42

جموں و کشمیر میں سعودی عرب، یو اے ای اور ہانگ کانگ کے سرمایہ کاروں کی کانفرنس

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں جاری سرمایہ کاری سے متعلق کانفرنس کے بارے میں وہاں صنعت کے پرنسپل سیکریٹری رنجن پرکاش ٹھاکر کا کہنا ہے کہ ’اگر سرمایہ کاروں کو جگہ اچھی لگی تو سرمائے کی ریل پیل ہوگی۔‘
یاد رہے کہ اس وقت کشمیر میں سرمایہ کاری کے لیے کانفرنس میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ہانگ کانگ کے وفد شرکت کر رہے ہیں۔ منگل کو شروع ہونے والی کانفرنس چار روز تک جاری رہے گی۔
کشمیر میں جاری سرمایہ کاری کانفرنس میں شرکت کے لیے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کی کمپنیوں کے تیس سے زیادہ نمائندے فی الوقت کشمیر میں ہیں، جہاں وہ مختلف علاقوں میں سرمایہ کاری کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
صنعت کے شعبے کے صنعت کے پرنسپل سیکریٹری رنجن پرکاش ٹھاکر کے مطابق دُنیا بھر کی اور بڑی کمپنیاں بھی گلمرگ، سونہ مرگ اور پہلگام میں ہوٹلوں کی تعمیر میں سرمایہ کاری کرنا چاہتی ہیں۔ سرمایہ کاروں کے لیے زمین وقف کرنے کے بارے میں انھوں نے وضاحت کی ہے کہ ’ہم عام لوگوں کی زمین نہیں لے رہے، سرمایہ کاروں کو فی الحال سرکاری زمین دی جارہی ہے، لیکن اب لینڈ لاز (حصولِ اراضی کے قوانین) میں تبدیلی ہوئی ہے لہٰذا لوگ بھی اس بارے میں اپنی مرضی سے فیصلہ کرسکتے ہیں۔‘
جموں کشمیر کے گورنر منوج سنہا نے کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اس سال کے آخر تک کشمیر میں 70 ہزار کروڑ روپے کی بیرونی سرمایہ کاری کا ہدف پورا کیا جائے گا۔
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے صنعت کارروں کا وفد ایسے وقت کشمیر میں سرمایہ کاری کے امکانات تلاش کر رہا ہے جب پاکستان میں مسلم ممالک کی تنظیم او آئی سی کا اجلاس ہو رہا ہے جس میں مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ شرکت کر رہے ہیں جبکہ چین کے وزیر خارجہ مہمان خصوصی کی حیثیت سے شریک ہیں۔
اس سال جنوری میں ہی کشمیر کی گورنر انتظامیہ اور متحدہ عرب امارات کی کئی کمپنیوں کے درمیان 3000 کروڑ روپے مالیت کے صنعتی منصوبوں پر سرمایہ کاری کے لیے معاہدہے طے پائے تھے۔ ان کمپنیوں میں عمار، لُولُو، ماتو انویسٹمنٹس، المایا گروپ، جی ایل امپلائمنٹ بروکریج، سینچری فائنانشل اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق عالمی شہرت یافتہ نُون ای کامرس شامل ہیں۔ سعودی عرب کی ’الفا سکائی‘ کے سی ای او ایمن عبدالرحمٰن ایس الہلائی بھی وفد میں شامل ہیں۔
ان کمپنیوں کی طرف سے سرمایہ کاری کے لیے دو ہزار ایکڑ سے زیادہ رقبے کی زمین مختص کی گئی ہے اور یہ حجم 6000 ایکڑ تک پہنچانے کا منصوبہ ہے۔
حکومت نے پہلے ہی سرینگر اور دبئی کے درمیان سالہا سال براہ راست فضائی رابطہ شروع کیا ہے جبکہ سعودی عرب اور جموں کشمیر کے درمیان براہ راست پروازوں کا بھی عنقریب اعلان متوقع ہے۔
گورنر منوج سنہا نے کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے بتایا کہ ’وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارت اور متحدہ عرب امارات کی دوستی نئی بلندیوں کو چُھو رہی ہے۔‘
سرکاری ذرائع کے مطابق حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ بڑے پیمانے کی صنعتوں کے لیے جموں میں سرمایہ کاری ہوگی جبکہ زراعت، ہاؤسنگ، دست کاری، سیاحت ، فُوڈ پراسیسنگ، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور میڈیکل کالجوں کی تعمیر کے لیے کشمیر کا انتخاب کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ کشمیر میں بھاری سرمایہ کاری کی کوششیں گزشتہ دو سال سے ہو رہی تھیں۔ مودی حکومت کا دعویٰ ہے کہ ترقی اور خوشحال سے بے روزگاری ختم ہو جائے گی تو ’پاکستان یہاں کے نوجوانوں کو ہند مخالف سرگرمیوں کے لیے اُکسانے میں ناکام ہوجائے گا۔‘
تاہم ابھی تک سرمایہ کاری کا دائرہ ایشیائی ملکوں تک محدود ہے۔ امریکہ، برطانیہ یا دوسرے مغربی ممالک نے ابھی تک کشمیر میں سرمایہ کاری سے متعلق کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی ہے۔ تاہم پیر کو شروع ہونے والے سرمایہ کاری میلے سے حکومت کو اُمید ہے کہ اب مغربی ممالک بھی کشمیر میں سرمایہ کاری پر آمادہ ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں