38

حجاز ریلوے: سلطنت عثمانیہ کا مسلمانوں کو متحد کرنے کا منصوبہ بے یار و مددگار کیوں؟

عمان میں ایک دُھول اور مٹی سے اٹی سڑک پر سفر کرتے ہوئے ممکن ہے کہ ’حجاز ریلوے سٹیشن‘ آپ کی نظروں سے اوجھل رہ جائے۔ وہاں پہنچنے کے لیے آپ کو شہر کی اُن پُرپیچ گلیوں کو بھی نظرانداز کرنا ہو گا، جو بھول بھلیوں سے کم نہیں اور شہر کے تاریخی مرکز، پہاڑوں اور قدیم قلعے جیسی مشہور جگہوں کے اِردگرد شیطان کی آنت کی طرح پھیلی ہوئی ہیں۔
حجاز ریلوے سٹیشن تک پہنچنے کا سفر تقریباً پانچ کلومیٹر کا ہی ہے مگر ٹریفک کی وجہ اُردن کے دارالحکومت عمان میں اکثر رش ہی رہتا ہے، تو ایسے میں یہ سفر مزید طویل ہو جاتا ہے۔
ریلوے سٹیشن کے داخلی پتھر سے بنے دروازے سے داخل ہوتے ہی آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ آپ کسی اور ہی زمانے اور دنیا میں پہنچ گئے ہیں۔ یہاں بھاپ کے انجنوں کی اب بھی ریل پیل ہے۔ اس بارے میں کافی امیدیں ہیں کہ یہ ریلوے ٹریک مسلم دنیا کو یکجا کر سکتا ہے۔
حجاز ریلوے کو سنہ 1900 میں سلطنت عثمانیہ موجودہ ترکی کے سلطان عبدالحمید دوم کے حکم پر تعمیر کیا گیا تھا تاکہ حج کے لیے مکہ تک سفر کو آسان اور محفوظ بنایا جا سکے۔
اس سے پہلے زائرین اونٹوں پر قافلوں کی شکل میں مہینوں نہیں تو ہفتوں کا سفر کر کے مکہ پہنچتے تھے۔ دمشق سے مدینہ تک پہنچنے میں کم از کم 40 دن لگتے اور بہت سے زائرین راستے میں خشک صحراؤں اور سخت پہاڑوں کی وجہ سے جان کی بازی ہار جاتے۔ مگر ریلوے کی تعمیر نے 40 دن کا یہ سفر مختصر کر کے صرف پانچ دن کر دیا۔
اس پراجیکٹ کے تحت ریلوے لائن کا دمشق، مدینہ سیکشن مکمل ہونے کے بعد اس ریلوے لائن کو شمال میں عثمانی دارالحکومت قسطنطنیہ اور جنوب میں مکہ تک پھیلانا منصوبے میں شامل تھا۔ لیکن مذہب اسلام کے لیے اس ریلوے سٹیشن کی اہمیت یہیں ختم نہیں ہوتی۔
اُس وقت نقل و حمل کے اس غیر معمولی منصوبے کو مکمل کرنے کے لیے مالی اعانت مکمل طور پر مسلمانوں کے عطیات، عثمانی ریاست کے محصولات اور ٹیکسوں سے ہوتی تھی اور اس میں کسی قسم کی غیر ملکی سرمایہ کاری شامل نہیں تھی۔
اور یہی وجہ ہے کہ آج بھی اس راستے کو ’وقف‘ سمجھا جاتا ہے: یعنی ایک ایسا اثاثہ جو تمام مسلمانوں کا مشترکہ ہے۔
اُردن میں حجاز ریلوے کے ڈائریکٹر جنرل عظمی نالشک کہتے ہیں کہ ’یہ کسی ملک کی ملکیت نہیں، یہ کسی شخص کی ملکیت نہیں۔ یہ دنیا کے تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے۔ یہ ایک مسجد کی طرح ہے اور اسے فروخت نہیں کیا جا سکتا۔‘
عظمی نالشک کہتے ہیں کہ ’دنیا کا کوئی بھی مسلمان حتیٰ کہ انڈونیشیا اور ملائیشیا سے آنے والا مسلمان بھی، آ کر یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ اس میں میرا حصہ بھی ہے۔‘
سلطان عبدالحمید دوم کے لیے مسلم دنیا کو متحد کرنا صرف ایک روحانی ضرورت نہیں تھی بلکہ اس کے عملی فوائد بھی تھے۔ ریلوے کی تعمیر سے قبل پچھلی چند دہائیوں کے دوران، حریف سلطنتیں عثمانی سرزمین سے کافی دور ہو چکی تھیں۔
فرانسیسیوں نے تیونس پر قبضہ کر لیا تھا، انگریزوں نے مصر، رومانیہ، سربیا پر حملہ کیا اور مونٹی نیگرو نے آزادی حاصل کی۔
عثمانی دنیا کے لوگوں کو آپس میں جوڑ کر سلطان عبدالحمید دوم ناصرف مسلمانوں کو بلکہ اپنی سلطنت کو بھی متحد کرنا چاہتے تھے لیکن ایسا ہو نہیں سکا۔
سنہ 1908 میں پہلی ٹرین دمشق سے مدینہ تک چلی اور اگلے ہی سال سلطان کا تختہ الٹ دیا گیا۔
آج سلطنت عثمانیہ ماضی کا حصہ بن چکی ہے۔ اسی طرح وہ سرحدیں، جو کبھی اس راستے کی خاص بات تھیں، اب پانچ ممالک (ترکی، شام، اردن، اسرائیل اور سعودی عرب) میں بٹ چکی ہیں۔
سنہ 1914 تک ہر سال تین لاکھ مسافروں کو سفر کی سہولت فراہم کرنے کے باوجود حجاز ریلوے کا عروج صرف ایک دہائی تک ہی جاری رہا۔
پہلی جنگ عظیم میں جب ترک فوج نے اسے استعمال کرنا شروع کیا تو برطانوی افسر ٹی ای لارنس (جنھیں لارنس آف عریبیہ‘ کا لقب دیا گیا) اور عرب بغاوت کے دوسرے سپاہیوں نے اس پر حملہ کیا۔

جنگ کے بعد جب انگریزوں اور فرانسیسیوں نے مشرقی بحیرہ روم میں لیونٹ کے علاقے کی بحالی کی تو مسلمانوں کو متحد کرنے والے اس ریلوے کو برقرار اور بحال رکھنا ان کی اولین ترجیح تھی کیونکہ اس ریلوے لائن کا بیشتر حصہ اس وقت تک خراب ہو چکا تھا۔
آج بھاپ کے ’رنگین لیکن خاموش‘ انجن عمان میں ریلوے کے مرکزی سٹیشن پر بیکار کھڑے ہیں۔
یہاں پر موجود میوزیم میں اس ریلوے سے منسلک مختلف چیزیں جیسے پرانے ٹکٹ، تصاویر اور لالٹینیں رکھی گئیں ہیں۔ 20ویں صدی کے اوائل میں بحال کی گئی ایک بو گی، عالیشان مخملی کرسیاں اور سنہری لیمپ آج بھی اس دور کی خوشحالی کا احساس دلاتی ہیں۔
سکالر شیخ علی عطنطوی نے اس ریلوے لائن کے غیر فعال ہونے کے بعد لکھا تھا کہ ’حجاز ریلوے کی کہانی ایک حقیقی المیہ ہے۔ وہاں لائن موجود ہے لیکن کوئی ٹرین نہیں چلتی۔۔۔ سٹیشن موجود ہیں لیکن کوئی مسافر نہیں۔‘
لیکن یہ محض ختم ہوتی امیدوں اور کوتاہی کی ہی کہانی نہیں۔ گزرے کئی برسوں مں اس کے چند حصوں کو دوبارہ بحال کیا گیا۔
اسرائیل نے سنہ 2016 میں حیفہ سے بیت شیان تک اس ریلوے لائن کے دوبارہ تعمیر شدہ حصے کو فعال کیا۔
سنہ 2011 میں یہ ریلوے لائن عمان سے دمشق تک چلی بھی تھی اور اسے اتنی مقبولیت حاصل ہوئی کہ بہت سے مقامی لوگوں نے حیرت سے کہا کہ کیسے وہ ’ویک اینڈ‘ پر شام جانے کے سفر سے لطف و اندوز ہوئے۔
اُردن میں آج بھی اس ریلوے لائن کے دو حصوں تک عوام کو رسائی حاصل ہے۔ یہاں پر صرف گرمیوں میں چلنے والا بھاپ کا انجن ہے جو بنیادی طور پر سیاحوں کے لیے ہے اور یہ وادی رم کے صحرا سے گزرتا ہے: وہی لائن جس پر لارنس آف عربیہ نے ایک بار حملہ کیا تھا۔
اس کے علاوہ یہاں ایک ہفتہ وار ٹرین بھی ہے جو پورا سال عمان سے الجزہ سٹیشن تک چلتی ہے اور جسے زیادہ تر مقامی لوگ تفریح ​​کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں