44

حریت رہنما یٰسین ملک کے عدالتی قتل کا فیصلہ آج سنایا جائیگا

حریت رہنما یٰسین ملک کے عدالتی قتل کا فیصلہ آج سنایا جائیگا
اسلام آباد ( افضل بٹ ) دہلی کی تہاڑ جیل میں گزشتہ تین سال سے قید ‎جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین ‎محمد یاسین ملک کے عدالتی قتل کا فیصلہ آج 25 جولائی کو سنایا جائے گا جس کیخلاف مقبوضہ کشمیر کی دونوں اطراف بھرپور احتجاج اور دنیا بھر میں بھارتی سفارتخانوں کے سامنے مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ واضح رہے کہ بھارت کی خصوصی عدالت ان پر بغاوت، وطن دشمنی ، دہشت گردی کیلئے رقوم حاصل کرنے اور دہشت گردی میں ملوث ہونے کی فرد جرم 19 مئی کو عائد کر چکی ہے جس میں عمر قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے ، اس سے قبل 10 مئی کوآن لائن سماعت کے دوران یسین ملک نے کہا تھا کہ مجھے بھارت میں عدل و انصاف کی کوئی توقع نہیں اسلئے میں کیس کی پیروی نہیں کروں گا، انہوں نے واضح کیا تھا کہ میں کشمیر کی آزادی کیلئے اسی طرح پرامن جدوجہد کر رہا ہوں جس طرح گاندھی ، قائد اعظم محمد علی جناح اور بھگت سنگھ نے آزادی کی جدوجہد کی تھی۔ مقبوضہ کشمیرمیں بندوق چھوڑ کر نوجوانوں کو آزادی کیلئے پرامن جدوجہد کی طرف راغب کرنے والے 56 سالہ یسین ملک کو پبلک سیفٹی ایکٹ ( پی ایس اے ) اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ایکٹ ( یو اے پی اے ) کے تحت 22 فروری 2019 کو سرینگر سے گرفتار کیا گیا اور انہیں تہاڑ جیل دہلی منتقل کر دیا تھا جہاں ان کا مقدمہ نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی ( این آئی اے ) کی خصوصی عدالت میں زیر سماعت ہے ۔ اس مقدمے کی پیروی کیلئے یسین ملک نے دہلی میں پریکٹس کرنے والے مقبوضہ کشمیر کے معروف قانون دان راجہ محمد طفیل ایڈووکیٹ ( آر ایم طفیل اینڈ کو ) کی خدمات حاصل کی تھیں لیکن بھارت نے ریاستی طاقت کے ذریعے ان پر اتنا دباؤ ڈالا کہ راجہ طفیل برین ہیمرج کی وجہ سے انتقال کر گئے تھے جس کے بعد یسین ملک نے کسی بھی وکیل کی خدمات حاصل نہ کیں ۔ ذرائع کے مطابق بھارتی حکومت اور خفیہ ایجنسی را نے وکلا پر اتنا دباؤ بڑھایا کہ بعض وکلا تنظیموں نے یسین ملک کا کیس نہ لینے کا اعلان کر دیا جبکہ دوسری طرف یسین ملک کو بھی کوئی قابل بھروسہ وکیل میسر نہیں تھا، ذرائع کے مطابق یسین ملک کو خدشہ تھا کہ اگر انہوں نے ایسا کوئی وکیل کر لیا جو بھارتی حکومت کا دباؤ برداشت نہ کر سکا تو ایسا وکیل انہیں عدالت کے روبرو اور تاریخ میں ایک مجرم کے طور پر پیش کرنے کی سازش کا حصہ بھی بن سکتا ہے یہی وجہ تھی کہ انہوں نے اپنا کیس خود لڑنے کا فیصلہ کر لیا لیکن بھارت کی خصوصی عدالت میں کیس کی سماعت کے دوران یسین ملک کو صفائی کا پوری طرح موقع ہی فراہم نہیں کیا گیا کہ وہ اپنی بیگناہی ثابت کر سکیں۔ دوسری طرف بھارتی میڈیا میں خبررساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے حوالے سے یہ خبریں جان بوجھ کر پھیلائی گئیں کہ یسین ملک نے اقبال جرم کرلیا ہے ۔ ‎یسین ملک کو نہ صرف مقبوضہ کشمیر بلکہ دنیا بھر میں تحریک کی علامت سمجھاجاتاہے۔ انہوں نے گزشتہ بتیس برسوں سے تحریک آزادی کشمیر کی ڈٹ کر قیادت کی اور بھارتی دباؤ کے سامنے جھکے نہ بکے۔ ان کی سزا کے خلاف پوری دنیا میں احتجاج ہورہا ہے ۔ خاص طور پر کشمیری جہاں بھی آباد ہیں وہ سراپا احتجاج ہیں۔ مقبوضہ کشمیر سے یسین ملک کی والدہ اور پاکستان سے ان کی اہلیہ مشعال ملک اور 10 سالہ بیٹی رضیہ سلطانہ نے عالمی برادری سےاپیل کی ہے کہ وہ بھارت کے ہاتھوں یسین ملک کا عدالتی قتل رکوانے کیلئےاپنا کردار ادا ‎کریں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں