16

جن سے غلطی ہوگئی اب ایک ہی حل،الیکشن کراؤ، میر جعفروں نے چوروں کو مسلط کردیا، عمران خان

لاہور(خبرایجنسیاں،مانیٹرنگ نیوز) سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہاہےکہ جن سے غلطی ہوگئی، اب ایک ہی حل، الیکشن کروائو،میر جعفروں نے چوروں کو مسلط کردیا،آزاد خارجہ پالیسی کی حقیقی تحریک اب شروع ہوگی، میر جعفر نے بھٹوکو پھانسی دی،مشرف نے کئی کمپرومائز کئے،الیکشن کمشنر ہمیشہ سے ہمارے خلاف رہا،میں انکو 3 سال تک پکڑتا رہالیکن جو لوگ ان کے پیچھے تھے وہ کرپشن کو برا سمجھتے ہی نہیں، اسلام آباد کیلئے کال دوں گاتیار رہیں،پارٹی تو اب شروع ہوئی ہے، عمران خان نے سپریم کورٹ پربھی پھر تنقید کی۔گزشتہ روز تحریک انصاف کی جانب سے لاہور کے گریٹر اقبال پارک میں منعقدہ جلسے سے خطاب میں عمران خان نے کہاکہ ہم غلامی قبول کریں گے نہ ہی امپورٹڈ حکومت کو مانیں گے،میں پاکستان میں حقیقی آزادی کی تحریک شروع کرنے جا رہا ہوں، ہمارے مخالفین سوچتے ہیں کہ لاہور جلسے کے بعد کیا ہوگا، کان کھول کر سن لیں، ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے، تحریک ابھی زور پکڑے گی،عمران خان نے کہا کہ میں صرف تحریک انصاف کے کارکنوں کو کال نہیں دے رہا بلکہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے لوگوں کو بھی کال دے رہا ہوں جنہیں نہیں معلوم کہ کتنی بڑی سازش ہوئی ہے، آپ سب نے تیاری کرنی ہے اور میری کال کا انتظار کرنا ہے جب میں آپ کو اسلام آباد بلاؤں گا۔انہوں نے کہاکہ میں یہ واضح کردوں میں کسی قسم کا تصادم نہیں چاہتا، میں نے اسی ملک میں رہنا ہے،میں اور کچھ نہیں چاہتا بس یہ چاہتا ہوں کہ اس ملک میں جلد از جلد الیکشن کرائے جائیں، اس حکومت کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے، جن سے بھی غلطی ہوگئی، ایک ہی طریقہ ہے غلطی ٹھیک کرنے کا فوری الیکشن کراؤ، جب تک الیکشن کا اعلان نہیں ہوجاتا تحریک جاری رکھیں گے۔عمران خان نےکہا کہ پیسے دے کر ضمیر خرید کر اس حکومت کو مسلط کیا گیا، سازش اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک اندر بیٹھے میرجعفر شامل نہ ہو ں، میری کوشش تھی کہ میری حکومت کی آزاد خارجہ پالیسی ہو ، یہ سازش اس وقت کی گئی جب تحریک انصاف کی حکومت میں پاکستان ترقی کر رہا تھا، یہ سازش کبھی پوری نہیں ہوسکتی تھی اگر یہاں اندر سے میر جعفر نہ ملے ہوئے ہوتے،ہماری خارجہ پالیسی بھٹو دور کے علاوہ کبھی آزاد نہیں ہوئی۔عمران خان نے کہا کہ سامراج کے جوتے چاٹ کر مسلط ہونی والی حکومت کو کسی صورت قبول نہیں کروں گا، غلاموں اور پاکستان کے کرپٹ ترین لوگوں کو کبھی قبول نہیں کروں گا۔دورہ روس کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ’حکم آیا باہر سے کہ روس کیوں گئے؟ روس ہمیں تیل 30 فیصد سستا اور گندم 30 فیصد کم قیمت پر دے رہا تھا جس سے مہنگائی کم کر سکتے تھے، بھارت امریکا کا قریبی اسٹریٹجک اتحادی ہے اور روس سے تیل منگوا رہا ہے تو اس کو امریکا نے کہا کہ تیل نہ خریدو تو اس نے امریکا کو سیدھا جواب دیا کہ ہم اپنے لوگوں کے مفادات کے لیے فیصلے کرتے ہیں، یعنی کہ بھارت کی خارجہ پالیسی ان کے لوگوں کے مفادات کے لیے ہے اور ہماری خارجہ پالیسی کسی اور قوم کے مفادات کے لیے ہے،ہماری حکومت میں پاکستان کی سب سے بہترین کارکردگی رہی، ہماری معیشت صحیح طرف جارہی تھی، 5.6فیصد پر بڑھ رہی تھی، برآمدات ریکارڈ پر تھی، پاکستان میں کبھی باہر سے اتنے ڈالر نہیں آئے ، 31 ارب ڈالر باہر سے بھیجے، ہم جب آئے تو 19 ارب ڈالر تھے، ٹیکس سب سے زیادہ 6 ہزار ارب جمع کیا، برصغیر میں سب سے کم بے روزگاری پاکستان میں تھی اور ہم نے سب کو پیچھے چھوڑ دیا تھا، پاکستان کی پوری دنیا نے مثال دی، جس نے کورونا میں بہترین انتظامات کیے، اپنی معیشت اور اپنے لوگوں کو بچایا۔ عمران خان نے کہا کہ فیصلہ کیا تھا اسلاموفوبیا کا معاملہ ہر فورم پر اٹھاؤں گا، ان کو اسلاموفوبیا کا معاملہ اٹھانا پسند نہیں آیا۔ کونسا ملک کسی پرائے کی جنگ میں اپنے لوگوں کو قربان کرتا ہے؟ ہم نے قربانیاں دیں لیکن بدلے میں ہم نے ہی نقصانات اٹھائے۔انہوں نے کہا کہ پہلے حکومتیں گریں تو کرپشن پر گری، بینظیر بھٹو کی دو حکومتیں اور نواز شریف کی دو حکومتیں کرپشن کے الزامات پر گریں لیکن چیلنج کرتا ہوں کیا عمران خان نے لندن میں کوئی فلیٹ لیے یا جائیداد بنائیں۔سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جب وہ حکومت میں تھے تو آصف زرداری، نواز، شہباز شریف، وزیراعلیٰ سندھ وغیرہ پر کیسز آگے بڑھانے کی تین سال کوشش کرتے رہے، ان کے پاس اختیار ہی نہیں تھا، نیب ان کے ماتحت نہیں تھا، عدلیہ آزاد، پھر سوائے ایف آئی اے کے ذریعے ان پر کیسز بنوانے کے اور کیا کرتے، ان بے چاروں نے بھی ڈر ڈر کر ان پر کیسز بنائے، جن لوگوں کے پاس طاقت تھی وہ کہتے تھے کرپشن تو ہوتی رہتی ہے، ان کے نزدیک کرپشن کوئی بڑی بات نہیں تھی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جن کو جیلوں میں ہونا چاہیے تھا وہ وزیراعظم اور وزیر بن گئے، ہم نے اپنی آنکھوں کے سامنے پارلیمان کی سپرمیسی کو جاتے دیکھا جو آئین میں درج ہے، سب سے تکلیف دہ یہ ہے کہ 30 سال سے کرپٹ ڈاکوؤں کو قوم پر مسلط کیا گیا،عمران خان نے شرکاء سے کہا کہ ’ہمیں ووٹ دیں یہ نا دیں لیکن خدا کے واسطے ان لوٹوں کو ساری زندگی ووٹ نہ دینا، ان ضمیرفروشوں کو کسی بھی حلقے میں جیتنے دیا تو آپ ملک سے غداری کریں گے،انہوں نے سپریم کورٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ جب اتحادی اور منحرفین بکروں کے طرح بک رہے تھے تو کیا یہ آئین قانون کےخلاف نہیں تھی؟سابق وزیراعظم نے کہا کہ پھر جو ہوتا ہے تاریخی ہے، رات کے 12 بجے عدالتیں بھی کھل جاتی ہیں، دونوں سابق اسپیکر اسد قیصر اور قاسم سوری بیٹھے ہیں دونوں ہیرو ہیں۔ بیرونی خط کے معاملے پر وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے اعلان کردہ تحقیقاتی کمیشن سے متعلق عمران خان نے کہا کہ ہم صرف ایک کمیشن مانیں گے، سپریم کورٹ میں کھلی سماعت ہو تاکہ قوم کو پتہ چلے کتنی بڑی سازش ہوئی ہے۔توشہ خانہ سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ توشہ خانہ میں ، میں نے جو بھی چیزیں خریدیں سب ریکارڈ پر موجود ہیں ، میں نے ان پیسوں سے عام لوگوں کیلئے سڑکیں ٹھیک کیں، حکومت کے خزانے سے ایک روپیہ نہیں لیا۔ انہوں نے کہاکہ آئی ایم ایف سےہم صرف6ارب ڈالرکاقرضہ لیتےہیں تو ان کی ہربات ماننی پڑتی ہے، غریب ممالک سے ہرسال 1ہزار 700 ارب ڈالرز امیر ممالک میں منتقل ہوتے ہیں،پاکستان سےہر سال 15 ارب ڈالرز چوری ہوکر باہر جاتا ہےاور یہ پیسہ بڑے ڈاکو چوری کرکے باہر بھیجتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ جو چیف الیکش کمشنر کو مسلم لیگ (ن) میں کوئی عہدہ دو، میں کہتا ہوں مسلم لیگ (ن) کے لوگ بھی شرم ہوجائیں، اس نے سارے فیصلے ہمارے خلاف کیے، ہمیں بیرون ملک سے لوگوں نے فنڈ بھیجا جو پاکستان کو پیسے بھیجتے ہیں، یہ فارن فنڈنگ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ انہیں ان خاندانی پارٹیوں پر حیرت ہوتی ہے کہ کیوں ان کو عجیب نہیں لگتا ہے کہ باہر سے ایک لڑکا آتا ہے جس کو اردو نہیں آتی لیکن بڑے بڑے اس کے سامنے ہوتے ہیں، 14 سال ہوگئے اردو نہیں آتی، نواز شریف نے اوباما کے سامنے پرچی دیکھ کر بات کی پھر مریم نواز تیار بیٹھی ہے، جس نے ایک دن کام نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ ایمل کانسی کے وکیل نے امریکی عدالت میں کہا کہ پاکستانی اپنی والدہ تک کو ڈالروں کے پیچھےبیچ دیتے ہیں اور وہ دور نواز شریف کا تھا، ہم نہیں بیچیں گے ،نواز شریف بیچے گا کیونکہ وہ پیسے کا پجاری ہے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ اپنے ملک میں کسی قسم کا تصادم نہیں چاہتا، پولیس اور فوج ہماری ہے، اگر ہمارے پاس ایک طاقت ور فوج نہیں ہوتی تو ہمارے تین ٹکڑے ہوتے، ہمارے دشمن اس لیے کامیاب نہیں ہوا کیونکہ ہماری قوم فوج کے ساتھ کھڑی ہے، مشرف نے ایک غلط فیصلہ کیا لیکن ہماری فوج نے جس طرح قربانیاں دیں اس پر ہم اپنی فوج اور پولیس کو داد دیتے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ میں چاہتا ہوں 27 ویں تاریخ کو شب دعا منائیں اور اللہ سے دعا کریں کہ ہماری حقیقی آزادی کی تحریک کو کامیاب کرے۔اس سے قبل عمران خان سے پہلے شاہ محمود قریشی، علی محمد خان، حماد اظہر، میاں اسلم، مراد سعید، بابراعوان، زرتاج گل، یاسمین راشد، فواد چوہدری، قاسم خان سوری، فرخ حبیب، اعجاز چوہدری، عثمان ڈار، اسد عمر، شفقت محمود اور شیخ رشید نے تقاریر کیں،جلسے میں عطااللہ عیسیٰ خیلوی، سلمان احمد، بلال خان اور ابرارالحق سمیت میوزک انڈسٹری سے پی ٹی آئی کے حامیوں نے بھی جلسے میں شرکت کی اور ترانے بھی گائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں