61

جہانگیر پوری فسادات: دلی میں ہندوؤں کے جلوس کے دوران تشدد کا واقعہ، پولیس کا ’دونوں اطراف کے لوگ‘ گرفتار کرنے کا دعویٰ

انڈیا کے مرکزی شہر دلی کے جہانگیر پوری علاقے میں سنیچر کو ہندوؤں کے ہنومان جینتی جلوس کے دوران پُرتشدد واقعے کے بعد سے حالات بدستور کشیدہ ہیں۔
اس معاملے میں پولیس نے اب تک 23 افراد کو گرفتار کیا ہے جن میں سے دو نابالغ ہیں۔ گرفتار ہونے والوں میں سے 14 کو اتوار کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ہندو مسلم فسادات کے اس واقعے میں دونوں فریقین کے ہاتھوں میں ہتھیار دکھائی دے رہے ہیں اور تشدد میں ملوث تمام عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
اس واقعے سے متعلق ایک ویڈیو کی بنیاد پر دلی پولیس نے سونو شیخ، الیاس یونس اور الیاس امام کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ویڈیو میں سونو گولیاں چلاتا نظر آ رہا ہے۔
دلی کے پولیس کمشنر نے جہانگیر پوری کی مسجد پر بھگوا (زعفرانی) پرچم لگانے کے الزام کی تردید کی ہے۔ عینی شاہدین کا دعویٰ ہے کہ واقعے میں فریقین کی جانب سے ایک دوسرے پر پتھراؤ کیا گیا۔
’بغیر اجازت جلوس نکالا گیا‘
خود دلی پولیس نے اعتراف کیا ہے کہ جہانگیر پوری میں جلوس کے لیے انتظامیہ سے ضروری اجازت نہیں لی گئی تھی۔
دلی پولیس کے سپیشل سی پی (لا اینڈ آرڈر) دیپندر پاٹھک نے ایک نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’سونو شیخ، الیاس یونس اور الیاس امام۔ انھیں ویڈیو میں پولیس اور دیگر لوگوں پر گولی چلاتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ دو دن تک تفتیش کے بعد، ہم نے انھیں گرفتار کر لیا ہے۔‘
دیپندر پاٹھک نے کہا کہ ’اس دن تین یاترائیں نکالی گئی تھیں۔ دو جلوسوں کو اجازت دی گئی تھی، ایک صبح گیارہ بجے اور دوسرا دو بجے۔ لیکن تیسرا جلوس جو جہانگیر پوری میں نکلا اسے اجازت نہیں دی گئی تھی۔‘
’اس جلوس کی درخواست ایک دن پہلے شام کو تھانے کو دی گئی تھی اور اسے اجازت نہیں مل سکی تھی۔‘
پیر کی دوپہر تک یہ کہا جا رہا تھا کہ جلوس کے منتظمین کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی۔ دیپندر پاٹھک نے ایک نیوز چینل کو بتایا کہ منتظمین کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے لیکن انھیں اس تفتیش کا حصہ بنایا گیا ہے۔
تاہم پیر کی شام کو میڈیا رپورٹس سامنے آئیں کہ منتظمین کے خلاف اجازت کے بغیر جلوس نکالنے پر ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق شمال مغربی دلی کی ڈی سی پی اوشا رنگنانی کو بتایا گیا کہ 17 مارچ کو تیسرے جلوس کے منتظمین کے خلاف سرکاری ملازم کے حکم کی خلاف ورزی کرنے پر آئی پی سی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
مسجد میں کوئی داخل نہیں ہوا: دلی پولیس
سوشل میڈیا پر کچھ پیغامات میں کہا جا رہا تھا کہ جہانگیر پوری کے سی بلاک میں واقع مسجد پر بھگوا (زعفرانی) جھنڈا لگانے کی کوشش کی گئی۔ لیکن دلی پولیس نے اسے مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔
ایک نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے سپیشل سی پی دیپندر پاٹھک نے کہا کہ کسی نے مسجد میں داخل ہونے کی کوشش نہیں کی۔
دلی پولیس کمشنر راکیش استھانہ نے بھی مسجد پر بھگوا جھنڈا لگانے کے دعوؤں کی تردید کی ہے۔
پولیس پر ایک مخصوص مذہب کے خلاف کارروائی کا الزام
دلی پولیس پر ایک خاص مذہب کے خلاف کارروائی کرنے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ جب پولیس کے کمشنر راکیش استھانہ سے یہ سوال پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ ’ہم ہر طرح کے فرانزک ثبوتوں کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ ہم نے جتنے لوگوں کو گرفتار کیا ہے ان میں دونوں اطراف کے لوگ ہیں۔
’تحقیقات میں جس کے خلاف ثبوت ملے گا اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ پولیس پر یہ الزام بالکل غلط ہے۔‘
پولیس کے مطابق تصادم کب شروع ہوا؟
راکیش استھانہ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ اس پورے معاملے میں نو لوگ زخمی ہوئے ہیں جن میں آٹھ پولیس اہلکار اور ایک عام شہری ہے۔ ’اس سے یہ واضح ہے کہ پولیس نے دونوں فریقین کو ایک دوسرے سے دور کیا اور عام لوگوں کو چوٹ پہنچنے سے بچایا۔‘
پولیس کے مطابق مجموعی طور پر 23 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں سے آٹھ ایسے ہیں جن کا ماضی میں مجرمانہ ریکارڈ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’سی سی ٹی وی اور ڈیجیٹل فوٹیج کی جانچ جاری ہے جس کی بنیاد پر مزید لوگوں کو گرفتار کیا جائے گا۔ تین ہتھیار برآمد کیے گئے ہیں۔ کیس کو اب کرائم برانچ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’فرانزک ٹیم نے جائے وقوعہ کی جانچ کی ہے، مزید شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں، اس کیس کی ہر زاویے سے تفتیش کی جائے گی، سوشل میڈیا کی پوسٹس کو بھی دیکھا جائے گا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ جو بھی اس میں کسی نہ کسی طرح ملوث رہا ہو وہ بچ نہ سکے۔‘
راکیش استھانہ نے کہا کہ دونوں فریقین کی وائرل ویڈیوز سامنے آ چکی ہیں۔ ’دونوں (فریقین) کے ہاتھوں میں ہتھیار دکھائی دے رہے ہیں۔ تشدد میں ملوث تمام فریقوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔‘
دلی پولس کی اب تک کی جانچ پر جو سوالات اٹھائے جا رہے ہیں ان میں سے کچھ یہ ہیں کہ کیا جلوس میں تلواریں لہرانے والے لوگوں کے خلاف کوئی کارروائی کی جا رہی ہے؟
اگر یہ جلوس پولیس کی اجازت کے بغیر نکالا گیا تھا تو انھوں نے اسے نکلنے سے پہلے کیوں نہیں روکا؟ آخر یہ جلوس حساس علاقے میں کیسے پہنچا؟ عام طور پر اتنے بڑے جلوس کو بغیر اجازت شروع ہی نہیں ہونے دیا جاتا۔ ابھی ان سوالوں کے جواب آنا باقی ہیں۔
جہانگیر پوری فسادات کے عینی شاہدین نے کیا دیکھا؟
جلوس میں شامل ایک شخص گوریشنکر گپتا نے بتایا تھا کہ جہانگیر پوری کی ایک مسجد کے قریب جلوس کے شرکا پر پتھر برسائے گئے۔ جلوس کے منتظم سکھین سرکار کہتے ہیں ان کے پاس کوئی ہتھیار نہیں تھے۔ وہ پوچھتے ہیں کہ ’کیا آپ کو معلوم ہے جے شری رام ( کے نعرے سے) کون لوگ جلتے ہیں؟ وہ زعفرانی رنگ سے جلتے ہیں؟‘
مگر یہاں کے علاقہ مکین اس بات کو جھوٹ کہتے ہیں۔
مسجد کے امام محمد صلاح الدین نے بتایا کہ مسجد پر حملہ کیا گیا تھا۔ ’یاترا میں شامل لوگوں نے پہلے پتھر برسانا شروع کیے اور اس کے جواب میں (علاقہ مکینوں نے) ان پر پتھر برسائے گئے۔‘
رہائشی شہادت علی کہتے ہیں کہ انھوں نے افطار کے وقت دیکھا کہ جلوس کے شرکا نے ہاتھوں میں تلواریں اٹھائی ہوئی ہیں اور وہ ’جے شری رام‘ کے نعرے بلند کرتے ہوئے مسجد میں داخل ہو رہے ہیں۔
دریں اثنا دلی کی حکمران جماعت آپ (عام آدمی پارٹی) نے الزام لگایا ہے کہ جہانگیر پوری فسادات کے اہم ملزم انصار بی جے پی کے رہنما ہیں تاہم بی جے نے اس الزام کو مسترد کیا ہے۔
عام آدمی پارٹی نے کہا ہے کہ ’ملزم انصار بی جے پی کا لیڈر ہے اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پارٹی نے ہی ہنومان کے یومِ پیدائش کے مقدس موقع پر فساد کروائے ہیں۔‘
نیوز چینل آج تک کے ساتھ بات چیت میں بی جے پی کے ترجمان پرین شکلا نے ان ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔
بی جے پی نے الزام لگایا ہے کہ ماضی میں دلی کی حکومت نے جہانگیر پوری علاقے میں روہنگیا اور بنگلہ دیشی مسلمانوں کو آباد کیا تھا تاہم بعض حلقے
دلی میں شمال مغرب کا علاقہ جہانگیر پوری قریب 47 سال قبل 1975 میں قائم کیا گیا تھا۔ یہاں مختلف علاقوں سے آئے پناہ گزینوں کی آبادیاں قائم کی گئی تھیں جن کا تعلق اتر پردیش، بہار، راجستھان اور مغربی بنگال سے تھا۔
جہانگیر پوری میں ہندو اور مسلم دونوں برادریوں کے لوگ رہتے ہیں۔ ہندوؤں کی ایک بڑی آبادی خاص طور پر دلت یہاں آباد ہے۔ ماضی میں بھی یہاں ہندو مسلم فسادات ہوچکے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں