Mumufti Gulzar Ahmed Naeemi 151

جشن آزادی مبارک اور عرب اسرائیل اتحاد : مفتی گلزار احمد نعیمی

49 / 100

آج 14 اگست ہے اور اہلیان پاکستان کے لیے بہت خوشی کا دن ہے۔آج سے 74 سال قبل جنوبی ایشیاء میں انگریز استعمار کے خون خوار پنجوں سے ہمیں رہائی ملی۔ہم ایک آزاد ریاست اسلامی جمہوریہ پاکستان بنانے میں کامیاب ہوئے۔
لیکن آج میں نے جونہی اخبار کھولا تو ایک بڑی اور بری خبر نے دل جگڑ لیا۔اس خبر کا عنوان ہے” اسرائیل امارات میں امن معاہدہ” امریکی صدر نے ٹیوٹ کیا ہے کہ آج ایک بڑا کام ہوگیا ہے کہ اسرائیل اور یو اے ای کے درمیان امن معاہدہ ہوگیا ہے۔ٹرمپ کے نزدیک یہ ایک اہم ترین پیش رفت ہے۔امریکی صدر نے کہا ہے کہ “اسرائیل اور اور مسلمانوں کے درمیان اور بھی سفارتی کامیابیاں متوقع ہیں۔ایسی پیش رفت بھی متوقع ہے کہ جس پر میں بات نہیں کرنا چاہتا”۔خدا جانے یہ کیسی خوفناک پیشرفت ہے جس کو ٹرمپ ابھی پردہ میں رکھنا چاہتا ہے۔امریکی وزیر خارجہ پومپیو نے اسے ایک تاریخی معاہدہ قرار دیا ہےجس سے مشرق وسطی میں امن قائم ہوگا۔اس معاہدے کے تحت اسرائیل اور امارات ایک دوسرے کے ممالک میں اپنے سفارت خانے کھولیں گے۔براہ راست پروازیں چلائیں گے۔توانائی، ٹیکنالوجی اور سیکورٹی کے شعبے میں مسلمان یو اے ای اور یہودی ملک اسرائیل ایک دوسرے سے تعاون کریں گے۔اس معاہدہ میں یہ لکھا گیا ہے کہ “اسرائیل فلسطین کے مزید علاقے پر قبضہ نہیں کرے گا”۔۔۔۔جب غیرت ختم ہوجائے تو انسان ایسے معاہدوں میں اپنی عافیت سمجھتا ہے۔اس کا واضح مطلب ہے کہ ابھی تک اسرائیل جو فلسطینی علاقہ جات اپنے قبضے میں لے چکا وہ اسی کے پاس رہیں۔اس معاہدہ کی تصدیق ابوظہبی کے ولی عہد اور یو اے ای کے ڈپٹی سپریم کمانڈر شہزادہ محمد بن زید النہیان نے بھی اپنے ٹویٹ کے ذریعہ کردی ہے۔
اس معاہدہ کے مطابق اسرائیل اور یو اے ای ملکر دوسرے مسلم ممالک کے ساتھ تعلقات قائم کرنے میں مل کر کام کریں گے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ یو اے ای اسرائیل کے لیےایجنٹ کا کردار ادا کرے گا۔اس معاہدہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو ممالک اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر لیں گے انکے باشندوں کو “مسجد اقصی میں آنے جانے اور نماز پڑھنے کی آزادی ہوگی” یہ ایک لالچ دی گئی ہے تاکہ مسلم ممالک کے عوام کے دل اسرائیل کے لیے نرم ہوں۔لیکن میں سمجھتا ہوں مسلم دنیا اسرائیل کو کبھی قبول نہیں کرے گی اور جب تک فلسطین مکمل طور پر آزاد نہیں ہوجاتا اور یہودی اس علاقے سے چلا نہیں جاتا ہم اس قسم کی لالچ میں نہیں آئیں گے۔
مسلم امہ میں یو اے ای پہلا بدقسمت ملک ہے جو اپنے مسلمان فلسطینی بھائیوں کےمردہ لاشوں پر کھڑے ہوکر ایسے ملک سے امن معاہدہ کررہا ہے جو اس کے مسلمان بھائیوں کا قاتل ہے۔یہ خلیجی ممالک کی طرف اسرائیل کے ساتھ ہونے والا پہلا معاہدہ ہے۔جو فلسطینیوں کی جدوجہد آزادی پر ایٹم بم چلانے کی حیثیت رکھتا ہے۔یہ گریٹر اسرائیل کی طرف پہلا قدم ہے۔اس سے قبل مصر اور اردن نے بھی اسرائیل کے ساتھ معاہدے کیے ہیں مگر انکی نوعیت یہ نہیں تھی۔
یہ ایک بہت ہی شرمناک معاہدہ ہے۔ہم اسکی پرزور مذمت کرتے ہیں۔یہ فلسطینی مظلوموں کے ساتھ غداری ہے۔
طالب دعاء
گلزار احمد نعیمی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں