بعد وہ سات سو بیاسی برس زندہ رہا اور اس کے ہاں لڑکیا ں اور لڑکے پیدا ہوئے۔جب لامک ایک سو بیاسی سال کا ہوا تو اس کے ہاں نوح ؑ پیدا ہوئے اور وہ اس کے بعد پانچ سو پچانوے برس زندہ رہے اور ان کے ہاں بھی بچے اور بچیاں پیداہوئیں۔جب نوح ؑ کی عمر پانچ سو سال ہوئی تو ان کے ہاں سام ، حام اور یافث بیٹے پیدا ہوئے۔ ابن جریر نے اپنی تاریخ میں بعض سے ذکر کیا ہے کہ حوا نے آدم کی پشت سے بیس امیدوں سے چالیس افراد جنم دئیے بعض نے کہا ایک سو بیس امیدوں سے دو سو چالیس افراد پیدا کئے اور ہر دفعہ ایک لڑکا اور ایک لڑکی جنم دی اور زمین میں ادھر ادھر سکونت پذیر ہوئے اور ان کی نسل بڑھتی رہی۔

حضرت آدم کاوصال:

محمد بن اسحق رحمۃ اللہ علیہ نے کہا جب آدم علیہ السلام کی موت کا وقت آیا تو انہوں نے اپنے بیٹے شیث علیہ السلام کو وصیت کی اور اس کو دن اور رات کے اوقات کی تعلیم دی ۔ان اوقات کی عبادت سکھائیں اور ایک بڑے طوفان آنے کی پیش گوئی کی۔جب آدم علیہ السلام فوت ہوئے وہ جمعہ کا دن تھا ۔فرشتے ان کے پاس حنوط نامی خوشبو لائے اور اللہ کی طرف سے جنت سے کفن مہیا کیا گیا اور ان کے بیٹے اور وصی شیث علیہ السلام سے تعزیت کی۔حضرت ابی بن کعبؓ سے روایت ہے جب آدم علیہ السلام کی موت کا وقت قریب آیا تو انہوں نے اپنے بیٹوں کو کہا :اے میرے بیٹو!میں جنت کا پھل کھانا چاہتا ہوں وہ ان کیلئے پھل لینے گئے تو فرشتے ان کے سامنے آئے ۔ان کے ساتھ کفن اور حنوط نامی خوشبو لگائی۔ساتھ ہی کلہاڑیاں ، بیلچے اور ٹوکریاں تھیں۔انہوں نے پوچھا :اے آدم کے بیٹو !کہاں کا ارادہ ہے؟کیا تلاش کر رہے ہو؟انہوں نے کہا:ہمارے والد آدم بیمار ہیں اور جنت کا پھل کھانا چاہتے ہیں ۔فرشتوں نے کہا :واپس چلو تمارے باپ کا وقت پورا ہو چکاہے۔فرشتے آئے تو حواء نے ان کو پہچان لیا اور آدم کے ساتھ اوٹ میں ہو گئی ۔آدم علیہ السلام نے کہا مجھ سے دور جا میں تجھ سے پہلے پیدا ہوا ہوں ۔لہذا میرے اور میرے رب کے فرشتوں کے درمیان حائل مت ہونا۔فرشتوں نے انکی روح قبض کی ،ان کو کفن پہنایا ،خوشبو لگائی،ان کیلئے گڑھا کھودا۔انکی قبر بنائی ۔ان کی نمازہ جنازہ پڑھی۔پھر انکو قبر میں اتار دیا گیا۔قبر میں رکھ کر اوپر سے مٹی ڈالی اور کہا :اے آدم کے بیٹو!میت کو دفنانے کا یہی طریقہ ہے ۔
حضرت آدمؑ کی عمر اور ان کے وارث:
الہامی کتاب تورات میں مذکور ہے کہ آدم علیہ السلام نو سو تیس برس زندہ تک رہے ۔جب آدم علیہ السلام فوت ہوئے تو ان کے بعد ان کا بیٹا یرد معاملات کا نگران بنا ۔جب ان کی موت کا وقت قریب آیاتو انہوں نے اپنے بیٹے خنوخ کو وصیت کی اور یہی خنوخ ایک مشہور قول کے مطابق حضرت ادریس علیہ السلام ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں