97

جسم کو ختم کیا جاسکتا ہے آواز کو نہیں

یکم مئی مزدوروں کے عالمی دن کے طور پر دنیا بھر میں منایا جاتا ہے۔اس دن کو منانے کا مقصد امریکا کے شہر شکاگو کے محنت کشوں کی جدوجہد کو یاد کرنا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ انسانی تاریخ میں محنت و عظمت اور جدوجہد سے بھرپور استعارے کا دن 1مئی ہے۔ 1884میں شکاگو میں سرمایہ دار طبقے کے خلاف اٹھنے والی آواز، اپنا پسینہ بہانے والی طاقت کو خون میں نہلا دیا گیا، مگر ان جاں نثاروں کی قربانیوں نے محنت کشوں کی توانائیوں کو بھرپور کر دیا۔ مزدوروں کا عالمی دن کار خانوں، کھیتوں کھلیانوں، کانوں اور دیگر کار گاہوں میں سرمائے کی بھٹی میں جلنے والے لاتعداد محنت کشوں کا دن ہے اور یہ محنت کش انسانی ترقی اور تمدن کی تاریخی بنیاد ہیں۔یوم مئی کا آغاز 1886 میں محنت کشوں کی طرف سے آٹھ گھنٹے کے اوقات کار کے مطالبے سے ہوا جس میں ٹریڈ یونینز ، مزدور تنظیمیں اور دیگر سوشلسٹ اداروں کی طرف سے کارخانوں میں ہر دن آٹھ گھنٹے کام کا مطالبہ کیاگیا۔ تاریخی طور پر اس دن امریکا کے محنت کشوں نے مکمل ہڑتال کی۔ تین مئی کو اس سلسلے میں شکاگو میں منعقد مزدوروں کے احتجاجی جلسے پر حملہ ہوا جس میں چار مزدور ہلاک ہوئے۔ اس بر بریت کے خلاف محنت کش احتجاجی مظاہرے کے لئے ( Square Market Hey ) میں جمع ہوئے پولیس نے مظاہرہ روکنے کے لئے محنت کشوں پر تشدد کیا اسی دوران بم دھماکے میں ایک پولیس افسر ہلاک ہوا تو پولیس نے مظاہرین پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی جس کے نتیجے میں بے شمار مزدور ہلاک ہوئے اور درجنوں کی تعداد میں زخمی ،اس موقعے پر سرمایہ داروں نے مزدور رہنماؤں کو گرفتار کر کے پھانسیاں دیں۔حالانکہ ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں تھا کہ وہ اس واقعے میں ملوث ہیں۔ انہوں نے مزدور تحریک کیلئے جان دے کر سرمایہ دارانہ نظام کا انصاف اور بر بریت واضح کر دی۔ ان ہلاک ہونے والے رہنماؤں نے کہا ”تم ہمیں جسمانی طور پر ختم کر سکتے ہو لیکن ہماری آواز نہیں دباسکتے‘‘ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ جس عظیم مقصد کو حاصل کرنے کیلئے مزدروں نے قربانیاں دیں وہ حاصل ہو سکا اس کا جواب تو نفی میں ہے لیکن کچھ بہتری بہر حال ضرور ہوئی اوقات کار کا طے ہونا ،اجرت میں اضافہ اور سوشل سیکورٹی جیسے مسئلوں میں وقت کے ساتھ بہتری آتی گئی لیکن پھر بھی جد وجہد جاری ہے اور جاری رہے گی۔ پاکستان میں ہر برس یوم مئی زور و شور سے منانے کے باوجود ملک کا یہ طبقہ اب بھی کئی بنیادی حقوق سے محروم ہے۔ اتنا عرصہ گزر جانے کے باوجود پاکستان میں مزدوروں کے حالات اور کام کاج کی صورتحال میں کوئی قابل ذکر تبدیلی نہیں آئی ۔ یہاں کتنے ہی حادثات ہو چکے ہیں جس میں کئی لوگ جان سے گئے، کانوں میں مسلسل حادثات ہو تے رہے ہیں۔ پھر گارمنٹس اور ٹیکسٹائل فیکٹریوں میں روز ہی کوئی نا کوئی چھوٹا بڑاحادثہ پیش آ رہا ہے لیکن ابھی تک کوئی ایسی بڑی تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی جس پر کہا جا سکے کہ پاکستان کے محنت کشوں کے حالات کو بہتر کرنے کے لئے کبھی سوچا بھی گیا ہے۔ اس کی دو وجوہات ہیں۔ پہلی تو یہ کہ مانیٹرنگ کا کوئی سسٹم موجود نہیں، ریاست اور جو بھی نئی حکومت آتی ہے، اس کی ترجیحات میں مزدوروں کے حقوق شامل نہیںہوتا۔ دوسری بات یہ کہ ہماری ٹریڈ یونینز بہت کمزور ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 62 ملین کے قریب مزدور ہیں جن میں سے 70فیصد ٹیکسٹائل، کاٹن اور گارمنٹس کے شعبوں میں کام کر رہے ہیں۔ ان میں سے ایک فیصد ورکرز بھی ٹریڈ یونین میں نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ 97فیصد فیکٹریاں ایسی ہیں جہاں مزدوروں کو کم سے کم مقرر کی گئی اجرت تک نہیں دی جاتی۔ایک غیر ہنر مند مزدور کی کم سے کم ماہانہ اجرت19500/-روپے برائے مالی سال 2021-2020کے لئے ہے۔سب سے پہلے تو یہ بات ہے کہ 19500/-روپے میں ایک گھر کا ماہانہ بجٹ بنانا ناممکن ہے یعنی مزدور آدمی نہ تو اپنے بچوں کی غذائی ضروریات پوری کرسکتا ہے نہ ہی تعلیم دلوا سکتا ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ اس کم سے کم اجرت کی پابندی تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ پاکستان میں فیکٹری ایکٹ 1934کے تحت 9گھنٹے اور ہفتے میں زیادہ سے زیادہ 48گھنٹے کام لیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح سے 18سال سے کم عمر بچے کو کام پر نہیں لگایا جاسکتا ہے۔ اور یہ ایکٹ ہر اس ادارے پر لاگو ہوگا، جس میں 10یا 10 سے زیادہ افراد کام کرتے ہیں۔ اسی طرح سے پراونشل شاپ آرڈی نینسز 1969ء کے تحت ہفتہ میں زیادہ سے زیادہ 48گھنٹے کام لینے کی اجازت ہوتی۔ حقیقت میں اگر دیکھا جائے تو دکانوں ، فیکٹریوں میں کام کرنے کے کوئی اوقات کار معین نہیں ہیں۔ جب تک مالک بیٹھا ہوا ہے مزدور یا ملازم کو گھر جانے کی اجازت نہیں ہوتی ہے۔ اسی طرح سے فیکٹریوں میں ٹھیکے پر کام کرنے والے مزدور طبقے کا ٹھیکیدار بھی مختار کل سمجھا جاتا ہے۔ مزودروں سے 12سے 16گھنٹے کام قانونی حق سمجھ کر کروایا جاتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کام کرنے کے ماحول کو بہتر کرنے کے ساتھ ساتھ مزدوروں کو یونین سازی کا حق بھی ملنا چاہئے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں