44

جرنیل اور جج نوکری کرلیں یا سیاست

جرنیل اور جج نوکری کرلیں یا سیاست
لاہور(ایجنسیاں) تحریک انصاف کے مرکزی رہنما فواد چوہدری نےسپریم کورٹ کی جانب سے ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی رولنگ پر تفصیلی فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے ہاں اسٹیبلشمنٹ کے منہ کو خون لگا ہوا ہے کہ انھوں نے سیاسی فیصلے کرنے ہیں‘سیاسی فیصلے سیاسی میدان میں ہونے چاہئیں‘سیاسی فیصلے جرنیلوں اور ججوں کا کام نہیں‘جرنیل اور جج یا نوکری کرلیں یا سیاست کرلیں ‘ججوں کا ضمیر کسی واقعہ پر جاگ جاتا ہے اور کسی پر سو جاتا ہے‘یہ بھی بڑاسلیکٹیوساضمیر ہے ‘یہ نہیں ہو سکتا کہ جنرلز اورکچھ ججز بند کمروں میں بیٹھ کر فیصلے کرتے رہیں‘آرٹیکل چھ کے تحت مقدمات درج ہونا شروع ہوئے تو یہاں گردنیں زیادہ اور رسے کم پڑ جائیں گے‘وہ کام کیاکریں جو آپ کرسکیں ‘سیاسی باتوں میں اس طرح کی تلخیاں لانا آپ کا کام نہیں ہے ‘سپریم کورٹ کے پاس سائفر کی کاپی موجود ہےمگر یہ پڑھنے کو تیارنہیں ‘بہت سے لوگ سائفر کی انویسٹی گیشن نہیں کرانا چاہتے ، عقلمندوں کو معلوم ہے کہ سائفر کی تفتیش آخر کیوں نہیں ہورہی ‘جج صاحب ایسے باتیں نہ کریں پھر جواب ملے گا توآپ آسمان سے جا لگیں گےکہ دیکھیں جی یہ ہوگیا وہ ہوگیا ‘ایسی باتیں نہ کریں ہمیں پھر پورا بتانا پڑے گا یہ فیصلہ کیسے ہوا ‘ یہ بھی بتائیں اگر ججز آئین توڑیں تو کیا سزا ہونی چاہیے، ججزایسی باتیں نہ کریں اگر بھٹو کا کیس کھل گیا تو کیا نتیجہ ہوگا‘ اگر ججز کے آئین توڑنے پر سزا ہوگئی تو پھر تو معاملہ بڑا خراب ہوگا ‘یہ جو کچھ تنازع اورپھر ٹائمنگ جو ہے دودن بعد ضمنی الیکشن ہے ‘عدالت نے چار مہینے تفصیلی فیصلہ روکے رکھا تھا تو تین دن اورروک لیتے‘ آئندہ نمائندہ پارلیمنٹ یہ فیصلہ ختم کردیگی ‘ سپریم کورٹ نے سائفر کی تحقیقات نہ کرائیں تو نئی پارلیمنٹ میں تحقیقات کروائی جائیں گی‘ہمارا اب صرف سپریم کورٹ کے سامنے رونا ہی باقی بچا ہے ، سپریم کورٹ نے منع کردیا ہے کہ سائفر پر بات نہ کی جائے‘مقتدر حلقوں نے فیصلہ کرنا ہے کہ انقلاب ووٹ کے ذریعہ آئے یا سری لنکا والی صورتحال ہو ۔ جمعرات کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ ہمیں سائفر پر بات بھی نہیں کرنے دے رہی‘عوام کو اب ہر صورت فیصلوں کا حق دینا ہوگا‘اسٹیبلشمنٹ نے جیسی پالیسیاں بنائیں وہ پاکستان کے ساتھ مذاق ہے ،قوم اب انقلاب کیلئے تیار ہے ۔اگر سائفر پڑھنا ضروری تھا توچیف جسٹس کو فیصلہ لکھنے سے پہلے ساتھی ججوں کو اسے پڑھانا چاہیے تھا ‘فیصلوں پر تنقید ہوتی ہے توہین عدالت کا کوئی جواز نہیں ۔ انہوںنے کہا کہ مریم نواز سزا یافتہ ہیں وہ کس حیثیت میں پیٹرول کی قیمتوں کی کمی کا اعلان کررہی ہیں ،ایک فراڈیوں کا اجتماع ملک پر مسلط ہے۔سپریم کورٹ وہ فیصلے کرے جو سمجھ آئیں ‘تحریک انصاف حکومت میں آئی تو تین تہائی کے ساتھ فیصلے کو ختم کر دیا جائے گا ۔تین ماہ بعد سپریم کورٹ نے ایسا فیصلہ کردیا ،کمیشن بنا دیتے تو حقیقت سامنے آجاتی۔بلاول پاکستان کی تاریخ کا سب سے ناکام وزیر خارجہ ثابت ہورہا ہے‘ قومی اسمبلی اس وقت مقبوضہ اسمبلی ہے جس پر سے ہم نے قبضہ چھڑانا ہے ۔جرنیل اور جج نوکری کرلیں یا سیاست ‘ججز یا ایک واقعے پر ضمیر جاگنا ‘دوسرے پر سونا سلیکٹیو ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں