42

جنوبی پنجاب صوبہ پھر موضوع بحث

مشکلات میں گھری پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت نے جنوبی پنجاب کے صوبے کے حوالے سے بل قومی اسمبلی میں لانے کا اعلان کیا ہے۔ اس کا اعلان وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنی ایک میڈیا ٹاک میں کیا۔
اس اعلان کے بعد جنوبی پنجاب صوبہ کئی حلقوں میں زیر بحث ہے۔ واضح رہے کہ سرائیکی قوم پرست جنوبی پنجاب کو ایک الگ لسانی و جغرافیائی اکائی سمجھتے ہیں جب کہ پنجابی قوم پرست ان کی اس دلیل کو نہیں مانتے۔
دو نئے صوبوں کی قرارداد: سرائیکی قوم پرستوں کی مخالفت
کئی ناقدین کے خیال میں پی ٹی آئی نے اس موقع پر یہ تجویز دے کر پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ نون کو مشکل میں ڈالنے کی کوشش کی جبکہ کچھ ناقدین کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی جنوبی پنجاب کے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہ رہی ہے اور اسے ‘سیاسی چال‘ قرار دیا۔ پی ٹی آئی اس تاثر کو مسترد کرتی ہے اور کہنا ہے کہ اس نے اپنے انتخابی وعدے کو پورا کرنے کے لئے یہ اعلان کیا ہے۔
اسلام آباد میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے سابق وزیراعظم یوسف گیلانی اور دوسری سیاسی جماعتوں کو کہا کہ وہ اس بل کی حمایت کریں۔
پہلے کوشش کیوں نہیں کی؟
مسلم لیگ ن کے سابق رہنما اور جنوبی پنجاب کی جانی پہچانی سیاسی شخصیت سردار ذوالفقار کھوسہ نے اس حوالے سے بتایا، ” پاکستان پیپلز پارٹی اور نون لیگ نے صوبے بنانے کے دعوے کیے اور وہ صوبے نہیں بنا سکے، پی ٹی آئی نے بھی ساڑھے تین سال پہلے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ صوبہ بنائے گی لیکن وہ بھی صوبہ نہیں بنا سکی، اب پی ٹی آئی نے صوبے بنانے کے لیے بل لانے کا اعلان کیا ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انہوں نے صوبہ بنانے کے لیے ساڑھے تین سالوں میں کوئی کوشش کیوں نہیں کی۔‘‘
آئندہ حکومت اور سرائیکی صوبے کا مطالبہ
سردار ذوالفقار کھوسہ کا مذید کہنا تھا،” نون لیگ اور پیپلز پارٹی اس بل کی مخالفت نہیں کر پائیں گی کیونکہ آگے انتخابات بھی آرہے ہیں اور اگر وہ مخالفت کرتے ہیں تو یہ سیاسی طور پر ان کے لیے تباہ کن ہوگا۔‘‘
شعبدے بازی ہے
پی ٹی آئی کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر اسحاق خاکوانی نےبتایا، “میرے خیال میں یہ شاہ محمود قریشی کے ذہن کی اختراع ہے اور درحقیقت حکومت ایسا کچھ نہیں کرنا چاہتی ہے اگر یہ کچھ کرنا چاہتے تو ساڑھے تین سالوں میں انہوں نے کچھ نہ کچھ کر دیا ہوتا ہے، تین سالوں میں انہوں نے صرف لوگوں کو ناراض کیا ہے۔‘‘
اسحاق خاکوانی کے بقول اگر پی ٹی آئی کی حکومت چاہتی تو پنجاب اسمبلی میں سادہ اکثریت کے ساتھ اس بل کو پاس کروا دیتی اور پھر اس کو قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بھجوا دیتی، یہ صرف شعبدے بازی ہے جس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلنا۔
سیاسی فائدے کی کوشش
واضح رہے کہ تحریک انصاف کے ساتھ جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے لوگوں نے بڑی تعداد میں پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی جس کے کچھ رہنما اب بھی حکومت کا حصہ ہیں یا پی ٹی آئی کے حمایتی ہیں۔ تجزیہ نگار احسن رضا کا کہنا ہے کہ عمران خان نے جنوبی محاذ صوبے کے ساتھیوں کو خوش کرنے کے لئے یہ اعلان کروایا ہے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ” جنوبی محاذ صوبہ گروپ کے افراد نے جنوبی پنجاب صوبے کو اپنی سیاست کا محور بنایا تھا لیکن ساڑھے تین سال میں پی ٹی آئی صوبہ نہیں بنا سکی اب اگر بل بھی پیش ہو جاتا ہے تو کم از کم لوگوں میں جاکر یہ کہہ سکیں گے کہ انہوں نے بھرپور کوشش کی۔‘‘
پاکستانی فوج نے جنوبی پنجاب میں بھی آپریشن شروع کر دیا
پی ٹی آئی کی رہنما مسرت چیمہ کا کہنا ہے کہ ان کی پارٹی نے اس صوبے کا اعلان کر کے اپنا انتخابی وعدہ پورا کیا ہے۔ انہوں نے بتایا، ”صوبہ بنانا ہمارے منشور کا حصہ تھا، جنوبی پنجاب کے کچھ جاگیردار اس مسئلے کو لے کر ہمارے خلاف پروپیگنڈہ کر رہے ہیں۔‘‘ مسرت چیمہ کے بقول بل لانے کے بعد ایسے جاگیردار بے نقاب بھی ہوں گے۔ ”ہم نے اس حوالے سے انتطامی اقدامات بھی کئے ہیں اور جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ بنایا اور اب ہم صوبہ بھی بنائیں گے۔‘‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں