jange nahavand 17

Battle of Nahavand | جنگ نہاوند

64 / 100

Battle of Nahavand

تعارف:
سر زمین عرب میں جب مسلمانوں نے اردگرد کے علاقے فتح کر لئے تو ریاستِ مدینہ خوشحالی اور فارغ البالی کا گڑھ بن گئی۔ اب مسلمانوں نے اپنی توجہ کا مرکز بیرونی طاقتوں کو بنا لیا ۔ریاست مدینہ کے پڑوس میں دو عظیم مملکتیں اپنی پوری آب و تاب سے چمک رہی تھیں، ان میں سے ایک فارس اور دوسری روم تھی۔ مسلمانوں نے بے مثال بہادری کا ثبوت دیتے ہوئے دونوں پر بیک وقت حملہ کردیا۔ اہل ایران (فارس) کے ساتھ پہلا فیصلہ کن معرکہ قادسیہ کے مقام پر ہوا جب کہ دوسر ا معرکہ نہاوند کے مقام پر ہوا جو کسری ٰ کے تابوت میں آخری کیل تھا۔ یوں کہا جا سکتا ہے قادسیہ کی شکست کے بعد نہاوند کی جنگ یزدگرد کو بچانے کی آخری کوشش تھی جو ناکام ہوئی اور مسلمانوں نے اس کے بعد بڑی آسانی سے پورے ایران پر قبضہ کر لیا۔
وجوہات:
جنگ نہاوند کاسب سے بڑا سبب جنگی دھوکہ تھا۔ دوسرے اسباب حوصلہ، انفرادی بہادری اور مسلسل جارحانہ کارروائی تھے۔عرب مجاہدین میں شہادت کا جزبہ نمایاں تھا۔ وہ ایک خاص مقصد کے لئے لڑ رہے تھے۔ ہر جنگ میں عرب کمانڈر بھی شاہی فوج کے سرداروں سے تدابیرات، حوصلہ، بہادری اور کمان میں بہتر ثابت ہوئے۔ اور اپنی صلاحیت کو استعمال کر تے ہوئے دشمن کو شکست فاش دی۔جنگی دھوکہ کو جنگوں میں کامیابی سے استعمال کیا گیا ہے۔ 638 میں جلولہ کے مقام پر شاہ یزدگرد (ایرانی حکمران) شکست کھانے کے بعد مشرق میں پہاڑوں کی طرف شکست خوردہ فوج کے ہمراہ پسپا ہو گیا تھا۔ جنوب مشرقی علاقے میں حضرت ابو موسیٰ اشعٰریؓ نے بصرہ سے ہو کر خورستان کے علاقے میں شوش تشتر اور رام ہرمز کے مشہور مقامات فتح کر لئے۔ مگر حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو جلولہ سے آگے بڑھنے کا حکم نہ تھا۔اس لئے شما ل مشرقی علاقہ میں فتح جلولہ کے بعد تین سال تک مسلمانوں کی اہل عجم سے کوئی بڑی جھڑپ نہ ہوئی تھی۔ دراصل مسلمان مفتوحہ علاقے میں نظم و نسق کی طرف متوجہ تھے اور ضروری مقامات پر مضبوط چوکیاں اور چھاؤنیاں قائم کرنے میں مشغول تھے۔ شمال مشرق میں مسلمانوں کی اس خاموشی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے شاہ یزدگرد نے خفیہ طور پر ایک بہت بڑی فوج اکھٹی کرنی شروع کردی۔641 میں اس فوج کی تعداد ایک لاکھ کے قریب ہو گئی۔ عربوں کی یلغار روکنے اور انہیں ایرنی علاقے سے نکالنے کی شاہ یزد گردکی یہ آخری کوشش تھی۔ مگر مسلمان بھی ایرنیوں کی اس تیاری سے بےخبرنہ تھے۔ انہیں اس خفیہ تیاری کی برابر اطلاع ملتی رہتی تھی۔ آخر مکمل حالات معلوم ہونے پر حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے خلیفہ وقت کو ایرنیوں کی اس جنگی تیاریوں سے آگاہ کیا۔ حضرت عمرؓ نے فوراً ایک نئی فوج تیار کرائی اور حضرت نعمانؓ بن مقرن کو نئی فوج کا سپہ سالار مقرر کیا۔ وہ ان دنوں خورستان میں ابو موسیٰ اشعریؓ کے زیر قیادت علاقہ میں خراج وصول کرنے پر مامور تھے۔انہوں نے حضرت عمرؓ سے جہاد میں سپاہی کی حیثیت سے حصہ لینے کی درخواست کی تھی۔ ان کی دیانت داری، بہادری، لیڈر شپ اور جزبہء جہاد کی بنا پر انہیں سپہ سالار نامزد کیا گیا ۔نئے سپہ سالار کو حکم دیا گیا کہ برق رفتاری سے پیش قدمی کرکے مسلمانوں کے علاقے سے دور ہی ایرنی فوج کو برباد کر دیا جائے اور موقع ملنے پر پیش قدمی جاری رکھی جائے۔

واقعات:
یہ جنگ 642 (بمطابق ۲۱ھ) میں شہر نہاوند کے مغربی پہاڑوں میں لڑی گئی تھی۔ایرانی فوج کی تعداد ایک لاکھ تھی۔ ہاتھیوں اور رتھوں پر تیر انداز سوار تھے۔ ایرانیوں نے کھلے علاقے میں ہمیشہ شکست کھائی تھی اس لئے اس مرتبہ انہوں نے محض دفاع پر اکتفا کیا۔ نہاوند شہر سے کچھ دور ایک مضبوط قلعہ کے اردگرددفاعی پوزیشن اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ پوزیشن کے اردگردایک خندق کا حصار ڈال دیا گیا۔پوزیشن میلوں تک پھیلی ہوئی تھی۔جا بجا خندقیں کھوددی گئیں۔ اور ان کے گرد لوہے کی لمبی لمبی تیز نوک دار کیلیں گاڑ دی گئیں۔ نیزہ باز اور تیر انداز خندقوں، ہاتھیوں، رتھوں اور قلعہ کے بلند مقامات پر بٹھا دئیے گئے۔ ایرانی فوج کا سپہ سالار خیزران تھا۔ وہ اور اس کے باقی سرداراس تجویز پر بالکل مطمئن تھے۔ ایرانی تجویز جارحانہ کارروائی کا کوئی موثردخل نہ تھا اور وہ تو اس خوش فہمی میں مبتلا تھے کہ عربوں کو اپنی دفاعی پوزیشن پر حملہ کی دعوت دے کر انہیں شکست دینے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ غالباً ایرانی ہائی کمانڈر کے دماغ عربوں کی فتوحات سے ماؤف ہو چکے تھے۔تمام حالات کا جائزہ لے کر سب کی رائے سے حضرت نعمانؓ بن مقرن نے فوری فیصلہ کیا کہ دشمن کی تعداد کو منقسم کرنا چاہئے۔تاکہ نہاوند میں مقیم ایرانی فوج کو کمک نہ پہنچے۔ اس لئے انھوں نے خلیفہء وقت سے درخواست کی کہ ابو موسیٰ اشعریؓ کوجنوب مشرق کی جانب سے امدادی پیش قدمی کی غرض سے بصرہ اور اہواز کے راستے دور تک ایرانی علاقہ میں خوف و ہراس پھیلائیں تاکہ ایرانی فوج کا کچھ حصہ اس طرف رجوع ہو کر مشغول ہو جائے۔حلوان سے نہاوندکا فاصلہ تقریباً ایک سو پچھتر میل تھا۔ پہاڑی علاقے کے باعث راستہ دشوار گزار تھا۔ اور نہاوند تک راستے میں چھ ہزار فٹ سے لے کر گیارہ ہزار فٹ تک کی بلندی کے پہاڑ تھے۔بے شمار ندی نالے تھے او ر کئی مقامات پر برف جمی ہوئی تھی۔قصر شرین (حلوان کے قریب) پہنچ کر اسلامی سپہ سالارنے دولڑاکا گشتی دستے حضرت طلحہؓ اور عمرو بن معدیکربؓ کی زیر کمان راستہ کا جائزہ لینے اور دشمن کے بارے میں خبر حاصل کرنے کے لئے روانہ کئے۔ مگر دور تک ایرنی فوج کے کسی دستہ سے مڈ بھیڑنہ ہوئی تھی۔ اسلامی فوج کی خاموشی ایرانی فوج کے سپہ سالار کے لئے تشویش کا باعث تھی۔ اسلامی سالار نے سب سرداروں سے مشورہ کیا کہ دشمن کی دفائی پوزیشن سے کس طرح نمٹا جائے۔ اب تک اس قسم کی دفاعی پوزیشن سے مسلمانوں کا واسطہ نہیں پڑا تھا۔ حضرت طلحہؓ نے تجویز پیش کی کہ اسلامی لشکر کا ایک دستہ دشمن کی پوزیشن پر یورش کرتا ہو ا اندر داخل ہو جائے اور تیر انداز تیر برسائیں اور جب دشمن جوابی کارروائی کرنے کے لئے باہر نکلے تو آہستہ آہستہ پیچھے ہٹنا شروع ہو جائیں۔ دشمن کی اسلامی لشکر کی اس کمزوری کو دیکھ کر باہر نکلے گا تو ہر طرف سے چھپے ہوئے دستے ان پر حملہ کر دیں ۔ اسلامی سپہ سالار نے اپنی فوج کے چار حصے کئے۔ ایک حصہ حضرت قعقاؑؓ ع بن
عمروکی زیر قیادت ایرانی دفاعی پوزیشن پر یورش کرنے اور دشمن کی بے ترتیبی سے باہر نکالنے کے لئے بھیجا گیا۔ ایک حصہ بڑھتے ہوئے دشمن کے عقب سے نکل کر حملہ کرنے کے لئے ایک جگہ چھپا دیا گیا اور دو حصے دائیں اور بائیں گھات میں چھپا دئے گئے۔ ایرانیوں کو مسلمانوں کے اس منصوبے کے بارے میں کوئی علم تک نہ ہوا۔ ایسا لگتا تھا کہ یا تو ان پر مسلمانوں کی اس قدر ہیبت طاری تھی یا پھر اسلامی لشکر کو حیران کن کاروائی سے اپنے جال میں پھنسانا چاہتے تھے۔ اگر مسلمان ان کی اس چال میں پھنس جاتے تو یقیناًشکست کھاتے۔ دراصل ایرنیوں نے مسلمانوں کی جنگی بصیرت کو اہمیت نہ دی مگر دشمن کو کبھی کمزور نہیں سمجھنا چاہئے۔جنگی دھوکہ بھی ایک جنگی اصول ہے جس کے موئثر استعمال سے د شمن کو حیران کر کے فوجی مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے۔ عربوں نے کسی فوجی یا کالج سے یا سنٹر میں تعلیم نہ پائی تھی نہ انہیں اس زمانے کی تدبیراتی چالوں سے واقفیت تھی اور نہ عرب فوج شاہی فوج کی طرح باقاعدہ منظم اور تنخواہ دار تھی۔ عرب نیم مسلح تھے۔ سامان حرب و رسد کا کوئی باقاعدہ انتظام نہ تھا۔ مگر بے شمار خامیوں کے باوجود عرب مجاہد ہر لحا ظ سے رومی اور ایرانی شاہی فوج کے سپاہیوں سے بدرجہا بہتر تھے۔ ان میں شہادت کا جزبہ نمایاں تھا۔وہ ایک خاص مقصدد کے لئے لڑ رہے تھے۔ عرب کمانڈر بھی شاہی فوج کے سرداروں سے تدابیرات، حوصلہ، بہادری اور کمان میں بہتر ثابت ہوئے تھے۔ انہوں نے برق رفتاری سے غیر رسمی طریقے اور جنگی اصول بروقت اور صحیح مقام پر استعمال کر کے دشمن کو شکست فاش دی۔ ہر جنگ میں عرب تجاویز ہمیشہ جنگی اصولوں سے متاثر تھیں۔
مسلمانوں کی تدبیر:
جنگی اصولوں کے بروقت استعمال کی وجہ سے اس جنگ کو دنیا کی مشہور لڑائیوں میں اہم مقام حاصل ہے۔ تجویز کے مطابق حضرت قعقاعؓ بن عمرو نے اپنے دستے کو پھیلا کر کھلی فارمیشن میں دشمن کی پوزیشن پر حملہ کیا ۔ تیروں اوراڑتے ہوئے بھالوں کی اوٹ میں مجاہدین بڑھتے گئے۔ خندقوں میں تیز نوک دار جا بجا پیوست میخوں کی وجہ سے گھوڑے اوراونٹ زخمی ہونے لگے۔ اس حملے کی یلغارر ک گئی چونکہ اسلامی دستے نے پھیل کر ایرانیوں کی تقریباً تمام پوزیشن پر حملہ کیا تھا۔اس لئے ایرانی اس دستے کو تمام اسلامی لشکر سمجھنے لگے۔ کچھ دیر لڑائی کے بعدمسلمانوں نے تجویز کے مطابق آہستہ آہستہ بھاگناشروع کیا جس سے ایرانی خوش ہوگئے ۔ انہوں نے اس پسپائی کو مسلمانوں کی شکست تصور کیا۔ ایرانی سپہ سالار نے بھاگتے ہوئے مسلمانوں کا تعاقب کا حکم دیا۔ مگر جلدی میں جا بجا رکاوٹوں کی وجہ سے ایرانی فوج بے ترتیبی سے مسلمانوں کا تعاقب کرنے لگے۔مسلمان کبھی آہستہ ہو جاتے اور کبھی تیز۔ ایرانی بدستور پیچھا کرتے رہے۔ پیادہ، رتھ، سوار گھل مل گئے تھے۔ سرداروں کا اپنے اپنے دستوں پر کوکئی کنٹرول نہ رہا تھا۔ ہر ایرانی کی کہ تمنا تھی کہ مسلمانوں سے پچھلی شکست کا بدلہ لے ۔ ان میں جوش تھامگر وہ بے ترتیب ایک مجمع کی طرح بھاگ رہے تھے۔ آخر تقریباً پندرہ میل کے فاصلے پر بھاگتے ہوئے مسلمانوں نے یک دم پہاڑی علاقوں میں پوزیشن لے لی۔ اور بڑھتے ہوئے ایرانیوں کے پچھلے دستوں پر زبردست تیر اندازی شروع کر دی ۔ اسی اثناء میں ایک اسلامی دستے نے عقب سے حملہ کر دیا۔ جمعہ کی نماز کے بعد دائیں اور بائیں جانب سے مسلمان سواروں کے برق رفتار دستے وقفے وقفے سے نکل کر دشمن پر ٹوٹ پڑے۔ ایرانی گھیرے میں آ چکے تھے۔ ان کی ترتیب بالکل درہم برہم ہو چکی تھی۔ چاروں طرف سے ان پر یورش ہو رہی تھی۔ بے شمار ایرانی مارے گئے۔ بھگدڑ مچ چکی تھی۔ ایرانی سرداروں کا اپنی فوج پر کوکئی کنٹرول نہ تھا۔اسلامی سپہ سالار خون آلود زمین پر گھوڑا پھسلنے کی وجہ سے شہید ہو گئے۔ مگر جونہی وہ گرے ان کے بھائی نعیمؓ بن عقرہ نے سپہ سالار کاعلم سنبھال لیا اورلڑائی کے خاتمے تک کسی کو سپہ سالار کی شہادت کی خبر نہ ہوئی۔ حضرت قعقاعؓ ار حضرت طلحہؓ نے ایرنیوں کاتعاقب شروع کر دیا اور انہیں مزید تتر بتر کر دیا تاکہ وہ اپنی تیار پوزیشن میں جاکر دوبارہ نہ سنبھل جائیں۔ مسلمانوں کا نقصان مقابلتاً کم ہوا۔ ایرنی دفاعی پوزیشن میں صرف بندوبستی عملہ سامان رسد و حرب کی حفاظت کے لئے موجود تھا۔ مگر بغیر مزاحمت انہوں سب کچھ مسلمانوں کے حوالے کر دیا۔نہاوند شہر کے لوگوں نے مسلمانوں کے لئے دروازے کھول دئیے اور شہر فتح ہو گیا۔ ایرانی سپہ سالار بھاگتا ہواحضرت قعقاعؓ کے ہاتھوں مارا گیا۔ نہاوندشہر میں مسلمانوں کے ہاتھ بے شمار مال غنیمت آیا۔ ایرنیوں کا قدیم آتش کدہ برباد کر دیا۔ شاہ یزدگرد کامخفی دفینہ بھی آتش کدہ کے محافظ کی وساطت سے مسلمانوں کے قبضے میں آگیا۔ دفاعی پوزیشن دیکھ کر مسلمانوں کو حیرت ہوئی کہ اگر وہ جنگی دھوکا کے اصول کا استعمال نہ کرتے تو ایرنیوں پر فتح پانا نا ممکن تھا۔
حضرت عمرؓ فاروق نہاوند کی لڑائی کے نتیجہ کے بارے میں بے چینی سے منتظر تھے۔ وہ اکثر مدینہ سے دور تک باہر آجاتے تھے اور قاصدکاراہ تکتے تھے۔ آخر ایک دن انہیں نہاوند سے آیا ہوا قاصد مل گیا۔قاصد نے لڑائی کے حالات بیان کئے اور مسلمانوں کی بہادری اور انوکھے انداز کی جنگی چالیں بیان کیں۔ حضرت عمرؓ نے پھر حضرت نعمانؓ بن مقرن کے بارے میں دریافت کیا۔ قاصد نے ان کی بہادری اور شہادت کا واقعہ بتایا۔حضرت عمرؓ جزبات کی رومیں بہہ گئے ۔ وہ ضبط نہ کر سکے اور آنکھوں سے بے اختیا آنسو بہنے لگے۔ پھر حیران قاصد کو دیکھ کر کہا کہ ہم اللہ کی طرف سے آتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے جا ملتے ہیں۔ نہاوند سے بھیجا ہوا دفینہ قاصدہمراہ لایا تھا۔ حضرت عمرؓ تمام دفینہ لوگوں میں تقسیم کیا۔ ایرانیوں کے خلاف لڑتی ہوئی اسلامی فوج کے لئے نعیم بن مقرنؓ(نعمان بن مقرنؓ کے بھائی) کو سپہ سالار نامزد کیا۔ تقریباً تیس ہزار ایرانی لڑائی میں مارے گئے تھے۔ اسی لڑائی میں فیروزنامی ایرانی قیدی بنا تھا۔ جسے ابولو لوء بھی کہتے ہیں۔ اسی کے ہاتھ حضرت عمرؓ شہید ہوئے تھے۔
اثرات:
ایرنی فوج کی شکست نے عربوں پر ایران کے باقی شہروں کے دروازے کھول دئیے ۔شاہ یزدگرد پہاڑوں کی طرف بھاگ گیا اور بعد ازاں اپنے ہی سپاہیوں کے ہاتھوں قتل ہوگیا۔ عربوں کے خلاف اہل فارس میں کسی مؤثر کارروائی کی ہمت نہ رہی۔ اسلامی فوج کے نئے سپہ سالار نعیمؓ بن مقرن نے ایرانیوں کو رے کے مقام پر ۶۴۳ میں شکست دیکر اصفہان اور آذر بائیجان کا راستہ کھول دیا اور جلد ہی حزیفہؓ بن ایمان نے ہمدان اور آزر بائیجان فتح کر لئے۔ ادھر جنوب مشرق میں حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ نے صوبہ فارس کا علاقہ فتح کر لیا۔جوموجودہ تہران کے جنوب میں چند میل پر واقع ہے۔دوسری جنگ عظیم میں فرانس پر حملہ سے پیشتر جرمن سٹاف نے جان بوجھ کر ایک تباہ شدہ طیارے کے قریب چند جنگی نقشے اور جرمن ہائی کمانڈ کے فرانس پر حملہ کے احکام پھینک دئیے اور جونہی یہ جنگی خزانہ اتحادیوں کے ہاتھ لگا تو وہ از حد خوش ہوئے اور انہوں نے ان نقشوں اور احکام کے مطابق جرمن حملہ کے خلاف شمالی علاقہ میں خاطر خواہ انتظام کیا جبکہ دراصل حملہ وہاں سے بہت دور جنوبی دشوار گزار علاقہ سے شروع ہوا۔کچھ ایسا ہی معاملہ جنگ نہاوند میں ہوا اور اس کے بعد مسلمان اپنی جنگی چالوں کے لئے اتنے مشہور ہوئے کہ ان کے مقابلے میں نامی گرامی سپہ سالاروں کے چھکے چھوٹ جاتے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں