mufti gulzar ahmed naeemi 85

جواز التوسل والاستغاثہ. از:مفتی گلزا ر احمد نعیمی

جواز التوسل والاستغاثہ
از:مفتی گلزا ر احمد نعیمی (مرکزی صدر جماعت اہل حرم پاکستان، پرنسپل جامعہ نعیمیہ اسلام آباد)

توسل اور طلب امداد پر گفتگو کرنے سے پہلے میں اپنے معزز قارئین کی خدمت میں عرض کرونگاکہ عربی میں التوسل(وسیلہ طلب کرنا)، استغاثہ(مدد طلب کرنا)،استمداد (مدد طلب کرنا)، الاستفتاح(فتح طلب کرنا ) ، التوجہ(توجہ طلب کرنا)، التبرک(برکت حاصل کرنا) یہ سب الفاظ توسل اور استغاثہ کے مفہوم کے لیے ہی استعمال ہوتے ہیں ۔ توسل اور استغاثہ بالکل جائز اور درست عمل ہے ۔
یہ ایک ایسا عمل ہے جو قبل از اسلام بھی اہل مذہب میں رائج تھا اور سرکار دوعالم ، نور مجسم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مبارک حیات طیبہ میں بھی یہ سلسلہ جاری رہا ہے اور آپ کی وفات کے بعد بھی صحابہ کرام ،تابعین اور تبع تابعین اور بعد میں آنے والی امت کے علماء اور فقہاء نے اس کو مستحب امر قرار دیا ہے اور ہنوزیہ سلسلہ جاری ہے ۔ صحابہ کرام میں سے کسی نے توسل اور استغاثہ سے منع نہیں فرمایا ۔ آٹھویں صدی تک اہل اسلام اور سلف صالحین اور ان کے بعد آنے والے قابل قدر متأ خرین اس کے جواز کا قولاًعملاًاقرار کرتے رہے ہیں ۔بلکہ اس پر علماء نے بہت کتب تصنیف فرمائی ہیں ۔ محدثین، فقہاء اور علمائے تاریخ سب نے اس پر کلام کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان سب کی قبور کو بقع نور بنائے ۔(آمین)
توسل کا معنی:
توسل یا وسیلہ لغوی اعتبار سے کچھ یوں بیان کیا گیا ہے ’’الوسیلۃُ ھِیَ فیِ الْا َصْل مَا یُتَوَصَّلُ بِہٖ اِلیَ الشّییْ وَیُتَقَرَّبُ بِہٖ۔ ترجمہ: وسیلہ اصل میں وہ چیز ہے جس کے ذریعے کسی چیز کو ملا جا سکے اور قربت حاصل کی جاسکے ۔(۱)
شرعی طور پر ہم توسل دعا کے ذریعے کرتے ہیں جیسے ہم میں سے کوئی شخص کسی مرد صالح کی خدمت میں حاضر ہو کر دعاء کی درخواست کرے جیسا کہ صحابہ کرام بارگاہ نبوت میں حاضری دیکر مختلف حاجات کے حوالے سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے دعائیں کرایا کرتے تھے۔ اسی طرح توسل اپنے اعمال اور عبادات کے ذریعے بھی کیا جاتا ہے جو قرب خداوندی کا باعث بنتا ہے اور حاجت برائی میں معاون ہوتا ہے ۔ ان دونوں صورتوں کے علاوہ ایک تیسری اور اہم صورتِ توسل یہ ہے کہ کسی مقرب خداکی ذات کو وسیلہ بنا کر اپنی حاجت بارگاہ خداوندی میں پیش کی جائے۔
توسل کے حوالہ سے مندرجہ بالا تینوں صورتوں کو جائز اور مستحسن قرار دیا گیا ہے۔ امام قسطلانی کی مواہب الدنیہ ہو یا حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی حجۃ اللہ البالغہ ہو حتیٰ کہ علمائے دیوبند کی متفقہ کتاب المحند علی المفند بھی توسل کی مذکورہ تینوں صورتوں کو جائز قرار دیتی ہے ۔

توسل کی نوعیت :یہ بات ذہن نشیں رہنی چاہیے کہ توسل اور استغاثہ کے مسائل فروعی ہیں اصولی نہیں ہیں ۔ اسی وجہ سے ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے علماء نے ان مسائل کو عقائد کے باب میں ذکر نہیں کیا ۔ فقہاء نے اپنی کتابوں میں زیادہ تر انہیں کتاب الحج میں ذکر کیا ہے ۔ توسل کا تعلق عقیدہ یا توحید سے نہیں ہے ۔توسل کرنے والے یانہ کرنے والے کی صرف اس بنیا د پر تکفیر نہیں کر سکتے کہ وہ توسل کرتا ہے یا نہیں کرتا۔یہ بات میں نے اس لیے کہی ہے کہ ہمارے کچھ متشددین توسل کرنے والوں پر شرک کا فتویٰ لگاتے ہیں اور توسل کرنے والے نہ کرنے والوں کے ایمان پر شک کرتے ہیں ۔ یاد رکھیں اس کا ایمانیات سے تعلق نہیں ہے ۔ یہ امر مستحب ہے اور اسے درجہ استحباب میں ہی رہنا چاہیے ۔اسی وجہ سے اس میں اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہمارے علماء پر رحم فرمائے جنہوں نے دین کی ہر چیز کو کھول کھول کر بیان کر دیا ہے اور بعض امور میں ایک دوسرے کے ساتھ اختلاف بھی کیا ہے ، یہ اختلاف کسی عناد کی وجہ سے نہیں بلکہ خوب سے خوب تر کے اظہار کے لیے ہے ۔ جسے رحمت قرار دیا گیا۔ ان فروعی اختلافا ت میں ایمان برحال سلامت رہتا ہے جبکہ عقیدہ کا اختلاف بہت ہی خطر ناک ہے جو انسان کو کفر تک لے جاتا ہے۔ اسی لیے امام شافعی علیہ الرحمۃ نے فرمایا کہ جس نے فروعات میں خطاء کی ا س نے خطاء کی اور جس نے عقائد میں خطاء کی اس نے کفر کیا ۔ اس لیے توسل کو عقیدے کے ساتھ نہیں ملا نا چاہیے ۔ اگر ہم اس نقطہ کو سمجھ جائیں تو ہم بہت سے خیر کے پہلوئوں کی طرف لوٹ سکتے ہیں ۔ ماضی قریب میں بہت سی مقدس ہستیوں کے مزارات کی بے حرمتی کی گئی اور بہت سے مزارات کو محض اس لیے بم دھماکوں سے اڑا دیا گیا کہ یہاں متوسلین آکر دعائیں مانگتے ہیں اور صاحبان مزارات کا توسل کرتے ہیں۔ اگر متشددین کو یہ بات سمجھ آجاتی کہ توسل عقیدے کے باب سے نہیں ہے اور متوسلین صاحب مزار کوکبھی بھی خدا نہیں سمجھتے تو وہ ان مزارات کی بے حرمتی نہ کرتے ۔
میں نے گزشتہ سطور میں یہ عرض کیا ہے کہ توسل کا طریقہ اسلام سے قبل سے جاری ہے سرکار صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے زمانے میں بھی جاری رہا اور بعد میںصحابہ اور تابعین اور صلحائے امت نے اس طریقہ کو جاری رکھا کہ یہ تو سل نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی قربت و محبت کا بہت ہی مضبوط ذریعہ ہے ۔ اس لیے اس پر کسی کا اختلاف نہیں تھا حتیٰ کہ سات سو سال تک یہ عمل بلا اختلاف جاری رہا کسی نے اس سے منع نہیں کیا ۔ اس امت میں سب سے پہلے توسل اور استغاثہ کے عدم جواز کا قول کرنے والے شیخ ابن تیمیہ ہیں۔ عظیم شافعی فقہی محدث اور قابل قدر صوفی بزرگ امام تقی الدین سبکی رحمتہ اللہ علیہ اپنی معروف کتاب شفاء السقام میں فرماتے ہیں ’’ جان لو کہ توسل ، استغاثہ اور طلب شفاء نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف جائز اور احسن ہے، اور اس کا جواز اور اسکا احسن ہونا ہر صاحب دین کے لیے امور معلومہ میں سے ہے اور یہ انبیاء مرسلین اور سلف صالحین کی سیر اور علماء کرام اور عوام میں معروف فعل ہے۔ اہل ادیان میں سے کسی نے اسکا انکار نہیں کیا اور نہ ہی منع کیا۔ جب ابن تیمیہ کا وقت آیا تو اس نے اس بارے میں ایسا کلام کیا جو کمزور دلائل اور گمراہی کے لباس میں ظاہر ہوا اور ایسے کا م کی ابتداء کی جسکی ابھی کسی کو ہوا بھی نہیں لگی تھی، ابن تیمیہ کے توسل اور استغاثہ کا انکار ایسا قول ہے کہ اس سے پہلے ایسی بات کسی عالم نے نہیں کی۔ اور یہ توسل ایسی چیز ہے کہ جسکا مسلمانوں نے انکار نہیں کیا‘‘(۲)
جلیل القدر محدث و فقہی علامہ احمد بن الحجر الھیثمی نے اپنی کتاب جواہر المنظم میں لکھا ہے ’’ ابن تیمیہ جیسے خرافات ان سے پہلے کسی عالم نے نہیں کیے یا اہل اسلام اس راستہ پر چلے ہوں جس میں انہوں نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے وسیلے کا انکار کیا ہو۔ یہ ایسی بات نہیں ہے کہ جس پر فتوٰی یا حکم لگایا جائے ۔ بلکہ توسل ہر حال میں حسن ہے مخلوق سے پہلے اور مخلوق کے بعد دنیا اور آخرت میں۔‘‘(۳)

محدث شھیر علامہ شیخ یوسف بن اسماعیل البنھانی نے اپنی کتاب شواہد الحق میں فرمایا کہ ’’کسی مسلمان بلکہ غیر مسلم پر یہ مخفی نہیں ہے جو اس دین کی ادنیٰ معرفت رکھتا ہے امت کے جمہور فقہاء ، محدثین ، متکلمین ، صوفیاء اور ان کے علاوہ عوام و خواص میںسے تمام اہل اسلام اس بات پر متفق ہیں کہ استغاثہ اور توسل اور شفاعت طلب کرنا، نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ذریعے سے دنیاوی اور اخروی حاجات پورا کرنے کے لیے مستحسن عمل ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے قرب کے حصول کے لیے قرب وبعد کے اطراف سے سفر کرنا محبوب عمل ہے ‘‘۔(۴)
اہل علم و عرفان نے ابن تیمیہ کے قول کی سخت مخالفت کی کیونکہ اس سے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تعظیم وتکریم میں فرق آتا ہے، آپکی شان میں کمی کا پہلو نکلتا ہے اور کوئی ذی شعور مسلمان کسی سطح پر بھی یہ بات برداشت نہیں کر سکتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی شان میں کوئی کمی کسی حوالہ سے بھی کی جائے ۔ شیخ الاسلام والمسلمین علامہ ابن حجرالعسقلانی نے اپنی کتاب الدرر الکافیہ میں فرمایا!’’وہ علماء جو ابن تیمیہ زند قہ کا قول پیش کرتے ہیں کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے وسیلہ سے مدد طلب نہیں کی جانی چاہیے اس قول میں نقص ہے اور یہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تعظیم سے روکتا ہے‘‘(۵)
توسل کی شرعی حیثیت :
توسل کے جوازشرعی کے لیے بطور استدلال دو آیات اکثر علماء نے منتخب کی ہیں۔ ان میں سے ایک سورۂ نساء کی آیت نمبر 64ہے خدائے بزرگ و برتر نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا: وَلَوْ أَنَّہُمْ إِذ ظَّلَمُواْ أَنفُسَہُمْ جَآء ُوکَ فَاسْتَغْفَرُواْ اللّہَ وَاسْتَغْفَرَ لَہُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُواْ اللّہَ تَوَّاباً رَّحِیْما۔ ترجمہ:اور جب یہ اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھے تھے تو یہ آپ کے پاس آجاتے پھر اللہ سے مغفرت طلب کرتے اور رسول بھی ان کے لیے استغفار کرتے تو یہ ضرور اللہ کو توبہ قبول کرنے والا، بے حد رحم فرمانے والا پاتے۔
ایک دوسری آیت مبارکہ جو سورہ بقرہ کی آیت نمبر89ہے اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذات کوحصول فتح کے لیے بارگاہ خداوند تعالیٰ میں وسیلہ چاہنے کا ذکرہے ۔ یہود کافروں پر فتح کے حصول کے لیے اللہ تعالیٰ کے سامنے رسول اولین و آخرین کو بطوروسیلہ پیش کیا کرتے تھے ۔ ان کے اس عمل کو اللہ تعالیٰ نے یوں بیان فرمایا: وَلَمَّا جَاء ہُمْ کِتَابٌ مِّنْ عِندِ اللّہِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَہُمْ وَکَانُواْ مِن قَبْلُ یَسْتَفْتِحُونَ عَلَی الَّذِیْنَ کَفَرُواْ فَلَمَّا جَاء ہُم مَّا عَرَفُواْ کَفَرُواْ بِہِ فَلَعْنَۃُ اللَّہ عَلَی الْکَافِرِیْن oترجمہ : اور جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے وہ کتاب آئی جو اس آسمانی کتاب کی تصدیق کرنے والی ہے جوا ن کے پاس ہے ا ور وہ اس سے پہلے ( اس نبی کے وسیلہ سے )کفار کے خلاف فتح کی دعا کرتے تھے اور جب ان کے پاس وہ آگئے جن کو وہ جان چکے تھے تو انہوں نے ان کے ساتھ کفر کیا سو کافروں پر اللہ کی لعنت ہو۔(۶)
امام ابن جریر نے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ یہود اوس اور خزرج کے خلاف جنگ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بعثت سے پہلے آپ کے وسیلہ سے فتح حاصل کرنے کی دعا کرتے تھے ، جب اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے آپ کو عرب میں مبعوث کر دیا تو جو کچھ وہ آپ کے متعلق کہتے تھے اس کا انہوں نے انکار کر دیا، ایک دن حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت بشیر بن البراء بن معرور نے ان سے کہا: اے یہود یو! اللہ سے ڈرو اور اسلام لے آؤ، جب ہم مشرک تھے تو تم ہمارے خلاف سیدنا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے وسیلہ سے فتح کی دعا کرتے تھے ، تم ہمیں یہ خبر دیتے تھے کہ وہ نبی مبعوث ہونے والا ہے اور تم اس نبی کی وہی صفات بیان کرتے تھے جو آپ میں موجود ہیں۔اس کے جواب میں بنو نضیر کے سلام بن مشکم نے کہا: وہ کوئی ایسی چیز نہیں لیکر آئے جسے ہم پہچانتے ہوں اور یہ وہ نبی نہیں ہے جس کا ہم تم سے ذکر کیا کرتے تھے۔(۷)
اسی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہودی اور عیسائی سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے توسل سے دعائیں مانگتے تھے۔ صحابہ کرام علیھم الرضوان بھی آپکے توسل سے اپنے رب کو اپنی حاجات پیش کرتے تھے بلکہ صحابہ کا معمول تھا کہ وہ بار گاہ رسالت مآب میں حاضر ہو کر دعائیں کرواتے تھے ۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنے صحابہ کو توسل کا طریقہ بتایا ۔ حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس ایک نابینا شخص حاضر ہوا اور اپنے نابینا ہونے کی شکایت کی۔ عرض کی سرکار میرا کوئی دستگیر نہیں اور نظر کا چلا جانا بہت گراں ہے۔ آپ میرے لیے دعا فرمائیں کہ میری بینائی لوٹ آئے ۔ یہ بات سن کر فرمایا اور اسے حکم دیا کہ جائو اچھی طرح وضوکرکے آئو اور دو رکعت نماز پڑھو اور پھر یوں دعا کرو۔ اس شخص نے وضوء کیا اور نفل ادا کرنے کے بعد یوں بارگاہ خداوندی میں عرض گزار ہوا۔ ’’ اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیری طرف توجہ کرتاہوں نبی رحمت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے وسیلے سے ، اے محمد میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے وسیلہ سے اپنے رب کی بارگاہ میں اپنی حاجت پیش کرتا ہوں کہ وہ میری نظر کو جلا بخشے (مطلب میری نظر واپس لوٹا دے) اے اللہ ! میرے حق میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی شفاعت قبول فرما‘‘۔
حضرت عثمان بن حنیف فرماتے ہیں اللہ کی قسم اس بات کو ابھی اتنا وقت نہیں گزراتھاکہ ہم ایک دوسرے سے جدا بھی نہیں ہوئے تھے وہ سائل ایسے آیا کہ جیسے اسے بینائی کا عارضہ کبھی لاحق ہی نہیں ہوا تھا۔
اس حدیث کو بہت بڑے جلیل القدر محدثین نے اپنی اسناد کے ساتھ روایت کیا ہے ۔ امام ترمذی نے اسے السنن ، ابواب الدعوات میں ذکر کیا ہے اور اسے حسن صحیح قرار دیا ہے ۔ اسکو امام بخاری نے تاریخ کبیر میں ذکر کیا ہے، ابن ماجہ نے اپنی سنن میں صلوۃ الحاجۃ کے عنوان میں اپنی سند کے ساتھ ذکر کیا ہے، امام نسائی نے اپنی سنن میں باب عمل الیوم و الیلۃ کے تحت ذکر کیا ہے۔ ابو نعیم نے معرفۃ الصحابہ میں ، امام بیہقی نے دلائل النبوۃ میں ذکر کیا ہے۔ اسکو غیر مقلدمحدث علامہ و حیدالزمان حیدر آبادی نے بھی اپنی کتاب ہدایۃ المھدی میں ذکر کیا ہے اور اسے صحیح قرار دیا ہے۔
علماء کے اقوال:
ٔٔ٭ام المؤمنین سیدہ عائشۃ الصدیقہ سلام اللہ علیھا کا ایک نہایت شاندار قول حافظ ابن جوزی نے اپنی کتاب الوفاء باحوال المصطفیٰ میں ذکر کیا ہے۔ یہ قول رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے مزار شریف سے متعلق ہے ۔ آپ لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ مدینہ شریف میں شدید قحط پڑگیا۔ لوگوں کی حالت ناگفتہ بہٖ ہوگئی تو وہ سیدہ عائشہ کے پاس آئے اور اپنی حالت زار کو بیان کیا ۔سیدہ نے انہیں فرمایا کہ تم آقا علیہ الصلوۃ والسلام کے مزارو پر انوار پر جائو اور مزار کی آسمان کی طرف والی کھڑکی کو اس طرح کھول دو کہ مزار اور آسمان کے درمیان کوئی پردہ حائل نہ رہے۔ راوی کہتے ہیں کہ لوگوں نے ایسا ہی کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے توسل سے اللہ سے دعا مانگی تو بارش چھم چھم برسنے لگی۔ اس بارش کی وجہ سے خوب سبزہ اُگا۔ چراہ گاہوں میں بہت سبزہ اُگنے کی وجہ سے مویشی اور اونٹ اتنے موٹے تازہ ہو گئے کہ یوں محسوس ہورہا تھا کہ یہ ابھی چربی کی وجہ سے پھٹ پڑیں گے۔ اہل مدینہ نے اس سال کا نام ہی عام الفتق یعنی پیٹ پھٹنے کا سال رکھ دیا۔
٭حجۃ الاسلام امام ابو حامدمحمد بن محمد الغزالی نے اپنی شہرہ آفاق کتاب احیاء علوم الدین میں لکھا ہے جو شخص بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی قبر انور کی زیارت کے لیے جائے تو وہ یوں کہے ’’یارسول اللہ آپ پر سلامتی ہو، اے نبی اللہ آپ قول برحق ہے ۔ ( پھر اس آیت کی تلاوت کرے )وَلَوْ أَنَّہُمْ إِذ ظَّلَمُواْ أَنفُسَہُمْ جَآء ُوکَ(ترجمہ:اور اگر وہ اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھیں تو اے محبوب وہ آپ کے پاس آئیں )اے اللہ بے شک ہم نے تیرا فرمان سنا تیرے حکم کی پیروی کی،اپنے گناہوں کے معاملے میں تیرے نبی کو شفیع بناتے ہوئے انکی بارگاہ کا قصد کیا، گناہوں سے ہماری پیٹھیں بوجھل ہوگئیں، ہم اپنی لغزشوں سے توبہ کرتے ہیں ، اپنی خطائوںاور کوتاہیوںکا اعتراف کرتے ہیں۔اے اللہ عزوجل ہماری توبہ کو قبول فرما، ہمارے حق میں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی سفارش قبول فرما، تیری بارگاہ میں جو انکا مقام و مرتبہ ہے، تجھ پر انکا جو حق ہے اس کے طفیل ہمیں بلندی عطافرما۔(۸)
٭امام یحیٰ بن شرف النووی المعروف امام نووی صاحب المنہاج فی شرح صحیح مسلم نے اپنی کتاب الایضاح ۔ ۔ مناسک الحج میں فرمایا کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی قبر انور کی زیارت کرنے والے کا اپنے حق میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا وسیلہ اور ان سے طلب شفاعت کرنا جائز و مستحسن امر ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اہل علم کی ایک بڑی جماعت نے عتبی نامی شخص کا مشہور ومعروف واقعہ نقل کیا ہے ۔ عتبی کا کہنا ہے کہ میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی قبر انور کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک دیہاتی شخص آیا اور عرض کرنے لگا’’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم آپ پر سلامتی ہو میں نے اللہ کا کلام سنا(وَلَوْ أَنَّہُمْ إِذ ظَّلَمُواْ أَنفُسَہُمْ جَآء ُوکَ فَاسْتَغْفَرُواْ اللّہَ وَاسْتَغْفَرَ لَہُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُواْ اللّہَ تَوَّاباً رَّحِیْماترجمہ: اور یہ لوگ جب اپنے حق میں ظلم کر بیٹھے تھے، اگر تمہارے پاس آتے اور اللہ سے بخشش مانگتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم بھی ان کیلئے بخشش طلب کرتے تو اللہ کو معاف کرنے والا اورمہربان پاتے۔(۹)
اب میں آپ کے پاس اپنے گناہوں کی بخشش کے لیے حاضر ہوا ہوں اس کے لیے آپصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اپنے رب کے سامنے وسیلہ بناتاہوں ۔ اس کے بعد اس دیہاتی نے کچھ اشعار پڑھے اوروہ کیا ہی اعلیٰ اشعار ہیں ۔ میں نے یہ اشعار عالمی مبلغ اسلام جناب مولانا طارق جمیل کی زبانی سنے تو بہت ہی مزہ آیا آپ بھی ملاحظہ فرمائیں۔اور اپنے ایمان کو تازہ کریں۔
یاخیر من دفنت بالقاع اعظمُہ
فطاب من طیبھن القاع والأُکُمْ
نفسی الفداء لِقبر أنت ساکنہْ
حالت ناگفتہ بہٖ ہوگئی تو وہ سیدہ عائشہ کے پاس آئے اور اپنی حالت زار کو بیان کیا ۔سیدہ نے انہیں فرمایا کہ تم آقا علیہ الصلوۃ والسلام کے مزارو پر انوار پر جائو اور مزار کی آسمان کی طرف والی کھڑکی کو اس طرح کھول دو کہ مزار اور آسمان کے درمیان کوئی پردہ حائل نہ رہے۔ راوی کہتے ہیں کہ لوگوں نے ایسا ہی کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے توسل سے اللہ سے دعا مانگی تو بارش چھم چھم برسنے لگی۔ اس بارش کی وجہ سے خوب سبزہ اُگا۔ چراہ گاہوں میں بہت سبزہ اُگنے کی وجہ سے مویشی اور اونٹ اتنے موٹے تازہ ہو گئے کہ یوں محسوس ہورہا تھا کہ یہ ابھی چربی کی وجہ سے پھٹ پڑیں گے۔ اہل مدینہ نے اس سال کا نام ہی عام الفتق یعنی پیٹ پھٹنے کا سال رکھ دیا۔
٭حجۃ الاسلام امام ابو حامدمحمد بن محمد الغزالی نے اپنی شہرہ آفاق کتاب احیاء علوم الدین میں لکھا ہے جو شخص بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی قبر انور کی زیارت کے لیے جائے تو وہ یوں کہے ’’یارسول اللہ آپ پر سلامتی ہو، اے نبی اللہ آپ قول برحق ہے ۔ ( پھر اس آیت کی تلاوت کرے )وَلَوْ أَنَّہُمْ إِذ ظَّلَمُواْ أَنفُسَہُمْ جَآء ُوکَ(ترجمہ:اور اگر وہ اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھیں تو اے محبوب وہ آپ کے پاس آئیں )اے اللہ بے شک ہم نے تیرا فرمان سنا تیرے حکم کی پیروی کی،اپنے گناہوں کے معاملے میں تیرے نبی کو شفیع بناتے ہوئے انکی بارگاہ کا قصد کیا، گناہوں سے ہماری پیٹھیں بوجھل ہوگئیں، ہم اپنی لغزشوں سے توبہ کرتے ہیں ، اپنی خطائوںاور کوتاہیوںکا اعتراف کرتے ہیں۔اے اللہ عزوجل ہماری توبہ کو قبول فرما، ہمارے حق میں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی سفارش قبول فرما، تیری بارگاہ میں جو انکا مقام و مرتبہ ہے، تجھ پر انکا جو حق ہے اس کے طفیل ہمیں بلندی عطافرما۔(۸)
٭امام یحیٰ بن شرف النووی المعروف امام نووی صاحب المنہاج فی شرح صحیح مسلم نے اپنی کتاب الایضاح ۔ ۔ مناسک الحج میں فرمایا کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی قبر انور کی زیارت کرنے والے کا اپنے حق میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا وسیلہ اور ان سے طلب شفاعت کرنا جائز و مستحسن امر ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اہل علم کی ایک بڑی جماعت نے عتبی نامی شخص کا مشہور ومعروف واقعہ نقل کیا ہے ۔ عتبی کا کہنا ہے کہ میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی قبر انور کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک دیہاتی شخص آیا اور عرض کرنے لگا’’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم آپ پر سلامتی ہو میں نے اللہ کا کلام سنا(وَلَوْ أَنَّہُمْ إِذ ظَّلَمُواْ أَنفُسَہُمْ جَآء ُوکَ فَاسْتَغْفَرُواْ اللّہَ وَاسْتَغْفَرَ لَہُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُواْ اللّہَ تَوَّاباً رَّحِیْماترجمہ: اور یہ لوگ جب اپنے حق میں ظلم کر بیٹھے تھے، اگر تمہارے پاس آتے اور اللہ سے بخشش مانگتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم بھی ان کیلئے بخشش طلب کرتے تو اللہ کو معاف کرنے والا اورمہربان پاتے۔(۹)
اب میں آپ کے پاس اپنے گناہوں کی بخشش کے لیے حاضر ہوا ہوں اس کے لیے آپصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اپنے رب کے سامنے وسیلہ بناتاہوں ۔ اس کے بعد اس دیہاتی نے کچھ اشعار پڑھے اوروہ کیا ہی اعلیٰ اشعار ہیں ۔ میں نے یہ اشعار عالمی مبلغ اسلام جناب مولانا طارق جمیل کی زبانی سنے تو بہت ہی مزہ آیا آپ بھی ملاحظہ فرمائیں۔اور اپنے ایمان کو تازہ کریں۔
یاخیر من دفنت بالقاع اعظمُہ
فطاب من طیبھن القاع والأُکُمْ
نفسی الفداء لِقبر أنت ساکنہْ
حالت ناگفتہ بہٖ ہوگئی تو وہ سیدہ عائشہ کے پاس آئے اور اپنی حالت زار کو بیان کیا ۔سیدہ نے انہیں فرمایا کہ تم آقا علیہ الصلوۃ والسلام کے مزارو پر انوار پر جائو اور مزار کی آسمان کی طرف والی کھڑکی کو اس طرح کھول دو کہ مزار اور آسمان کے درمیان کوئی پردہ حائل نہ رہے۔ راوی کہتے ہیں کہ لوگوں نے ایسا ہی کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے توسل سے اللہ سے دعا مانگی تو بارش چھم چھم برسنے لگی۔ اس بارش کی وجہ سے خوب سبزہ اُگا۔ چراہ گاہوں میں بہت سبزہ اُگنے کی وجہ سے مویشی اور اونٹ اتنے موٹے تازہ ہو گئے کہ یوں محسوس ہورہا تھا کہ یہ ابھی چربی کی وجہ سے پھٹ پڑیں گے۔ اہل مدینہ نے اس سال کا نام ہی عام الفتق یعنی پیٹ پھٹنے کا سال رکھ دیا۔
٭حجۃ الاسلام امام ابو حامدمحمد بن محمد الغزالی نے اپنی شہرہ آفاق کتاب احیاء علوم الدین میں لکھا ہے جو شخص بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی قبر انور کی زیارت کے لیے جائے تو وہ یوں کہے ’’یارسول اللہ آپ پر سلامتی ہو، اے نبی اللہ آپ قول برحق ہے ۔ ( پھر اس آیت کی تلاوت کرے )وَلَوْ أَنَّہُمْ إِذ ظَّلَمُواْ أَنفُسَہُمْ جَآء ُوکَ(ترجمہ:اور اگر وہ اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھیں تو اے محبوب وہ آپ کے پاس آئیں )اے اللہ بے شک ہم نے تیرا فرمان سنا تیرے حکم کی پیروی کی،اپنے گناہوں کے معاملے میں تیرے نبی کو شفیع بناتے ہوئے انکی بارگاہ کا قصد کیا، گناہوں سے ہماری پیٹھیں بوجھل ہوگئیں، ہم اپنی لغزشوں سے توبہ کرتے ہیں ، اپنی خطائوںاور کوتاہیوںکا اعتراف کرتے ہیں۔اے اللہ عزوجل ہماری توبہ کو قبول فرما، ہمارے حق میں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی سفارش قبول فرما، تیری بارگاہ میں جو انکا مقام و مرتبہ ہے، تجھ پر انکا جو حق ہے اس کے طفیل ہمیں بلندی عطافرما۔(۸)
٭امام یحیٰ بن شرف النووی المعروف امام نووی صاحب المنہاج فی شرح صحیح مسلم نے اپنی کتاب الایضاح ۔ ۔ مناسک الحج میں فرمایا کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی قبر انور کی زیارت کرنے والے کا اپنے حق میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا وسیلہ اور ان سے طلب شفاعت کرنا جائز و مستحسن امر ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اہل علم کی ایک بڑی جماعت نے عتبی نامی شخص کا مشہور ومعروف واقعہ نقل کیا ہے ۔ عتبی کا کہنا ہے کہ میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی قبر انور کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک دیہاتی شخص آیا اور عرض کرنے لگا’’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم آپ پر سلامتی ہو میں نے اللہ کا کلام سنا(وَلَوْ أَنَّہُمْ إِذ ظَّلَمُواْ أَنفُسَہُمْ جَآء ُوکَ فَاسْتَغْفَرُواْ اللّہَ وَاسْتَغْفَرَ لَہُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُواْ اللّہَ تَوَّاباً رَّحِیْما ترجمہ: اور یہ لوگ جب اپنے حق میں ظلم کر بیٹھے تھے، اگر تمہارے پاس آتے اور اللہ سے بخشش مانگتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم بھی ان کیلئے بخشش طلب کرتے تو اللہ کو معاف کرنے والا اورمہربان پاتے۔(۹)
اب میں آپ کے پاس اپنے گناہوں کی بخشش کے لیے حاضر ہوا ہوں اس کے لیے آپصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اپنے رب کے سامنے وسیلہ بناتاہوں ۔ اس کے بعد اس دیہاتی نے کچھ اشعار پڑھے اوروہ کیا ہی اعلیٰ اشعار ہیں ۔ میں نے یہ اشعار عالمی مبلغ اسلام جناب مولانا طارق جمیل کی زبانی سنے تو بہت ہی مزہ آیا آپ بھی ملاحظہ فرمائیں۔اور اپنے ایمان کو تازہ کریں۔
یاخیر من دفنت بالقاع اعظمُہ
فطاب من طیبھن القاع والأُکُمْ
نفسی الفداء لِقبر أنت ساکنہْ
فیہ العفاف وفیہ الجود والکرمْ
ترجمہ: ’’جن جن کی ہڈیاں میدانوں میں دفن کی گئیں اور ان کی خوشبو سے میدان اور ٹیلے مہک اٹھے ہیں، اے ان سب سے بہترین ہستی !میری جان اس قبر پر فدا ہو جس میں آپ تشریف فرما ہیں ۔ اس میں پاکیزگی ، سخاوت اور کرم نوازی مدفون ہے‘‘
عتبی کہتے ہیں یہ اشعار کا نذرانہ عقیدت دیہاتی پیش کر کے اپنے گھر کو لوٹ گیا اور مجھے نیند آگئی۔ خواب میں شفیع المذنبین آقا تشریف فرما ہوئے اور مجھے فرمانے لگے ’’ عتبی اٹھو اور اس دیہاتی کو مثردہ سنا دو کہ خدائے بزرگ و برتر نے تیرے گناہوں پر معافی کا قلم پھیرتے ہوئے تجھے معاف کر دیا ہے اور بخش دیا ہے۔ امام نووی نے اس واقعہ کو اپنی ایک اور کتاب الأذکار میں بھی ذکر فرمایا ہے۔
امام المفسرین امام محمد احمد بن ابو بکر القرطبی المالکی قبیلہ خزرج سے تعلق رکھنے والے عظیم مفسرو محدث نے اعرابی کے اس واقع کو اپنی تفسیر الجامع لاحکام القرآن میں ذکر کیا ہے اور فرمایا ہے کہ یہ اعرابی سرکار صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ظاہری پردہ فرمانے کے تین دن بعد آیا ، وہ قبر انور کے ساتھ لپٹ گیا اور سرکارصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تربت سے خاک اٹھا کر اپنے سرمیں ڈالی ۔ باقی وہی تفصیل ہے جو پیچھے ذکر کی گئی ہے۔
امام شھاب الدین احمد بن محمد الخفاجی المصری نے اپنی مشہور کتاب نسیم الریاض (شرح الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ از قاضی عیاض المالکی)میں ذکر کیا ہے کہ جو نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے روضہ انور کی زیارت کے لیے حاضر ہو اس کے لیے مستحب ہے کہ وہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے شفاعت اور وسیلہ کی دعا کرے ۔امام حافظ ابو الحسن علی بن عبد الکافی السبکی ۔ المعروف امام حافظ تقی الدین سبکی نے اپنی معروف کتاب شفاء السقام میں لکھا ہے ’’ یہ بات ذہن نشین رہے کہ توسل ، استغاثہ اورشفاعت طلب کرنا نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے وسیلہ سے اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے جائز اور احسن ہے۔(۱۰)
توسل انبیاء کی سنت ہے:
امام سبکی رحمتہ اللہ علیہ نے شفاء السقام میں نقل کیا ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:جب حضرت آدم علیہ السلام سے لغزش ہوئی تو انہوںنے بارگاہ خداوندی میں عرض کی یا اللہ میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے وسیلہ سے تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام سے پوچھا تم محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو کیسے جانتے ہو؟حالنکہ میں نے اسے پیدا ہی نہیں کیا۔تو سیدنا آدم علیہ السلام نے عرض کی کہ اے میرے مولا جب تو نے مجھے پیدا فرمایا اور میرے اند ر اپنی روح پھونکی ، میںنے سر اٹھایا تو میں نے عرش پریہ کلمہ لکھا ہوا دیکھا ’’لا الہ الاّ اللہ محمد رسول اللہ ‘‘ تومیں سمجھ گیا کہ محمد سے اونچی کو ئی ہستی نہیں ہے جن کا نام تو نے اپنے نام کے ساتھ لکھا ہے ۔ اس پر اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا : اے آدم تونے سچ کہا ہے ۔ بے شک مخلوق میں وہ مجھے سب سے زیادہ پسندہے ۔ جب تو نے اس کے وسیلہ سے سوال کیا تو آپکو بخش دیا گیا ۔ اگر محمدصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نہ ہوتے تومیں تجھے بھی پیدا نہ کرتا۔
اس حدیث کو امام حاکم نے صحیح الاسناد قراردیا ہے۔ اس حدیث کو امام بیہقی نے دلائل النبوۃ میںذکر کیا ہے ، امام طبرانی نے کچھ الفاظ کا اضافہ کیا ہے ’’کہ وہ خاتم النبین تمہاری اولاد سے ہے‘‘اس حدیث مبارکہ کو طرق کثیرہ سے مرفوعاً و موقوفاًروایت کیا گیا ہے اور بعض نے اسے حسن کہا ہے۔
امام طبرانی نے معجم الکبیر اور معجم الاوسط میںحضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سند سے روایت کیا ہے کہ جب مولا علی کرم اللہ وجہہ کی والدہ فاطمہ بنت اسد رضی اللہ تعالیٰ عنھا فوت ہوئیں تو سرکار دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور ان کے سرہانے بیٹھ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فرمانے لگے: اے میری ماں ! اللہ آپ پر رحم فرمائے ، میری حقیقی ماں کے بعد تو میری ماں تھی، تو خود بھوکا رہتی تھی مجھے خوب کھلاتی تھی ، تو کپڑے اور چادر کے بغیر سوتی تھی مجھے کپڑا پہناتی تھی ، تو خود بہترین کھانا نہ کھاتی تھی مگر مجھے کھلاتی تھی۔ اس سے تیر امقصد اللہ کی رضا کا حصول اور آخرت کا گھر تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حکم دیا کہ انہیں تین تین دفعہ غسل دیا جائے، جب اس پانی کا وقت آیا جس میں کافور ملائی جاتی ہے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے خود اپنے ہاتھ سے ان پر پانی بہایا پھر میرے آقا نے اپنی برکتوں والی قمیض انہیں پہنا دی اور اسی میں انہیں کفن دیا گیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حضرت اسامہ بن زید،حضرت ابو ایوب انصاری، حضرت عمربن خطاب اور ایک کالے غلام کو بلایا تاکہ وہ قبر تیار کریں ۔ انہوں نے قبر کھودی جب وہ لحد تک پہنچے تو رسول اللہ نے اسے اپنے ہاتھ سے کھودا اور اپنے ہاتھوں سے ہی مٹی باہر نکالی ، پھر جب لحد سے فارغ ہوئے تو رسول اللہ قبر میں داخل ہو کر لیٹ گئے اور بارگاہ خداوندی میں عرض کرنے لگے :اللہ ہی زندہ کرتا ہے اور مارتاہے اور وہ خود زندہ وجاوید ہے اسے کبھی موت نہیں آئے گی ۔اے اللہ!میری والدہ فاطمہ بنت اسد کی مغفرت فرما اور اسکی دلیل انہیں سمجھا دے ۔ اپنے نبی اور مجھ سے پہلے انبیاء کے وسیلہ سے انکی قبر کو وسیع فرما دے بے شک تو ارحم الراحمین ہے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے چار تکبیرات کے ساتھ ان کی نماز جنازہ پڑھی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ، حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں قبر میں اتار دیا۔
ان دو روایات سے واضح ہورہا ہے کہ انبیاء نے بھی توسل فرمایا ہے۔ پہلی روایت کے مطابق حضرت آدم علیہ السلام نے نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ذریعے توسل کیا اور اس آخری روایت میں بالکل واضح ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے سیدہ فاطمہ بنت اسد کی بخشش کے لیے اپنا اور انبیاء مرسلین کا وسیلہ اللہ کی بارگاہ میں پیش فرمایا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ توسل انبیاء مرسلین کی سنت ہے۔ دیگر انبیاء نے بھی توسل فرمایا ہے۔ مگر ہم طوالت کے خوف کی وجہ سے ان دوروایات پر ہی اکتفار کر رہے ہیں۔
حوالہ جات:
(۱) النھایۃ لا بن الاثیر الجزری۔ ج،۵،ص ۴۰۲ (۲) شفاء السقام صفحہ 160،ازامام تقی الدین سبکی (۳)علامہ احمدبن الحجر الھیثمی،جواہر المنظم،صفحہ:61
(۴)علامہ شیخ یوسف بن اسماعیل النبھانی ،شواہد الحق، صفحہ: 143 (۵)علامہ ابن حجر العسقلانی ، الدررالکافیہ ،ج1،ص،155 (۶)سورہ بقرہ آیت :89
(۷) ابن جریر الطبری ،جامع البیان، ج۱، ص۲۲۵، مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت (۸)ابوحامدمحمدبن محمدالغزالی،احیاء علوم الدین، ج1،ص266،باب زیارۃ المدینہ اور اس کے آداب (۹)النساء:64 (۱۰)امام شھاب الدین احمد بن محمد الخفاجی المصری ،نسیم الریاض، ج3،ص517

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں