26

جدید اسلامی تہذیب کا قیام شیعہ سنی اتحاد کے بغیر ممکن نہیں، رہبر معظم انقلاب اسلامی

فارس نیوز ایجنسی کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے رسول اکرم ص اور امام جعفر صادق ع کی ولادت نیز ہفتہ وحدت کی مناسبت سے بین الاقوامی وحدت اسلامی کانفرنس کے شرکاء اور اعلی سطحی حکومتی عہدیداروں سے خطاب کرتے ہوئے پیغمبر اکرم ص کی سیرت اور امت مسلمہ کی ذمہ داریوں کے بارے میں چند اہم نکات بیان کئے ہیں۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے “انسانی زندگی کے تمام پہلووں پر مشتمل دین مبین اسلام کی جامعیت کی وضاحت اور ترویج” اور “اتحاد بین المسلمین کے فروغ” کو امت مسلمہ کی دو اہم ذمہ داریاں قرار دیا اور کہا: “وحدت اسلامی ایک اصولی چیز اور قرآنی فریضہ ہے اور جدید اسلامی تہذیب و تمدن کے قیام جیسا عظیم اور مقدس ہدف شیعہ سنی اتحاد کے بغیر ممکن نہیں ہے۔”

ولی امر مسلمین جہان امام خامنہ ای نے دین مبین اسلام کی جامعیت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: “سیاسی مادی قوتوں نے ہمیشہ سے اس بات پر زور دیا ہے کہ اسلام ایک جامع دین نہیں ہے نیز اس کے پاس انسانی زندگی کے تمام پہلووں کیلئے مناسب منصوبہ بھی نہیں پایا جاتا بلکہ (دین اسلام) فردی عمل اور قلبی عقیدے تک محدود ہے۔ انہوں نے اپنے لکھاریوں اور محققین کی زبانی اس نظریے کا بھرپور پرچار کیا اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ دین اسلام تہذیب و تمدن سازی، معاشرے کی مدیریت، اقتصاد، طاقت اور دولت کی تقسیم، جنگ اور امن، اندرونی اور عالمی سیاست، عدل کا قیام اور ظلم اور شرپسند عناصر کے مقابلے جیسے اہم ایشوز کے بارے میں نہ تو نظریہ فراہم کرتا ہے اور نہ ہی عملی میدان میں کوئی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں