fawad-chaudhry 70

جنرل باجوہ سے تعلقات حکومت جانے کے بعد بھی خراب نہیں ہوئے

پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان فواد چودھری نے کہا ہے کہ جنرل باجوہ سے تعلقات حکومت جانے کے بعد بھی خراب نہیں ہوئے، ہم نے پنڈی کو بتایا یہ حکومت تعیناتی کرےگی تو تنازع 3 سال رہےگا، عمران خان نے آگے جانے کا طریقہ بتایا ہے، فوری انتخابات ہی تمام مسئلے کا حل ہیں، نئے آرمی چیف کی تعیناتی نئی حکومت کرے۔
انہوں نے ہم نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع یا پھر ایکسٹینشن والی بات ہے تو اس میں اب نئے نوٹیفکیشن کی بھی ضرورت نہیں ہے، عمران خان نے دو باتیں کی ہیں کہ ہم سمجھتے ہیں نئے آرمی چیف کی تعیناتی نئی حکومت کرے، دوسرا الیکشن کیلئے بات کرنے کو بھی تیار ہیں، ہم پنڈی کے تحفظات اور اسلام آباد دونوں کے ایشوز کو ختم کرنے کی بات کررہے ہیں، ہم پنڈی کو کہا ہے کہ اگر یہ حکومت آرمی چیف تعینات کرے گی تو تنازع تین سال چلے گا، اگر آپ حل کرنا چاہتے ہیں تو پھر الیکشن تک ریٹائرمنٹ مئوخر کرلیتے ہیں، میرا نہیں خیال کہ 29 نومبر کے بعد کوئی ریٹائرمنٹ ہوں گی، ہم نے تنازع کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔

جنرل باجوہ سے ہمارے تعلقات حکومت جانے کے بعد بھی خراب نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ فوری انتخابات ہی تمام مسئلے کا حل ہیں، عوامی مینڈیٹ سے آنے والی حکومت کو آپ نے تبدیل کیا، عمران خان نے آگے جانے کا طریقہ بتایا تھا،یہ ملک چل نہیں رہا،سسٹم بیٹھا ہوا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اپنی رہائشگارہ بنی گالا میں سینئر صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی بات نہیں کی، ایکسٹینشن کی بات فوری انتخابات تک مشروط ہے، نئی حکومت کے انتخاب تک آرمی چیف کی تعیناتی موخر کی جائے، جو ادارہ ملکی مفاد کے ساتھ ہے میں اس کے ساتھ کھڑا ہوں، میں نے پاکستان کے لیے بات کی ہے، ان کو سمجھ نہیں آ رہی میرے اِن سوئنگ یارکر کو کیسے کھیلیں۔
انہوں نے کہا کہ چند لوگوں نے مفادات کی خاطر ملکی سلامتی داؤ پر لگا دی ہے، ہوسکتا ہے کہ میں ان لوگوں کے نام بھی بتا دوں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے مزید کہا کہ مجھے اس اسٹیج پر دکھیل رہے ہیں کہ میں کال دوں، ستمبر میں عوام کو باہر نکلنے کی کال دوں گا، ستمبر سے آگے کال نہیں جائے گی۔ نوازشریف واپس آئے اس کے استقبال کے لیے تیار ہوں، نوازشریف کا ایسا استقبال ہو گا کہ یاد رکھے گا، عمران خان نے مزید کہا کہ جن کے پاس مینڈیٹ نہیں، ان کو آرمی چیف لگانے کا اختیار نہیں دیا جا سکتا، اس وقت ملک میں صاف شفاف انتخابات ہی ملک کے مسائل کا حل ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں