Hujjatul Balaghah 56

حجۃ اللہ البالغہ | Hujjatul Balaghah

Hujjatul Balaghah
حجۃ اللہ البالغہ

مصنف کا تعارف:
کتاب حجتہ البالغہ کے مصنف حضرت شاہ ولی اللہ کا اصل نام قطب الدین احمد تھا لیکن آپؒ شاہ ولی اللہ کے نام سے معروف ہوئے۔شاہ ولی اللہؒ کا سلسلہ نسب والد کی جانب سے سیدنا فاروقِ اعظم تک اور والدہ کی جانب سے حضرت امام موسیٰ کاظمؒ تک پہنچتا ہے یعنی آپ والد کی جانب سے فاروقی اور والدہ کی جانب سے فاطمی ہیں۔آپؒ کے والد کا نام شیخ عبدالرحیم تھا ۔ آپؒ ۴ شوال ۴۱۱ہجری بمطابق ۲۱ فروری۱۷۰۳ کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ بچپن ہی سے آپؒ کو علم حاصل کرنے کا بہت شوق تھا۔عالم فاضل باپ نے اپنے ہونہار بچے کی عمر کے پانچویں سال میں ان کی تعلیم کا سلسلہ شروع کیا۔سات سال کی عمر میں قرآنِ حکیم حفظ کیااور ایک سال میں فارسی کی ابتدائی کتابیں پڑھنا شروع کردیں۔اس کے بعد عربی کی تعلیم شروع ہوئی اور دس سال کی عمر میں اس کی ابتدائی مشکلات پر بھی عبور حاصل کر لیا۔پھر عقلی اور دینی علوم شروع کئے اور ان علوم کا جو نصابِ تعلیم اس زمانے میں تھا ،وہ صرف پندرہ سال کی عمر میں ختم کرلیا۔آپؒ اپنے والد کی وفات تک مطالعے اور عبادت میں مشغول رہے ۔۱۷۱۸ میں مسندِ تدریس پر بیٹھے اور بارہ سال تفسیر، حدیث، فقہ، اصول، دینی علوم اور عقلی علوم نہایت تحقیق کے ساتھ پڑھاتے رہے۔ ۱۷۳۱ء میں آپ ؒ فریضۂ حج کی ادائیگی سے پہلے حجازگئے۔ اس سفر میں آپؒ حجاز کے بزرگوں سے ملے اور بعض سے آپؒ نے حدیث کی سند بھی حاصل کی۔آپؒ دوسال تک حجاز میں علماء کی صحبت سے فیض پانے کے بعد۱۴ رجب ۱۱۴۵ کو دہلی واپس پہنچے اور بقیہ عمر تعلیم و تصنیف میں بسر کی اور۵۹ سا ل کی عمر میں۲۰ اگست ۱۷۶۲ کو دہلی میں انتقال فرمایا۔
کتاب کا پس منظر:
اس عظیم المرتبت کتاب کے مصنف حضرت شاہ ولی اللہ ؒ اپنی تصنیف کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ایک روز میں عصر کی نماز پڑھ کر اللہ سے دھیان لگائے بیٹھا تھا کہ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ حضرت نبی اکرمؐ کی روح مبارک آئی ہے۔ آپ ﷺ کی روح نے مجھے کوئی چیز اوڑھائی اور مجھے ایسا خیال ہوا کہ گویاکوئی چادر مجھ پر ڈالی گئی ہے۔اس حالت کا مطلب میرے دل میں یہ ڈالا گیاکہ یہ دینِ اسلام کی نئی طرزسے بیان کرنے کی طرف اشارہ ہے۔اس دن سے میں اپنے سینے میں ایک نور سا پاتا ہوں جو ہر وقت پھیلتا جاتا ہے۔اس کے کچھ عرصہ بعد مجھے الہام ہوا کہ میرے متعلق یہ فیصلہ ہوچکا ہے کہ ایک نہ ایک دن میں دین کا بڑا کام ضرور کروں گا۔اب زمین اپنے رب کے حکم سے جگمگا اُٹھی ہے اور غروب کے وقت شعاعیں انسانوں پر اسی طرح پڑنے لگی ہیں جیسے طلوع کے وقت پڑتی تھیں اور مجھے یہ معلوم ہوا کہ اب وقت آ پہنچا ہے کہ رسول اللہ ؐ کی شریعت اس زمانے میں سائینٹفک دلیلوں سے پوری طرح ثابت کی جائے۔ اس کے بعد میں نے حضرت امام حسنؓ اور امام حسینؓ کو خواب میں دیکھا ۔ اس وقت میں مکہ مکرمہ میں تھا۔ مجھے ایسا خیال ہوا کہ گویا انہوں نے مجھے ایک قلم دے کر فرمایاکہ ہمارے نانا محمد رسول اللہؐ کا قلم ہے۔

کتاب کے اہم نکات:
Key-1۔امام صاحب کے فلسفے کا بیان:
Key-2۔عالم مثال:

Key-3۔تین اقسام کی مخلوق:

Key-4۔اللہ تعالیٰ کا قانون یا سنت اللہ:

Key-5۔روح کی حقیقت:

Key-6۔قانون کی پابندی:

Key-7۔انسانی ذمہ داری:

Key-8۔سزا ، جزاورشرعی قانون:

Key-9۔ انسانی معاشرے میں اختلافات:

Key-10۔انسانی دل میں’ خواطر‘کی پیدائش:

Key-11۔انسانی روح اور اعمال:

Key-12۔اعمال اور نفس:

Key-13۔اعمال کا پھل:

Key-14۔دنیا میں اعمال کی سزا:

Key-15۔موت کی حقیقت:

Key-16۔عالمِ برزخ:

Key-17۔حشر کے واقعات:
Key-1۔امام صاحب کے فلسفے کا بیان:
حضرت شاہ ولی اللہ ؒ کا فلسفہ کسی پہلے فلسفی کے تمام حصوں سے سارے کا سارا نہیں ملتا بلکہ ان کی بہت سی چیزیں یونان کے افلاطونی فلاسفروں سے ملتی ہیں ۔کچھ حصہ ارسطو کا فلسفہ جاننے والے لوگوں سے ملتا ہے۔اس کے بعد اسلامی دور میں جتنے صوفی فلاسفر گزرے ہیں ،جیسے شیخ اکبر محی الدین، ابن عربی اور امام ربانی شیخ احمد سرہندیؒ ،ان سے بہت سی چیزیں ملتی ہیں ۔ان کے بعد چند مسائل میں امام ولی اللہ کی اپنی خاص رائے ہے جس سے یہ فلسفہ نبیوں کی شریعتوں کے حل کرنے کے لیے زیادہ موزوں بن جاتا ہے ۔اس پر انہوں نے پانچ کتابیں لکھی ہیں ۔وہ اپنے خاص نظریات بیان کرتے وقت کبھی الف سے شروع کر لیتے ہیں ،کبھی یے سے اور ایک ہی چیز ایک کتاب میں ایک نام سے بیان کرتے ہیں ،دوسری کتاب میں دوسرے نام سے ۔اس وجہ سے ان کی کتابوں کو سمجھنا کس قدر مشکل ہو جاتا ہے ۔امام صاحب کے بعد ان کے سب علوم کے ماہر، ان کے بڑے بیٹے شاہ عبدالعزیز ہوئے ہیں، شاہ عبدالعزیز کے چھوٹے بھائی شاہ رفیع الدین بھی امام صاحب کے علوم کے خاص ماہر تھے۔ان دو بزرگوں کی شاگردی سے دہلی میں عالموں کی ایک بہت بڑی جماعت پیداہو گئی جس نے افلاطون،ارسطو ،شیخ الاشراق شہاب الدین سہر وردی اور شیخ اکبر محی الدین ابن عربی کے فلسفے پر پوری نظر ڈالی اور پھر امام صاحب کے علوم کے پورے ماہر ہو گئے۔ان عالموں میں سے جو ان دونوں بزرگوں نے پیدا کئے امام صاحب کے پوتے مولانا محمد اسماعیل شہید ہیں۔انہوں نے ایک چھوٹی سی کتاب لکھی جس کا نام عبقات تھا،اس میں انہوں نے شاہ صاحب کے خاص فلسفے کو کھول کر بیان کرنے کی کوشش کی ہے اور شاہ صاحب ایک ہی چیزکے جو مختلف نام اپنی مختلف کتابوں میں لائے تھے انہیں ایک جگہ جمع کر کے دکھا دیاہے کہ کس چیزسے کیا مراد ہے۔

Key-2۔عالم مثال:
عالم مثال کیا ہے؟ایک انسان کی دماغی قوتوں پر نظر دوڑائیے،حواس کا مجموعہ کہیں اس کے دماغ میں مرکز پیدا کر لیتا ہے۔ اسے حسِ مشترک کہتے ہیں۔ اس کے بعد ایک قوت ہے جس کا نام خیال ہے۔اس کے ذریعے انسان صورتوں کو سمجھتا ہے جن میں مادے کی صفات یعنی شکل، رنگ اور مقدار(Magnitude)موجود ہومگر وہ مادہ نہ ہو۔تیسری قوت کا نام دہم ہے،اس سے انسان خاص خاص چیزوں کا ادراک کر سکتا ہے۔ اس کے بعدایک چوتھی قوت ہے جس کا نام عاقلہ ہے۔یہ ان چیزوں کا ادراک کرتی ہے جو مادے سے پاک ہوں۔سلسلہ کائنات میں ایک ایسا عالم مان لیا جائے جو ’’شخص اکبر‘‘سے وہی نسبت رکھتا ہے جو عقلی صورت ہمارے دماغ سے۔جو صورت مادے سے پاک ہو اسے عالم ارواح کہتے ہیں۔اسی طرح اس سلسلۂ کائنات میں ایک اور عالم فرض کیجئے جس کی شخص اکبر کے ساتھ وہی ہے جو خیالی صورتوں کی ہمارے دماغ کے ساتھ ہے۔اس میں شکل اور مقدار بھی پائی جاتی ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس طرف ہے یا اُس طرف لیکن مادہ نہیں ہوتااسے عالم مثال کہتے ہیں۔جو چیز ہمارے خیال میں موجود ہے اسے ہم دو طرح سوچ سکتے ہیں۔
(۱) ہم جانتے ہیں کہ وہ مثالی چیز ہے اور اسے خارجی دنیا کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔اس وقت ان چیزوں کو اصل ناموں سے یاد کرنا مجاز ہو گا حقیقتاً نہ ہوگا۔مثلاً ہم سورج کا تصور خیال میں لاتے ہیں اور پھر اس خیالی صور ت کو سورج کہتے ہیں۔یہ ویسا ہی ہے جیسے کاغذ پر شیر کی تصویر کھینچی ہو اور ہم اسے شیرکہیں۔
(۲) ہم خیالی چیزوں کا تصور کریں ،مگر ہمیں یہ تمیز نہ ہو کہ یہ خیالی ہیں۔جیسے خواب میں سمندر کو دیکھ کر ہم سمندر ہی کہتے ہیں۔اس وقت ہم یہ لفظ اس کے حقیقی اور اصلی معنوں میں استعمال کررہے ہوتے ہیں۔اسی طرح عالم مثال اگرچہ شخص اکبر کے اعتبار سے خیال کا درجہ رکھتا ہے لیکن جس شخص کی سارے شخص اکبر پر نظر نہ ہو،وہ اسے حقیقی عالم سمجھتا ہے ،یہاں تک کہ وہ اسے مادی عالم سے بھی زیادہ پائیدارپاتا ہے۔اس کے نزدیک جس قدر چیزیں مادی دنیا میں موجود ہیں وہ اصل میں تو عالم مثال میں موجود ہیں،مادی دنیا میں ان کے عکس یا سائے آئے ہوئے ہیں۔
Key-3۔تین اقسام کی مخلوق:
جن ہستیوں میں علم اور حرکت پائی جاتی ہے وہ تین قسم کی مانی جاتی ہیں:۔
(۱) کثیف مادے سے زیادہ تعلق رکھنے والی ہستیاں۔ جیسے انسان اور حیوان۔
(۲) اس کثیف مادے سے زیادہ لطیف مادے سے تعلق رکھنے والی چیزیں۔اس قسم کے مادے کو آگ (نار) کہا جاتا ہے۔نار سے پیدا ہونے والی چیزوں میں جنات ہیں۔
(۳) نہایت لطیف مادے سے پیداہونے والی مخلوق فرشتے ہیں اور لطیف مادے کو نور کہا جاتا ہے۔
Key-4۔اللہ تعالیٰ کا قانون یا سنت اللہ:
اس میں شک نہیں کہ اللہ تعالی کے بعض کام ایسے ہیں کہ جب تک بعض قوتیں، جو اس کائنات میں پیدا کی گئی ہیں اپنا کام نہ کرلیں اللہ تعالیٰ کے وہ کام عمل میں نہیں آتے۔ یعنی کائنات کی فطرت میں علت و معلول کا جو سلسلہ رکھا ہے وہ اپنا عمل کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی رعایت رکھ کرکام کرتا ہے۔اس مسئلے پر نقلی شہادت بھی موجود ہے اور عقلی بھی۔
Key-5۔روح کی حقیقت:
انسانی روح ’’انسان اکبر‘‘ کا عکس ہوتی ہے جو حظیرۃ القدس میں موجود ہے۔یہ عکس سب سے پہلے عالمِ مثال میں پیدا ہوتا ہے۔اس میں ان سب چیزوں کا نمونہ آجاتا ہے جو ’’ انسانِ اکبر ‘‘سے تعلق رکھتی ہیں۔اس کے علاوہ حظیرۃ القدس کے فرشتوں کی روحانی طاقت کا بھی پرتو آجاتا ہے۔ستاروں اور سیاروں کی جو حالتیں کائنات پراثر ڈالتی ہیں ان کا عکس بھی موجود ہوتا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ’’انسانِ اکبر‘‘ کے دل پر جو تجلی الہٰی پڑتی ہے اس کا بھی عکس آجاتا ہے۔چاہے وہ چھوٹا سا ہی کیوں نہ ہومگر آتا ضرور ہے۔
Key-6۔قانون کی پابندی:
قانون کی پابندی کا انتظام ایک جماعت کے ذریعے ہی ہوسکتا ہے اور وہ حکومت کرنے والی جماعت ہے۔ قانون کا انتظام کرنے والی جماعت کا فرض ہے کہ وہ امانت دار ہو اور اپنا فرض ادا کرنے والی ہو۔صحیح طور پر قانون کی پابندی کرانے والی جماعت کا سب سے پہلا یہ کام ہے کہ وہ قانون کی تعلیم عام لوگوں کو اس طرح دینا شروع کرے جیسے باپ اپنی اولاد کو پڑھاتا ہے۔پھر قانون کی مخالفت کرنے والوں کو سزا دینا بھی انہی لوگوں کے ہاتھوں میں ہوگا۔وہ مخالف جماعتیں یا تواس پارٹی کے اندر ہوں گی یا باہر۔ جو اندر ہوں ان کے قانون توڑنے کی سزا دینے کا نام ’’تعزیر‘‘ ہے اور جو باہر ہوں ان سے جنگ کرنی پڑے گی۔تعزیر اور جنگ دونوں میں جتنی قوت استعمال کرنا ضروری ہے اتنی ہی استعمال کرنا چاہئے۔
Key-7۔انسانی ذمہ داری :
ایسی معین چیزیں جن کی طرف اشارہ کیا جا سکے ’’اشخاص‘‘کہلاتی ہیں ۔جیسے عمرو،زیدبکر،گھوڑا،بیل وغیرہ۔اگر ’’اشخاص‘‘کی ایک جماعت میں کوئی بات ایسی ہو کہ وہ سب میں پائی جاتی ہو تو جتنے اشخاص میں وہ بات پائی جاتی ہو وہ سب مل کر نوع کہلاتے ہیں ۔جیسے زید،بکر ،عمر ووغیرہ میں ایک بات پائی جاتی ہے ،جس کے سبب انہیں انسان کہا جاتا ہے اور گھوڑوں میں بھی کچھ خوبیاں مشترکہ پائی جاتی ہیں جس کی وجہ سے انہیں گھوڑے کہا جاتا ہے ۔بس زید،بکر،عمر و وغیرہ کی ایک نوع ہے اور گھوڑوں کی دوسری نوع۔ انسانوں کی جوذمہ داریاں ہے وہ دیگر جانوروں کی نہیں لہذا ریاست کا کام اپنے شہریوں کے حقوق اور فرائض کا تعین کرنا ہے۔
Key-8۔سزا ، جزاورشرعی قانون :

اس میں شک نہیں کہ ساری کائنات مجموعی طور پر ایک وحدانی تدبیر کے ساتھ کام کر رہی ہے یعنی ساری کائنات میں قانون کا ایک ہی مجموعہ چل رہا ہے اور اس کائنات کا کوئی حصہ،کوئی جزو ،کوئی ذرہ ان قوانین کے بغیر نہیں چل سکتا۔ یہ ہی قانون باہمی کشش ہے جو کائنات کا سب نظام لیے ہوئے ہے۔سورج ہماری زمین کے ایک ایک ذرے کو اپنی روشنی اور حرارت دیتا ہے اور ہماری زمین کا ایک ایک ذرہ کائنات کے ایک ایک ذرے کو کھینچ رہا ہے۔ایسے ہی مادے کی ساخت ساری کائنات میں یکساں ہے یعنی وہمی برقیات ہیں ۔جوہماری زمین کے خاک کے ذرے کے آخری جز ہیں۔ اور وہی برقیات ہیں جو اکاش گنگا یا کہکشاں کے سب سے دور کے ستارے میں پائے جاتے ہیں۔جو ہم سے نو ہزار تین سو نوری سال کے فاصلے پر ہے ۔

Key-9۔ انسانی معاشرے میں اختلافات:
انسانی خصلتوں اور ان کے مطابق انسان جو کام کرتا ہے انہیں دو اقسام میں تقسیم کرنا چاہیے:
(۱) انسان کی خصلتوں کا ایک حصہ ایسا ہے کہ وہ لوگوں سے سیکھ کر خیال بناتا ہے ،اسی کے مطابق اس کے اندر عادتیں اور خلق پکے ہو جاتے ہیں ،وہی خلق اسے کمال پر پہنچانے کا سبب بنتے ہیں۔
(۲) انسان کی خصلتوں اور کاموں کا دوسرا حصہ وہ ہے کہ اگر انسان کو تعلیم نہ دی جائے اور وہ معمولی انسانی سوسائٹی میں رہے اور اس کے لیے ایک خاص مقصد سامنے رکھ کر تعلیم دینے کا موقع ہی پیدا نہ ہو تو بھی وہ اپنی طبیعت میں جس قدر جذبات پائے گا ان کے مطابق اپنی زندگی کا ایک پروگرام بنائے گا۔یہ حصہ زیادہ تر تبدیل نہیں ہوتا۔اس میں تعلیمی رنگ ایک حد تک اثر کرتا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انسا ن اپنی طبیعت کو بدل چکا ہے لیکن جونہی اس تعلیم کے اثر کو برباد کرنے والی قوت سامنے آتی ہے تو انسان جھٹ اپنی اصلی طبیعت پر لوٹ آتا ہے۔
Key-10۔انسانی دل میں’ خواطر‘ کی پیدائش:
انسان جن ارادوں کواپنے دل میں پاتا ہے انہی کے مطابق اسے کام کرنے کی ہمت اور آمادگی ہوتی ہے ۔ضرور ان ارادوں کے کچھ نہ کچھ اسباب ہوں گے۔انسان جب تک کسی کام کو اپنے لئے مفید نہ سمجھ لے ؛س کی قوتیں اس کے کرنے پر آمادہ ہی نہیں ہوتیں۔یہ ’’مفید سمجھنا‘‘کبھی کبھی تو فوراًہو جاتا ہے۔جیسے کسی نے کہا کہ یہ اچھی بات ہے اور اسے سن کر فوراًمان لیالیکن یہ حالت انسان کے لئے قابل تعریف نہیں ہیں ۔اس طرح کے لوگ انسانی سوسائٹی میں ادنیٰ درجے کے گنے جاتے ہیں۔کبھی ایسے انسان بھی دیکھنے میں آتے ہیں کہ انہیں کسی بات کی خوبی لاکھ سمجھاؤ وہ اسے سمجھ ہی نہیں سکتے۔یہ طبقہ بھی کسی کام کا نہیں ہے۔انسانی سوسائٹی کا وہ طبقہ جس کے کاموں سے کچھ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ انسانیت کیا ہوتی ہے وہ ان کا درمیانی طبقہ ہے۔یہ طبقہ جب تک کسی خیر کی خوبی کو خود نہ سمجھ لے اچھا نہیں سمجھتا۔جوچیز کسی کام کی خوبی منوا سکتی ہے وہ یک لخت سمجھ میں نہیں آ جاتی۔بلکہ اس کام کے متعلق پہلے چھوٹے چھوٹے خیالات پیدا ہوتے ہیں۔جیسے کسی آدمی کو کامیاب ہوتے دیکھا،اس کی طرف توجہ ہوئی تو اس چیز کے اچھا ہونے کے متعلق ایک خیال دل میں پیدا ہوااور گزر گیا۔پھر کسی سے اس چیز کے متعلق کچھ تعریفی باتیں سنیں اور پہلے کی نسبت ذرا زور دار خیال پیدا ہو گیا۔ان چھوٹے چھوٹے خیالوں کو ’’خاطر ‘‘کہتے ہیں۔(خاطر کی جمع خواطر آتی ہے)جب خواطر بار بار دل میں آتے رہیں تو انسان اس کام کو اچھا سمجھنے لگ جاتا ہے۔پھر اس کی سب قوتیں اس کام کو سر انجام دینے میں لگ جاتی ہیں ۔پس انسان کی ذہنیت کی تحلیل (Analysis)میں یہ کہنا صحیح ہو گا کہ جتنے کام انسان کرتا ہے ،ان کا قریبی سبب یہی خواطر ہوتے ہیں۔
Key-11۔انسانی روح اور اعمال:
انسان کی فطرت ایسی بنائی گئی ہے کہ جس چیز کو وہ اپنا نہیں سمجھتی اسے اپناتی بھی نہیں اور جس چیز کو وہ اپنا سمجھ لیتی ہے اس سے کسی قسم کی نفرت نہیں کرتی بلکہ اسے ساری دنیا سے اچھا جانتی ہے پھر وہ چیز انسان کی فطرت میں گھر کر لیتی ہے۔اگر کسی انسان سے پوچھا جائے کہ کیا وہ اپنی اس نفسیاتی کیفیت کی تبدیلی پر راضی ہے؟تو ہر ایک انسان کے دل سے جو فطری جواب نکلے گا ؛وہ یہی ہو گا کہ ’’نہیں‘‘۔
Key-12۔اعمال اور نفس:
انسان کے اندروہ چیز جو اپنی ہستی کو محسوس کرتی ہے اور کہتی ہے کہ ’’میں ہوں ‘‘وہی اس کے سب ارادوں اور کاموں کا مرکز ہے ۔یہ اس کی فطرت کا جزہے لیکن انسان کے اس نفس کو کسی اور چیز کے ذریعے سے معلوم کرنا مشکل ہے۔وہ اپنے آپ کو چند کاموں کے ذریعے سے ظاہر کرتا ہے چونکہ یہ سارا نظام باقاعدہ ہے اس لئے ہمیشہ ایک خاص نفسی حالت خاص قسم کی حرکتوں اور کاموں ہی سے ظاہر ہوتی ہے یہاں تک کہ اب وہ کام ان نفسی حالتوں کے گویا عنوان بن گئے ہیں ۔چنانچہ جب انسان کی ان چھپی ہوئی نفسی حالتوں کی طرف اشارہ کرنا ہوتا ہے تو اس کے سوا چارہ نہیں کہ ان کاموں کی طرف اشارہ کرنا پڑے جو ان نفسی حالتوں کے اثر سے انسان کرتا ہے لیکن ان نفسی حالتوں کو کاموں سے الگ ضرور سمجھنا چاہیے۔
Key-13۔اعمال کا پھل:
یہ بات ہمیشہ سامنے رکھنی چاہئے کہ انسان کے اعمال کا ایک سلسلہ ہے اس میں ایک درجہ علت بن جاتا ہے تو اس سے دوسرا درجہ پیدا ہوتا ہے۔پھر دوسرا درجہ تیسرے درجے کے پیدا ہونے کا سبب یا علت بنتا ہے اور یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہتا ہے۔ہر ایک درجے میں علت سے اس کا معلول پیدا ہونا لازم ہے۔اسی کو اس کام کی سزا یا جزاکہا جاتا ہے۔انسانی کام اس کے وجود کے نظام سے کچھ اس طرح صادر ہوتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کوان کاموں کا موجد سمجھتا ہے حالانکہ اصل میں ایسا نہیں ہے۔ غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ بہت سے اسباب اکٹھے ہوتے ہیں تو کہیں وہ کام وجود میں آتا ہے لیکن اس کام کے ظاہر ہونے کا سب سے قریبی سبب انسان کا ارادہ ہوتا ہے۔انسان ان دور کے اسباب کو تو بھول جاتا ہے لیکن قریبی سبب یعنی اپنے ارادے کو یاد رکھتا ہے۔
Key-14۔دنیا میں اعمال کی سزا:
انسان کی نظر کائنات پر جتنی زیادہ پڑتی ہے وہ اپنی حقیقت پر اسی کے مطابق غور کرتا ہے۔ پہلے اس کی نگاہ تھوڑی سی کائنات پڑتی ہے۔وہ اپنی ذات کے متعلق اتنے تھوڑے علم سے ہی سوچتا تھا پھر اس کی معلومات کا دائرہ زیادہ چوڑا ہوا ہو تواس نے زیادہ تجربے اور علم کے ساتھ اپنے متعلق سوچنا شرو ع کیا۔ یہ بھی صحیح ہے کہ اس ترقی کے ہر دورمیں انسان اپنے اندر ان سب قوتوں کے نمونے پاتا ہے جنہیں اس نے اپنے سے باہرکی دنیا میں پالیا ہے ۔ اس لئے یہ سمجھنا چاہئے کہ انسان اس لمبی چوڑی کائنا ت کا ایک چھوٹا سا نمونہ ہے۔
Key-15۔موت کی حقیقت:
مرکبات کی دوقسمیں ہیں۔
(۱) کیمیاوی مرکبات: ان میں دو چیزوں کے ملنے سے نئی خاصیتوں والی تیسری چیز پیدا ہوتی ہے۔جس کی خاصیتیں مرکب کے اجزا کی خاصیتوں سے الگ ہوتی ہیں۔جیسے کوئلے کے جلنے سے راکھ پیدا ہوجاتی ہے۔
(۲) امتزاجی مرکبات: ان میں دو چیزوں کے ملانے سے کوئی نئی خاصیتوں والی چیزپیدا نہیں ہوتی۔بلکہ ان چیزوں کے ملنے سے جو چیز پیدا ہوتی ہے اس کی خاصیتیں وہی ہوتی ہیں۔جو اس کے اجزاء میں پہلے ہی سے موجود تھیں ۔ جیسے پانی اور چینی کے ملنے سے شربت بن جاتا ہے۔
مرنے کے بعد کی حالت: جب انسان مرتا ہے تو یہ زمین کا مادہ یعنی انسان کا بدن اس سے چھن جاتا ہے اور اس کے چھن جانے سے اس کے نفس کو کوئی نقصان نہیں پہنچتااور نفس نطقیہ نسمے یا روح ہوائی کے مادے پر اپنی سواری قائم رکھتا ہے۔ اس کی مثال ایسی ہوتی ہوجاتی ہے جیسے ایک ماہر خوشنویس جسے لکھنے کاشوق ہو؛ اگراس کے ہاتھ کاٹ دئیے جائیں تواس میں لکھنے کی مہارت ویسی ہی قائم رہتی ہے۔دوسری مثال اس شخص کی ہے جو چلنے کا شوقین ہو۔ جب اس کے پاؤں کاٹ جائیں تب بھی اس میں چلنے کی مہارت رہتی ہے۔ تیسری مثال اس سننے اور دیکھنے والے انسان کی ہے اسے اندھا اور بہرا کردیا گیا ہو۔انسان بعض کام ایسے کرتا ہے اور بعض اخلاق ایسے حاصل کرتا ہے جو اس کے دل کی اپنی خواہش ہوتی ہے۔اب اگر اسے اپنے حال پر چھوڑدیا جائے تووہ ضرور یہ کام کرے گا اور ان کے خلاف کبھی نہیں کرسکے گا۔
Key-16۔عالمِ برزخ:
جب انسان اس دنیا میں مرجاتا ہے تو اس کا تعلق اس دنیا سے کٹ جاتا ہے۔اس کے بعد اس کی اگلی ترقی باقاعدہ سمجھنے کے لئے اس جسمانی مثال کو سامنے رکھنا چاہیے جو انسانی نطفے کے رحم میں قرار پانے کے وقت سے موت تک طاری ہوتی رہتی ہے ۔اسے آسانی سےدو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتاہے ۔
(۱) انسان کی انفرادی زندگی :
(الف) پہلا حصہ ماں کے پیٹ میں (ب) دوسرا بچپن کا زمانہ ۔
(۲) انسان کی اجتماعی زندگی یعنی ایسی زندگی جب انسان خود کام کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔
Key-17۔حشر کے واقعات:
جس طرح پانی کے قطرے مینہ کی شکل میں زمین پر برستے ہیں،پھر ایک دوسرے کے ساتھ مل کر پانی کی دھار بن جاتے ہیں،پھر آگے چل کر چھوٹی چھوٹی ندیاں بن جاتی ہیں ،یہاں تک کہ ایک دریا بن جاتا ہے،پھر چند دریاؤں سے مل کر ایک بہت بڑا دریا بن جاتا ہے ۔اس کے قریب قریب انسانی روح کی مثال ہے ۔جو اپنی اندرونی خاصیتوں کے مطابق جس جز سے زیادہ قریب ہوتی ہے ،مرنے کے بعد اس سے مل جاتی ہے۔یہ ان میں آپس کے قدرتی جذب یعنی کشش کے سبب سے ہوتا ہے۔اسی طرح یہ فرد آگے چل کر دوسرے سے تیسرے اور پھر چوتھے فرد سے ملنا شروع ہوتے ہیں۔اسی طرح ایک درجے کی صفتوں والے انسان کی ایک لمبی صف بن جاتی ہے جس میں وہ اپنے قدرتی نظام پر مرتب ہوتے ہیں۔مثلاًجس میں سو فیصد قوت ہے وہ سب سے آگے ہے۔جس میں اس سے ایک درجہ کم ہے یعنی ۹۹ فیصد ہے وہ اس سے پیچھے اور اس کے بعد ایک اور کم یعنی ۹۸ فیصدوالا۔اسی طرح ایک نمبر کم یعنی ۹۷ فیصد والا۔اسی طرح ایک نمبر کم ہوتے ہوتے ایک صف بن جاتی ہے۔پھر اس صف میں ایک نئی چیز نمایاں ہونے لگتی ہے جب تک افراد کام کرتے تھے ہر شخص محسوس کرتا تھا کہ اس کے سب کام اس کی شخصی قوت سے پیدا ہوتے ہیں۔اس صف میں شامل ہونے کے بعد ان کی شخصی قوتیں چھپنے لگتی ہیں اور ان کی سانجھی صفت جو تمام میں یکساں پائی جاتی ہے ظاہر ہونے لگتی ہے۔
خلاصہ :
زیرِ نظر کتاب ’’حجۃِ البالغہ‘‘ اسرارورموزِ شریعت ، طریقت ، معرفت اور حقیقت کو سمجھنے کی لاجواب کتاب ہے۔ اس میں مصنف نے قرآن و سنت کے تما م پیچیدہ مسائل کی گرہیں کھول کر رکھ دی ہیں۔ یہ کتاب مصنف کی مشہور کتابوں میں سے ایک ہے۔ امام غزالی کی کتاب ’’احیاء العلوم‘‘ کی طرح یہ کتاب بھی دنیا کی ان چند کتابوں میں سے ہے جو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی رہی ہیں۔اس کتاب میں مصنف نے اسلامی عقائد اور تعلیمات کی وضاحت کی ہے او ردلائل دے کر اسلامی عقائد وتعلیمات کی صداقت ثابت کی ہے۔اصل کتاب عربی میں لکھی گئی ہے لیکن اس کا اردو اور فارسی ترجمہ دستیاب ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں