jhoot quran o hadith ki roshni main 80

جھوٹ( قرآن واحادیث کی روشنی میں). حافظ محمد جمیل (ریسرچ سکالر ، دارالعلوم جامعہ نعیمیہ اسلام آباد)

(جھوٹ ( قرآن واحادیث کی روشنی میں

(حافظ محمد جمیل (ریسرچ سکالر ، دارالعلوم جامعہ نعیمیہ اسلام آباد

اگر اسلام کی تعلیمات اور اپنے اعمال کا جائزہ لیں تو بہت سے اعمال ایسے ہیں جن کے بارے میں شریعت کی جانب سے تو بہت پکڑ ہے لیکن ہم نے ان کو گناہ سمجھنا ہی چھوڑ دیا ہے۔ان میں سے ایک’ جھوٹ بولنا ‘ہے ۔ جو ہماری معاملاتی زندگی کا جزو بن چکا ہے۔ گلیوں میں چکر لگانے والا چھوٹا سا  سبزی فروش ہو یا بڑے سے بڑا سیاست دان، جھوٹ کا سہارا لیے بغیر اپنے حقیقی کامیابی کو ناکامی تصور کرتا ہےالا ما شاء اللہ۔ معاشرے کا معیار بھی کچھ ایسا ہی ہوتا جا رہا ہے ۔

قرآن حکیم کی تعلیمات کو دیکھیں تو جھوٹ بولنے پر بہت وعیدیں بیان ہوئی ہیں۔

سورہ البقرہ کی آیت 10 میں جھوٹ بولنے والوں کو درد ناک عذاب کی وعید سنائی گئی ہے، جیسا کہ فرمان باری ہے۔

فِىْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ   ۙ   فَزَادَھُمُ اللّٰهُ مَرَضًا    ۚ   وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌۢ       ڏ   بِمَا كَانُوْا يَكْذِبُوْنَ

ترجمہ:ان کے دلوں میں بیماری ہے تو اللہ نے ان کی بیماری کو زیادہ کر دیا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے کیونکہ وہ جھوٹ بولتے تھے۔

سورہ النحل کی آیۃ 116 میں جھوٹ سے منع کرتے ہوئے جھوٹوں کے لئے بھلائی سے دوری و محرومی کا بتایا گیا ہے ، جیسا کہ فرمان رب العزت ہے ۔

وَلَا تَــقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ ھٰذَا حَلٰلٌ وَّھٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ  ۭ  اِنَّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُوْنَ    

ترجمہ:اور یونہی جھوٹ موٹ مت کہہ دیا کرو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے اور یوں اللہ پر جھوٹ بہتان باندھنے لگو ایسے لوگوں کا بھلا نہیں ہوگا۔

سورہ الکہف کی آیۃ 5 میں جھو ٹ بولنےکو یہودیوں کی صفت بیان کیا گیا ہے، فرمان الہی ہے ۔

مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ وَّلَا لِاٰبَاۗىِٕهِمْ ۭ كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ ۭ اِنْ يَّقُوْلُوْنَ اِلَّا كَذِبًا

ترجمہ:انہیں اس کے بارے میں کچھ بھی علم نہیں اور نہ ہی ان کے آباء و اَجداد کو تھا بہت بڑی بات ہے جو ان کے مونہوں سے نکل رہی ہے وہ نہیں کہتے مگر سرا سر جھوٹ

سورۃ الحج کی آیۃ 30 میں اللہ تعالیٰ نے بتوں کی پوجا جیسے گناہ کےساتھ جھوٹ کے گناہ کا ذکر کرتے ہوئے اس سے باز رہنے کا حکم دیا ہے

فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ 
ترجمہ :تو بتوں کی پلیدی سے بچو اور جھوٹی بات سے اجتناب کرو۔

جھوٹ بولنے والوں کے لئے ہلاکت کا ذکر ہو ا ہے

قُتِلَ الْخَــرّٰصُوْنَ

ترجمۃ:ظنّ وتخمین سے جھوٹ بولنے والے ہلاک ہوگئے۔

جھو ٹ احادیث کی روشنی میں

1۔ جھوٹ بولنے کو منافق کی  نشانی کہا  گیا ہے۔

حضور اکرمﷺ نے فرمایا۔ جس میں یہ چار باتیں ہوں گی۔ وہ منافق خالص ہے (یعنی منافق عملی ہے اور جس میں ان خصائل میں سے ایک ہو گی۔ اس میں ایک خصلت نفاق عملی کی پائی جائے گی۔ حتیٰ کہ اس کو ترک کر دے۔جب امانت رکھی جائے خیانت کرے۔ جب بات کرے جھوٹ بولے جب وعدہ کرےوعدہ خلافی کرے اور جب جھگڑے تو گالی دے۔

2۔ جھوٹ بولنے والا اگر روزہ دار ہے تو اس کےجھوٹ کی وجہ سے اس کے روزے کے اجر کے ضائع ہونے کا کہا گیا ہے

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ

ترجمہ: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی شخص جھوٹ بولنا اور دغا بازی کرنا ( روزے رکھ کر بھی ) نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔ (صحیح بخاری: 1903 )

3۔ کاروباری معاملات میں جھوٹ کو  برکت کے ختم ہونے کی وجہ اور سچ کو برکت کے قائم ہونے کی وجہ بیان کیا گیا ہے ۔

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا أَوْ قَالَ حَتَّى يَتَفَرَّقَا فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا بُورِكَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا وَإِنْ كَتَمَا وَكَذَبَا مُحِقَتْ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا

ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، خریدنے اور بیچنے والوں کو اس وقت تک اختیار ( بیع ختم کردینے کا ) ہے جب تک دونوں جدا نہ ہوں یا آپ نے ( مالم یتفرقا کے بجائے ) حتی یتفرقا فرمایا۔ ( آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید ارشاد فرمایا ) پس اگر دونوں نے سچائی سے کام لیا اور ہر بات صاف صاف کھول دی تو ان کی خرید و فروخت میں برکت ہوتی ہے لیکن اگر کوئی بات چھپا رکھی یا جھوٹ کہی تو ان کی برکت ختم کر دی جاتی ہے۔ (صحیح بخاری: 2079)

4۔ رسول اللہ ﷺ نے  اپنے ایک فرمان میں جھوٹ کو برائی کا سبب اور برائی کو جہنم میں لے جانے والا سبب قرار دیا ہے۔

قال : ‏‏‏‏ ”إن الصدق يهدي إلى البر وإن البر يهدي إلى الجنة وإن الرجل ليصدق حتى يكون صديقا وإن الكذب يهدي إلى الفجور وإن الفجور يهدي إلى النار وإن الرجل ليكذب حتى يكتب عند الله كذابا.

ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”بلاشبہ سچ آدمی کو نیکی کی طرف بلاتا ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے اور ایک شخص سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ صدیق کا لقب اور مرتبہ حاصل کر لیتا ہے اور بلاشبہ جھوٹ برائی کی طرف لے جاتا ہے اور برائی جہنم کی طرف اور ایک شخص جھوٹ بولتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ کے یہاں بہت جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔(صحیح بخاری:6094)

5۔ رسول اللہ ﷺ نے جھوٹ چھوڑنے دینے والے کے لئے جنت کے درمیان میں گھر کی بشارت عطا کی ہے۔

‏‏‏‏ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ‏‏‏‏ انا زعيم ببيت فى ربض الجنة لمن ترك المراء وإن كان محقا وببيت فى وسط الجنة لمن ترك الكذب وإن كان مازحا وببيت فى اعلى الجنة لمن حسن خلقه

ترجمہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں اس شخص کے لیے جنت کے اندر ایک گھر کا ضامن ہوں جو لڑائی جھگڑا ترک کر دے، اگرچہ وہ حق پر ہو، اور جنت کے بیچوں بیچ ایک گھر کا اس شخص کے لیے جو جھوٹ بولنا چھوڑ دے اگرچہ وہ ہنسی مذاق ہی میں ہو، اور جنت کی بلندی میں ایک گھر کا اس شخص کے لیے جو خوش خلق ہو۔(ابوداؤد: 4800)

6۔ رسول اللہ ﷺ نے سخت وعید بیان فرمائی ہےاس کے لئے  جو صرف لوگوں کو ہنسانے کے لئے جھوٹ بولتا رہتا ہے جو کہ عموما ہمارا مزاج بن چکاہے

حدثنا مسدد بن مسرهد حدثنا يحيى عن بهز بن حكيم قال : ‏‏‏‏ حدثني ابي عن ابيه قال : ‏‏‏‏ سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : ‏‏‏‏ ويل للذي يحدث فيكذب ليضحك به القوم ويل له ويل له

ترجمہ : معاویہ بن حیدہ قشیری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : تباہی ہے اس کے لیے جو بولتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے تاکہ اس سے لوگوں کو ہنسائے، تباہی ہے اس کے لیے، تباہی ہے اس کے لیے۔(سنن الترمذی)

7۔ آج عموما والدین بچوں کو راضی کرنے کے لئے جھوٹ موٹ کے سہارے دیتے رہتے ہیں اس حوالے سے رسول اللہ کے اس  فرمان کوملحوظ رکھنا چاہیے

عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف فرما تھے کہ اس اثنا میں میری والدہ نے مجھے بلایا کہ ادھر آؤ، میں تمہیں کچھ دوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم اسے کیا دینا چاہتی ہو؟

اس نے کہا میں اسے کھجور دوں گی، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

خبردار! اگر تم اسے کچھ نہ دیتیں تو یہ بات تمہارے حق میں جھوٹ لکھی جاتی۔(ابو داؤد)

8۔ ایک حدیث مبارکہ میں زندگی میں پائی جانے والی بے سکونی اور بے اطمینانی کی وجہ جھوٹ کو قراردیا گیا ہے

حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا

دع ما يريبك ، إلى ما لا يريبك إن الصدق طمانينة وأن الكذب ريبة

ترجمۃ:مشکوک بات کو ترک کر کے بغیر شک والی بات کو اختیار کرو۔ بےشک سچائی میں اطمینان اور جھوٹ میں بےسکونی اور بے اطمینانی ہے۔(سنن الترمذی)

جھوٹ  کے خلاف کثرت سے آیات و احادیث وارد ہوئی ہیں۔ جھوٹ کوتمام برائیوں کی جڑ کہا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس گناہ کبیرہ سے محفوظ فرمائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں